

دائیں بازو کی بنیاد پرستی کے خلاف ورکرز انٹیلجنسیا اور “کاسمیٹک” پالیسی تبدیلی
پاکستان پپلزپارٹی کی حامی ورکرز انٹیلجنٹیسا دائیں بازو کی اسلامی بنیاد پرست آئیدیالوجی ، جہادی و فرقہ پرستانہ عسکریت پسندی کے خلاف تو تھی ۔ اسے نہ تو پاکستان کی سنٹر رائٹ دائیں بازو کی سیاسی اشرافیہ ، فوجی اور سول نوکر شاہی کے طاقتور اور غالب بالادست ٹولے کی نائن الیون کے فوری بعد امریکی سامراج کے سامنے لیٹ جانے اور اپنی ہی بنائی ہوئی تزویراتی گہرائی اور ڈیپ سٹیٹ پالیسی میں کاسمیٹک تبدیلی لاتے ہوئے ایک طرف تو امریکی سامراج کو پاکستانی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دینے، لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے ، انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرنے اور بدلے میں اربوں ڈالر بٹورنے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی ۔ نہ ہی اسے اس بات پر کوئی شک تھا کہ پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ نے اپنے پاکستان کو سیکورٹی اسٹیٹ بنانے ، کشمیر میں تزویراتی جنگ کو جاری رکھنے ، افغانستان میں “طالبان ” اور دیگر جہادی گروپوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے کی پالیسی کو ختم کیا ہے بلکہ اسے کیموفلاج کردیا تھا۔ دوسری طرف خود عالمی سرمایہ داری کی سامراجی طاقتوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں نے بھی بنیادی طور پر ان جہادیوں ، فرقہ پرست عسکریت پسند تنظیموں اور نیٹ ورک کے مکمل خاتمے اور انہیں استعمال نہ کرنے کی کوئی پالیسی بنائی تھی ۔ وہ مشرق وسطی ، وسط ایشیآ ، چین میں سنکیانگ ، ایران میں بلوچستان۔ سیستان اور افریقی ممالک میں ان جہادی فرقہ پرست عسکریت پسند نیٹ ورک میں اپنے تزویراتی ایجنٹوں کے طور پر انہیں استعمال کرنے میں لگا ہوا تھا ۔ علاقائی طاقتیں بھارت ، چین ، روس ، سعودی عرب ، قطر ، یو اے ای اور ایران ، مصر کی سرمایہ دار طاقتیں بھی ایسا ہی دوغلا کردار ادا کر رہی تھیں ۔
پیپلز پارٹی کے اندر کمزور اور غیر معروف بائیں بازو ورکرز دانشور: “یوٹوپیا” کا سوال
پاکستان پیپلزپارٹی میں سب سے کم تعداد میں اور پارٹی کے اندر انتہائی کمزور پوزیشن میں اور ساتھ ساتھ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر معروف بائیں بازو کے ورکرز دانشور تھے ۔ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی کی اس مسئلے پر آفیشل سیاسی لائن کو “یوٹوپیا ” قرار دے رہے تھے کہ امریکی اور یورپی لبرل ڈییموکرٹیک حکمران پارٹیاں ، امریکی فوج کی طاقت کا مرکز پینٹا گان ، اسٹبلشمٹ اور خارجہ و داخلہ پالیسی کا مرکز سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکہ اور یورپ کی ریاستوں کی جو دوسرے ممالک کے معاملات میں ” مداخلت کار پالیسی ” Interventinooist Policy ” اس کے تحت قائم مداخلت کا تھنک ٹینکس ، پالیسی ساز اداروں ، ان ممالک میں ان کا فنڈڈ ” این جی او ڈھانچہ ” اور دیگر میکنزم کو وہاں کی مقبول عوامی جمہوری سیاسی جماعتوں اور قیادت کو نام نہاد نیولبرل ڈیموکریٹک حکومتیں قائم کرنے دے گا اور انہیں مکمل سویلین بالادستی حاصل کرنے کے لیے پوری حمایت اور انہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد مارشل پلان کی طرح جیسے جنوبی کوریا ، تائیوان ، چاپان جیسی ریاستوں کی اربوں ڈالر لگاکر ، جدید ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرکے تعمیر کی گئی تھی ویسی تعمیر کرنے دے گا ۔ امریکی سامراجی دباؤ زیادہ سے زیادہ پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ اور پیپلزپارٹی میں کوئی مفاہمت کرانے کی کوشش کرے گا ۔ اس مفاہمت میں بھی چین ، سعودی عرب اثر انداز ہوں گے ۔ سعودی عرب نواز شریف سمیت پاکستان میں اپنے حامی دائیں بازو کے سیاست دانوں کو ضرور شامل کرے گا اور پاکستان مسلم لیگ نواز کو فیصلہ کن حثیت دینے کا خواہش مند تھا ۔ جنرل مشرف بھی پنجاب پی پی پی کو نہیں دینا چاہتے مگر وہ جآہتے تھے کہ مسلم لیگ ق کے پاس وفاق اور پنجاب میں اتنی نشستیں ہوں کہ پی پی پی دونوں جگہ حکومت بنانے کے لیے ان کو خوش رکھنے پر مجبورہو اور اگلے پانچ سال وہ صدر رہ سکیں ۔ یہ وہی منظرنامہ تھا جس کی پیشن گوئی پاکستان پیپلزپارٹی میں بائیں بازو کے ورکرز دانش ور کر رہے تھے ۔
نیولبرل ڈیموکریسی کی کمزوری، کارپوریٹ دباؤ اور محنت کشوں کی مایوسی
پاکستان پیپلزپارٹی تنہا فوجی اسٹبلشمنٹ ، سیاسی دائیں بازو ، سعودی عرب کی سلفی تزویراتی پالیسی اور دوسری طرف ایرانی تزویراتی پالیسی اور ان کے باہم ٹکراؤ میں سینڈوچ بن کر رہ جائے گی ۔ نیولبرل ڈیموکریسی کا لولا لنگڑا اقتدار عالمی سامراجی مالیاتی اداروں ، پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کے کارپوریٹ اورمداخلت کار دباؤ کا شکار رہے گی اور اسے محنت کش طبقات کے خلاف نیم رضامند پالیساں اور اقدامات اٹھانے پڑیں گے جس سے ان طبقات میں اس کے حامیوں اور وٹروں میں مایوسی پھیلے گی ۔ پارٹی کے اندر اور باہر کارپوریٹ سرمایہ دار ، پیٹی بورژوازی اور جاگیرداروں کا دباؤ اور غلبہ اسے ریڈیکل محنت کش طبقات دوست اصلاحات کرنے نہیں دے گا ۔ معاندانہ پریس اور پی پی پی دشمن ججز لابی اسے گھیرنے کی کوشش کریں گی اور یوں پاکستان پیپلزپارٹی کو ملنے والی تیسری بار حکومت پوسٹ ضیاء دور کی دو حکومتوں کی طرح انتہائی ذلت کے ساتھ رخصت ہوگی ۔ حل صرف ایک تھا کہ پی پی پی سامراجی جنگ کو مسترد کرے ۔ ملائیت کی سامراج مخالف ڈرامہ پوزیشن کے مقابلے مییں حقیقی سامراجیت مخالف سیاسی پوزیشن لے ۔ مزدوروں ، کسانوں اور طالب علموں کو متحرک کرے اور پاکستان کو فوجی جنتا ، دائیں بازو کے بنیاد پرستوں اور طبقہ اشرافیہ کے قبضے کے خلاف جمہوریی سوشلسٹ سیاسی پروگرام پیش کرے ۔
دوسرا نظریاتی دھارا: لبرل پیٹی بورژوازی، این جی اوز اور “ضیائی ذہنیت” کی محدود تنقید
دوسرا نکتہ نظر پاکستان پیپلزپارٹی سرمایہ داروں ، جاگیر داروں اور پیٹی بورژوازی لبرل دانشوروں کا تھا ۔ جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے یوٹوپیائی لبرل ڈیموکریٹک سیاسی بیانیہ کی اپنی تعبیرات کر رہا تھا ۔ اس میں حسین حقانی کی انٹری نئی تھی۔ شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، میاں رضا ربانی ، تاج حیدر ، فرح اصفہانی اسی قبیل کے لوگ تھے۔ یہ این جی اوز ، تھنک ٹینکس وغیرہ مین تھا ۔ ان کی تنقید کا نشانہ صرف فوجی اسٹبلشمنٹ میں ضیآہ ذہنیت تھی اور پاکستانی ملائیت تھی ۔
عام کارکن اور ووٹر کی ترجیح: بنیادی معاشی اصلاحات اور عوام دوست تبدیلی
پاکستان پیپلزپارٹی کا عام کارکن اور ووٹر ان دو نظریاتی دھاروں کی بحثوں سے الگ تھلگ پارٹی قیادت سے اقتدار میں آکر بنیادی مسم کی اصلاحات اور اپنے سفید پوش درمیانے طبقے ، مزدور ، کسان کی بہتری اور پارٹی کی تنظیمی و پارلیمانی مشینری میں عوام دوست بدلاؤ دیکھنا چاہتا تھا ۔ وہ نہ تو مخالف سیاسی جماعتوں کے “ڈیل پروپیگنڈے ” سے متاثر تھا اور نہ ہی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں اور اس کے حامی پریس پارٹی قیادت پر مغرب پرستی ۔ اسلام دشمن پروپیگندے سے متاثر تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو جب ملک میں تشریف لائیں ان کارکنوں نے پارٹی قائد کا فیقد المثال استقبال کیا۔ ڈیل پروپيکںدے کو مسترد کردیا ۔ صاف نظر آرہا تھا کہ انتحابات ہوئے تو پارٹی کم از کم سادہ اکثریت سے حکومت بنالے گی ۔
اے پی ڈی ایم، ڈیل پروپیگنڈا اور اسٹیبلشمنٹ کا نیا توازن
پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی آمد کے وقت ہی سعودی عرب کے دباؤ سے نواز شریف الگ سے پاکستان ائے ۔ انہوں نے بی بی کی امریکہ اور فوج کے بات چیت کے آغاز سے ہی اپنےآپ کو فاصلے پر رکھا تھا ۔ اے ار ڈی سے الگ ہوکر جنرل مشرف سے الگ ہونے والی تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل سے الگ ہونے والی جماعت اسلامی اور پہلے دن سے اے آر ڈی مین شامل نہ ہونے والے بائیں بازو اور چند ایک قوم پرست جماعتوں اور اے آر ڈی مین شامل کجھ جماعتوں کو ساتھ ملاکر لندن میں اے پی ڈی ایم نامی الائنس قائم کرلیا تھا ۔ اور یہ الائنس بے ںطیر بھٹو پر مشرف اور امریکہ سے ڈیل کرنے کا الزام لگا رہا تھا ۔ پریس بھیاس کی بولی بول رہا تھا ۔ نواز شریف کی قیادت میں یہ الگ محاذ بے نظیر بھٹو کو کسی صورت سادہ اکثریت اور پنجاب میں حکومت بنانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔ خود جنرل مشرف کے کیمپ میں پاکستان مسلم لیگ ق میں چودھری برادران جو جنرل مشرف سے اس بات پرناراض تھے کہ انھوں نے مستقبل کے سیاسی نقشے کے حوالے سے بے نظیر بھٹر سے بات چیت میں ان کی پوزیشن کا تحفظ اور خیال نہیں رکھا ۔ جنرل مشرف سے ہٹ کر فوج میں طاقت کا محور نئے چیف آف آرمی اسٹاف کیانی کی طرف منتقل ہوچکا تھا اور فوجی اسٹبلشمنٹ کی طاقت کا یہ مرکز جس کے زیر سایہ افتخار چودھری ججز لابی طاقتور پوزیشن میں تھی بھی پی پی پی کو مرکز میں اتحادیوں کی محتاج حکومت اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کو فیصلہ کن حثیت دینے کا خواہش مند تھا ۔ جنرل مشرف بھی پنجاب پی پی پی کو نہیں دینا چاہتے مگر وہ جآہتے تھے کہ مسلم لیگ ق کے پاس وفاق اور پنجاب میں اتنی نشستیں ہوں کہ پی پی پی دونوں جگہ حکومت بنانے کے لیے ان کو خوش رکھنے پر مجبورہو اور اگلے پانچ سال وہ صدر رہ سکیں ۔ یہ وہی منظرنامہ تھا جس کی پیشن گوئی پاکستان پیپلزپارٹی میں بائیں بازو کے ورکرز دانش ور کر رہے تھے ۔
جہادی و فرقہ پرست نیٹ ورک کا ہدف: بے نظیر بھٹو اور اے این پی، اور 27 دسمبر کا فیصلہ کن وار
فوج میں بنیاد پرست لابی ، جہاد ازم، فرقہ واریت پر استوار عسکری نیٹ ورک مسلم ليک ق، اے پی ڈی ایم کی بجائے اپنا سب سے بڑا دشمن اور خطرہ بے نظیر بھٹو اور اے این پی کی قیادت کو سمجھ رہے تھے۔ اسی لیے ان کے حملوں کا نشانہ بھی یہی تھے۔ اور ان کا 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو پر کیا گیا دوسرا وار کارگر ثابت ہوا ۔ پیپلزپارٹی اپنی سب سے بڑی منجھی ہوئی اور تجربہ کار سیاست دان سے محروم ہوگئی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کے ورکرز دانشوروں نے اس جانکاہ حادثے پر پاکستان کی عوام کے ریڈیکل ردعمل کو انقلابی تحریک میں بدلنے کا مشورہ پی پی پی کی قیادت کو دیا لیکن اس نے یہ موقعہ ضایع کردیا اور دوسرا بلنڈر سو دن کے سوگ کا اعلان کرکے کیا ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان اسے پنجاب میں ہوا جہاں پاکستان مسلم لیگ نواز کو پوری طاقت سے انتخابی کمپئن کرنے اور پاکستان مسلم لیگ ق کو سنبھلنے کا موقع مل گیا ۔ اس نے پی پی پی کو شمالی پنجاب میں قومی اسمبلی کی 19 ان نشستوں سے بھی محروم کردیا جہاں سے پاکستان پیپلزپارٹی 2002ء کے مشرف انتخابات میں جیت پائی تھی ۔ سب سے متاثرہ اضلاع اسلام آباد ، راولپنڈی ، منڈی بہاءالدین ، لاہور اور گجرات تھے۔ اور صوبآئی اسمبلی میں یہ 60 کے قریب نشستوں سے محروم ہوگئی ۔ گویا بے نظیر بھٹو کی شہادت کا اسے کم از کم پنجاب مین فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہوگیا۔
حکومت سازی، پنجاب میں فیصلہ، اور مفاہمت کی “سزا”
یہ وہ سیاسی منظر نامہ تھا جس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاق میں سادہ اکثریت نہ ہونے کے سبب سنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کے ناطے نئی حکومت بنانا تھی ۔ پنجاب میں اراکین قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی ایک اچھی خاصی اکثریت اور خود پاکستان پیپلزپارٹی کے عام ورکرز کی ایک بڑی تعداد کی خواہش تھی کہ پی پی پی پاکستان مسلم لیگ ق اور آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتیں بنائے ۔ آصف علی زرداری نے اس اکثریتی حواہش کو رد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کو پنجاب میں حکومت بنانے کی دعوت خود ماڈل ٹاؤن جاکر دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد اراکین کی بہت بڑی تعداد پنجاب سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں نواز لیگ میں شامل ہوگئی ۔ اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے چند ماہ کے اندر ہی مسلم لیگ ق میں ایک فاروڈ بلاک بھی تشکیل دے لیا ۔ اور یوں مستقبل قریب میں پنجاب کے اندر اسمبلی میں عدم اعتماد کے زریعے حکومت کی تبدیلی کا امکان ختم کیا ۔ پارٹی کے بے اختیار وزیر اور اراکین صوبائی اسمبلی زلت اور بے بسی کے ساتھ اگلے چار سالوں میں ایک بے ثمر اتحاد اور مفاہمت کی سزا بھگتے رہے۔ اپنا گورنر شہید کر ابیٹھے ۔ ایک وفاقی وزیر اقلیتی کرسچن مذہب سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے جانباز لیڈر شہباز بھٹی کو بیچ سڑک پر قتل ہوتا دیکھا اور بریلوی مسلک کے وفاقی وزیر مذہبی امور کو ہتھکڑیاں ۂکتے دیکھا اور اس پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ متبادل اعظم ہوتی کی جماعت تھی ۔
ورکرز دانشوروں کی تحریری جدوجہد، قیادت کی بے اعتنائی اور سرکاری میڈیا کی سمت
یہ وہ تفصیل سے جس کو مجھ سمیت پی پی پی کا دانشور ورکرز طبقہ اس زمانے میں سوشل میڈیا کے ابتدائی یاہو، ہوٹ میل میسنجر گروپون، سوشل پیجز ، چندایک اخبارات اور میگزین میں بڑی تفصیل سے لکھتا رہا اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو خوداحتسابی کی دعوت دیتا رہا ۔ ابھی ہمارے دانشورکا ظہور بھی اس زمانے میں نہیں ہوا تھا اور یہ ہمارے تجزیے کو “میڈیائی منترا” سے متاثر قرار دے رہے ہیں ۔ پارٹی کے دانشور ورکرز سیکشن کو قیادت نے نہ تو پارٹی کے شعبہ نشر و اشاعت میں چگہ دی ، نہ ہی انہیں وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے اپنی ٹیم میں جگہ دی ، نہ دوسرے وزیر اطاعات و نشریات قم الزمان کائرہ نہ کوئی اہمیت دی ۔ پی ٹی وی میں شاہد مسعود ، ریڈیو میں مرتضی سولنگی کو سیا و سفید کا مالک بنا دیا گیا ۔ لے دے کر ہماری حوصلہ افزائی فوویہ وہاب نے کی لیکن ان کی ناگہانی وفات نے ہم سے وہ حمایت بھی چھین لی ۔
کیا پنجاب کے ورکرز “میڈیائی منترا” کے شکار ہیں ؟
مسئلہ یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی پر تنقید ہو رہی ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ تنقید اور پروپیگنڈے کے فرق کو دانستہ یا نادانستہ مٹا رہے ہیں—اور اسے “میڈیائی منترا” کہہ کر ہر اس سوال کو رد کر دینا چاہتے ہیں جو پارٹی کے اندر سے، کارکنوں کے تجربے سے اور تنظیمی حقیقت سے اٹھا۔
آئیے، جذبات سے نہیں، تاریخ اور ڈسکورس سے بات کریں۔
1️⃣ 2008–2013
میں پیپلز پارٹی کے خلاف اصل میڈیائی ڈسکورس کیا تھا؟
برادر Muhammad Aamir Hussaini
کی اس جذباتی اور بزعم خود سچائی پر مبنی پوسٹ پر کمنٹس دیکھئے ۔
وہی 2008 سے 2013 میں میڈیائی منترا جسکی وجہ سے پنجاب میں پی پی پی زمین بوس ہو گئی تھی ۔
اگر زرداری اور بلاول برے ہیں تو پنجاب میں کوئی بائیں بازو کی جماعت یا تنظیم پی پی پی کی جگہ کیوں نہیں لے پا رہی ۔ پی پی پی کی پالیسیوں کے ناقد ٹی ٹی پی اور عمران خان کو امیدوں کا ملجا کیسے منوانے ہیں ۔
یہ بات قابل انہضام نہیں ۔
مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید ہو رہی ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ تنقید اور منظم میڈیائی پروپیگنڈے کے فرق کو یا تو سمجھنا نہیں چاہتے یا دانستہ طور پر مٹا رہے ہیں۔ ہر اس سوال کو جو پارٹی کے اندر سے، کارکنوں کے تجربے سے اور تنظیمی حقیقت سے اٹھے، آپ “میڈیائی منترا” کہہ کر خارج کر دینا چاہتے ہیں۔ آئیے، جذبات سے نہیں بلکہ تاریخی اور سیاسی حقائق سے بات کریں۔
1
سے 2013 کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف جو مرکزی میڈیائی ڈسکورس تشکیل دیا گیا، وہ دو بڑی سمتوں سے آیا۔ پہلی سمت انگریزی لبرل پریس تھی، خصوصاً ڈان، جو لبرل اشرافیہ میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اس پریس کا بنیادی بیانیہ یہ تھا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خلاف جنگ، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ وارانہ دہشت گردی اور مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے آگے جھک گئی۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ جس یقین دہانی پر جنرل مشرف اور فوج پر دباؤ ڈال کر پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا، وہ اس پر عمل درآمد نہ کر سکی اور فیصلہ کن سول قیادت کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
2
اسی لبرل پریس کی دوسری بڑی تنقید معیشت کے حوالے سے تھی۔ کہا گیا کہ پیپلز پارٹی نے معاشی لبرلائزیشن کے منصوبے پوری شدت سے نافذ نہیں کیے، آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق نجکاری کے عمل کو آگے نہیں بڑھایا، توانائی بحران حل کرنے میں ناکام رہی، رینٹل پاور منصوبوں میں کرپشن اور ککس بیکس ہوئیں، اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہو سکی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، تجارتی خسارہ، ادائیگیوں میں عدم توازن اور معاشی شرح نمو میں کمی کو بھی پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
3
اسی عرصے میں کراچی، کوئٹہ اور پارہ چنار میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ، ہزارہ کمیونٹی پر حملوں اور فرقہ وارانہ تصادم کو روکنے میں ناکامی کا الزام براہ راست آصف علی زرداری، اسلم رئیسانی اور قائم علی شاہ پر ڈالا گیا۔ یہ سارا بیانیہ لبرل اشرافیہ کے ریاستی اور سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار تھا، اس کا پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے زمینی مسائل سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔
4
اس کے برعکس اردو الیکٹرانک اور اردو پرنٹ میڈیا کا ڈسکورس بالکل مختلف مگر اتنا ہی تباہ کن تھا۔ یہاں پیپلز پارٹی کو امریکی سامراج کی پٹھو حکومت، افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی اتحادی، افغان اور پاکستانی جہادی نیٹ ورکس کی دشمن، بھارت سے دوستی کی خواہاں، مسئلہ کشمیر دفن کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسے عدلیہ کی آزادی کی دشمن، افتخار چودھری کے خلاف سازش کرنے والی، پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت گرانے کی کوشش کرنے والی اور پریس کی آزادی پر حملہ آور جماعت قرار دیا گیا۔ اینکر پرسنز کی ایک پوری فوج روزانہ کرپشن اور بدعنوانی کی کہانیاں لے کر سامنے آتی رہی۔
5
پیپلز پارٹی کے کارکن، ہمدرد اور نظریاتی وابستگان نہ تو اس لبرل پریس کے بیانیے سے متاثر تھے اور نہ ہی اردو میڈیا کے پروپیگنڈے کو حقیقت سمجھتے تھے۔ ان کے مسائل کہیں اور تھے، مگر ان مسائل کا ذکر نہ انگریزی میڈیا کے ڈسکورس میں تھا اور نہ اردو میڈیا کے شور میں۔
6
پارٹی کے اندر، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کارکنوں کی اکثریت پہلے دن سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ مفاہمت اور پنجاب میں مشترکہ حکومت کے خلاف تھی۔ وہ اس پالیسی کو تباہ کن سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ ن لیگ کی اینٹ اپوزیشن کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ دوسری طرف کارکنوں، ووٹرز اور ہمدردوں کی اکثریت پارٹی قیادت، وزیروں، مشیروں اور اراکین پارلیمنٹ سے رابطہ نہ ہونے، اقربا پروری، ذاتی وفاداریوں کو نوازنے اور پارٹی قیادت تک رسائی نہ ہونے پر شدید نالاں تھی۔
7
فریال تالپور کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، آصف علی زرداری کے باہر سے مسلط کردہ دوستوں، کاروباریوں، سرمایہ داروں، ٹھیکیداروں، ذاتی معالجوں، سیکرٹریوں اور پروٹوکول افسران کو پارٹی اور سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر بٹھانے پر شدید اعتراض تھا۔ پارٹی تنظیموں کی اوور ہالنگ، میرٹ پر تعیناتی اور نظریاتی کارکنوں کو آگے لانے کے مطالبات مسلسل نظر انداز کیے گئے۔
8
پارٹی کے بائیں بازو سے وابستہ سنجیدہ سیاسی کارکنوں اور دانشوروں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی اور سروسز سیکٹر میں ٹھیکیداری نظام اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ختم کیے جائیں، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، ریلوے، پی ٹی سی ایل، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن سمیت تمام قومی اداروں کے بورڈز میں تربیت یافتہ محنت کشوں کو شامل کیا جائے، ترقیاتی فنڈز اور نوکریوں کی نگرانی مقامی تنظیمی کمیٹیوں کے سپرد کی جائے، پارٹی میں ریسرچ اور پالیسی ونگ قائم کیا جائے، آن لائن ممبرشپ اور تنظیمی انتخابات کرائے جائیں۔
9
یہ تمام مطالبات عملی، قابل عمل اور خالصتاً پارٹی اصلاحات سے متعلق تھے۔ ان کا کسی میڈیائی منترا، کسی اینکر یا کسی بیرونی پروپیگنڈے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر ان مطالبات پر پانچ سال تک کان نہیں دھرا گیا۔ اس کے برعکس یہ اصول رائج کیا گیا کہ حلقے میں پارٹی کارکن کی اہمیت اس کی ذاتی وفاداری سے مشروط ہوگی، یعنی وہ ایم این اے یا ٹکٹ ہولڈر کے ذاتی گروپ کا حصہ ہو۔
10
اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پارٹی تنظیم کو ذاتی وفاداری کے نیٹ ورک میں بدل دیا۔ نظریاتی اور تجربہ کار کارکن انہی ذاتی گروپوں میں شامل ہو گئے، اور جب وہ ایم این ایز اور ٹکٹ ہولڈرز پارٹی چھوڑ کر گئے تو یہ کارکن بھی پارٹی سے نکل گئے۔ مراعات، فنڈز اور ٹھیکے بھی وہ لے گئے اور اگلے اقتدار میں دوسری جماعت کے ذریعے بھی فائدہ اٹھاتے رہے۔ یہ پارٹی کے لیے ایک تاریخی بلنڈر تھا جس نے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تباہی مچا دی۔
11
میرے محترم بھائی، آپ آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں، ہمدردوں اور ووٹرز کے ان حقیقی مسائل اور مطالبات کو، جن کا میڈیائی ڈسکورس میں کہیں ذکر تک نہیں تھا، محض “میڈیائی منترا” کہہ کر رد کر رہے ہیں۔ آپ بزعم خود سچ اور حقیقت کے نام پر میڈیا کے بیانیوں کو پارٹی قیادت پر تنقید کا واحد پیمانہ بنا رہے ہیں، جبکہ اصل تنقید پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور تنظیمی پالیسیوں پر تھی اور ہے۔
12
آج پارٹی کے کچھ خود ساختہ سوشل میڈیا ترجمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے سٹیٹس کو پر سوال اٹھائے گا، اصلاحات اور پروگرام کی بات کرے گا، اسے فوراً پیپلز پارٹی دشمن پروپیگنڈے سے متاثرہ قرار دے دیا جائے گا۔ یہ لوگ پارٹی کے اندر اصلاحات پر بات نہیں کرتے بلکہ صرف موجودہ روش کا دفاع کرنے اور قیادت کا وکیل بننے کو سیاست سمجھتے ہیں۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ میں کسی کا بھرم توڑنا نہیں چاہتا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج مکالمے کی روایت کے بجائے الزام تراشی اور لیبلنگ کا کلچر غالب ہے۔ اس ماحول میں ہر سنجیدہ سوال اور ہر دیانت دار تنقید کو آسانی سے “میڈیائی منترا” کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے، اور یہی رویہ دراصل پارٹی کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔
