محبت کا شہری اسٹیج افسانہ (محمد عامر حسینی یعنی راقم نے) کا بنیادی پلاٹ فیس بک پر اپنی دوست افشاں حسنات کی ایک پوسٹ سے اخذ کیا ہے۔ اس تخلیقی محرک کے لیے میں ان کا دل سے شکر گزار ہوں۔ بعض اوقات ایک مختصر جملہ، ایک مشاہدہ یا ایک طنزیہ نکتہ کسی طویل افسانے کا بیج بن جاتا ہے۔ یہ کہانی بھی اسی بیج سے نمو پانے والی ایک شاخ ہے۔
جہاں تک اوریجنلٹی کا سوال ہے، ادب میں مکمل انفرادیت ایک رومانوی تصور ہے۔ ہر تخلیق کسی نہ کسی سابقہ تجربے، مکالمے یا متن سے جنم لیتی ہے۔ اصل تخلیقی عمل محض موضوع لینے میں نہیں بلکہ اسے اپنی داخلی ساخت، اسلوب، کرداروں کی نفسیات اور بیانیہ کی تہہ داری کے ساتھ نئی صورت دینا ہے۔ اگر اس کہانی میں کوئی تازگی ہے تو وہ اسی داخلی تشکیل میں ہے—اور اگر کوئی کمزوری ہے تو وہ مکمل طور پر میری ذمہ داری ہے۔
14 فروری کی صبح شہر پر ایک ہلکی سی سرخی پھیل گئی تھی، جیسے کسی نے اجتماعی لاشعور پر نرم سا پردہ ڈال دیا ہو۔ دکانوں کی ونڈوز میں گلاب ایسے سجے تھے جیسے خواہشات کی منڈی ہو اور ہر پھول کسی دبی ہوئی آرزو کا نمائندہ۔ میں نہیں جانتا یہ کہانی میں لکھ رہا ہوں یا یہ دن خود ہمیں لکھ رہا ہے، کیونکہ ہر سال یہی تاریخ آتی ہے اور ہم سب اپنی اپنی نفسیاتی گرہوں کے ساتھ اس کے اسٹیج پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
سلمان محبت میں تھا۔ یا کم از کم وہ یہی سمجھتا تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑا وہ اپنی ٹائی سیدھی کرتے ہوئے خود سے کہہ رہا تھا کہ محبت تحفوں کی محتاج نہیں، مگر اس کے ہاتھ میں جو سرخ گلاب تھا وہ اس کے شعور سے زیادہ اس کے لاشعور کی نمائندگی کر رہا تھا۔ وہ مریم کے لیے کچھ خریدنا چاہتا تھا، لیکن خریداری کی خواہش صرف مریم کے لیے نہیں تھی۔ اس کے اندر ایک اور ہستی تھی ،ایک بچہ جو قبول کیے جانے کی تڑپ رکھتا تھا۔ اس نے بچپن میں شاید باپ کی سردی دیکھی تھی، ماں کی خاموشی سنی تھی، اور اب ہر تحفہ دراصل اس خوف کا کفارہ تھا کہ کہیں وہ ناکافی ثابت نہ ہو جائے۔ محبت اس کے لیے جذبہ کم، اثبات کا امتحان زیادہ تھی۔
دوپہر تک وہ جیولری کی دکان کے باہر کھڑا تھا۔ “دل اپنی جگہ، امن و امان بھی کوئی چیز ہوتی ہے،” اس نے دوستوں سے ہنستے ہوئے کہا، مگر اس جملے کے پیچھے ایک اضطراب تھا۔ گویا وہ لاشعوری طور پر جانتا ہو کہ محبت کے نام پر وہ صرف مریم کو نہیں، اپنے اندر کے خوف کو مطمئن کر رہا ہے۔ اس نے انگوٹھی خریدی، جیسے کوئی معاہدہ کر رہا ہو خواہش اور تحفظ کے درمیان۔
عارف سنگل تھا اور فیس بک پر ایک طویل پوسٹ لکھ چکا تھا کہ محبت سرمایہ دارانہ سازش ہے۔ وہ الفاظ کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ مگر شام کو وہی عارف چھت پر کھڑا چاند کو دیکھ رہا تھا۔ چاند کی سفیدی میں اسے ایک نسوانی شبیہ نظر آئی، جیسے کوئی ماں، کوئی پہلی محبت، کوئی نامعلوم سایہ۔ اس نے خود سے کہا کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی نمی تھی۔ وہ اپنی تنہائی کو فلسفے کی زبان میں چھپا رہا تھا۔ اس کی نفسیاتی گرہ یہ تھی کہ وہ خواہش کو تسلیم کرنے سے ڈرتا تھا، کیونکہ خواہش ہمیشہ کمزوری کا اعتراف ہوتی ہے۔ اس نے کبھی کسی کو چاہا تھا اور جواب میں خاموشی پائی تھی۔ اب وہ ہر محبت کو نظریاتی سازش کہہ کر اپنے زخم کو تحفظ دے رہا تھا۔
مریم خاموش تھی۔ اس کی خاموشی میں ایک لطیف طاقت تھی۔ جب سلمان نے انگوٹھی پیش کی تو اس نے مسکرا کر اسے پہن لیا۔ اس لمحے دونوں کے درمیان جو خاموش کشش تھی وہ صرف رومان نہیں تھی، وہ ایک جسمانی حرارت تھی، ایک بے نام سی کشش جو جلد کے نیچے حرکت کرتی ہے۔ مگر مریم کی آنکھوں میں بھی ایک سایہ تھا۔ وہ محبت چاہتی تھی، مگر مکمل انحصار سے خوف زدہ تھی۔ اس کے لاشعور میں آزادی کا تصور تھا شاید ماں کی زندگی دیکھ کر، شاید کسی اور عورت کی داستان سن کر۔ وہ چاہتی تھی کہ اسے چاہا جائے، مگر اس حد تک نہیں کہ وہ خود مٹ جائے۔ اس کی خواہش اور اس کا خوف ایک ہی دھاگے میں بندھے ہوئے تھے۔
رات کو جب سلمان نے بجلی کا بل دیکھا اور ہنس کر کہا، “محبت اندھی ہوتی ہے،” تو مریم نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے جواب دیا، “نہیں، محبت سب دیکھتی ہے، بس مانتی نہیں۔” اس جملے میں ایک نفسیاتی سچ تھا۔ محبت میں ہم اکثر وہی دہراتے ہیں جو ہمارے لاشعور نے ہمیں سکھایا ہوتا ہے—قبول کیے جانے کی بھوک، تنہائی کا خوف، جسم کی حرارت اور دل کی بے چینی۔
شہر کے اوپر چاند بدستور معلق تھا۔ گلاب مرجھا رہے تھے، مگر خواہش کی آگ باقی تھی۔ ویلنٹائن ڈے شاید محض ایک تاریخ ہے، مگر اس تاریخ پر ہمارے اندر کی گرہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ ہم تحفے دیتے ہیں، پوسٹ لکھتے ہیں، فلسفہ بگھارتے ہیں، مگر دراصل ہم اپنے اپنے زخموں کو سہلا رہے ہوتے ہیں۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اگلے سال یہی تاریخ پھر آئے گی۔ سلمان پھر آئینے کے سامنے کھڑا ہوگا، عارف پھر چاند سے نظریں ملائے گا، مریم پھر خاموش رہے گی۔ اور ہم سب یہ یقین کرنے کی کوشش کریں گے کہ محبت صرف جذبہ ہے جبکہ وہ دراصل ہماری نفسیاتی تاریخ کا تسلسل ہے، ایک ایسا تسلسل جس میں ثقل اور ہلکاپن، خواہش اور خوف، جسم اور نظریہ سب ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ (ختم شد)
