جمیس پیٹراس جو بائیں بازو کے امریکی دانشور تھے ان کا ایک مضمون
A marxist Critique of post Marxism
آسٹریلیا سے بائیں بازو کے جریدے “لنکس انٹرنیشنل ” میں سنہ 1998ء میں شایع ہوا ۔ اس مضمون کا ترجمہ راقم الحروف نے ترجمہ کیا اور اس کا قسط وار ترجمہ لاہور سے شایع ہونے والے بائیں بازو کے اخبار “مزدور جدوجہد ” نے شایع کیا جس کے مدیر فاروق سہلریا تھے ۔ یہاں اس ترجمہ کو چند اضافوں کے ساتھ دوبارہ شایع کیا جارہا ہے۔
پاکستانی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عالمی سطح پر مزدور طبقے کی پسپائی اور نیولبرل سرمایہ داری کی بالادستی کے اثرات یہاں بھی پوری شدت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے، سوویت یونین کے انہدام اور 1990 کی دہائی میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی معاشی اصلاحات کے بعد پاکستان میں بھی سیاست اور دانشوری کا رخ بدل گیا۔ وہ جگہ جہاں کبھی سوشلسٹ، نیشنلسٹ اور پاپولسٹ سیاست کے اثرات دکھائی دیتے تھے، آہستہ آہستہ خالی ہوتی گئی۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پاکستان میں مزدور یونینیں، طلبہ تحریکیں اور ترقی پسند ادبی و فکری حلقے نہ صرف فعال تھے بلکہ سیاسی سمت متعین کرنے میں بھی کردار ادا کرتے تھے۔ اس دور میں بائیں بازو کی سیاست کا اثر اس حد تک تھا کہ حکمران طبقہ بھی “سوشلزم”، “روٹی کپڑا مکان” اور “فلاحی ریاست” جیسی زبان استعمال کرنے پر مجبور تھا۔ مذہبی حلقوں میں بھی اسلام کی سوشلسٹ تعبیر یا کم از کم سماجی انصاف پر مبنی تعبیر کے رجحانات موجود تھے۔
مگر 1980 کی دہائی کے بعد صورتحال بدلنے لگی۔ ضیاء الحق کے دور میں مزدور یونینوں اور طلبہ سیاست پر پابندیوں، افغان جنگ، ریاستی اسلامائزیشن اور عالمی سطح پر نیولبرل ازم کے عروج نے بائیں بازو کی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1990 کی دہائی میں نجکاری، ساختیاتی اصلاحات اور معیشت کی عالمی مالیاتی اداروں پر بڑھتی ہوئی انحصار نے اس عمل کو مزید گہرا کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سیاسی و فکری خلا جس میں پہلے مزدور تحریکیں، ترقی پسند سیاسی جماعتیں اور عوامی تحریکیں موجود تھیں، اب سرمایہ دار سیاست دانوں، ٹیکنوکریٹس، مذہبی بنیاد پرست قوتوں اور روایتی اشرافیہ نے پُر کر لیا۔
اسی دوران ایک اور اہم تبدیلی سامنے آئی: این جی او سیکٹر اور “تھنک ٹینک” کلچر کا تیزی سے پھیلاؤ۔ عالمی مالیاتی اداروں اور مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں پاکستان میں ہزاروں غیر سرکاری تنظیمیں وجود میں آئیں۔ یہ تنظیمیں خود کو “سول سوسائٹی”، “ڈیولپمنٹ سیکٹر” یا “ریسرچ انسٹی ٹیوٹس” کے طور پر پیش کرتی ہیں، مگر ان کی فکری سمت اکثر نیولبرل معاشی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ ان کے ذریعے آزاد منڈی، نجکاری، ریاستی اخراجات میں کمی اور سماجی شعبوں کی نجکاری کو ناگزیر اور واحد راستہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں طبقاتی سیاست، مزدور حقوق اور ریاستی فلاحی کردار جیسے موضوعات بتدریج پس منظر میں چلے گئے۔
پاکستان میں “پروجیکٹ کلچر” نے سیاسی شعور کی جگہ لینا شروع کر دی۔ غربت، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسے مسائل کو ساختی یا طبقاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے “کمیونٹی ڈیولپمنٹ”، “اسکل ٹریننگ” اور “مائیکرو فنانس” جیسے منصوبوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ اس تبدیلی نے سیاست کو سماجی خدمت میں بدل دیا۔ جہاں پہلے مزدور یونینیں اجرت، لیبر قوانین اور ریاستی پالیسیوں پر بات کرتی تھیں، اب وہاں روزگار کے چھوٹے منصوبوں اور ہنر مندی کے پروگراموں نے جگہ لے لی۔ یوں اجتماعی مزاحمت کی جگہ انفرادی کامیابی کی کہانیاں نمایاں ہو گئیں۔
اسی خلا نے مذہبی بنیاد پرست اور دائیں بازو کی قوتوں کو بھی ابھرنے کا موقع دیا۔ جب بائیں بازو کی سیاست کمزور ہوئی تو سماجی انصاف، شناخت اور مزاحمت کی سیاست کا میدان خالی ہو گیا۔ اس خلا کو مذہبی جماعتوں، قوم پرست سیاست اور سرمایہ دارانہ پاپولزم نے پُر کیا۔ یوں وہ سماجی و فکری میدان جہاں کبھی طبقاتی سیاست اور ترقی پسند نظریات غالب تھے، اب متبادل بیانیوں سے بھر گیا۔
نتیجتاً پاکستان میں بھی وہی صورتحال پیدا ہوئی جس کی نشاندہی عالمی سطح پر کی جاتی ہے: طبقاتی سیاست اور اجتماعی جدوجہد کمزور ہوئی، جبکہ نیولبرل ازم کو چیلنج کرنے والی قوتیں منتشر ہو گئیں۔ ان کی جگہ ایسے ادارے اور بیانیے سامنے آئے جو بظاہر سماجی ترقی اور فلاح کے نام پر کام کرتے ہیں، مگر بالآخر موجودہ معاشی و سیاسی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں مابعد مارکسیت کا فکری اثر اور نیولبرل ازم کا معاشی غلبہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پوسٹ مارکسزم پر مارکسی تنقید
A Critique of Post Marxism
دنیا بھر میں مزدورو طبقے کی پسپائی اور نیولبرل سرمایہ داری نظام کی بالادستی نے
“مابعد مارکسیت”
(Post Marxism)
کو دانشوری کا رائج القومت فیشن بنا دیا ہے ۔ بائیں بازو کے اصلاح پسندوں نے جو جگہ خالی کی اس جگہ پر اب ہمیں سرمایہ دار سیاست دان ، نظریہ ساز ، ٹیکنو کریٹ ، روایتی مذہب پرست اور مذہبی بنیاد پرست قابض نظر آتے ہیں ۔
ماضی میں یہ اس جگہ سوشلسٹ ، نیشنلسٹ اور پاپولسٹ سیاست اور مذہب کی انقلابی ، بائیں سمیت جھکاؤ رکھنے والی تعبیر کے علمبردار جیسے اسلامی دنیا میں اسلامی سوشلسٹ اور مسیحی دنیا میں لبریشن تھیالوجی سے جڑے پادری اور چرچ تھے غالب نظر آتے تھے ۔
حکومتوں میں ٹاپ پر سنٹر لیفٹ سیاست دان اور نیچے سیاسی شعور کے حامل طبقات بہت بااثر تھے ۔
مغرب ، لاطینی امریکہ ، ایشیاء اور یورپ میں کئی جگہوں پر انقلابی لیفٹ کی خالی کردہ جگہ سیاسی دانشوروں اور ٹریڈ یونین کے سیاسی شعور رکھنے والے شعبوں ، شہری اور دیہی سماجی کا تحریکوں کا مرکز ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ان گروپوں کے درمیان مارکسزم اور پوسٹ مارکسزم کی بحث کافی شدت سے زیر بحث ہے۔
نیو لبرل ازم کو فروغ دینے والے بڑے مالیاتی اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کی سرپرستی میں اور اکثر ان کی مالی اعانت سے بڑی تعداد میں ایسی ’’سماجی‘‘ تنظیمیں وجود میں آئی ہیں جن کا نظریہ، تعلقات اور عملی سرگرمیاں مارکسی نظریے اور جدوجہد کے ساتھ براہِ راست مسابقت اور تصادم میں ہیں۔ یہ تنظیمیں عموماً خود کو ’’غیر سرکاری تنظیمیں‘‘ یا ’’آزاد تحقیقی مراکز‘‘ قرار دیتی ہیں، مگر ان کی فکری سمت اور سیاسی عمل اکثر ان کے مالی سرپرستوں کے نیو لبرل ایجنڈے سے ہم آہنگ اور اس کے تکملے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
یہ ادارے ایسے نظریات اور طریقۂ کار کو فروغ دیتے ہیں جو آزاد منڈی، نجکاری، ریاستی مداخلت میں کمی اور سماجی شعبوں کی نجکاری کو جائز اور ناگزیر ثابت کرتے ہیں۔ اس طرح وہ طبقاتی سیاست اور اجتماعی مزاحمت کی جگہ ایسے منصوبے پیش کرتے ہیں جو بظاہر سماجی بہتری کے نام پر ہوتے ہیں، مگر بالآخر موجودہ معاشی ڈھانچے کو مستحکم کرتے ہیں۔
مابعد مارکسیت کے اجزا
مابعد مارکسیت کے فکری علَم بردار عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو کبھی خود کو مارکسسٹ کہتے تھے، مگر اب ان کا نقطۂ آغاز مارکسیت کی ’’تنقید‘‘ اور اس کے بنیادی تصورات کے مقابل متبادل نکات پیش کرنا ہوتا ہے۔ وہ ہر اس مرکزی دعوے کے بالمقابل ایک نئی تعبیر یا تجزیاتی زاویہ پیش کرتے ہیں جس پر مارکسیت قائم ہے، اور یوں ایک متبادل نظریہ یا کم از کم ایک قابلِ قبول تجزیاتی لائحۂ عمل وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مابعد مارکسی بیانیے میں عموماً درج ذیل دس بنیادی دلائل نمایاں ہوتے ہیں:
سوشلزم کی ناکامی اور ’’عمومی نظریات‘‘ کا انکار
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سوشلزم ناکام ہو چکا ہے، اور معاشرے کے بارے میں ہر ’’جامع نظریہ‘‘ بالآخر ناکامی پر منتج ہوتا ہے۔ نظریات کو جھوٹا یا گمراہ کن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک مخصوص صنف، نسل یا ثقافتی نظام کے غلبے کی عکاسی کرتے ہیں—البتہ مابعد مارکسیت خود کو اس الزام سے مستثنیٰ سمجھتی ہے۔
طبقاتی سیاست کی نفی
مارکسیت کا طبقۂ سماج پر زور دینا ’’اختزالی‘‘ (Reductionist) قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طبقات تحلیل ہو رہے ہیں اور اصل سیاسی جدوجہد ثقافتی شناختوں—جیسے نسل، جنس، قومیت اور جنسی رجحان—کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
ریاست کے مقابلے میں ’’سول سوسائٹی‘‘
ریاست کو جمہوریت اور آزادی کا دشمن، بدعنوان اور ناکارہ فلاحی ادارہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ’’سول سوسائٹی‘‘ کو جمہوریت اور سماجی بہتری کا اصل علم بردار سمجھا جاتا ہے۔
مرکزی منصوبہ بندی کے مقابلے میں منڈی
مرکزی منصوبہ بندی کو بیوروکریسی کی پیداوار اور اس کا سبب قرار دیا جاتا ہے، جو پیداوار اور تبادلے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے برعکس منڈی اور منڈی کے تبادلے—چاہے محدود ضابطوں کے ساتھ—زیادہ کھپت اور بہتر تقسیم کو ممکن بناتے ہیں۔
ریاستی اقتدار کی جدوجہد کا انکار
روایتی بائیں بازو کی ریاستی اقتدار کے لیے جدوجہد کو بدعنوان اور آمرانہ نظاموں کا پیش خیمہ کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مقامی مسائل پر مقامی تنظیموں کی جدوجہد، اور قومی و بین الاقوامی اداروں پر دباؤ ڈالنا ہی جمہوری تبدیلی کا راستہ بتایا جاتا ہے۔
انقلاب سے گریز
یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ انقلابات یا تو ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں یا ناممکن ہیں، کیونکہ بڑی سماجی تبدیلیاں آمرانہ ردِعمل کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے برعکس جمہوری انتقالِ اقتدار اور انتخابی عمل کے تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہے۔
طبقاتی یکجہتی کا خاتمہ
کہا جاتا ہے کہ طبقاتی یکجہتی ماضی کی سیاست کا حصہ تھی، کیونکہ اب طبقات موجود نہیں رہے۔ اب مختلف شناختوں اور مقامی گروہوں کے بکھرے ہوئے حلقے ہیں جو بقا کے لیے بیرونی مدد اور باہمی تعاون پر انحصار کرتے ہیں۔ یکجہتی کو طبقاتی کے بجائے ’’انسانی ہمدردی‘‘ کا معاملہ بنا دیا جاتا ہے۔
طبقاتی جدوجہد کی افادیت پر سوال
طبقاتی تصادم کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ فوری مسائل حل نہیں کرتا اور شکست کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مخصوص منصوبوں پر تعاون کو ترقی اور پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔
سامراج دشمنی کی نفی
سامراج دشمنی کو ایک پرانا اور غیر متعلقہ نعرہ قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عالمگیریت کے دور میں معاشی مراکز کا مقابلہ ممکن نہیں، لہٰذا سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت کی ’’منتقلی‘‘ کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
بیرونی امداد پر انحصار
عوامی تنظیموں کے رہنماؤں کو غریب طبقات کے ساتھ جڑ کر ان کی حالتِ زندگی میں شریک ہونے کے بجائے بیرونی فنڈنگ پر انحصار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ پیشہ ور افراد پروگرام تیار کرتے اور بیرونی سرمایہ حاصل کرتے ہیں تاکہ مقامی گروہوں کو منظم کیا جا سکے۔ اس تصور کے مطابق بیرونی امداد کے بغیر نہ مقامی تنظیمیں چل سکتی ہیں اور نہ پیشہ ورانہ کیریئر۔
یہ نکات مجموعی طور پر ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کرتے ہیں جو طبقاتی سیاست، انقلابی تبدیلی اور ریاستی ڈھانچے کی بنیادی تبدیلی کے بجائے شناختی سیاست، مقامی سطح کے منصوبوں اور عالمی سرمایہ دار نظام کے اندر اصلاحات پر زور دیتا ہے۔
مابعد مارکسی نظریے پر تنقید
مابعد مارکس پسندوں کے پاس بھی ایک تجزیہ، ایک تنقید اور ایک ترقیاتی حکمتِ عملی موجود ہے—یعنی وہی جامع نظریاتی سانچہ جسے وہ مارکسیت پر گفتگو کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا اپنا بیانیہ بھی ایک مکمل نظریہ ہے، مگر وہ سرمایہ داری کے بحرانوں—طویل جمود، وقفے وقفے سے آنے والے مالیاتی بحران، قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور سماجی تقسیم—کو درست طور پر شناخت نہیں کرتا، حالانکہ یہی عوامل ان مقامی سماجی مسائل کو جنم دیتے ہیں جن پر وہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر نیو لبرل ازم—جس سماجی و معاشی فضا میں مابعد مارکس پسند کام کرتے ہیں—خود طبقاتی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ سرمایہ کے مخصوص طبقات نے ریاست اور سامراجی قوتوں کے ساتھ اتحاد کر کے عوامی طبقات کو شکست دی اور نیو لبرل ماڈل مسلط کیا۔ اگر طبقاتی زاویۂ نظر ترک کر دیا جائے تو اس سماجی دنیا کی توضیح ممکن نہیں جس میں مابعد مارکس پسند سرگرم ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی اپنی فکری سوانح عمری بھی اس عالمی اور قومی سطح پر طاقت کی اچانک اور بنیادی تبدیلی کی عکاس ہے جس نے مزدور طبقے کی قوت کو محدود اور برآمدی سرمایہ کی طاقت کو بڑھایا، اور اسی کے ساتھ مارکسیت کے لیے گنجائش اور وسائل کم جبکہ مابعد مارکس پسندوں کے لیے مواقع اور فنڈنگ بڑھا دی۔
اب ہم علمِ اجتماع کی اس تنقید سے ہٹ کر ان کے مخصوص دعووں کا جائزہ لیتے ہیں۔
’’سوشلزم کی ناکامی‘‘ اور ’’نظریات کا خاتمہ‘‘
سب سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ ’’سوشلزم کی ناکامی‘‘ سے کیا مراد ہے؟ کیا سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے کمیونسٹ نظاموں کا انہدام؟ اولاً، یہ سوشلزم کی صرف ایک شکل تھی۔ ثانیاً، یہ بھی واضح نہیں کہ ناکامی کس چیز کی تھی—سیاسی نظام کی یا سماجی و معاشی نظام کی؟ روس، پولینڈ، ہنگری اور دیگر سابق سوویت ریاستوں کے انتخابی نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام کی بڑی تعداد ماضی کی فلاحی پالیسیوں اور معاشی اقدامات کے بعض پہلوؤں کی واپسی چاہتی ہے۔ اگر عوامی رائے کو ’’ناکامی‘‘ کا پیمانہ بنایا جائے تو تصویر اتنی سادہ نہیں۔
اگر ’’سوشلزم کی ناکامی‘‘ سے مراد بائیں بازو کی سیاسی قوت میں کمی ہے تو پھر ہمیں داخلی کمزوریوں اور بیرونی فوجی و سیاسی حملوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ہٹلر کے ہاتھوں مغربی یورپی جمہوریتوں کی تباہی ’’جمہوریت کی ناکامی‘‘ تھی۔ اسی طرح چلی، ارجنٹائن، بولیویا، یوراگوئے، ڈومینیکن ریپبلک، گوئٹے مالا، نکاراگوا، ایل سلواڈور، انگولا، موزمبیق اور افغانستان میں سرمایہ دارانہ دہشت گرد حکومتوں یا امریکی مداخلت نے انقلابی بائیں بازو کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فوجی شکست کسی معاشی نظام کی نااہلی کا ثبوت نہیں ہوتی۔
مزید یہ کہ جہاں نسبتاً مستحکم سوشلسٹ یا عوامی حکومتیں قائم رہیں، وہاں صحت، تعلیم، عوامی شرکت اور مساوی ترقی کے اشاریے بعد کے نیو لبرل ادوار سے کہیں بہتر تھے۔ مثال کے طور پر ایلاندے کے دورِ حکومت کے سماجی اشاریے پینوشے کے عہد سے بہتر تھے؛ نکاراگوا میں ساندنیستا حکومت کے نتائج شامورو حکومت سے بہتر تھے؛ اربینز کی زرعی اصلاحات اور انسانی حقوق کی پالیسیوں کا تقابل بعد کے فوجی دور سے کیا جا سکتا ہے جس میں زمین کا ارتکاز اور لاکھوں قتل و غارت ہوئی۔
آج اگرچہ نیو لبرل حکومتیں اقتدار میں ہیں اور مارکس پسند براہِ راست اقتدار میں نہیں، مگر مغربی نصف کرۂ ارض میں کوئی ایسا ملک مشکل سے ملے گا جہاں مارکسی یا سوشلسٹ اثر رکھنے والی عوامی تحریکیں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ کر رہی ہوں اور نیو لبرل پالیسیوں کو چیلنج نہ کر رہی ہوں۔ پیراگوئے، یوراگوئے اور بولیویا میں کامیاب عام ہڑتالیں؛ میکسیکو میں کسان تحریکیں اور مقامی گوریلا تحریکیں؛ برازیل میں بے زمین مزدوروں کی تحریک—یہ سب مارکسی اثر کی عکاسی کرتے ہیں۔
سوویت بلاک سے باہر سوشلزم بنیادی طور پر ایک جمہوری اور عوامی قوت تھا جس نے وسیع حمایت اس لیے حاصل کی کہ وہ عوامی مفادات کی نمائندگی کرتا تھا۔ مابعد مارکس پسند سوویت کمیونزم اور لاطینی امریکہ کی جمہوری انقلابی سوشلسٹ تحریکوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ وہ فوجی شکستوں کو بائیں بازو کی نظریاتی ناکامی قرار دیتے ہیں اور یوں نیو لبرل بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ مشرقی یورپ میں بھی وہ کمیونزم کی متغیر اور ارتقائی نوعیت کو نظر انداز کرتے ہیں، جبکہ سماجی ملکیت، فلاحی پروگراموں، زرعی اصلاحات اور کونسل جمہوریت پر مبنی ایک نئے سوشلسٹ امتزاج کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
اسی تناظر میں ’’نظریات کے خاتمے‘‘ کا دعویٰ بھی تضاد سے بھرپور ہے۔ خود مابعد مارکس پسند ایک نظریاتی موقف رکھتے ہیں، اور مارکسیت اور نیو لبرل ازم کے درمیان جاری فکری و سیاسی مباحث اس بات کا ثبوت ہیں کہ نظریات کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ ان کے درمیان کشمکش بدستور جاری ہے۔
طبقات کا خاتمہ یا شناختوں کا ابھار؟ — ایک مارکسی تنقیدی جائزہ
مابعد مارکس پسند مختلف زاویوں سے طبقاتی تجزیے پر حملہ کرتے ہیں۔ ان کا پہلا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ مارکسی طبقاتی نقطۂ نظر صنفی، نسلی اور ثقافتی شناختوں کی اہمیت کو دبا دیتا ہے۔ وہ طبقاتی تجزیہ کرنے والوں کو ’’معاشی اختزال پسند‘‘ کہتے ہیں اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ایک ہی طبقے کے اندر صنفی اور نسلی تفاوت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مزید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہی ’’شناختی تفاوت‘‘ آج کی سیاست کی اصل بنیاد ہیں۔
طبقاتی تجزیے پر دوسرا حملہ یہ ہے کہ طبقہ کوئی معروضی حقیقت نہیں بلکہ ایک ذہنی یا ثقافتی تشکیل ہے۔ ان کے مطابق ’’معروضی طبقاتی مفادات‘‘ جیسی کوئی چیز موجود نہیں، کیونکہ مفادات سراسر شخصی اور ثقافتی طور پر متعین ہوتے ہیں۔ تیسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ معیشت اور سماج میں اتنی بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ پرانے طبقاتی امتیازات ختم ہو چکے ہیں۔ ’’مابعد صنعتی‘‘ معاشرے میں طاقت کا سرچشمہ معلوماتی نظام، نئی ٹیکنالوجی اور ان کے منتظمین ہیں۔ اس تصور کے مطابق صنعتی مزدور طبقہ دو سمتوں میں تحلیل ہو رہا ہے: اوپر کی طرف ’’نئے متوسط طبقے‘‘ میں اور نیچے کی طرف حاشیائی ’’زیر طبقہ‘‘ میں۔
مارکسی جواب: شناخت اور طبقہ متضاد نہیں
مارکس پسندوں نے کبھی بھی نسل، جنس یا قومیت کے اندرونی امتیازات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا۔ ان کا زور اس وسیع سماجی ڈھانچے پر ہے جو ان تفاوتوں کو پیدا کرتا ہے، اور اس ضرورت پر کہ طبقاتی قوتوں کو متحد کر کے کام، محلے اور خاندان کی سطح پر موجود نابرابریوں کا خاتمہ کیا جائے۔ مارکس پسند اس تصور کی مخالفت کرتے ہیں کہ صنفی یا نسلی نابرابریوں کو طبقاتی تناظر سے الگ کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ کیا ایک جاگیردار عورت جس کے پاس دولت اور خدمہ موجود ہو، بھوک کی اجرت پر کام کرنے والی دیہی عورت کے ساتھ ایک جیسی ’’شناخت‘‘ رکھتی ہے؟ کیا نیو لبرل حکومتوں کے بھارتی بیوروکریٹس اُن کسانوں کے ساتھ مشترک شناخت رکھتے ہیں جنہیں آزاد منڈی کی پالیسیوں نے زمین سے بے دخل کر دیا؟ مثال کے طور پر بولیویا میں ایک مقامی النسل نائب صدر کوکو پیدا کرنے والے مقامی کسانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کی نگرانی کر رہا تھا—یہ ’’شناخت‘‘ کا کیسا اتحاد ہے؟
شناختی سیاست فوری جبر کے شعور کے طور پر ایک نقطۂ آغاز ہو سکتی ہے، مگر اگر وہ اپنے دائرے سے آگے بڑھ کر اس پورے سماجی نظام کو چیلنج نہ کرے جس میں یہ جبر پیوست ہے، تو وہ خود ایک قید خانہ بن جاتی ہے۔ اس کے لیے طاقت کے سماجی ڈھانچے کا وسیع طبقاتی تجزیہ درکار ہے جو عمومی اور مخصوص نابرابریوں کی تعریف اور تشکیل کرتا ہے۔
شناختی سیاست کا جوہریت پسند (Essentialist) انداز مختلف گروہوں کو الگ تھلگ اور باہم متصادم اکائیوں میں تقسیم کر دیتا ہے، جو اس سیاسی و معاشی کائنات سے آگے نہیں جا سکتیں جو غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کو محدود کرتی ہے۔ طبقاتی سیاست وہ میدان فراہم کرتی ہے جہاں شناختی سیاست کو وسیع تر جدوجہد سے جوڑا جا سکتا ہے اور ان اداروں کو بدلا جا سکتا ہے جو طبقاتی اور دیگر نابرابریوں کو برقرار رکھتے ہیں۔
طبقہ: معروضی حقیقت اور شعوری تشکیل
طبقات محض ذہنی مفروضے سے وجود میں نہیں آتے۔ سرمایہ دار طبقہ خود کو منظم کر کے قدرِ زائد ہتھیاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ طبقہ صرف شخصی ادراک پر منحصر ہے، طبقہ اور طبقاتی شعور کو خلط ملط کرنا ہے۔ طبقہ ایک معروضی معاشی تعلق ہے، جبکہ طبقاتی شعور سماجی اور ثقافتی عوامل سے متاثر ہوتا ہے۔ اگرچہ طبقاتی شعور کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں اور کبھی کبھی وہ نسل، قوم یا جنس کے شعور سے دب جاتا ہے یا ان کے ساتھ مل جاتا ہے، مگر طبقاتی حقیقت تاریخ میں بار بار ابھرتی ہے۔
نیو لبرل دور: طبقاتی تقسیم کی گہرائی
یہ درست ہے کہ طبقاتی ساخت میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، مگر وہ مابعد مارکس پسندوں کے دعوے کے برعکس طبقاتی فرق کو مٹانے کے بجائے اور گہرا کرتی ہیں۔ آج عارضی اجرتی مزدوروں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے۔ غیر منظم اور غیر محفوظ محنت (غیر رسمی شعبہ) پہلے سے وسیع تر ہے۔ یہ سرمایہ داری سے تجاوز نہیں بلکہ انیسویں صدی کے استحصالی نمونوں کی واپسی ہے۔ نیو لبرل ازم کے تحت فلاحی ریاست کے خاتمے نے ریاست کو براہِ راست غالب سرمایہ دار طبقے کا آلہ بنا دیا ہے۔ اب ریاستی طاقت بین الاقوامی بینکوں اور برآمدی شعبوں سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ عام شہری کے ساتھ اس کا تعلق زیادہ تر جابرانہ اداروں یا نیم سرکاری تنظیموں کے ذریعے ہے جو سماجی احتجاج کو کمزور کرتی ہیں۔
فلاحی ریاست کے انہدام نے سماجی ڈھانچے کو مزید قطبی بنا دیا ہے: ایک طرف کم اجرتی یا بے روزگار عوامی ملازمین؛ دوسری طرف عالمی منڈی سے جڑے اعلیٰ اجرتی ماہرین اور پیشہ ور افراد۔ آج کی جدوجہد صرف کارخانوں میں طبقاتی کشمکش نہیں بلکہ ریاست اور ان بے دخل طبقات کے درمیان بھی ہے جنہیں مستقل روزگار سے محروم کر کے غیر محفوظ بازاروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔
برآمدی اشرافیہ اور درمیانی دلال طبقے کی عالمی منڈی میں شمولیت کا متوازی نتیجہ اندرونی معیشت کی تباہی ہے: مقامی صنعت اور چھوٹے کسان تباہ ہو کر شہروں اور بیرونِ ملک ہجرت پر مجبور ہیں۔ بالائی متوسط طبقے کی عیش و عشرت کی درآمدات غریبوں کی ’’برآمد شدہ محنت‘‘ کی ترسیلات سے پوری ہوتی ہیں۔ استحصال کی یہ زنجیر بالآخر سرمایہ اور محنت کے تعلق میں جڑی رہتی ہے، چاہے اس کی شکل زیادہ پیچیدہ کیوں نہ ہو۔
نئی ٹیکنالوجی: طبقے کا خاتمہ نہیں، نئی شکل
ٹیکنالوجی نے طبقاتی فرق کو ختم نہیں کیا بلکہ مزید گہرا کیا ہے۔ مائیکرو چپ صنعتوں کے مزدور بھی استحصال کے عمل کا حصہ ہیں، بس اس کا مقام اور طریقۂ کار بدل گیا ہے۔ خود کاری (Automation) نے بعض شعبوں میں محنت کی رفتار بڑھا دی ہے؛ نگرانی کے کیمرے مزدوروں پر کنٹرول بڑھاتے ہیں؛ ’’معیار کے حلقے‘‘ مزدوروں کو مزدوروں پر دباؤ ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ زرعی کاروبار کمپیوٹر کے ذریعے لاگت کنٹرول کرتا ہے مگر زہریلی دوائیں کم اجرتی مزدور ہی چھڑکتے ہیں۔ معلوماتی نیٹ ورک پسینہ خانے یا گھریلو صنعت کو عالمی منڈی سے جوڑتے ہیں۔
اس مشترک اور غیر مساوی ترقی کے عمل کو سمجھنے کی کلید طبقاتی تجزیہ ہے—اور اس کے اندر صنف اور نسل کے عناصر کی شناخت۔
خلاصہ
مابعد مارکس پسندوں کے برخلاف، سرمایہ داری کی تبدیلیوں نے طبقاتی تجزیے کو غیر متعلق نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ ضروری بنا دیا ہے۔ نیو لبرل دور میں غیر منظم محنت، فلاحی ریاست کے خاتمے اور دولت کے ارتکاز نے ایک مشترک معروضی طبقاتی بنیاد پیدا کی ہے جو وسیع انقلابی اتحاد کا امکان رکھتی ہے۔ آج بھی غریبوں کی جدوجہد کا اصل میدان طبقاتی سیاست ہی ہے۔
ریاست اور سول سوسائٹی: ایک مارکسی تنقید
مابعد مارکس پسند ریاست کی ایک یک رُخی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست ایک بھاری بھرکم، ناکارہ اور بدعنوان بیوروکریسی ہے جس نے عوامی خزانے کو لوٹا، عوام کو غریب اور معیشت کو دیوالیہ بنا دیا۔ سیاسی سطح پر ریاست کو آمریت، من مانے فیصلوں اور شہری حقوق کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ منڈی کے آزاد تبادلے میں بھی اسے مزاحم بتایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ کہتے ہیں کہ ’’سول سوسائٹی‘‘ آزادی، سماجی تحریکوں اور شہریت کا سرچشمہ ہے، اور ایک فعال سول سوسائٹی سے ہی منصفانہ اور متحرک معیشت جنم لے سکتی ہے۔
اس نظریے کی عجیب بات یہ ہے کہ یہ گزشتہ پچاس برس کی لاطینی امریکی تاریخ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ نجی سرمایہ کاری کی کمی اور 1930ء کی عالمی کساد بازاری اور 1940ء کی جنگوں کے باعث ریاستی شعبہ صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر تھا۔ اسی طرح خواندگی اور بنیادی صحت عامہ میں پیش رفت بڑی حد تک ریاستی اقدامات کا نتیجہ تھی۔
اٹھارہویں صدی سے 1930ء تک کے ڈیڑھ سو سالہ ’’آزاد منڈی‘‘ کے دور میں لاطینی امریکہ نے بائبلی آفات جیسی مصیبتیں جھیلیں—نسل کشی، قحط، بیماری، آمریت، انحصار، بے دخلی اور استحصال—جبکہ منڈی کا ’’غیر مرئی ہاتھ‘‘ خاموش تماشائی بنا رہا۔
ریاستی شعبہ انہی مسائل کے ردِعمل میں بڑھا، مگر وہ اس وقت اپنے عوامی کردار سے ہٹا جب اسے کاروباری اور سیاسی اشرافیہ نے نجی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ریاست کی نااہلی دراصل اس کی نجی مفادات کے تابع ہونے کا نتیجہ ہے—چاہے وہ توانائی پر کاروباری سبسڈی ہو یا سیاسی حامیوں کو ملازمتیں دینا۔ ریاستی صحت اور تعلیم کے جامع پروگراموں کا کوئی مؤثر متبادل نجی شعبہ، کلیسا یا غیر سرکاری تنظیمیں فراہم نہ کر سکیں۔ نجی ادارے اور چرچ کے زیرِ اہتمام کلینک اور تعلیمی ادارے زیادہ تر امیر اقلیت کی خدمت کرتے ہیں، جبکہ این جی اوز عموماً بیرونی عطیات پر منحصر محدود اور عارضی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔
تاریخی تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ مابعد مارکس پسندوں نے ریکارڈ کو غلط پڑھا ہے۔ ان کی ریاست دشمنی نے انہیں عوامی شعبے کی مثبت کامیابیوں سے اندھا کر دیا ہے۔
یہ دعویٰ کہ ’’ریاست آمریت کا سرچشمہ ہے‘‘ جزوی طور پر درست اور جزوی طور پر غلط ہے۔ آمرانہ ریاستیں رہی ہیں اور رہیں گی، مگر زیادہ تر آمریتیں نجی ملکیت یا غیر ملکی کاروبار کے خاتمے کے نتیجے میں نہیں بلکہ آزاد منڈی اور نجی سرمایہ کے حامی رہی ہیں۔ آج اور ماضی میں بیشتر آمریتیں منڈی نواز اور ریاست مخالف پالیسیوں کی علمبردار رہی ہیں۔
مزید برآں، ریاست نے شہریت کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے—مزدوروں، سیاہ فاموں، خواتین اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کو تسلیم کر کے، زمین اور وسائل کی از سرِ نو تقسیم کر کے، اور سماجی انصاف کے لیے پالیسیوں کے ذریعے۔
لہٰذا ہمیں محض ’’ریاست نواز‘‘ یا ’’ریاست مخالف‘‘ نعروں سے آگے بڑھ کر ریاست کی طبقاتی نوعیت اور اس کی نمائندگی کی بنیاد کو سمجھنا ہوگا۔ ریاست پر عمومی، تاریخی و سماجی سیاق سے کٹی ہوئی تنقید بے بنیاد ہے اور دراصل منڈی کے حامیوں کے لیے ایک ہتھیار بن جاتی ہے تاکہ عوام کو مؤثر عوامی متبادل کی تعمیر سے روکا جا سکے۔
اسی طرح ’’سول سوسائٹی‘‘ کو ریاست کے مقابل رکھنا بھی ایک جھوٹی دوئی ہے۔ سول سوسائٹی خود طبقاتی تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ بالادست طبقات ایک طرف تو غریبوں کی ریاستی امداد پر تنقید کرتے ہیں، مگر دوسری طرف خزانے اور فوج سے اپنے تعلقات مضبوط کرتے ہیں تاکہ اپنی برتری برقرار رکھ سکیں۔ دوسری طرف عوامی طبقات جب متحرک ہوتے ہیں تو وہ ریاست پر قابض طبقوں کی اجارہ داری کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال ہمیشہ مختلف طبقات اور ریاست کے تعلق کا رہا ہے۔
نیو لبرل دور میں ریاست سے حاشیے پر ڈالے گئے مابعد مارکس پسند دانشور اپنی بے بسی کو فضیلت بنا لیتے ہیں۔ وہ ریاست مخالف بالا دستی بیانیے کو تنقید کے بغیر دہراتے ہیں اور اسے نیچے تک منتقل کرتے ہیں۔ وہ اپنی تنظیمی شکل—این جی اوز—کو ریاست سے باہر اور سول سوسائٹی کے اندر قرار دیتے ہیں، حالانکہ اکثر وہ بیرونی حکومتوں کی مالی اعانت سے ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
’’سول سوسائٹی‘‘ ایک تجریدی تصور ہے جو سرمایہ دار سماج کی گہری طبقاتی دراڑوں کو چھپا دیتا ہے—اور یہ دراڑیں نیو لبرل ازم کے تحت مزید گہری ہو چکی ہیں۔ سول سوسائٹی کے اندر طبقاتی کشمکش اتنی ہی موجود ہے جتنی ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان۔ صرف فاشزم یا مکمل جابرانہ نظاموں میں، جہاں ریاست تمام طبقات کو یکساں طور پر کچلتی ہے، ریاست اور سول سوسائٹی کی حقیقی دوئی نظر آتی ہے۔
’’شہری‘‘ کو ’’ریاست‘‘ کے مقابل رکھنا بھی گمراہ کن ہے، کیونکہ اشرافیہ شہری ریاست سے قریبی تعلق رکھتے ہیں جبکہ اکثریت—مزدور، بے روزگار، کسان—اپنے بنیادی حقوق کے مؤثر استعمال سے محروم رہتے ہیں۔ اشرافیہ ریاست کو استعمال کر کے شہریت کو اکثریت کے لیے کھوکھلا بنا دیتی ہے۔
لہٰذا ریاست اور سول سوسائٹی دونوں کے تجزیے میں طبقاتی خدوخال اور طاقت کے سماجی ڈھانچے کو واضح کرنا ضروری ہے۔ مابعد مارکس پسندوں کا غیر تنقیدی اور غیر امتیازی استعمال معاشرتی تبدیلی کی حرکیات کو آشکار کرنے کے بجائے انہیں دھندلا دیتا ہے۔
منصوبہ بندی، بیوروکریسی اور منڈی — ایک مارکسی توضیح
اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق کمیونسٹ ممالک میں مرکزی منصوبہ بندی بیوروکریٹک تھی، اس کا تصور آمرانہ تھا اور اس کا نفاذ سخت مرکزیت پر مبنی تھا۔ مابعد مارکس پسند اس تاریخی تجربے سے یہ عمومی نتیجہ نکالتے ہیں کہ منصوبہ بندی، خواہ مرکزی ہو یا کسی اور نوعیت کی، اپنی فطرت میں ہی جدید پیچیدہ معیشت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں صارفین، بے شمار ضروریات اور وسیع معلوماتی بہاؤ کو صرف منڈی ہی منظم کر سکتی ہے۔ وہ جمہوریت اور منڈی کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں—یہی وہ نکتہ ہے جہاں مابعد مارکس پسند اور نیو لبرل ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
مگر اس تصور کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ خود سرمایہ دارانہ معیشت کے بڑے ادارے مرکزی منصوبہ بندی ہی کرتے ہیں۔ جنرل موٹرز، وال مارٹ، مائیکروسافٹ اور دیگر کثیر القومی کارپوریشنیں اپنی سرمایہ کاری، پیداوار اور منڈی کاری کے فیصلے مرکزی سطح پر طے کرتی ہیں۔ شاذ و نادر ہی مابعد مارکس پسند ان نجی اداروں کی مرکزی منصوبہ بندی پر تنقید کرتے ہیں یا اسے غیر مؤثر قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ سوال بھی نہیں اٹھاتے کہ جب کثیر القومی کارپوریشنیں مرکزی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں تو وہ جمہوری سرمایہ دار ریاستوں کے انتخابی نظام کے ساتھ کیسے ہم آہنگ رہتی ہیں۔
اصل نظریاتی الجھن یہ ہے کہ مابعد مارکس پسند مرکزی منصوبہ بندی کو اس کی ایک خاص تاریخی صورت سے خلط ملط کر دیتے ہیں۔ اگر ہم تسلیم کریں کہ منصوبہ بندی مختلف سیاسی نظاموں میں موجود ہو سکتی ہے—آمرانہ یا جمہوری—تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اس کی جوابدہی اور شفافیت اس کے سیاسی ڈھانچے پر منحصر ہوگی۔
آج سرمایہ دار ممالک میں فوجی بجٹ اور دفاعی اخراجات ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، جہاں پیداوار اور سرمایہ کاری کے فیصلے مرکز سے صادر ہوتے ہیں اور نجی کمپنیاں ان احکامات پر عمل کر کے منافع کماتی ہیں۔ پچاس برس سے زائد عرصے سے عسکری صنعتی کمپلیکس اسی طرح کام کر رہا ہے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مرکزی منصوبہ بندی صرف کمیونسٹ نظاموں تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ دونوں صورتوں میں جمہوری جوابدہی کا فقدان ہے، جہاں عسکری یا صنعتی اشرافیہ پیداوار، لاگت اور طلب و رسد کے فیصلے اپنے مفاد میں طے کرتی ہے۔
زیادہ تر ممالک میں وسائل کی مرکزی تقسیم ناگزیر ہوتی ہے کیونکہ علاقائی عدم مساوات، ہجرت، پیداواری فرق اور تاریخی وجوہات ایسی ہوتی ہیں جن کا تدارک صرف مرکزی سطح پر کیا جا سکتا ہے۔ اگر سب کچھ منڈی پر چھوڑ دیا جائے تو وہ تاریخی برتری رکھنے والوں کو مزید فائدہ پہنچاتی ہے اور ترقی کے قطبی نمونے پیدا کرتی ہے، حتیٰ کہ علاقائی اور طبقاتی استحصال اور نسلی تنازعات کو جنم دیتی ہے۔
منصوبہ بندی کا اصل سوال سیاسی ڈھانچے کا ہے۔ اگر منصوبہ ساز منتخب ہوں اور منظم سماجی گروہوں—مزدوروں، صارفین، نوجوانوں، خواتین، نسلی اقلیتوں—کے سامنے جوابدہ ہوں تو وسائل کی تقسیم ان حالات سے مختلف ہوگی جب وہ عسکری یا صنعتی اشرافیہ کے تابع ہوں۔
مزید یہ کہ منصوبہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تفصیل مرکز سے طے کی جائے۔ قومی سطح پر منتخب نمائندے سماجی بجٹ کے بڑے خدوخال طے کر سکتے ہیں، جبکہ مقامی عوامی اسمبلیاں اپنی ترجیحات پر ووٹ دے سکتی ہیں۔ برازیل کے شہر پورٹو الیگری میں ورکرز پارٹی کی قیادت میں ’’شراکتی بجٹ‘‘ کا تجربہ اس کی مثال ہے، جہاں قومی اور مقامی منصوبہ بندی میں توازن قائم کیا گیا۔ مرکزی سطح پر انفراسٹرکچر، اعلیٰ ٹیکنالوجی اور تعلیم جیسے اسٹریٹجک اہداف طے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر اسکولوں، کلینکوں اور ثقافتی مراکز کے لیے وسائل مختص کیے جا سکتے ہیں۔
آج کی سرمایہ دارانہ معیشت میں بھی منصوبہ بندی ایک اہم آلہ ہے۔ اگر سوشلسٹ منصوبہ بندی کو رد کیا جائے تو سماجی تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ کو رد کیا جاتا ہے۔ وسیع عدم مساوات، جائیداد کے ارتکاز اور غیر منصفانہ بجٹ تقسیم کو بدلنے کے لیے ایک جامع جمہوری منصوبہ درکار ہوتا ہے جسے نافذ کرنے کا اختیار ہو۔ عوامی اداروں اور پیدا کرنے والوں و صارفین کی خود انتظامی کونسلوں کے ساتھ مل کر مرکزی منصوبہ بندی جمہوری تبدیلی کا تیسرا ستون بن سکتی ہے۔
آخر میں، مرکزی منصوبہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ مقامی نجی سرگرمیاں ختم ہو جائیں۔ ریستوران، کیفے، مرمت کی دکانیں اور خاندانی کھیت اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، جبکہ عوامی حکام بڑے معاشی ڈھانچے کی نگرانی کریں گے۔
جدید دور میں وسیع معلوماتی نظام اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی پیچیدہ فیصلوں اور معلوماتی بہاؤ کو منظم کرنا کہیں زیادہ آسان بنا چکی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے:
جمہوری نمائندگی + جدید کمپیوٹر نظام + مرکزی منصوبہ بندی = مؤثر اور سماجی طور پر منصفانہ پیداوار اور تقسیم۔
’’ریاستی اقتدار بدعنوان کرتا ہے‘‘ — مقامی سیاست کی حد بندی
مابعد مارکس پسندوں کی مارکسیت پر ایک بنیادی تنقید یہ ہے کہ ریاستی اقتدار لازماً بدعنوان کر دیتا ہے، اور اس کے لیے جدوجہد ہی اصل گناہ ہے۔ ان کے مطابق ریاست شہریوں سے اتنی دور اور جدا ہوتی ہے کہ اقتدار میں آنے والے لوگ خودمختار اور من مانے فیصلے کرنے لگتے ہیں، ابتدائی مقاصد کو بھول کر اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ اقتدار سنبھالنے والے افراد جابر بن گئے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ بعض اوقات سماجی تحریکوں کی قیادت کرنے والوں کا اقتدار میں آنا آزادی بخش ثابت ہوا—غلامی کا خاتمہ اور مطلق العنان بادشاہتوں کا تختہ الٹنا اسی کی مثالیں ہیں۔ اس لیے ریاستی ’’اقتدار‘‘ کا مفہوم تاریخی سیاق و سباق کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
اسی طرح مقامی تحریکوں نے کمیونٹی کو منظم کرنے اور فوری حالات بہتر بنانے میں بعض اوقات نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وسیع قومی اور عالمی معاشی فیصلوں نے ان مقامی کوششوں کو کمزور کر دیا۔ آج قومی اور بین الاقوامی سطح کی ’’ساختی اصلاحات‘‘ (Structural Adjustment) کی پالیسیوں نے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ کیا، مقامی وسائل کو نچوڑا، لوگوں کو ہجرت یا جرائم کی طرف دھکیلا۔ ریاستی اور مقامی طاقت کے درمیان یہ جدلیاتی تعلق اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ دونوں سطحوں پر کس طبقے کی قوت غالب ہے۔ متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں ترقی پسند بلدیاتی حکومتوں کو اس لیے ناکام کیا گیا کہ رجعتی قومی حکومتوں نے ان کی فنڈنگ روک دی۔ اس کے برعکس، بعض ترقی پسند بلدیاتی حکومتوں نے محلہ جاتی تنظیموں کو مضبوط کیا—جیسا کہ یوراگوئے کے شہر مونٹی وڈیو میں سوشلسٹ میئر یا برازیل کے شہر پورٹو الیگری میں بائیں بازو کی قیادت کے تحت ہوا۔
مابعد مارکس پسند جو ’’مقامی‘‘ کو ’’ریاستی اقتدار‘‘ کے مقابل رکھتے ہیں، ان کی دلیل لاطینی امریکہ کے تاریخی تجربے پر مبنی نہیں۔ دراصل یہ دوئی اس لیے پیدا کی جاتی ہے تاکہ این جی اوز کے کردار کو جائز قرار دیا جا سکے، جو مقامی تنظیموں، نیو لبرل غیر ملکی عطیہ دہندگان (جیسے عالمی بینک، یورپی ادارے یا امریکہ) اور مقامی آزاد منڈی حکومتوں کے درمیان واسطہ بنتی ہیں۔ اپنی ’’جمہوری بنیاد‘‘ کو جائز ثابت کرنے کے لیے این جی او پیشہ ور افراد کو ریاستی سطح پر بائیں بازو کو کمزور اور غیر معتبر ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح وہ نیو لبرل پالیسیوں کی تکمیل کرتے ہوئے مقامی جدوجہد اور قومی و عالمی سیاسی تحریکوں کے درمیان رشتہ توڑ دیتے ہیں۔ ’’مقامی سرگرمی‘‘ پر حد سے زیادہ زور نیو لبرل حکومتوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ اس سے وسیع سماجی و معاشی پالیسیوں پر اشرافیہ اور مالیاتی مفادات کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔
این جی اوز کے منتظمین کی حیثیت سے مابعد مارکس پسند منصوبے تیار کرنے اور ’’شناخت‘‘ اور ’’عالمی تعاون‘‘ کی نئی اصطلاحات کو عوامی تحریکوں میں منتقل کرنے میں ماہر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی تعاون اور خود امدادی چھوٹے منصوبوں کی زبان نیو لبرل نظریے کے ساتھ فکری ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور بیرونی فنڈنگ پر انحصار کو مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی کے این جی او عمل کے بعد پیرو اور چلی جیسے ممالک میں خواتین، محلوں اور نوجوانوں کی تنظیموں کو بڑی حد تک غیر سیاسی اور غیر انقلابی بنا دیا گیا۔
مقامی مسائل پر جدوجہد ابھرتی ہوئی تحریکوں کی غذا ہوتی ہے۔ مگر اصل سوال ان کی سمت اور حرکیات کا ہے: کیا وہ وسیع سماجی ڈھانچے کے سوال اٹھا کر دیگر مقامی قوتوں کے ساتھ مل کر ریاست اور اس کے سامراجی پشت پناہوں کا سامنا کریں گی؟ یا وہ بیرونی عطیات کی تلاش میں اندر کی طرف سمٹ کر ایک دوسرے کی حریف بن جائیں گی؟ مابعد مارکسیت کا نظریہ دوسری سمت کو فروغ دیتا ہے، جبکہ مارکسیت پہلی سمت کو۔
انقلابات ہمیشہ برے انجام پر منتج ہوتے ہیں: مابعد مارکسیت کی ’امکان پرستی‘
مابعد مارکسیت کی ایک مایوس کن صورت ایسی ہے جو انقلاب کی ناکامیوں کی بات کم اور سوشلزم کی ناممکنیت کی بات زیادہ کرتی ہے۔ وہ انقلابی بائیں بازو کے زوال، مشرق میں سرمایہ داری کی فتح، “مارکسیت کے بحران”، متبادل راستوں کے فقدان، امریکا کی طاقت، فوجی بغاوتوں اور جبر—ان تمام دلائل کو اس لیے بروئے کار لاتے ہیں کہ بائیں بازو کو “امکان پرستی” (Possibilism) کی حمایت پر آمادہ کیا جائے: یعنی عالمی بینک اور اس کے ساختیاتی اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت مسلط کردہ آزاد منڈی کی محدود گنجائشوں کے اندر رہ کر کام کرنے کی ضرورت، اور سیاست کو فوج کی مقرر کردہ انتخابی حدود تک محدود کر دینے کا تقاضا۔ اسے “عملیت پسندی” یا تدریجیت (incrementalism) کہا جاتا ہے۔ مابعد مارکسی مفکرین نے فوجی حکمرانی سے نام نہاد انتخابی انتقالِ اقتدار کی ترویج اور دفاع میں ایک بڑا نظریاتی کردار ادا کیا، جس میں سماجی تبدیلیوں کو انتخابی نظام کی بحالی کے تابع کر دیا گیا۔
مابعد مارکسیوں کے بیشتر دلائل معاصر حقیقت کے ساکن اور انتخابی مشاہدات پر مبنی ہوتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ نتائج سے بندھے ہوتے ہیں۔ جب وہ یہ طے کر لیتے ہیں کہ انقلابات کا دور گزر چکا ہے تو وہ نو لبرل انتخابی فتوحات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، نہ کہ انتخاب کے بعد ابھرنے والے عوامی احتجاجوں اور عام ہڑتالوں پر جو بڑی تعداد میں لوگوں کو پارلیمان سے باہر کی سرگرمیوں میں متحرک کرتی ہیں۔ وہ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں کمیونزم کے زوال کو دیکھتے ہیں، مگر 1990ء کی دہائی کے وسط میں اس کے احیا کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ انتخابی سیاست دانوں پر فوج کی پابندیوں کا ذکر کرتے ہیں، مگر زاپاتستا گوریلا تحریک، کراکس کی شہری بغاوتوں اور بولیویا کی عام ہڑتالوں کے ذریعے فوج کو درپیش چیلنجوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ امکان پرست ان جدوجہدوں کی حرکیات کو نظر انداز کرتے ہیں جو فوج کی مقرر کردہ انتخابی حدود کے اندر کسی شعبہ جاتی یا مقامی سطح سے شروع ہوتی ہیں، اور پھر انتخابی امکان پرستوں کی ناکامی اور بے بسی کے باعث عوام کے بنیادی مطالبات اور ضروریات پوری نہ ہونے پر انہی حدود سے اوپر اور آگے بڑھ جاتی ہیں۔ امکان پرست فوج کے استثنائی استحقاق (impunity) کا خاتمہ کرنے، سرکاری ملازمین کی بقایا تنخواہیں ادا کرنے (جیسا کہ ارجنٹینا کے صوبوں میں)، یا بولیویا میں کوکو کے کاشت کاروں کی فصلوں کی تباہی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
مابعد مارکسی امکان پرست حل کا حصہ بننے کے بجائے خود مسئلے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مفاہمتی انتقالِ اقتدار کے آغاز کو ڈیڑھ دہائی گزر چکی ہے اور ہر مثال میں مابعد مارکسیوں نے نو لبرل ازم سے خود کو ہم آہنگ کیا اور اس کی آزاد منڈی کی پالیسیوں کو مزید گہرا کیا۔ امکان پرست عوام پر آزاد منڈی کے منفی سماجی اثرات کی مؤثر مخالفت کرنے سے قاصر ہیں، مگر اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے نو لبرل عناصر کے دباؤ پر نئے اور زیادہ سخت اقدامات نافذ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مابعد مارکسی آہستہ آہستہ نو لبرلوں کے عملیت پسند ناقدین سے نو لبرل ازم کے مؤثر اور دیانت دار منتظمین کے طور پر خود کو پیش کرنے لگے ہیں—ایسے منتظمین جو سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے اور سماجی بے چینی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اسی دوران، مابعد مارکسیوں کی عملیت پسندی کا مقابلہ نو لبرلوں کی انتہاپسندی سے ہو رہا ہے: 1990ء کی دہائی نے نو لبرل پالیسیوں کی شدت میں اضافہ دیکھا، جن کا مقصد بحران کو روکنے کے لیے مزید منافع بخش سرمایہ کاری اور قیاسی مواقع بیرونِ ملک بینکوں اور کثیر القومی کمپنیوں کے حوالے کرنا تھا۔
نو لبرل ایک قطبی طبقاتی ساخت تشکیل دے رہے ہیں جو مابعد مارکسی تصورِ سماج کے مقابلے میں مارکسی تصور سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ معاصر لاطینی امریکا کی طبقاتی ساخت ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت، زیادہ جبری نوعیت کی، اور طبقاتی سیاست یا ریاست سے زیادہ مربوط ہے۔ ایسے حالات میں انقلابی سیاست مابعد مارکسیوں کی عملیت پسند تجاویز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بامعنی اور متعلقہ ہو جاتی ہے۔
طبقاتی یکجہتی اور غیر ملکی عطیہ دہندگان کی ’یکجہتی‘
“یکجہتی” (Solidarity) کا لفظ اس قدر بے دریغ استعمال ہوا ہے کہ بہت سے مواقع پر اس کا اصل مفہوم ہی ماند پڑ گیا ہے۔ مابعد مارکسیوں کے نزدیک “یکجہتی” میں وہ غیر ملکی امداد بھی شامل ہے جو کسی مخصوص “غریب” گروہ تک پہنچائی جائے۔ پیشہ ور ماہرین کی جانب سے غریبوں پر محض “تحقیق” کرنا یا انہیں “عوامی تعلیم” دینا بھی یکجہتی قرار دیا جاتا ہے۔ کئی حوالوں سے امداد اور تربیت کی یہ درجہ بند ساخت اور ترسیل کے طریقے انیسویں صدی کی خیرات سے مشابہت رکھتے ہیں، اور ان کے داعی عیسائی مشنریوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔
مابعد مارکسی “ریاستی سرپرستی اور انحصار” پر تنقید کرتے ہوئے “خود امدادی” (self-help)
پر زور دیتے ہیں۔ نو لبرل ازم کے متاثرین کو اپنے دائرے میں لانے کی اس غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی مسابقت میں، مابعد مارکسیوں کو یورپ اور امریکا میں موجود اپنے ہم خیال اداروں سے نمایاں مالی معاونت ملتی ہے۔ خود امدادی نظریہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سرکاری ملازمین کی جگہ رضاکاروں یا عارضی بنیادوں پر معاہدہ کیے گئے پیشہ ور افراد کو لایا جائے۔ مابعد مارکسی فکر کی بنیادی فلسفیانہ جہت یہ ہے کہ “یکجہتی” کو تعاون اور تابع داری میں بدل دیا جائے، تاکہ نو لبرل معیشت کے بڑے ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے غریبوں کی توجہ امیر طبقات کے ریاستی وسائل سے ہٹا کر ان کی اپنی خود استحصال
(self-exploitation)
کی طرف مبذول کر دی جائے۔ غریبوں کو اس بات کے لیے اخلاقی سبق دینے کی ضرورت نہیں کہ وہ وہی کام کریں جس کا ریاست ان پر پہلے ہی تقاضا کرتی ہے۔
اس کے برعکس، مارکسی تصورِ یکجہتی طبقاتی یکجہتی پر زور دیتا ہے، اور طبقے کے اندر مظلوم گروہوں (جیسے خواتین اور رنگ و نسل کی بنیاد پر دبائے گئے افراد) کی اپنے ملکی و غیر ملکی استحصال کرنے والوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو اہم سمجھتا ہے۔ اس کا مرکز وقتی چندوں پر نہیں ہوتا جو طبقات کو تقسیم کر کے چھوٹے گروہوں کو عارضی طور پر مطمئن کر دیتے ہیں۔ مارکسی تصور میں یکجہتی کا محور ایک ہی طبقے کے افراد کی مشترکہ عملی جدوجہد ہے، جو اپنی مشترکہ معاشی مشکلات کو سمجھتے ہوئے اجتماعی بہتری کے لیے لڑتے ہیں۔
یہ تصور ان دانش وروں کو بھی شامل کرتا ہے جو سماجی تحریکوں کے حق میں لکھتے اور بولتے ہیں اور ان کے سیاسی نتائج میں شریک ہونے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہاں “نامیاتی” (organic) دانش ور وہ ہیں جو خود تحریک کا حصہ ہوتے ہیں—وہ افراد جو طبقاتی جدوجہد کے لیے تجزیہ اور فکری تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، مابعد مارکسی اداروں، جامعاتی سیمیناروں، غیر ملکی فاؤنڈیشنوں، بین الاقوامی کانفرنسوں اور بیوروکریٹک رپورٹس کی دنیا میں پیوست ہوتے ہیں۔ وہ مابعد جدید اصطلاحات کی ایک پیچیدہ اور مبہم زبان میں لکھتے ہیں، جسے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو موضوعیت پر مبنی شناختی نظریات کے مخصوص حلقے میں “داخل” ہوں۔
مارکسیوں کے نزدیک یکجہتی کا مطلب تحریکوں کے خطرات میں شریک ہونا ہے، نہ کہ باہر بیٹھ کر ہر چیز پر سوال اٹھانا اور کسی چیز کا دفاع نہ کرنا۔ مابعد مارکسیوں کے لیے اصل ہدف کسی “منصوبے” کے لیے غیر ملکی فنڈ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ مارکسیوں کے لیے بنیادی مسئلہ سیاسی جدوجہد اور عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے سماجی بہتری حاصل کرنا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سماجی تبدیلی کے لیے شعور بلند کیا جائے اور اکثریت کی عمومی حالت بدلنے کے لیے سیاسی طاقت تعمیر کی جائے۔
مابعد مارکسیوں کے ہاں “یکجہتی” آزادی کے وسیع مقصد سے کٹ کر محض لوگوں کو کسی ہنر آموزی کے سیمینار میں جمع کرنے یا بیت الخلا تعمیر کرنے تک محدود رہ جاتی ہے۔ لیکن مارکسیوں کے نزدیک اجتماعی جدوجہد کی یکجہتی ہی مستقبل کے جمہوری اور اجتماعی معاشرے کے بیج اپنے اندر رکھتی ہے۔ اصل فرق اسی بڑے وژن—یا اس کی عدم موجودگی—سے پیدا ہوتا ہے، جو یکجہتی کے ان مختلف تصورات کو جداگانہ معنی عطا کرتا ہے۔
طبقاتی جدوجہد اور تعاون
مابعد مارکسی اکثر “تعاون” کی بات کرتے ہیں—سب کے ساتھ، قریب اور دور—لیکن وہ اس بات پر زیادہ غور نہیں کرتے کہ نو لبرل حکومتوں اور بیرونی فنڈ دینے والے اداروں کی حمایت حاصل کرنے کی اصل قیمت اور شرائط کیا ہوتی ہیں۔ طبقاتی جدوجہد کو وہ ایک پرانی چیز سمجھتے ہیں جس کا آج کی دنیا میں کوئی مطلب نہیں رہا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ “غریب لوگ” نئی زندگی بنانا چاہتے ہیں اور روایتی سیاست، نظریات اور سیاست دانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
یہ بات بظاہر درست لگتی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مابعد مارکسی اپنے اصل کردار کو واضح نہیں کرتے—یعنی وہ خود کو ثالث اور بروکر کے طور پر پیش کرتے ہیں جو بیرونِ ملک سے فنڈ حاصل کرتے ہیں اور انہیں ایسے منصوبوں سے جوڑتے ہیں جو عطیہ دہندگان اور مقامی افراد دونوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ فاؤنڈیشنوں سے وابستہ افراد ایک نئی قسم کی سیاست کر رہے ہیں جو ماضی کے “مزدور ٹھیکیداروں” (enganchadores) سے ملتی جلتی ہے: عورتوں کو اکٹھا کر کے انہیں “تربیت” دینا، چھوٹی مائیکرو کمپنیوں کو برآمدی صنعتوں کے ذیلی ٹھیکے پر لگانا۔
مابعد مارکسیوں کی یہ نئی سیاست دراصل کمپرادور (دلالی) سیاست کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ وہ خود کوئی قومی پیداوار پیدا نہیں کرتے بلکہ غیر ملکی فنڈرز کو مقامی مزدوروں اور خود امدادی چھوٹے کاروباروں سے جوڑ کر نو لبرل نظام کو جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے این جی اوز کے منتظمین کے طور پر مابعد مارکسی بنیادی طور پر سیاسی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے منصوبے، تربیت اور ورکشاپس نہ تو قومی معیشت (GNP) پر کوئی بڑا اثر ڈالتی ہیں اور نہ ہی غربت میں نمایاں کمی لاتی ہیں۔ البتہ ان کی سرگرمیاں لوگوں کو طبقاتی جدوجہد سے ہٹا کر ایسی “محفوظ اور بے اثر” سرگرمیوں میں مصروف کر دیتی ہیں جو دراصل جابروں کے ساتھ تعاون کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق طبقاتی جدوجہد حقیقی سماجی تقسیم پر مبنی ہوتی ہے: ایک طرف وہ لوگ ہیں جو منافع، سود، کرایہ اور رجعتی ٹیکس وصول کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ جو اجرتوں، سماجی اخراجات اور پیداواری سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ آج دنیا میں مابعد مارکسی نظریات کے نتائج واضح ہیں: ایک دہائی تک تعاون، مائیکرو کاروبار اور خود امدادی نظریات کی تبلیغ کے بعد آمدنی کا ارتکاز اور عدم مساوات پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مثال کے طور پر انٹر امریکن ڈویلپمنٹ بینک جیسے ادارے ایک طرف برآمدی زرعی کاروبار کو فنڈ دیتے ہیں جو لاکھوں زرعی مزدوروں کا استحصال کرتے اور ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور دوسری طرف چھوٹے مائیکرو منصوبوں کو بھی مالی مدد دیتے ہیں۔ ان چھوٹے منصوبوں میں مابعد مارکسیوں کا کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ نچلی سطح پر سیاسی مزاحمت کو کمزور کریں جبکہ اوپر کی سطح پر نو لبرل پالیسیوں کو مضبوط کیا جائے۔
“تعاون” کی یہ سوچ دراصل غریبوں کو مابعد مارکسیوں کے ذریعے اوپر موجود نو لبرل طاقتوں سے جوڑ دیتی ہے۔ فکری سطح پر مابعد مارکسی ایک طرح کے “دانشورانہ پولیس” کا کردار ادا کرتے ہیں: وہ طے کرتے ہیں کہ کون سی تحقیق قابل قبول ہے، تحقیق کے فنڈ تقسیم کرتے ہیں، اور ایسے موضوعات کو چھانٹ دیتے ہیں جو طبقاتی تجزیے یا جدوجہد کی بات کریں۔ مارکسیوں کو کانفرنسوں سے باہر رکھا جاتا ہے اور انہیں “نظریاتی” کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے، جبکہ مابعد مارکسی خود کو “سماجی سائنس دان” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ علمی فیشن، اشاعتوں، کانفرنسوں اور تحقیق کے فنڈز پر کنٹرول انہیں ایک اہم طاقت فراہم کرتا ہے—لیکن یہ طاقت بیرونی فنڈ دینے والوں سے ٹکراؤ سے بچنے پر منحصر ہوتی ہے۔
تنقیدی مارکسی دانش وروں کی طاقت اس حقیقت میں ہے کہ ان کے نظریات بدلتی ہوئی سماجی حقیقت سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ طبقاتی تقسیم اور پرتشدد ٹکراؤ بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ ان کے نظریات پیش گوئی کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مابعد مارکسیوں کے مقابلے میں مارکسی حکمتِ عملی کے لحاظ سے کمزور مگر طویل المدت حکمتِ عملی کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہیں۔
کیا سامراج دشمنی ختم ہو چکی ہے؟
حالیہ برسوں میں مابعد مارکسی سیاست کی لغت سے سامراج دشمنی تقریباً غائب ہو گئی ہے۔ وسطی امریکا کے سابق گوریلا جو اب انتخابی سیاست دان بن چکے ہیں، اور این جی اوز چلانے والے پیشہ ور افراد اب “بین الاقوامی تعاون” اور “باہمی انحصار” کی بات کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قرضوں کی ادائیگی آج بھی لاطینی امریکا کے غریب عوام سے یورپ، امریکا اور جاپان کے بینکوں تک اربوں ڈالر منتقل کر رہی ہے۔ سرکاری ادارے، بینک اور خاص طور پر قدرتی وسائل سستے داموں امریکی اور یورپی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے قبضے میں جا رہے ہیں۔ لاطینی امریکا میں ارب پتیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے اور ان کی دولت کا بڑا حصہ امریکی اور یورپی بینکوں میں رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف کئی صوبے صنعتی قبرستان بن چکے ہیں اور دیہی علاقوں سے آبادی ختم ہو رہی ہے۔ امریکا کے فوجی مشیر، انسدادِ منشیات اہلکار اور وفاقی پولیس آج پہلے سے کہیں زیادہ لاطینی امریکا کی “پولیسنگ” کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ سابق انقلابی دعویٰ کرتے ہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی سامراج بھی ختم ہو گیا۔ اب مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری یا امداد نہیں بلکہ اس کی کمی بتایا جاتا ہے، اور مزید “سامراجی امداد” کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس سوچ کی سیاسی و معاشی کم نظری یہ نہیں سمجھتی کہ ان قرضوں اور سرمایہ کاری کی اصل شرط مزدوری کو سستا کرنا، سماجی قوانین ختم کرنا اور پورے خطے کو ایک بڑی منڈی، کان کنی کے کیمپ اور فری ٹریڈ زون میں بدل دینا ہے—جہاں حقوق، خودمختاری اور دولت چھن جاتی ہے۔
مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق سامراجی استحصال کی جڑیں پیداوار کے سماجی تعلقات اور سامراجی و تابع سرمایہ داری کے ریاستی تعلقات میں ہوتی ہیں۔ سوویت یونین کے خاتمے نے سامراجی استحصال کو کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیا۔ مابعد مارکسی یہ سمجھتے ہیں کہ یک قطبی دنیا زیادہ “تعاون” لائے گی، مگر پاناما، عراق، صومالیہ اور دیگر مقامات پر امریکی مداخلت اس کے برعکس ثابت کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامراج کی قوت سوویت یونین کے ساتھ مقابلے سے نہیں بلکہ خود سرمایہ داری کے اندرونی نظام سے پیدا ہوتی ہے۔ لاطینی امریکا کی معیشتیں دوبارہ نوآبادیاتی دور جیسی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
آج سامراج کے خلاف جدوجہد کا مطلب ہے: قومی معیشت کی تعمیرِ نو، داخلی منڈی کو مضبوط کرنا، پیداواری معیشت کو بحال کرنا اور ایسی محنت کش طبقہ تشکیل دینا جو سماجی پیداوار اور کھپت سے جڑا ہو۔
سماجی تبدیلی کے دو راستے: طبقاتی تنظیمیں یا این جی اوز
سامراج اور اس کے مقامی حامیوں کے خلاف جدوجہد کے لیے عوامی تحریکوں کے اندر مابعد مارکسی سوچ کے ساتھ نظریاتی اور ثقافتی بحث ضروری ہے۔ آج نو لبرل ازم دو محاذوں پر کام کرتا ہے:
معاشی میدان
ثقافتی و سیاسی میدان
اوپر کی سطح پر عالمی بینک، آئی ایم ایف اور مغربی طاقتیں نو لبرل حکومتوں اور بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر پالیسیاں بناتی ہیں۔
لیکن 1980 کی دہائی تک حکمران طبقات کو اندازہ ہو گیا کہ ان پالیسیوں سے معاشرہ شدید تقسیم ہو رہا ہے اور عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے “نیچے سے” ایک متوازی حکمت عملی اپنائی—یعنی “گراس روٹس” تنظیموں اور این جی اوز کو فروغ دینا تاکہ سماجی دباؤ کم کیا جا سکے۔ 1990 کی دہائی تک دنیا بھر میں ہزاروں این جی اوز وجود میں آ چکی تھیں اور اربوں ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر رہی تھیں۔
این جی اوز کی مثبت شبیہ کیسے بنی؟
1970 کی دہائی میں فوجی آمریتوں کے دور میں این جی اوز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی۔ اس وجہ سے بائیں بازو میں بھی ان کی اچھی ساکھ بنی۔ مگر اس وقت بھی ایک حد واضح تھی:
وہ مقامی آمریتوں پر تنقید تو کرتی تھیں، مگر ان مغربی طاقتوں پر نہیں جو انہیں فنڈ دیتی تھیں۔
این جی اوز اور نو لبرل ازم کا تعلق
گزشتہ چند دہائیوں میں این جی اوز کے پھیلاؤ اور نو لبرل معاشی پالیسیوں کے عروج کے درمیان ایک گہرا اور پیچیدہ تعلق قائم ہوا ہے۔ عالمی سطح پر جب ریاستی کردار کو محدود کرنے، فلاحی اخراجات کم کرنے اور نجکاری کو فروغ دینے کی پالیسیوں کو ترجیح دی گئی تو اسی عرصے میں سماجی خدمات کی فراہمی کے لیے این جی اوز کو بڑے پیمانے پر فنڈنگ فراہم کی جانے لگی۔ نتیجتاً ایک ایسا ماڈل سامنے آیا جس میں ریاست بتدریج فلاحی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتی گئی جبکہ این جی اوز مقامی سطح پر چھوٹے منصوبوں کے ذریعے سماجی خلا کو عارضی طور پر پُر کرتی رہیں۔ اس طرح این جی اوز کو نو لبرل ازم کے “کمیونٹی چہرے” کے طور پر دیکھا جانے لگا—اوپر سے معاشی پالیسیوں کے ذریعے ساختی تبدیلیاں اور نیچے سے سماجی تسکین فراہم کرنے کی ایک دوہری حکمت عملی۔
اس عمل کا ایک اہم پہلو مزدور تحریکوں سے این جی اوز کی دوری ہے۔ عمومی طور پر این جی اوز نجکاری کے خلاف مزدور احتجاج، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی ہڑتالوں یا کم اجرتوں اور بجٹ کٹوتیوں کے خلاف تحریکوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کرتیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ ان کی مالی معاونت اکثر انہی حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں سے آتی ہے جو نو لبرل معاشی اصلاحات کے داعی ہوتے ہیں۔ یوں “غیر سرکاری” ہونے کا مفہوم عملی طور پر ریاستی اخراجات کے خلاف سرگرمیوں تک محدود ہو جاتا ہے، جبکہ وسیع تر معاشی پالیسیوں پر تنقیدی مزاحمت کمزور پڑ جاتی ہے۔
این جی اوز کے پھیلاؤ کا جمہوری عمل پر بھی اثر پڑا ہے۔ چونکہ ان کی فنڈنگ بڑی حد تک بیرونی حکومتوں اور عالمی اداروں سے آتی ہے، اس لیے ان کی جواب دہی اکثر مقامی عوام کے بجائے عطیہ دہندگان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس سے فلاحی منصوبے منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں کے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر غیر منتخب اداروں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں، جس سے جمہوری عمل کمزور اور بیرونی انحصار مضبوط ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں “خود امدادی” یا سیلف ہیلپ کے تصور کو بھی فروغ ملا ہے۔ اس نظریے کے تحت لوگوں کو قومی بجٹ اور ریاستی ذمہ داریوں کے مطالبے سے ہٹا کر اپنی ضروریات خود پوری کرنے کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست سماجی اخراجات کم کرتی ہے، جبکہ عوام نہ صرف ٹیکس دیتے ہیں بلکہ بنیادی خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی خود اٹھاتے ہیں۔ اس طرح غریب طبقات پر دوہرا بوجھ پڑتا ہے—ریاستی وسائل امیر طبقات کی حمایت میں استعمال ہوتے ہیں اور کمزور طبقات اپنی ضروریات خود پوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں بنیادی نظریاتی فرق نمایاں ہے۔ این جی اوز کے غالب نظریے کے مطابق سماجی مسائل کا حل نجی وسائل، مقامی سطح کے منصوبوں اور انفرادی کوششوں میں پوشیدہ ہے، جبکہ ریاستی سطح پر ساختی تبدیلیوں اور وسیع پیمانے کی معاشی اصلاحات کی اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں این جی اوز اور نو لبرل ازم کے باہمی تعلق کی اصل نوعیت واضح ہوتی ہے۔
مارکسی نظریہ:
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔
یوں اصل فرق ایک بڑے سوال پر آ جاتا ہے:
کیا سماجی مسائل ریاست کی ذمہ داری ہیں یا افراد کی؟
این جی اوز اور سماجی و سیاسی تحریکیں
این جی اوز تحریکوں کے بجائے منصوبوں پر زور دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کو اس لیے “متحرک” کرتی ہیں کہ وہ معیشت کے حاشیے پر کچھ پیدا کریں، نہ کہ اس لیے کہ وہ پیداوار کے بنیادی ذرائع اور دولت پر کنٹرول کے لیے جدوجہد کریں۔ ان کی توجہ منصوبوں کی تکنیکی اور مالی معاونت پر ہوتی ہے، نہ کہ ان ساختی حالات پر جو لوگوں کی روزمرہ زندگی کو شکل دیتے ہیں۔ این جی اوز بائیں بازو کی زبان استعمال کرتی ہیں—جیسے “عوامی طاقت”، “اختیار بخشی”، “صنفی برابری”، “پائیدار ترقی” اور “نچلی سطح سے قیادت”—مگر یہ زبان عطیہ دہندگان اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کے ایسے فریم ورک سے جڑی ہوتی ہے جو عملی سرگرمی کو غیر تصادمی سیاست کے تابع بنا دیتا ہے۔ این جی او سرگرمی کی مقامی نوعیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ “اختیار بخشی” محدود وسائل کے ساتھ زندگی کے چند چھوٹے شعبوں تک محدود رہتی ہے اور نو لبرل ریاست اور معیشت کی مقررہ حدود سے آگے نہیں بڑھتی۔
این جی اوز اور ان کے مابعد مارکسی پیشہ ور عملے کا غریبوں، خواتین اور نسلی طور پر محروم طبقات پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے سماجی و سیاسی تحریکوں سے براہ راست مقابلہ ہوتا ہے۔ ان کی فکر اور عمل غربت کے اصل اسباب اور حل سے توجہ ہٹا دیتی ہے—یعنی اوپر اور باہر دیکھنے کے بجائے نیچے اور اندر دیکھنے کی تلقین کرتی ہے۔ جب مائیکرو کاروبار کو حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بیرونی بینکوں کے استحصال کا ذکر نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ نظام نہیں بلکہ فرد کی کوشش ہے۔ این جی او امداد آبادی کے چھوٹے حصوں تک محدود رہتی ہے، جس سے کمیاب وسائل کے لیے کمیونٹیوں کے درمیان مقابلہ اور رقابت پیدا ہوتی ہے اور طبقاتی یکجہتی کمزور پڑتی ہے۔ پیشہ ور افراد بھی ایک دوسرے سے فنڈ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں این جی اوز کی بھرمار ہو جاتی ہے اور غریب کمیونٹیز چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ جاتی ہیں جو بڑے سماجی مسئلے کو سمجھنے اور اس کے خلاف متحد ہونے سے قاصر رہتی ہیں۔
تجربہ بتاتا ہے کہ بیرونی عطیہ دہندگان بحران کے وقت منصوبوں کو فنڈ دیتے ہیں، اور جب عوامی تحریکیں کمزور پڑتی ہیں تو فنڈنگ این جی او اور حکومت کے تعاون کی طرف منتقل ہو جاتی ہے تاکہ منصوبے نو لبرل ایجنڈے سے ہم آہنگ رہیں۔ اس طرح معاشی ترقی کو “آزاد منڈی” کے مطابق بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ سماجی تبدیلی کے لیے تنظیم سازی نظر انداز ہو جاتی ہے۔ این جی اوز کی “غیر سیاسی” حیثیت اور خود امدادی نظریہ غریبوں کو غیر سیاسی اور غیر متحرک بنا دیتا ہے۔ وہ نو لبرل سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے فروغ یافتہ انتخابی عمل کو مضبوط کرتی ہیں۔ سامراج، نو لبرل ازم اور طبقاتی جدوجہد جیسے موضوعات سے گریز کیا جاتا ہے، اور صرف غربت، محرومی یا امتیاز کی سطحی علامات پر بات کی جاتی ہے، ان نظامی وجوہات پر نہیں جو یہ حالات پیدا کرتی ہیں۔ یوں نجی رضاکارانہ سرگرمی کے ذریعے غریبوں کو نو لبرل معیشت میں ضم کر کے ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس میں یکجہتی اور سماجی عمل کا ظاہری تاثر دراصل عالمی و قومی طاقت کے ڈھانچے سے مطابقت کو چھپا دیتا ہے۔
یہ اتفاق نہیں کہ جہاں این جی اوز مضبوط ہوئیں وہاں آزاد طبقاتی سیاست کمزور پڑ گئی اور نو لبرل ازم کو چیلنج نہیں ملا۔ این جی اوز کی بڑھتی تعداد کا تعلق نو لبرل فنڈنگ میں اضافے اور غربت میں اضافے کے ساتھ ہے۔ ان کی مقامی کامیابیوں کے دعووں کے باوجود نو لبرل ازم کی مجموعی طاقت برقرار رہی۔ کئی سابق گوریلا، مزدور رہنما اور خواتین تنظیموں کے رہنما این جی اوز میں شامل ہو گئے کیونکہ انہیں بہتر تنخواہیں، عالمی شناخت، کانفرنسیں اور نسبتاً تحفظ ملا۔ جبکہ سماجی تحریکیں کم مالی فوائد مگر زیادہ آزادی اور نظام کو چیلنج کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
این جی اوز اکثر اپنی کامیابیوں کے قصے شائع کرتی ہیں مگر یہ نہیں بتاتیں کہ کمزور طلب، سستی درآمدات اور بڑھتی شرح سود کے باعث بہت سے منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کامیاب منصوبے بھی غریبوں کے ایک چھوٹے حصے تک محدود رہتے ہیں، مگر ان کی تشہیر سے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ نو لبرل ازم مقبول ہے۔ بار بار ہونے والے عوامی احتجاج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نظریہ مکمل طور پر غالب نہیں ہوا اور طبقاتی تحریکیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔
آخر میں، این جی اوز ایک نئی ثقافتی و معاشی نوآبادیاتی وابستگی کو فروغ دیتی ہیں۔ منصوبے بیرونی اداروں کی ترجیحات کے مطابق تیار اور منظور ہوتے ہیں، ان کی جانچ بھی وہی کرتے ہیں، اور فنڈنگ رکنے پر منصوبے ختم ہو جاتے ہیں۔ کامیابیاں بھی بیرونی مدد پر منحصر رہتی ہیں۔
تاہم ایک چھوٹی اقلیت ایسی این جی اوز کی بھی ہے جو طبقاتی اور سامراج مخالف سیاست کی حمایت کرتی ہیں، عالمی مالی اداروں سے فنڈ نہیں لیتیں اور مقامی جدوجہد کو قومی تحریکوں سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ مابعد مارکسی نہیں ہیں۔
________________________
پروفیسر جیمز پیٹراس، 89 سالہ عالمی شہرت یافتہ ماہرِ عمرانیات، عوامی دانشور اور لاطینی امریکی سیاست و عالمی معیشت کے ممتاز محقق، 17 جنوری 2026 کو سیئٹل (واشنگٹن) میں اپنے اہلِ خانہ کے درمیان پُرسکون طور پر انتقال کر گئے۔ وہ ایک نہایت زرخیز قلم کے مالک عالم اور سرگرم کارکن تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی طاقت، سامراج اور عدم مساوات کو چیلنج کرنے کے لیے وقف کر دی۔
