ادارتی نوٹ
عبدالکریم سروش (پیدائش: 16 دسمبر 1945ء)، جن کا اصل نام حسین حاج فرج دباغ ہے، ایران کے ممتاز اسلامی مفکر، فلسفی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کے معروف شارح ہیں۔ وہ تہران یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور ایران کی دینی روشنفکری تحریک کے نمایاں ترین نظریہ سازوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
سروش نے اسلامی فکر، مذہب اور جدیدیت کے تعلق پر اہم مباحث کو جنم دیا اور مذہب کی تعبیر کے باب میں ایسے نظریات پیش کیے جنہوں نے ایران اور عالمی سطح پر علمی و فکری حلقوں میں وسیع بحث کو جنم دیا۔ وہ اس وقت امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ میں وزٹنگ اسکالر کے طور پر وابستہ ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ ہارورڈ، پرنسٹن، ییل، کولمبیا اور لیڈن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف اسلام ان دی ماڈرن ورلڈ سمیت کئی عالمی جامعات میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی ان کے فکری اثرات کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ٹائم میگزین نے 2005ء میں انہیں دنیا کے سو بااثر ترین افراد میں شامل کیا، جبکہ پراسپیکٹ میگزین نے 2008ء میں انہیں دنیا کے مؤثر ترین دانشوروں میں شمار کیا۔ مذہب کی تعبیر کے بارے میں ان کے نظریات—جو اثابتیت
(relativism)
کے تصور پر مبنی ہیں نے بہت سے ناقدین اور حامیوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اسلام کی فکری اصلاح میں ان کے کردار کا تقابل عیسائیت میں مارٹن لوتھر کے کردار سے کیا جائے۔

آسمان تاریک تھا، رات سیاہ تھی، ہر طرف گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ بھیڑیوں کی آنکھوں کی چمک ہی واحد روشنی تھی جو دکھائی دیتی تھی، اور گیدڑوں کی ہوا ہی وہ واحد آواز تھی جو سنائی دیتی تھی۔ اسی تاریکی میں سازشیں تیار ہو رہی تھیں، جبکہ بہتان تراش اور بدخواہ مسلسل سرگوشیوں اور چہ مگوئیوں میں مصروف تھے۔














مذہب کو فربہ بنانے کا مطلب یہ تھا کہ اسے ایدئالوجی بنا دیا جائے اور لوگوں کی مذہب سے وابستہ توقعات کو بڑھایا جائے۔ لیکن میں درحقیقت مذہب سے وابستہ انسانی توقعات کو کم کرنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹر شریعتی مذہب کو بہت زیادہ دنیاوی بنا رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر مذہب اس دنیا میں کسی کام نہ آئے تو آخرت میں بھی کسی کام کا نہیں۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ مذہب بنیادی طور پر اور اصل میں آخرت کی اصلاح کے لیے ہے۔ اگر انسان کے سامنے آخرت نہ ہوتی تو نہ اس کے پاس مذہب ہوتا اور نہ خدا ان کے لیے انبیا بھیجتا۔ مذہب کی بنیادی تعلیمات انسان کو آخرت کے لیے تیار کرتی ہیں۔
ڈاکٹر شریعتی مذہب کو گویا ایک مجلسِ مؤسسان یا بانیِ نظام کے مقام پر بٹھانا چاہتے تھے؛ دوسرے لفظوں میں وہ مذہب سے ایک نیا نظامِ حکومت برآمد کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر شریعتی، سید قطب کی طرح، پورے جہان کو جاہلیت کے نظام کے مترادف سمجھتے تھے اور اسلام سے ایک متبادل نظام اخذ کرنا چاہتے تھے۔









Source: http://drsoroush.com/en/we-should-pursue-shariatis-path-but-we-shouldnt-be-mere-followers/
