پاک۔افغان کشیدگی اور انقلابی متبادل پر جامع تجزیہ۔
پاک۔افغان کشیدگی، جنگی معیشت اور انقلابی متبادل کے تناظر میں حالیہ پاک۔افغان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے جب پاکستانی مسلح افواج نے افغانستان کے مختلف علاقوں پر جیٹ طیاروں اور ڈرون حملے کیے۔ اس پاک۔افغان کشیدگی نے ملک کے اندر شدید بحث کو جنم دیا ہے: ایک طرف ریاستی حکمران طبقات کے حامی قومی شاونزم کے تحت اس کارروائی کو جائز قرار دے رہے ہیں اور افغان فریق کو مکمل دشمن بنا کر پیش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مذہبی بنیاد پرست حلقے اس پاک۔افغان کشیدگی کو جہاد کے بیانیے سے جوڑ کر انتہائی دائیں بازو کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔
https://www.aljazeera.com/news/2026/2/27/pakistan-warplanes-bomb-kabul-as-clashes-with-afghanistan-intensify#flips-6390044552112:0
https://www.aljazeera.com/news/2026/2/27/pakistan-warplanes-bomb-kabul-as-clashes-with-afghanistan-intensify
ایسی فضا میں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے: اس معاملے پر ترقی پسند قوتوں کا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟
حقیقی انقلابی مارکسی تناظر: جنگ، ریاست اور خطے کے محنت کش عوام کا راستہ
پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کسی ایک واقعے، ایک رجیم یا ایک گروہ کی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے خطے میں سامراجی ورثے، فوجی بالادستی، مذہبی بنیاد پرستی اور دلال سرمایہ دارانہ نظام کے باہمی گٹھ جوڑ کا منطقی انجام ہے۔ ایک طرف پاکستانی فوجی نوکر شاہی ہے جس نے دہائیوں تک “اسٹریٹجک گہرائی” اور جہادی نیٹ ورکس کو خارجہ پالیسی کا آلہ بنایا، دوسری طرف افغان طالبان ہیں جو ایک رجعتی مذہبی گوریلا تحریک سے ریاستی اقتدار تک پہنچے مگر سماجی و معاشی تعمیر کا کوئی ترقی پسند پروگرام پیش نہ کر سکے۔ ان دونوں کے بیچ سامراجی طاقتیں—امریکہ، چین، روس اور علاقائی ریاستیں—اپنے اپنے مفادات کی بساط بچھائے بیٹھی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان مشن
(UNAMA)
کی رپورٹس کے مطابق خطے میں عدم استحکام اور سرحدی کشیدگی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے — https://unama.unmissions.org
مارکسی نقطۂ نظر سے اس بحران کی جڑ ریاستی ڈھانچوں کی طبقاتی ماہیت میں ہے۔ پاکستان کی ریاست ایک نیم نوآبادیاتی، نیم جاگیردارانہ-سرمایہ دارانہ تشکیل ہے جس میں فوجی افسر شاہی اور دلال سرمایہ دار طبقہ فیصلہ کن قوت ہیں۔ یہی طبقاتی اتحاد خارجہ پالیسی کو عسکریت کے ذریعے چلاتا رہا اور داخلی سیاست کو کنٹرولڈ جمہوریت، مداخلت اور انجینئرڈ سیٹ اپس کے ذریعے منظم کرتا رہا۔ اس پورے عمل میں محنت کش طبقہ، کسان، قبائلی عوام، خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ حکمران طبقات نے اپنے مفادات محفوظ رکھے۔
افغانستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ وہاں ایک کمزور، تباہ حال معیشت پر مذہبی بنیاد پرست رجیم مسلط ہے جس کے پاس نہ طبقاتی نجات کا کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی جمہوری حقوق کی کوئی سنجیدہ وابستگی۔ ایسی ریاستی ساخت سامراجی دباؤ، علاقائی طاقتوں کی مداخلت اور داخلی عسکری گروہوں کے درمیان پھنسی رہتی ہے۔ نتیجتاً دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور مہاجرین کے بحران کا بوجھ عوام پر منتقل ہوتا ہے۔
انقلابی مارکسی تناظر اس پورے بحران کو “قومی سلامتی” یا “مذہبی دفاع” کے بیانیوں میں نہیں دیکھتا بلکہ اسے طبقاتی مفادات کی جنگ سمجھتا ہے۔ جب تک ریاستی پالیسیوں کی بنیاد فوجی اسٹریٹجی، سامراجی اتحادوں اور سرمایہ دارانہ منافع پر رہے گی، تب تک خطے میں امن ممکن نہیں۔ نہ طالبان کی رجعتی امارت اس کا حل ہے اور نہ پاکستانی فوجی اشرافیہ کی جنگی حکمت عملی۔ دونوں ماڈلز محنت کش عوام کو مزید تقسیم اور کمزور کرتے ہیں۔
حقیقی متبادل اس وقت ہی ابھر سکتا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے محنت کش طبقات، قبائلی عوام، طلبہ، خواتین اور ترقی پسند قوتیں ایک مشترکہ سامراج مخالف اور سرمایہ داری مخالف پلیٹ فارم پر منظم ہوں۔ سرحدی تنازعات کا حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ حقِ خود ارادیت، جمہوری آزادیوں اور عوامی شرکت پر مبنی سیاسی عمل ہے۔ ڈیورنڈ لائن سمیت تمام سامراجی سرحدوں کا مسئلہ عوامی رضامندی اور جمہوری فیصلوں سے حل ہونا چاہیے، نہ کہ بمباری اور بارڈر باڑ سے۔
انقلابی مارکسزم اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگی اخراجات کو کم کر کے وسائل تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی بہبود پر خرچ کیے جائیں۔ فوجی نوکر شاہی اور دلال سرمایہ دار طبقے کی بالادستی کو چیلنج کیے بغیر نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ سکیورٹی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کس کے مفاد میں چل رہی ہے؟ اگر یہ مفاد محنت کش اکثریت کا نہیں تو پھر اس ڈھانچے کی انقلابی تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اس پورے بحران کا حقیقی حل ایک ایسے انقلابی، جمہوری اور سوشلسٹ پروگرام میں ہے جو سامراجی مداخلت، مذہبی بنیاد پرستی اور فوجی بالادستی—تینوں کو مسترد کرے اور خطے کے عوام کو خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دے۔ امن، ترقی اور استحکام کا راستہ توپ و تفنگ سے نہیں بلکہ طبقاتی یکجہتی، عوامی جمہوریت اور سوشلسٹ تبدیلی سے ہو کر گزرتا ہے۔
اس سوال کا سنجیدہ جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کے حکمران طبقے اور موجودہ ریاستی نظم کے کردار کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔
فوجی نوکر شاہی، کنٹرولڈ جمہوریت اور بحران زدہ ریاست
پاکستان میں فوجی نوکر شاہی نے گیارہ سالہ براہِ راست حکمرانی کے بعد بدلتے ہوئے داخلی و عالمی حالات کے تحت ایک مشروط اور کنٹرولڈ جمہوری نظام کی بحالی کی اجازت دی۔ اس عرصے میں ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے دو بڑی سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کا ایسا کھیل جاری رکھا جسے بلی اور چوہے کی سیاست کہا جا سکتا ہے۔ بالآخر یہ سلسلہ 12 اکتوبر 1999ء کو ایک بار پھر براہِ راست مارشل لا کے نفاذ پر منتج ہوا۔
اس سے پہلے کے گیارہ برسوں میں فوجی نوکر شاہی نے افغان جہاد اور کشمیر جہاد کے نام پر بنائے گئے اپنے دو مستقل اسٹریٹجک منصوبوں کو مسلسل جاری رکھا۔ افغانستان کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں رکھنے کی کوششوں کے تحت پرانے اور نئے جہادی گروہوں کو یکجا کر کے افغان طالبان کی تشکیل کی گئی اور انہیں افغانستان پر قبضہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کی گئی۔ دوسری جانب نوّے کی پوری دہائی میں ملکی معیشت مسلسل عدم استحکام کا شکار رہی۔ بھاری ریاستی سبسڈیز (تقریباً 90 فیصد)، کرپشن اور ٹیکس چوری جیسی مراعات کے باوجود دلال سرمایہ دار طبقہ عالمی منڈی میں مسابقت اور صنعتی ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ دیہی آبادی کی تقریباً 65 فیصد اکثریت بدحالی کا شکار رہی جبکہ تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں کوئی نمایاں بہتری نہ آ سکی۔ نتیجتاً سماجی ڈھانچہ شدید عدم مساوات کی گرفت میں رہا۔
1999ء میں فوجی حکومت کے پاس ان مسائل سے نکلنے کا کوئی واضح معاشی وژن موجود نہ تھا کہ اسی دوران نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کیا جس کا مرکزی محاذ افغانستان بنا۔ پاکستان کے فوجی حکمران فوری طور پر اس جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گئے، مگر بیک وقت افغان طالبان اور کشمیر جہاد نیٹ ورکس کو محفوظ رکھنے کی کوشش بھی جاری رکھی۔ افغانستان اور بھارت سے متعلق خارجہ پالیسی کو سختی سے اپنے کنٹرول میں رکھا گیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے اور بلوچستان کے سرحدی خطے شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے۔ اسی نوآبادیاتی طرز فکر نے بلوچستان میں ایک نئی شورش کو بھی جنم دیا۔ امریکی جنگ میں شمولیت اور علاقائی عسکری عزائم کے درمیان تضاد نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فوجی آپریشنوں پر مشتمل ایک طویل جنگی سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔
2008ء میں عالمی اور داخلی دباؤ کے نتیجے میں فوجی سربراہ اور صدر کے مشترکہ اقتدار پر مشتمل نظام کا خاتمہ ہوا اور ایک بار پھر مشروط جمہوریت بحال کی گئی۔ تاہم فوجی قیادت اس بندوبست سے مطمئن نہ تھی اور مسلسل مداخلت کے ذریعے بالآخر عمران خان کی قیادت میں ایک نیا سیاسی سیٹ اپ تشکیل دیا گیا جس میں معیشت اور سکیورٹی دونوں پر اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ کن کنٹرول برقرار رہا۔ اس دور میں بھی نہ معیشت بحال ہو سکی اور نہ ہی سکیورٹی چیلنجز حل ہو سکے۔ اسی دوران فوجی قیادت کے اندر اختلافات پیدا ہوئے؛ ایک دھڑا اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتا تھا جبکہ دوسرا سیاسی سیٹ اپ کی تبدیلی کا خواہاں تھا۔ بالآخر دوسرے دھڑے کی کامیابی ہوئی اور تب سے آج تک یہی قیادت پاکستان کی معاشی اور سکیورٹی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے جبکہ بظاہر ایک سویلین حکومت بھی موجود ہے۔
اگست 2021ء سے فروری 2026 تک کے تقریباً ساڑھے چار برسوں میں فوجی نوکر شاہی کے زیرِ سایہ معیشت کی بحالی کے نام پر اٹھائے گئے اقدامات — جنہیں نیولبرل سرمایہ داری کے ناگزیر حل کے طور پر پیش کیا گیا — معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہے۔ فوجی سہولت کار کونسل بیرونی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب نہ ہو سکی اور موجودہ سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے میں بھی ناکام رہی۔ معاشی ترقی کی شرح ایک سے تین فیصد کے درمیان محدود رہی۔ اس ناکامی کا بوجھ مزید قرضوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کی صورت میں ڈالا گیا جبکہ براہِ راست ٹیکسوں میں مزید کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ سامراجی عالمی کمپنیوں کو ملکی وسائل میں 65 سے 70 فیصد حصص تک دینے کی پالیسی کے باوجود معیشت میں بہتری نہیں آ سکی۔
بلوچستان: شورش، قومی سوال اور علاقائی کشمکش
سکیورٹی کے محاذ پر بلوچستان اس وقت پاکستان کا سب سے پیچیدہ اور سنگین داخلی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف مسلح شورش موجود ہے تو دوسری جانب بلوچ عوام کی ایک وسیع تر قومی جمہوری تحریک اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کی بازیابی کے لیے سرگرم ہے۔ ریاست نے اس صورتحال کا جواب بنیادی طور پر طاقت اور جبر کے ذریعے دینے کی کوشش کی ہے، مگر اس حکمتِ عملی سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ کشیدگی اور بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
سی پیک کے تناظر میں چینی سرمایہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور معدنی وسائل کی تقسیم میں امریکی کمپنیوں کو بھی شریک کرنے کی کوششوں نے اس بحران کو مزید الجھا دیا ہے۔ یوں بلوچستان صرف ایک داخلی سکیورٹی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی اور علاقائی سرمایہ دارانہ مفادات کی کشمکش کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال سے علاقائی طاقتیں بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں، خصوصاً بھارت کی دائیں بازو کی قوم پرست حکومت اسے اپنے تزویراتی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
جہاد کی پالیسی کا الٹ اثر: ٹی ٹی پی، داعش اور علاقائی طاقتوں کا کھیل
پاکستان کی داخلی سلامتی کے بحران کا تیسرا بڑا پہلو تحریکِ طالبان پاکستان، داعش خراسان، القاعدہ برصغیر ہند اور اس نوع کے دیگر جہادی گروہوں کی موجودگی ہے۔ یہ بحران محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ریاستی پالیسیوں کے نتائج کا مجموعہ ہے۔ نوّے کی دہائی سے پاکستان کی فوجی افسر شاہی افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار کو خطے میں امن کا واحد حل قرار دیتی رہی اور انہیں ایک ایسے “زیرِ اثر” گوریلا نیٹ ورک کے طور پر دیکھتی رہی جو پاکستان کے تزویراتی مفادات کو آگے بڑھا سکتا تھا۔ مگر افغان طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خطرات میں بتدریج اضافہ ہوا۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ اس پالیسی کی بنیاد ایک غیر حقیقی مفروضے پر رکھی گئی تھی۔ افغانستان ایک کمزور اور تباہ حال ریاستی ڈھانچے کا حامل ملک ہے۔ ایسے میں بیرونی حمایت سے قائم حکومت کو ختم کر کے طالبان کو اقتدار دلانے کے بعد یہ سوال کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا گیا کہ طالبان بغیر مضبوط معاشی بنیاد اور عالمی امداد کے افغانستان کو کیسے سنبھال سکیں گے۔ نتیجتاً طالبان کو علاقائی اور عالمی طاقتوں سے براہِ راست روابط استوار کرنا پڑے۔ نائن الیون کے بعد سے وہ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کے ساتھ عملی سطح پر رابطے قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ امریکہ آج بھی افغانستان کو چین اور روس کے مقابل ایک اسٹریٹجک نگرانی کے مقام کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ طالبان حکومت کے لیے داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہ وجودی خطرہ بنے ہوئے ہیں جو مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں نہیں۔
اس پیچیدہ صورتحال میں تحریکِ طالبان پاکستان ایک فیصلہ کن عنصر بن کر ابھری۔ ٹی ٹی پی کی قیادت اور اس کے کئی جنگجو افغان طالبان کے اندر گہرے روابط رکھتے ہیں۔ اگر طالبان پاکستان کے مطالبے کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ دیتے تو انہیں اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ اور ممکنہ طور پر داعش خراسان کے ساتھ نئے اتحاد کا خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اسی لیے طالبان نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی، جسے عمران خان کے دور میں پاکستان کی فوجی قیادت نے قبول بھی کیا۔ مگر مذاکرات اس وقت ناکام ہوئے جب پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مکمل غیر مسلح ہونے اور تنظیمی ڈھانچہ ختم کرنے کی شرط رکھی جبکہ ٹی ٹی پی قبائلی علاقوں میں نیم خودمختاری اور اپنی تعبیر کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی تھی — جو ریاست کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔
اس ناکامی کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ نئی فوجی قیادت نے طالبان سے ٹی ٹی پی سے اعلانِ لاتعلقی اور ان کے ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جسے طالبان نے مسترد کر دیا۔ پاکستان نے دباؤ بڑھانے کے لیے سرحدی گزرگاہوں کو محدود کیا، تجارت پر پابندیاں لگائیں اور افغان مہاجرین کی بے دخلی شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں افغانستان نے ایران، تاجکستان اور بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی کوششیں تیز کر دیں — جو بھارت کے لیے ایک تزویراتی موقع بن گیا اور بالواسطہ امریکی اثر و رسوخ کے لیے بھی راستہ ہموار ہوا۔ پاکستان کی جانب سے چین، روس، ترکی، قطر اور خلیجی ممالک کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔
بائیں بازو کے نقطۂ نظر سے یہ پورا بحران “اچھے اور برے طالبان” کی پالیسی، اسٹریٹجک گہرائی کے نظریے اور مذہبی عسکریت پسندی کو بطور ریاستی آلہ استعمال کرنے کے طویل سلسلے کا منطقی نتیجہ ہے۔ جب ریاستیں خارجہ پالیسی کو عسکریت پسند نیٹ ورکس کے ذریعے چلانے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ بالآخر اسی آگ میں گھِر جاتی ہیں۔ اس پالیسی نے نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا بلکہ پاکستان کے اندر جمہوری، سماجی اور معاشی ترقی کے امکانات کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً ایک ایسا سیکورٹی بحران جنم لے چکا ہے جس میں جنگ کا دائرہ سرحدوں سے نکل کر ریاست کے اندر تک پھیل چکا ہے اور جس کا بوجھ سب سے زیادہ عام شہری اٹھا رہے ہیں۔
ا افغانستان کی کمزوری اور جنگی حکمتِ عملی کے خطرناک نتائج
افغانستان اس وقت ایک انتہائی کمزور اور غیر مستحکم ریاست کی صورت میں موجود ہے۔ افغان طالبان، جو ایک مذہبی بنیاد پرست اور طویل گوریلا جنگ سے ابھرنے والی تنظیم ہے، اقتدار میں آنے کے باوجود معیشت اور سماج کی تعمیر کے لیے کوئی واضح اور جامع وژن پیش نہیں کر سکی۔ خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے اس کی پالیسیاں انتہائی رجعت پسند اور جابرانہ سمجھی جاتی ہیں، جس نے افغانستان کی داخلی کمزوریوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں طالبان حکومت نہ تو مضبوط ریاستی ادارے قائم کر سکی ہے اور نہ ہی وہ داعش خراسان جیسے مسلح گروہوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
افغانستان کی بقا کا ایک اہم انحصار تجارتی راہداریوں اور سرحدی تجارت پر ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی، خوراک، ایندھن اور روزمرہ اشیا کی ترسیل کے لیے اسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کھلے تجارتی راستوں کی سخت ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کی بندش یا تجارت میں رکاوٹ جیسے اقدامات افغانستان کی معاشی شہ رگ کو کاٹنے کے مترادف ہیں۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں طالبان حکومت متبادل اور نسبتاً مہنگے تجارتی راستوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئی ہے۔
ایسی صورت میں افغانستان پر براہِ راست عسکری دباؤ یا جنگی کارروائیوں میں اضافہ درحقیقت پہلے سے کمزور ریاست کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا بلکہ پورے خطے میں عدم تحفظ اور مہاجرین کے نئے بحران کو جنم مل سکتا ہے۔
بائیں بازو کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کسی کمزور اور جنگ زدہ معاشرے کو عسکری دباؤ کے ذریعے مزید کمزور کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ جب بنیادی مسائل — غربت، پسماندگی، تعلیم اور معاشی ترقی — کو نظرانداز کر کے جنگ کو ترجیح دی جاتی ہے تو اس کا خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ خطے میں پائیدار امن کا راستہ عسکریت نہیں بلکہ سماجی ترقی، علاقائی تعاون اور عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
ڈیورنڈ لائن: سامراجی سرحد، قبائلی تقسیم اور مسلسل جنگ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا ایک بنیادی اور تاریخی سبب ڈیورنڈ لائن ہے، جو برطانوی سامراج کی کھینچی ہوئی ایک ایسی سرحد ہے جس نے صدیوں سے آباد مشترکہ افغان قبائل کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ سرحد نہ کسی عوامی رضامندی سے وجود میں آئی اور نہ ہی اسے کبھی خطے کے عوام نے دل سے قبول کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی دہائیوں تک اس مسئلے کا کوئی ایسا سیاسی حل تلاش نہیں کیا گیا جو سرحد کے دونوں طرف آباد قبائل کو حقِ خود ارادیت دیتا اور انہیں یہ فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرتا کہ وہ کس ریاست کے ساتھ وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔
وقت کے ساتھ جب یہ سرحد ایک عسکری محاذ میں تبدیل ہو گئی تو اس کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ انہی قبائل نے بھگتے جو دونوں اطراف آباد ہیں۔ سرحدی باڑ، چیک پوسٹس، آمدورفت کی پابندیاں، فوجی آپریشن اور فضائی حملے—ان سب نے ان قبائل کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرحدی تجارت، روزگار، خاندانی روابط اور نقل و حرکت کی صدیوں پرانی روایت تقریباً مفلوج ہو چکی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں اطراف آباد قبائل میں غصہ، بیگانگی اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ امیگریشن اور سرحدی پالیسیوں نے ایک نیا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ کی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پہلے سے کمزور افغانستان اور سرحدی علاقوں کے غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا، جبکہ پاکستان کے خلاف جذبات مزید شدت اختیار کریں گے۔
مارکسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ڈیورنڈ لائن سامراجی سرحدوں کی ایک واضح مثال ہے جو مقامی اقوام کو تقسیم کر کے ریاستی مفادات اور اسٹریٹجک کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے کھینچی گئی تھیں۔ ایسی سرحدیں سرمایہ دارانہ ریاستوں کے جغرافیائی مفادات کی نمائندہ ہوتی ہیں، نہ کہ عوامی خواہشات کی۔ جب سامراجی دور کی کھینچی ہوئی سرحدیں بعد از نوآبادیاتی ریاستوں کی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ بن جاتی ہیں تو نتیجہ مسلسل جنگ، غربت اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس پورے بحران کا بوجھ سرمایہ دار طبقوں پر نہیں بلکہ سرحدی علاقوں کے محنت کش عوام اور قبائل پر پڑ رہا ہے، جو ریاستی پالیسیوں اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کے درمیان پس رہے ہیں۔
جنگی معیشت اور انحصاری ریاست: ایک مارکسی تناظر
مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق جنگ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت کی سمت متعین کرنے والی ایک بنیادی قوت بن جاتی ہے۔ جب کوئی ریاست اپنی عالمی اہمیت کو تنازعات کے انتظام اور سکیورٹی کردار سے جوڑ دیتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ پیداوار، صنعت اور انسانی ترقی پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ فوجی تعاون، دفاعی معاہدے اور جغرافیائی سیاسی اہمیت معیشت کی بنیاد بننے لگتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی معیشت جنم لیتی ہے جو بیرونی امداد، اسلحہ کے سودوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں امن اور علاقائی تعاون معاشی طور پر “غیر فائدہ مند” دکھائی دینے لگتے ہیں اور یوں کشیدگی ایک عارضی کیفیت کے بجائے مستقل حالت اختیار کر لیتی ہے۔
جنگی سیاست کا دوسرا بڑا نتیجہ طبقاتی عدم مساوات میں اضافہ ہے۔ دفاع اور داخلی سلامتی کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں جبکہ تعلیم، صحت، روزگار، تحقیق اور صنعتی ترقی جیسے شعبے مسلسل نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کا براہِ راست بوجھ محنت کش طبقے، کسانوں، چھوٹے کاروباری افراد اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے—مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں کمی کی صورت میں۔ دوسری طرف وہ طبقات مزید طاقتور ہو جاتے ہیں جو اسلحہ سازی، تعمیرات، سکیورٹی معاہدوں اور بیرونی فنڈنگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مارکسی تجزیہ اس جنگی معیشت کو “اوپر والوں کے فائدے اور نیچے والوں کے نقصان” کی معیشت قرار دیتا ہے، جہاں منافع اشرافیہ کو اور قیمت عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
جنگی ماحول علاقائی عدم استحکام کو بھی جنم دیتا ہے۔ جب ریاست کی مالی بقا اور عالمی اہمیت کشیدگی سے وابستہ ہو جائے تو امن کے بجائے تنازع ایک آسان اور منافع بخش راستہ بن جاتا ہے۔ افغانستان، بھارت یا داخلی شورشوں کے ساتھ کشیدگی پھر صرف سکیورٹی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ معاشی مفاد کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی راہداریوں، علاقائی تعاون اور مشترکہ ترقی کے امکانات کمزور پڑ جاتے ہیں اور پورا خطہ غربت، بے روزگاری اور عدم استحکام کے ایک دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔
مارکسی تنقید یہ بھی واضح کرتی ہے کہ جب کسی ریاست کی عالمی شناخت “سکیورٹی اسٹیٹ” بن جائے تو اس کے ادارے بھی اسی منطق کے تابع ہو جاتے ہیں۔ خارجہ تعلقات زیادہ تر سکیورٹی تعاون کے گرد گھومنے لگتے ہیں جس سے وقتی مالی فوائد تو حاصل ہوتے ہیں مگر طویل مدت میں پالیسی سازی کی خودمختاری کمزور ہو جاتی ہے۔ یوں عوامی فلاح، سماجی ترقی اور علاقائی تعاون جیسے اہداف پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ کشیدگی اس عمل کی واضح مثال ہے۔ سرحدی عدم استحکام پاکستان کو عالمی سکیورٹی نظام میں اہم ضرور بنائے رکھتا ہے، مگر اسی کے باعث وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، توانائی راہداریوں اور علاقائی رابطے کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ مارکسی تناظر میں ایک ایسا خطہ جو امن، تعاون اور مشترکہ ترقی پر قائم ہو، وہ جنگی معیشت پر کھڑی ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوشحال، خودمختار اور پائیدار ترقی حاصل کر سکتا ہے۔
اختتامیہ: جنگ نہیں، عوامی نجات کا راستہ
پاک–افغان کشیدگی اور مسلسل جنگی ماحول اس خطے کے عوام کے کسی بھی بنیادی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ترقی پسند اور جنگ مخالف زاویہ اس صورتحال کو قومی سلامتی کے بیانیے سے ہٹ کر دیکھتا ہے۔ اس کے مطابق جنگ یا دائمی سکیورٹی کشیدگی کوئی فطری یا ناگزیر ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و معاشی ڈھانچہ ہے جو عالمی سامراجی طاقتوں، علاقائی ریاستی اشرافیہ اور مقامی حکمران طبقات کے مفادات کو تقویت دیتا ہے، جبکہ اس کی قیمت عام لوگ مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور مسلسل عدم استحکام کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
مارکسی تناظر میں حقیقی سلامتی توپ و تفنگ، فوجی اتحادوں اور جنگی معیشت سے نہیں بلکہ سماجی ترقی سے پیدا ہوتی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، جمہوری حقوق اور علاقائی تعاون وہ بنیادیں ہیں جن پر پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ جنگ وقتی طاقت کا تاثر تو پیدا کر سکتی ہے، مگر دیرپا استحکام ہمیشہ سماجی سرمایہ کاری، انصاف اور عوامی شرکت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ جب ریاستیں اپنی ترجیحات کو جنگی اخراجات سے ہٹا کر انسانی ترقی پر مرکوز کرتی ہیں تو ہی معاشرے میں حقیقی تحفظ اور استحکام جنم لیتا ہے۔
حقیقی انقلابی مؤقف یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کا مشترکہ مفاد جنگ کے خاتمے، سامراجی مداخلت سے آزادی، علاقائی تعاون اور جمہوری و سماجی ترقی میں مضمر ہے۔ اس خطے کا مستقبل عسکری کشیدگی میں نہیں بلکہ عوامی یکجہتی، امن اور ترقی کے راستے میں پوشیدہ ہے۔
