آج کے عہد میں افسانے کی قرأت محض آنکھ اور عقل کا معاملہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی فکری مشق بن چکی ہے جہاں متن، قاری اور سماجی سیاق ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں۔
اس قرأت میں تنقیدی شعور کسی نشے یا فریب کے طور پر نہیں بلکہ ایک تنبیہی شعور کے طور پر داخل ہوتا ہے، جو ہمیں اس امر سے آگاہ کرتا ہے کہ معنی جامد نہیں، بلکہ تاریخی، سماجی اور لسانی عمل کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ اس تناظر میں افسانے میں ’’مرکزی خیال‘‘ یا ’’اخلاقی سبق‘‘ کی تلاش کو ترک کرنا نہیں بلکہ اس سوال کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ مرکز کس نے قائم کیا، کن مفادات کے تحت، اور کن آوازوں کو اس مرکز سے باہر رکھا گیا۔

جدید قرأت متن کی وحدت کو توڑنے کا نام نہیں بلکہ اس کے اندر موجود تضادات، دراڑوں اور خاموشیوں کو سننے کا عمل ہے۔ یہ قرأت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کہانی کا کوئی ایک سرا ہونا لازمی نہیں، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر تضاد من مانا ہو۔ تضاد اس وقت معنی خیز بنتا ہے جب وہ متن کے سماجی اور تاریخی دباؤ سے پیدا ہو۔ یہاں مابعد جدیدیت ترقی پسند تنقید سے الگ نہیں ہوتی بلکہ اسے نئے اوزار فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ طاقت، جبر اور استحصال کی نئی صورتوں کو پہچان سکے۔

اسی طرح حاشیہ نشین کردار اب محض نعرہ بننے کے لیے نہیں رہتے بلکہ ان کی روزمرہ زندگی، ان کے خوف، ان کی بو، ان کے راستے اور ان کی خاموشی خود ایک سیاسی متن بن جاتی ہے۔ اگر مچھیرے کی کہانی میں پگڈنڈی یا مچھلی کی بو معنی اختیار کرتی ہے تو یہ محض لسانی کھیل نہیں بلکہ اس مادی حقیقت کی علامت ہے جس میں طبقاتی جبر جسم، حواس اور نفسیات تک سرایت کر جاتا ہے۔ یہاں مابعد جدید قرأت ترقی پسند تنقید کی اس بصیرت کو گہرا کرتی ہے کہ استحصال صرف معاشی نہیں بلکہ حسی اور ذہنی بھی ہوتا ہے۔
زبان کے بارے میں بھی ترقی پسند تنقید اور مابعدجدید تنقید دونوں تنقیدی رویے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ہم رشتہ بن سکتے ہیں۔ جہاں پرانی ترقی پسند تنقید زبان کو پیغام کا وسیلہ سمجھتی تھی، وہاں مابعد جدید شعور ہمیں بتاتا ہے کہ زبان خود طاقت کا میدان ہے۔ اس فہم کے ساتھ ترقی پسند تنقید یہ دیکھ سکتی ہے کہ خوبصورت الفاظ، شاعرانہ استعارے اور رومانوی خطابات کس طرح کبھی کبھی سماجی حقیقت کو ڈھانپ کر جبر کو قابلِ قبول بنا دیتے ہیں۔ یوں ’’لسانی استحصال‘‘ کی نشاندہی محض تجریدی مشق نہیں رہتی بلکہ طبقاتی اور صنفی سیاست کا حصہ بن جاتی ہے۔
تاریخ اور سماج کو متن سے خارج کرنا مابعد جدیدیت دور کی ترقی پسند تنقید کا مقصد نہیں، بلکہ انہیں کسی ایک خطی بیانیے میں قید کرنے سے انکار کرنا اس کی اصل روح ہے۔ مابعد جدید ترقی پسند تنقید تاریخ کو کوڑے دان میں نہیں پھینکتی بلکہ اسے ٹکڑوں، تجربات اور جزوی سچائیوں کے ذریعے پڑھتی ہے۔ اس طرح وہ فرد کی داخلی ٹوٹ پھوٹ، نفسیاتی جبر اور روزمرہ مزاحمت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتی ہے جتنی بڑے معاشی ڈھانچوں کو۔
عورت، بدن اور خواہش کے سوال پر بھی یہ تطبیق زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ مابعد جدید ترقی پسند تنقید میں عورت نہ محض مظلوم علامت ہے اور نہ محض تجریدی متن، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جس کا بدن، اس کی محنت اور اس کے فیصلے سیاسی معنی رکھتے ہیں۔
اسی طرح تہذیب کو جامد قدر کے بجائے طاقت کے کھیل کے طور پر دیکھنا ترقی پسند تنقید کی توسیع ہے، اس کی نفی نہیں۔ ماں کی طرف سے مسلط کردہ شہری تہذیب ہو یا معاشرے کی عزت کا تصور — یہ سب وہ مقامات ہیں جہاں نئی ترقی پسند قرأت تہذیبی جبر کو بے نقاب کرتی ہے، خواہ وہ محبت، نکھار یا شائستگی کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔
یوں مابعد جدید دور میں ترقی پسند نقاد وہ نہیں جو محض بڑے نعروں پر اصرار کرے، بلکہ وہ ہے جو متن کی تہوں میں چھپے اس پوشیدہ جبر کو شناخت کرے جو خواب، حسن اور زبان کے پردے میں کام کرتا ہے۔ مابعد جدید ترقی پسند تنقید کوئی جامد منشور نہیں بلکہ ایک خردبین ہے، جو ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ استحصال ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتا، کبھی وہ خاموشی، نفاست اور رومان کے لباس میں بھی داخل ہوتا ہے۔
اگر پرانی ترقی پسندی روٹی کی جدوجہد تھی، تو مابعد جدید ترقی پسندی روٹی، لفظ اور خواب کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا نام ہے۔ یہ قاری کو ایک ایسے باشعور انسان میں بدلتی ہے جو نہ متن کی خوبصورتی سے انکار کرتا ہے اور نہ اس خوبصورتی کے پیچھے چھپے جبر سے آنکھ چراتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مابعد جدید قرأت اور ترقی پسند تنقید ایک دوسرے کی تحقیر نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن جاتی ہیں۔
میں نے معاصر اردو فکشن کی ایک ابھرتی ہوئی نوجوان ادیبہ زویا حسن کی کہانیوں کے مجموعے ’’گمشدہ آوازوں کا تعاقب‘‘ میں شامل ایک نمایاں کہانی کے متن کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے کا بنیادی مقصد نہ تو محض مابعد جدید نظریاتی اصطلاحات کی نمائش ہے اور نہ ہی کلاسیکی ترقی پسند تنقید کی خطی تکرار، بلکہ یہ کوشش اس فکری مقام کو دریافت کرنے کی ہے جہاں مابعد جدید قرأت اور ترقی پسند تنقید ایک دوسرے کی نفی کے بجائے ایک دوسرے کی توسیع بن سکتی ہیں۔
زویا حسن کی کہانی اس عہد کی نمائندہ تحریر ہے جہاں فرد کا داخلی انتشار، سماجی جبر، طبقاتی نابرابری، صنفی استحصال اور زبان کی سیاست ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ اس متن کو صرف ’’مرکزی خیال‘‘ یا ’’اخلاقی سبق‘‘ کی روایتی تلاش میں محدود کرنا اس کی معنوی پیچیدگی کو سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا، اور اسی طرح اسے محض مابعد جدید لسانی کھیل یا معنی کی لاحاصلی قرار دینا اس کی سماجی جڑت سے انکار کے برابر ہے۔
اس مطالعے میں میں نے مابعد جدید قرأت کو ایک فکری آلے کے طور پر برتا ہے، جس کے ذریعے متن میں موجود خاموشیوں، دراڑوں، تضادات اور حذف شدہ آوازوں کو سنا جا سکے، جب کہ ترقی پسند تنقید کو اس سماجی و معاشی تناظر کے طور پر رکھا ہے جس کے بغیر یہ خاموشیاں محض تجریدی مشق بن کر رہ جاتی ہیں۔ یوں یہ تجزیہ اس نکتے پر مرتکز ہے کہ زویا حسن کی کہانی میں داخلی خود کلامی، استعاراتی جزئیات، بدن، محنت، خواہش اور زبان — سب مل کر ایک ایسی سماجی حقیقت تشکیل دیتے ہیں جو بیک وقت مادی بھی ہے اور علامتی بھی۔
اس تنقیدی مطالعے کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ مابعد جدیدیت اور ترقی پسندی کو دو متصادم نظریاتی کیمپوں کے طور پر دیکھنا اب خود ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔ آج کی ترقی پسند تنقید کے لیے ضروری ہے کہ وہ زبان، جمالیات اور داخلی تجربے کی سیاست کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سمجھے جتنی سنجیدگی سے وہ طبقاتی اور معاشی جبر کو سمجھتی رہی ہے۔ اسی طرح مابعد جدید قرأت اس وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ سماج، تاریخ اور طاقت کے حقیقی رشتوں سے اپنا تعلق منقطع نہ کرے۔
زویا حسن کی کہانی میں راوی کا شوہر کو تالا لگا کر نکلنا صرف ذاتی بغاوت نہیں بلکہ اپنے بدن اور ارادے پر دوبارہ حقِ ملکیت کا اعلان ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مابعد جدید قرأت ترقی پسند سیاست کو زیادہ باریک اور زیادہ باخبر بنا دیتی ہے۔
عنوان ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ کہانی کے مجموعی المیے، داخلی کشمکش اور دریدائی تضادات کا گہرا نچوڑ ہے۔ یہ محض چند لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ راوی کی پوری زندگی، اس کی جدوجہد، اس کے خواب اور اس کے انجام کا علامتی اظہار ہے۔ اس عنوان میں جو سادگی دکھائی دیتی ہے، اس کے باطن میں معنی کی کئی تہیں پوشیدہ ہیں، جہاں حقیقت اور خواب، جبر اور مزاحمت، نمو اور زوال ایک دوسرے سے الجھ کر ایک پیچیدہ انسانی تجربہ تشکیل دیتے ہیں۔
پگڈنڈی اس کہانی میں محض ایک راستہ نہیں بلکہ محنت، مشقت، غربت اور مچھلیاں بیچنے کی اس طویل اور کٹھن زندگی کی علامت ہے جس پر راوی نے پینتیس برس گزار دیے۔ یہ پگڈنڈی ایک سخت، بے جان اور مسلسل بدلتی ہوئی حقیقت کی نمائندہ ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ اجنبی اور زیادہ سنگلاخ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں پھول نزاکت، حسن اور اس خواب دیکھنے والی لڑکی کی علامت ہے جسے راوی کبھی کاماکشی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ جس طرح ایک خودرو پھول سنگلاخ زمین اور کھردرے راستوں کے بیچ اپنی جگہ بناتا ہے، اسی طرح راوی نے غربت، مچھلیوں کی بو اور سماجی جبر کے درمیان اپنی شخصیت کو تراشنے اور اپنی خوبصورتی کو بچانے کی کوشش کی۔ یہ تضاد ہی عنوان کو اس قدر معنی خیز بنا دیتا ہے۔
یہ عنوان لاحاصلی کی جمالیات کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ پھول کا اگنا عموماً کسی باغ، کسی زرخیز زمین یا کسی محفوظ جگہ سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں پھول کا مرکز کوئی باغ نہیں بلکہ وہ پگڈنڈیاں ہیں جہاں اس کا ہونا بظاہر بے معنی اور ناموزوں محسوس ہوتا ہے۔ راوی کی جوانی، اس کے خواب اور اس کی محبت انہی پگڈنڈیوں پر پروان چڑھتے ہیں، مگر یہ راستے کبھی اسے اپنا ہمسفر تسلیم نہیں کرتے۔ بالآخر اسی پگڈنڈی کا ایک پتھر اس کی زندگی کا خاتمہ بن جاتا ہے، اور یوں یہ پھول اسی جگہ مسل دیا جاتا ہے جہاں اس نے آنکھ کھولی تھی۔
عنوان میں نمو اور زوال کا ایک مسلسل بہاؤ بھی موجود ہے۔ ’’اگا‘‘ کا لفظ امید، تخلیق اور امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ عنوان شاعرانہ اور سماجی تضاد کو بھی ایک ہی فقرے میں سمیٹ لیتا ہے۔ شاعر عاشق کی نظر میں یہ پھول زمانے سے آگے، رومان اور حسن کی علامت ہے، جب کہ سماج اور خود راوی کے لیے یہی پھول ایک بوجھ ہے جو برسوں سے غربت کی دھول چاٹ رہا ہے۔ شاعر اسے بانکا اور منفرد دیکھتا ہے، مگر پگڈنڈی کی نظر میں وہ محض ایک راستہ بھولنے والی بوڑھی عورت ہے۔ عنوان ان دونوں زاویوں کو ایک ساتھ جوڑ دیتا ہے اور دکھاتا ہے کہ معنی ہمیشہ دیکھنے والے کی نگاہ سے تشکیل پاتے ہیں۔
یوں ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ دراصل انسانی ارادے اور جبری حالات کے تصادم کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ عنوان اس خوبصورت مگر تلخ المیے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے کہ کیسے ایک نازک خواب زندگی کے کھردرے راستوں پر جنم لیتا ہے، وہیں سانس لیتا ہے اور بالآخر وہیں فنا ہو جاتا ہے۔ یہی اس کہانی کی سب سے گہری اور سب سے دردناک صداقت ہے۔
زویا حسن کی کہانی ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ ژاک دریدا کے فلسفۂ ردِ تشکیل اور اس کے تصورِ تضادات کی روشنی میں ایک نہایت گہرا اور تہہ دار متن بن کر سامنے آتی ہے۔ دریدا کے نزدیک متن کسی ایک قطعی اور مستحکم معنی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر مختلف متضاد تصورات باہم برسرِ پیکار رہتے ہیں، اور یہی کشمکش معنی کو جنم دیتی ہے۔ اس کہانی میں بھی بظاہر سادہ بیانیے کے نیچے ایک ایسی فکری پیچیدگی موجود ہے جو انسانی وجود کی مرکزیت کو مسلسل غیر مستحکم کرتی رہتی ہے۔
راوی نے اپنی ماں کی دی ہوئی تہذیبی تربیت اور اسکول کی تعلیم کے ذریعے خود کو ایک ایسے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی جو اس کے ماحول سے مختلف تھا۔ وہ خود کو تراشتی رہی، سنوارتی رہی، مگر کہانی کے انجام پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پھول اب مرجھا چکا ہے اور اپنی جڑوں، یعنی انہی پگڈنڈیوں کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔ موت کے وقت راوی کا یہ احساس کہ وہ آسودگی کے ساتھ مر رہی ہے، اس بات کی علامت ہے کہ اس پھول نے اپنی خوشبو پا لی ہے، یعنی سچی محبت کے امکان کو، اور اب اس کا بکھر جانا ہی اس کی تکمیل ہے۔
کہانی میں دو متوازی شخصیات سامنے آتی ہیں: ایک وہ جو ’’میں‘‘ ہے، یعنی بوڑھی عورت، اور دوسری ’’وہ‘‘ جو کاماکشی، بانکی لڑکی یا سکھی سہیلی کے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ دونوں الگ الگ وجود محسوس ہوتی ہیں، مگر مابعد جدید قرأت میں یہ تقسیم محض ظاہری ہے۔ دراصل یہ ایک ہی وجود کی دو پرتیں ہیں جنہیں وقت کے طویل بہاؤ، یعنی پینتیس برسوں نے ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ راوی اپنی سکھی سہیلی کو ڈھونڈنے نکلتی ہے، مگر یہ تلاش دراصل اپنی ہی جوانی، اپنے ہی خوابوں اور اپنی ہی دبائی ہوئی تمناؤں کی تلاش ہے۔ اس تضاد کی تلخی یہ ہے کہ وہی راوی، جو اب بوڑھی ہے، ماضی میں انہی خوابوں کی قید بان تھی جنہیں وہ آج آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔
وقت کا تصور اس کہانی میں روایتی انسانی پیمانے کو چیلنج کرتا ہے۔ راوی کا یہ کہنا کہ عمر کے عدد کا کوئی معنی نہیں ہوتا، اور شاعر عاشق کے خطوط میں وقت کی نفی، اس خطی اور حسابی وقت کے تصور کو رد کرتی ہے جو انسان کو محض سالوں کی بنیاد پر بوڑھا یا جوان قرار دیتا ہے۔ پگڈنڈیاں ان قدموں کے نشان ہیں جو دہائیوں سے ان پر چلتے رہے ہیں، مگر اب نہ قدم ان پگڈنڈیوں کو پہچان پاتے ہیں اور نہ پگڈنڈیاں ان قدموں کو۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ ماضی کبھی مکمل طور پر حال میں موجود نہیں ہوتا، وہ صرف اپنے مدھم اثرات اور دھندلے نشانات کی صورت میں باقی رہتا ہے۔
آئینہ اس متن میں ردِ تشکیلی معنی کا ایک نہایت اہم آلہ بن جاتا ہے۔ آئینہ بظاہر حقیقت دکھانے کا وسیلہ ہے، مگر یہاں وہ ایک ایسی ساختی شبیہ پیش کرتا ہے جو خود حقیقت نہیں بلکہ حقیقت کا بنایا ہوا عکس ہے۔ لڑکی آئینے کے سامنے خود کو تراشتی ہے، گویا اپنی ذات کو ایک بت کی صورت ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے، مگر وہ جس خود کو تراش رہی ہے وہ سماجی، تہذیبی اور خوابوں سے بنی ہوئی ایک تصویر ہے، کوئی مستحکم حقیقت نہیں۔ اسی آئینے کے حوالے سے راوی اپنی بیٹی کو نصیحت کرتی ہے کہ آئینہ دیکھو مگر خواب نہ دیکھو۔ یوں آئینہ، جو عموماً خود شناسی کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہاں خوابوں کی نفی اور حقیقت کے جبر کی علامت بن جاتا ہے۔
پوری کہانی دراصل موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ راوی ایک ایسی ملاقات کی جستجو میں ہے جو کبھی مکمل نہیں ہو پاتی۔ شاعر عاشق، جو زمانے سے آگے دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، دراصل راوی کی اپنی گمشدہ تمناؤں کی موجودگی کا نشان ہے۔ وہ کوئی بیرونی نجات دہندہ نہیں بلکہ اسی داخلی خلا کا عکس ہے جسے راوی ساری عمر اپنے اندر محسوس کرتی رہی ہے۔ کہانی کے اختتام پر راوی کا گرنا اور مر جانا اس طویل کشمکش کا خاتمہ بن جاتا ہے، جہاں بوڑھی عورت اور بانکی لڑکی کی ثنائیت تحلیل ہو جاتی ہے۔ موت یہاں ایک حتمی متن کے طور پر سامنے آتی ہے، جہاں تمام تضادات وقتی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں۔
یوں اس کہانی کی مابعد جدید قرأت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ یہ محض ایک عورت کی زندگی کا قصہ نہیں بلکہ انسانی وجود کی مرکزیت کے ٹوٹنے کا نوحہ ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں کس طرح کئی ذاتیں تخلیق کرتا ہے، اور پھر عمر بھر ان بکھری ہوئی ذاتوں کو جوڑنے کی ایک ناکام، مگر نہایت انسانی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہی ناکامی اس کہانی کو محض ذاتی المیہ نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک وسیع تر وجودی تجربے میں بدل دیتی ہے۔
زویا حسن کی کہانی ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ میں شاعر عاشق کا کردار اور اس کے مکالمے معنی، وقت اور وجود کے ان پیچیدہ رشتوں کو آشکار کرتے ہیں جو جدید فکری تناظر میں غیر معمولی معنویت رکھتے ہیں۔ یہ کردار محض ایک رومانوی پیکر نہیں بلکہ زبان، خواہش اور وجود کی ایسی تشکیل پیش کرتا ہے جس میں ظاہری حقیقت مسلسل تحلیل ہوتی رہتی ہے اور معنی ہر لمحہ نئی صورت اختیار کرتے ہیں۔ شاعر کی گفتگو اور اس کا طرزِ فکر موجودگی، تمنا اور لسانی تشکیل کے ان عناصر کو نمایاں کرتا ہے جو متن کو محض ایک بیانیہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک فکری اور وجودی تجربے میں بدل دیتے ہیں۔
شاعر کا یہ کہنا کہ عمر کے عدد کا کوئی حقیقی مطلب نہیں ہوتا، وقت کے اس روایتی تصور کی نفی کرتا ہے جس میں عمر کو ایک سیدھی لکیر کی صورت میں دیکھا جاتا ہے، جہاں ماضی، حال اور مستقبل واضح خانوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ اس کے نزدیک انسانی عمر حالات اور تجربات کے تابع ہے؛ ایک لمحہ انسان کو بوڑھا کر سکتا ہے اور دوسرا لمحہ جوان۔ یوں وقت کوئی جامد پیمانہ نہیں رہتا بلکہ انسانی شعور اور تجربے کے ساتھ بدلنے والی کیفیت بن جاتا ہے۔ یہاں وہ عدمِ موجودگی نمایاں ہوتی ہے جہاں ظاہری عمر تحلیل ہو کر باطنی کیفیت میں ڈھل جاتی ہے۔
اس کہانی میں حقیقت اور متن کے درمیان حدِ فاصل بھی بتدریج دھندلا جاتی ہے۔ شاعر عاشق روہنی کو محض ایک جیتی جاگتی عورت کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایک ایسے متن کے طور پر پڑھتا ہے جس کے اندر معنی پوشیدہ ہیں۔ جب وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کی لکیریں اس کا صبر ہیں تو بڑھاپے کی علامت سمجھی جانے والی جھریاں ایک ایسی تحریر میں بدل جاتی ہیں جسے وہ محبت کی نظر سے قرأت کرتا ہے۔ یوں طبعی عمر کی جگہ ذہنی اور معنوی عمر لے لیتی ہے، اور شاعر ظاہری حقیقت سے ہٹ کر نئے معنی تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
روایتی سماجی تصور میں بڑھاپا کمی، زوال اور حاشیے کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر شاعر اس مرکزیت کو توڑ دیتا ہے۔ وہ روہنی کو ’’زمانے سے آگے‘‘ دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، گویا اس کے وجود کو مادی دنیا کے پیمانوں اور سماجی شناختوں سے آزاد کر دیتا ہے۔ جہاں معاشرہ اسے محض مچھلیاں بیچنے والی ایک بوڑھی عورت کے طور پر دیکھتا ہے، وہاں شاعر کے تخیل میں وہ ایک ایسے وجود میں تبدیل ہو جاتی ہے جو وقت، طبقے اور روزمرہ مجبوریوں سے ماورا ہے۔
کہانی میں قید اور آزادی کا ایک گہرا اور پیچیدہ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ راوی کا یہ احساس کہ شاعر نے اسے قید کر رکھا تھا، کسی جسمانی پابندی کی طرف نہیں بلکہ معنی کی قید کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ شاعر اسے نظم اور خواب کے دائرے میں اس طرح مقید کرتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو مکمل کر سکے۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ محبت اسے جوانی کا احساس دے کر آزاد کر رہی ہے، یا اسے حقیقت سے کاٹ کر ایک نئے فریب میں قید کر رہی ہے؟ راوی کے نزدیک یہ کیفیت فریب ہے، جب کہ شاعر کے لیے یہ حقیقت سے ماورا وہ سچ ہے جو صرف محبت کی زبان میں ممکن ہے۔
شاعر کے عشق میں ایک مابعد الطبیعیاتی کشش بھی نمایاں ہے۔ اس کے الفاظ اور خطوط میں ایسی تاثیر موجود ہے کہ وہ حقیقت پسند اور عمر رسیدہ راوی کو بھی اس کے گھر کی حدوں سے باہر نکال لاتے ہیں۔ یوں زبان اور تحریر میں وہ قوت ظاہر ہوتی ہے جو مادی حقیقتوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ راوی کی سہیلی کا بھی انہی تحریری اشاروں کے زیرِ اثر شاعر کے پاس آنا اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ عمل اور تحریک کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔
بالآخر یہ کردار لفظ کی مرکزیت کو چیلنج کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ شاعر اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو آنکھ کو نظر آئے، جیسے بڑھاپا، غربت یا روزمرہ کی جدوجہد، بلکہ حقیقت وہ ہے جو محبت کی زبان کے ذریعے تخلیق کی جائے۔ تاہم راوی کی موت ایک گہرا سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا انسان کبھی اپنی مادی حقیقت، اپنی پگڈنڈیوں اور پتھروں سے مکمل نجات پا سکتا ہے، یا زبان اور محبت کے سہارے تشکیل پانے والی حقیقت ہمیشہ کسی نہ کسی لمحے زمینی سچ سے ٹکرا کر بکھر جاتی ہے؟
زویا حسن کی اس کہانی میں قصہ گوئی کا اسلوب روایتی بیانیے سے ہٹ کر داخلی خود کلامی اور استعاراتی جزئیات نگاری کا نہایت بامعنی امتزاج پیش کرتا ہے۔ کہانی کار محض کسی ایک واقعے کی روداد بیان نہیں کرتی بلکہ انسانی وجود کے بکھرنے، تھکن زدہ ہونے اور آہستہ آہستہ تحلیل ہونے کے پورے عمل کو فنی شعور اور تہذیبی حساسیت کے ساتھ سامنے لاتی ہے۔ اس اسلوب میں کہانی خارجی دنیا سے کم اور باطنی دنیا سے زیادہ جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جہاں یاد، خواہش اور حسرت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتی ہیں کہ قاری بھی اس داخلی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس کہانی کا ایک نمایاں اور گہرا پہلو دوغلی شخصیت، یا دوہرے وجود، کا تصور ہے۔ مصنفہ نے راوی کے اندر ’’میں‘‘ اور ’’وہ‘‘ کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچی ہے جو کبھی واضح ہو جاتی ہے اور کبھی مکمل طور پر مٹ جاتی ہے۔ راوی اپنی جوانی، اپنے خوابوں اور اپنی کھوئی ہوئی توانائی کو ایک الگ وجود کے طور پر دیکھتی ہے، جسے وہ کبھی کاماکشی اور کبھی اپنی سکھی سہیلی کے نام سے پکارتی ہے۔ اس خود کلامی کے ذریعے وہ قاری کو اس ذہنی کشمکش میں شریک کر لیتی ہے جہاں انسان خود کو دو حصوں میں بٹا ہوا محسوس کرتا ہے: ایک وہ جو دنیا کے بوجھ، غربت اور ذمہ داریوں تلے دبا ہوا ہے، اور دوسرا وہ جو خواب دیکھتا ہے، یادوں میں جیتا ہے اور اب بھی زندگی سے کچھ مانگنے کی جسارت رکھتا ہے۔
کہانی میں استعاراتی زبان اور علامت نگاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں مادی اشیا محض روزمرہ کی چیزیں نہیں رہتیں بلکہ گہرے معنوی اشاروں میں ڈھل جاتی ہیں۔ پگڈنڈیاں صرف راستے نہیں بلکہ وقت اور زندگی کے اس کٹھن، ناہموار سفر کی علامت بن جاتی ہیں جو برسوں گزرنے کے باوجود اجنبی ہی رہتا ہے۔ مچھلیاں اور ان کی بو غربت، مجبوری اور اس مادی جبر کی علامت ہیں جس نے ایک خواب دیکھنے والی لڑکی کو رفتہ رفتہ مرجھا دیا۔ اسی طرح آئینہ خود شناسی کا بھی استعارہ ہے اور فریبِ نظر کا بھی، جہاں انسان خود کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور ساتھ ہی خود سے بچنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔
یادوں کی تکنیک کا استعمال اس کہانی میں نہایت مہارت سے کیا گیا ہے۔ بیانیہ حال کے ایک لمحے سے شروع ہوتا ہے، یعنی آخری ملاقات کے لیے نکلنے سے، اور پھر یادوں کے سہارے ماضی کے مختلف دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسکول جانا، ناریل کے جھنڈوں میں نہانا، میلے میں سگریٹ پینا جیسے مناظر راوی کے کردار میں تہہ در تہہ گہرائی پیدا کرتے ہیں اور قاری کو اس کی موجودہ حالت پر ہمدردی محسوس کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ماضی یہاں محض یاد نہیں رہتا بلکہ حال کی معنویت کو سمجھنے اور اس کی تھکن کو محسوس کرنے کی کنجی بن جاتا ہے۔
کہانی میں مکالماتی بلاغت اور خطوط کے اسلوب نے بیانیے کو ایک شاعرانہ اور فکری رنگ عطا کیا ہے۔ شاعر عاشق کے خطوط محض محبت نامے نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ موقف بھی رکھتے ہیں، خاص طور پر یہ تصور کہ محبت طبعی عمر کو بدل سکتی ہے۔ یہ خیال کہانی کے مجموعی المیے کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ راوی کا خود سے باتیں کرنا، جیسے اس کا کہنا کہ ’’ہاہ، بڑھاپا آ گیا تھا‘‘، بیانیے میں ایک ایسی سچی، بے ساختہ اور افسردہ آواز پیدا کرتا ہے جو تصنع سے پاک ہے اور قاری کے دل تک براہِ راست پہنچتی ہے۔
کہانی کا اختتام ڈرامائی انجام کی ایک نہایت بلند اور معنی خیز مثال بن کر سامنے آتا ہے، جو بیک وقت دو سطحوں پر وقوع پذیر ہوتا ہے: ایک جسمانی خاتمہ اور دوسرا ذہنی و داخلی قبولیت۔ راوی کا پتھر سے ٹھوکر کھا کر گر جانا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس کی عمر بھر کی تھکن، اس کے طویل اور کٹھن سفر، اور اس بوجھل وجود کا منطقی نتیجہ ہے جو برسوں سے غربت، محنت اور داخلی کشمکش کا بار اٹھائے ہوئے تھا۔ یہ گرنا گویا اس جسم کی شکست ہے جو اب مزید بوجھ سہنے سے قاصر ہو چکا ہے۔
لیکن اس جسمانی زوال کے عین لمحے میں ایک باطنی فتح بھی جنم لیتی ہے۔ مرنے سے پہلے راوی کا یہ اعتراف کہ شاعر نے اس بانکی لڑکی سے سچی محبت کی تھی، کہانی کو محض تلخی، محرومی یا شکست پر ختم نہیں ہونے دیتا۔ یہ اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ زندگی کی تمام ناانصافیوں اور محرومیوں کے باوجود محبت کا امکان جھوٹا نہیں تھا۔ یوں یہ انجام کہانی کو ایک بلند تر انسانی تجربے میں بدل دیتا ہے، جہاں محبت، چاہے دیر سے پہچانی جائے یا لمحۂ آخر میں تسلیم کی جائے، پھر بھی اپنی صداقت منوا لیتی ہے اور انسان کو ایک طرح کی داخلی آسودگی عطا کر کے رخصت ہوتی ہے۔
زویا حسن کی کہانی میں سماجی پس منظر محض ایک غیر فعال ماحول نہیں رہتا بلکہ ایک فعال جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو کاماکشی یا روہنی کی پوری زندگی کو اپنے حصار میں لیے رکھتا ہے۔ یہ سماجی ساخت ایک ایسی زنجیر بن جاتی ہے جس کے خلاف وہ شعوری اور لاشعوری طور پر مزاحمت کرتی رہتی ہے، مگر اسی ساخت کے مسلسل دباؤ کے تحت اس کی ذات آہستہ آہستہ ٹکڑوں میں بٹتی چلی جاتی ہے۔ یوں فرد کا المیہ کسی ذاتی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ سماج کے اندرونی تضادات، طبقاتی ناہمواریوں اور صنفی جبر کا براہِ راست عکس بن کر سامنے آتا ہے۔
کہانی کا آغاز ایک پسماندہ ساحلی یا دریا سے متصل گاؤں سے ہوتا ہے، جہاں زندگی کا مرکز و محور مچھلیاں ہیں۔ یہ پیشہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے اور راوی کے باپ، چچا اور پھپھی سب اسی روزگار سے وابستہ ہیں۔ مگر راوی اس وراثت کو بوجھ سمجھتی ہے اور اسے گنوار پن سے تعبیر کرتی ہے۔ مچھلیوں کی بو اور ان کا لمس اسے بار بار اپنی سماجی حقیقت کی یاد دلاتا ہے، جس سے اسے نفرت محسوس ہوتی ہے اور ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔ یہ نفرت محض ذوق یا ناپسندیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ اپنی طبقاتی حیثیت سے گہری بیزاری کی علامت ہے۔ پچھلے پینتیس برسوں سے وہ انہی پگڈنڈیوں پر مچھلیاں بیچنے شہر جاتی رہی ہے، کیونکہ وہاں بہتر قیمت ملتی ہے۔ یوں دیہی غربت اور شہری ضرورت کے درمیان ایک معاشی پل قائم ہو جاتا ہے، جس پر چلتے چلتے اس کی زندگی رفتہ رفتہ گھس جاتی ہے۔
کاماکشی کی شخصیت میں ایک بنیادی اور گہرا تضاد اس کی ماں کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔ ماں بڑے شہر سے آئی تھی اور اپنے ساتھ ایک مختلف تہذیبی ذوق، نفاست اور نکھار لے کر آئی تھی۔ ماں کی بنائی ہوئی مٹھائیوں کی کمائی سے راوی کا اسکول جانا ممکن ہوا، جس کے نتیجے میں اس کی شخصیت خاندان کے دیگر افراد سے مختلف، تراشی ہوئی اور کسی حد تک الگ ہو گئی۔ اس نے برسوں کی محنت سے خود کو وہ بنانے کی کوشش کی جو وہ بننا چاہتی تھی، مگر سماجی اور معاشی حالات نے آخرکار اسے دوبارہ اسی مٹی، اسی گاؤں اور اسی مچھلیوں کی بو میں دھکیل دیا جہاں سے نکلنے کا خواب اس نے دیکھا تھا۔
کہانی کا صنفی پہلو بھی نہایت تلخ اور کڑا ہے۔ راوی پورے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، جب کہ اس کا شوہر دہائیوں سے بے کار پڑا ہے اور اسی کی کمائی پر نشہ کرتا ہے۔ یہ اس معاشرتی المیے کی عکاسی ہے جہاں عورت کفیل ہونے کے باوجود مردانہ جبر سے نجات نہیں پا سکتی۔ شوہر کا اسے تالا لگا کر چھوڑ جانا اسی جبر کی ایک علامت ہے۔ اس استحصال کے نسل در نسل منتقل ہونے کا خوف اس وقت اور گہرا ہو جاتا ہے جب راوی اپنی بیٹی کو آئینہ دیکھتے ہوئے دیکھتی ہے۔ اسے ڈر لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں اس کی بیٹی بھی انہی خوابوں کے جال میں نہ الجھ جائے جن میں وہ خود ساری عمر پھنسی رہی۔
گاؤں کی اجتماعی اخلاقیات اور سماجی نگاہ بھی اس کہانی میں ایک ظالمانہ کردار ادا کرتی ہے۔ کاماکشی کو ایک مکمل انسان کے بجائے ایک منظر یا اعتراض کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لوگ اسے دریا میں نہاتے، پہاڑوں پر سگریٹ پیتے یا میلے میں بے باک انداز میں گھومتے دیکھ کر باتیں بناتے ہیں۔ اس کا لباس اور اس کا طرزِ زندگی اسے باغی قرار دے دیتا ہے، اور یہی بغاوت اس کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔ بڑھاپے میں بھی وہ اپنے بیٹے کی عزت کے تصور سے خوف زدہ رہتی ہے کہ اگر کسی نے اسے اس حال میں دیکھ لیا تو وہ جیتا نہ رہ سکے گا۔ یوں سماج کا گھڑا ہوا عزت کا تصور اس کی ذات پر مسلسل پہرا دیتا رہتا ہے۔
کہانی میں مابعد نوآبادیاتی تناظر کی ایک دھیمی مگر معنی خیز جھلک بھی ملتی ہے۔ شاعر عاشق اس وادی میں فطرت کے حسن کی تلاش میں آتا ہے، مگر اس کی موجودگی ایک طرح کے سیاحتی استحصال کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ باہر سے آنے والا حساس اور تعلیم یافتہ فرد مقامی غربت، محنت اور عورت کی زندگی کو اپنی نظموں اور خوابوں کا مواد بنا لیتا ہے، اور یوں حقیقی زندگی ایک خوابناک اور رومانوی پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔
بالآخر یہ کہانی ایک ایسی عورت کی داستان بن جاتی ہے جو مچھلیوں کی بو، یعنی کڑی سماجی حقیقت، اور عطر کی خوشبو، یعنی خوابوں اور تمناؤں، کے درمیان سسکتی رہتی ہے۔ سماج اسے محض بوجھ اٹھانے والی ایک مشین کے طور پر دیکھتا ہے، جب کہ وہ اپنی سکھی سہیلی، یعنی اپنی اصل اور خواب دیکھنے والی ذات کو بچانے کی آخری کوشش میں اپنی جان تک قربان کر دیتی ہے۔ یہ قربانی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی ناکامی کی علامت ہے جو اپنے اندر موجود انسان کو مکمل انسان تسلیم کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
زویا حسن کی کہانی ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ کے تناظر میں اگر ان کے کہانی کہنے کے فن پر ایک تیجہ خیز اختتامی گفتگو کی جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ محض قصہ بیان کرنے والی ادیبہ نہیں بلکہ انسانی وجود، سماجی جبر اور داخلی شکست و مزاحمت کو ایک ہمہ گیر فنی تجربے میں ڈھالنے والی تخلیق کار ہیں۔ ان کی کہانی کسی واقعے کے گرد نہیں گھومتی بلکہ ایک پورے وجودی سفر کو گرفت میں لیتی ہے، جہاں وقت، یاد، بدن، محنت اور خواب ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ قاری محض قاری نہیں رہتا بلکہ اس تجربے کا حصہ بن جاتا ہے۔
زویا حسن کا سب سے بڑا فنی امتیاز یہ ہے کہ وہ بیانیے کو خطی انداز میں آگے بڑھانے کے بجائے داخلی خود کلامی، یادوں کی آمدورفت اور استعاراتی جزئیات کے ذریعے ایک ایسا متن تخلیق کرتی ہیں جو بیک وقت ذاتی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ ان کے ہاں کردار بولنے سے زیادہ سانس لیتے ہیں، اور ان کی خاموشیاں بھی معنی پیدا کرتی ہیں۔ پگڈنڈیاں، مچھلیوں کی بو، آئینہ، خطوط اور ٹھوکر کھاتا ہوا جسم — یہ سب عناصر محض علامتیں نہیں بلکہ اس سماج کی مادی اور حسی حقیقتیں ہیں جو کردار کے بدن اور شعور پر ثبت ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانی محض تصوراتی یا تجریدی نہیں بنتی بلکہ زمین سے جڑی ہوئی رہتی ہے۔
فنی سطح پر زویا حسن ایک نہایت نازک مگر مضبوط توازن قائم کرتی ہیں۔ وہ نہ تو مابعد جدید تکنیک کو محض لسانی کھیل بننے دیتی ہیں اور نہ ہی سماجی تنقید کو نعرہ بازی میں بدلنے دیتی ہیں۔ داخلی انتشار، دوغلی شخصیت، وقت کی شکست اور زبان کی سیاست — یہ سب عناصر ان کے ہاں انسانی دکھ کے حقیقی تجربے سے جڑے رہتے ہیں۔ یوں ان کی تحریر میں مابعد جدید قرأت اور ترقی پسند شعور ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی توسیع بن جاتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ زویا حسن عورت کے دکھ کو محض مظلومیت کے بیانیے میں قید نہیں کرتیں۔ ان کی عورت کاماکشی یا روہنی کی صورت میں محنت بھی کرتی ہے، خواب بھی دیکھتی ہے، بغاوت بھی کرتی ہے اور آخرکار اپنی شکست کو بھی ایک طرح کی معنوی فتح میں بدل دیتی ہے۔ یہ شکست محض ہار نہیں بلکہ اس سماج کے خلاف ایک خاموش فردِ جرم ہے جو انسان کو مکمل انسان تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
یوں ’’پگڈنڈیوں پر اگا پھول‘‘ زویا حسن کے کہانی کہنے کے فن کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوتی ہے۔ یہ کہانی اس بات کی شہادت ہے کہ وہ معاصر اردو فکشن میں ایک ایسی تخلیقی آواز کے طور پر ابھر رہی ہیں جو نہ صرف فنی تجربے سے خوفزدہ نہیں بلکہ سماجی حقیقت سے آنکھ ملانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ اگر یہی فکری گہرائی، فنی ضبط اور انسانی صداقت ان کی آئندہ تحریروں میں برقرار رہی تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زویا حسن اردو افسانے کے موجودہ منظرنامے میں ایک دیرپا اور مؤثر نام کے طور پر اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔
