احمد شاملو: “قصيده برای انسانِ ماهِ بهمن”
کو یہاں اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ ترجمہ ” شرفِ یک پادشاهِ بیهمهچیز است”. تک اردو کے نوجوان ادیب اسد فاطمی کا کیا ہوا ہے ۔ آگے کا ترجمہ ساتھی مستجاب حیدر نقوی کا کیا ہوا ہے۔ ایڈیٹر محمد عامر حسینی
قصیدہ برای انسانِ ماهِ بهمن احمد شاملو کی ایک معروف نظم ہے جس میں وہ ایران کی انقلابی روایت اور انسان کی آزادی کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ یہاں “ماهِ بہمن کا انسان” دراصل اس انسان کی علامت ہے جو جبر، آمریت اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور اپنی قربانی سے تاریخ کو نئی سمت دیتا ہے۔ ایرانی سیاسی و تاریخی تناظر میں “بہمن” اس ماہ کی طرف اشارہ بھی ہے جس میں عوامی بغاوتوں اور انقلابی تحریکوں کی یاد وابستہ ہے، اس لیے شاملو اس عنوان کے ذریعے انقلابی انسان کو ایک علامتی پیکر میں پیش کرتے ہیں۔
اس نظم میں شاعر اُن لوگوں کو یاد کرتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی، خون اور جدوجہد کے ذریعے آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی راہ کو روشن کیا۔ شاملو کے نزدیک حقیقی شاعر اور حقیقی انسان وہ ہے جس کی زندگی اور اس کی شاعری ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں؛ جو اپنی ذات کو تاریخ کی بڑی انسانی جدوجہد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یوں یہ نظم صرف ایک فرد کی مدح نہیں بلکہ انسانی آزادی، مزاحمت اور اجتماعی جدوجہد کے تصور کی شاعرانہ تمجید ہے۔





























