ایران پر بڑے حملوں کا آغاز
اسرائیل اور امریکا نے ہفتہ کی صبح ایران پر بڑے حملے شروع کیے، جنہیں غیر اشتعال انگیز جارحیت قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں اور ایرانی ردعمل کے باعث متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں بھی دھماکوں کی خبریں سامنے آئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کے “فوری خطرات” کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے اور ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ ایرانی افواج کو ہتھیار ڈالنے کی دھمکی بھی دی۔ حملوں سے قبل اسرائیل نے ایران پر “پیشگی حملہ” کیا تھا۔
خطے میں امریکی فوجی طاقت کا غیر معمولی اجتماع
اس حملے سے صرف ایک دن پہلے تک پوری دنیا کی نظریں وائٹ ہاؤس میں براجمان ڈونلڈ ٹرمپ کے کہے ہر ایک لفظ اور حرکات و سکنات پر مرتکز تھیں ۔ امریکی بحریہ کی ایک تہائی طاقت اس وقت خطے میں موجود ہے۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد سے مڈل ایسٹ میں امریکہ کی بیرون ملک اتنی بڑی تعداد میں فوجی قوت کی تعیناتی ہے۔ ابراہم لنکن امریکی بحری بیڑا اس وقت بحیریہ عرب میں ایران کے خلاف کاروائیوں میں حصّہ لے رہا ہے۔ اس کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ائرکرافٹ بیڑا یو ایس ایس گیرالڈ فورڈ بھی موجود ہے۔ خطے میں امریکی لڑاکا طیاروں کی تعداد اب 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں ایف-35، ایف-22، ایف-15 اور ایف-16 شامل ہیں، جبکہ ان کے ساتھ درجنوں فیول ٹینکرز، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور الیکٹرانک وارفیئر طیارے بھی تعینات ہیں۔
ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی اور مخمصہ
ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی حد سے زیادہ خود اعتمادی کا مظہر ہے۔ یہ حد سے زیادہ خوداعتمادی ٹرمپ میں اس وقت سے زیادہ پیدا ہوگئی جب اس نے وینزویلا میں صدر مادرو کو اغواء کرنے کے بعد اس ملک کی تیل کی انڈسٹری پر قبضہ کرلیا ۔ جب ایران کو دباؤ سے جھکانے کی کوشش ناکام رہی، جس کے باعث ٹرمپ ایک مخمصے میں تھے: یا تو ایران کا جوہری پروگرام قبول کریں یا جنگ چھیڑ کر خطے میں بڑی تباہی مول لیں۔ ایران کے معاشی بحران اور عوامی احتجاج کو امریکی پابندیوں نے ہی جنم دیا، مگر انہیں سامراجی مقاصد اور نظام کی تبدیلی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا ۔ ٹرمپ نے دوسرے آپشن کا انتخاب کرلیا ہے ۔
امریکی سیاست میں تقسیم اور چین کا عنصر
امریکی ری پبلکن اور امریکی ڈیموکریٹس کے اندر ٹرمپ کے حالیہ اقدامات پر تقسیم پائی جا رہی ہے۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ ٹرمپ، اوباما اور بائیڈن کی طرح، چین کے بڑھتے ہوئے چیلنج پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مشرقِ وسطیٰ میں الجھ رہے ہیں، جس سے امریکا کی عالمی برتری کمزور ہو رہی ہے۔ سابق پینٹاگون منصوبہ ساز اوریانا اسکائیلر ماسترو کے مطابق چین “تزویراتی نظم و ضبط” اختیار کیے ہوئے ہے اور مقامی بحرانوں میں فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سیاسی و معاشی ذرائع پر توجہ دیتا ہے، جبکہ امریکا بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف رہ کر اپنی طاقت کو زائل کر رہا ہے۔ اگر کوئی بڑی طاقت کسی حلیف ریاست کے باعث خطرناک جنگ میں الجھ جائے تو وہ زوال کی طرف بڑھتی ہے، اور “مییک امریکا گریٹ اگین” کا نعرہ عملاً اس کے برعکس نتائج دے رہا ہے۔
خطے میں جنگ کے خطرناک نتائج
اب یہ بات تو صاف ہوگئی ہے کہ ایران پر امریکی – اسرائیل جارحیت بہت بڑے انتشار کو جنم دے گی اور خود ایران میں بھی اس کے نتائج ناقابل پیشن گوئی ہیں اور یہی بات دوسرے خطوں کے بارے میں بھی درست ہیں اور اس کے خود امریکہ ميں بھی ایسے اثرات پڑیں گے جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا ۔
امریکہ نے جہاں بھی مداخلت کی اس نے اپنے پیچھے ہمیشہ قتل و غارت گری کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہی چھوڑا ہے۔ امریکی سامراجیت نے صدیوں سے زرخیر ثقافتیں رکھنے والی اقوام کو بربریت کی حالت میں بدل دیا اور اس دوران ان کنت جانوں کا نقصان ہوا ۔ ایرانی عوام کو ٹرمپ جس امداد اور حمایت کی لالچ دے رہا ہے ، انہیں عراق، افغانستان ، لیبیا اور شام کی طرف دیکھنا ہوگا کہ وہاں امریکی سامراجیت کی مداخلت کے بعد کیسے بدترین بربادی اور تباہی پھیلی۔
اس وقت مڈل ایسٹ میں عرب ممالک پر مسلط غیر جمہوری بادشاہت اور آمرانہ حکومتوں کی منافقت کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ ایک طرف ت فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کی تلقین کر رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔ ہ امریکی سامراجی کیمپ میں کھڑے ہیں ۔ ان میں سے کئی ممالک اسرائیل سے تجارت میں مصروف ہیں ، جبکہ کئی عرب ممالک ٹرمپ کے غزہ پیس بورڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
مغربی ممالک کی پالیسی اور جوہری معاہدہ
مغربی حکومتیں بھی منافقت کا شکار ہیں ۔ وہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورنیم کی افزدگی پر شور مچاتے ہیں ۔ وہ ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا کہتے رہے ہیں ، ایران ہمیشہ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کی بجائے ایران پر دوسری بار جارحیت مسلط کردی ہے۔ ایرانی رجیم مڈل ایسٹ میں خود ایک طاقت کے طور تسلیم کیے جانے اور اپنی خودمختاری سے جڑے مفادات پر اصرار کرتا ہے جو اسرائیل اور امریکی سامراجیت کو قبول نہیں ہے۔ وہ ایران سے اپنے ایٹمی پروگرام ، بلیسٹک مزائیل پروگرام اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر تے رہے ہیں اور اب وہ ایران پر براہ راست حملے کے زرعے یہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ امریکا نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی معائنہ رپورٹس سے حاصل معلومات کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کیا، جس کے بعد معائنہ عملاً بند ہو گئے۔ اب یورپی ممالک بھی امریکا کے ساتھ مل کر ایران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی تمام افزودگی تنصیبات تک آئی اے ای اے کو مکمل رسائی دے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں اور ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں، حالانکہ اس معاہدے سے سب سے پہلے امریکا ہی دستبردار ہوا تھا۔
بارہ روزہ جنگ کے بعد ایران کی حکمت عملی
بارہ روزہ جنگ کے بعد ایرانی قیادت کے لیے منطقی نتیجہ یہ تھا کہ اپنی بقا کی ضمانت کے طور پر جلد از جلد جوہری ہتھیار حاصل کیے جائیں۔ اندرونِ ایران پاسدارانِ انقلاب اور مذہبی قیادت نے صف بندی مضبوط کی ہے اور سخت گیر دھڑا مزید طاقتور ہوا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت نے مذاکرات کے حامی اصلاح پسندوں کو کمزور کیا ہے۔
ممکنہ نتائج: عراق سے بھی بڑی تباہی
ایران، وینزویلا نہیں ہے؛ اس کی فوجی طاقت زیادہ ہے، آبادی بڑی ہے، خطے میں اتحادی موجود ہیں اور آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیرونی حملہ وقتی طور پر اندرونی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر عوام کو حکومت کے گرد متحد کر سکتا ہے۔
یہ یقینی نہیں کہ امریکا ایرانی نظام کو گرا سکے گا، اور اگر گرا بھی دے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ ایران میں طاقت کا خلا پیدا ہوگا جو عراق جنگ سے بھی زیادہ شدید علاقائی افراتفری اور نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
اگر امریکا ایرانی نظام کو گرانے میں کامیاب بھی ہو جائے تو اس کے نتائج نہایت خطرناک اور رجعتی ہوں گے۔ ایران میں طاقت کا خلا پیدا ہوگا جو شدید داخلی افراتفری کو جنم دے سکتا ہے اور اس کا اثر پورے خطے میں پھیل جائے گا۔ یہ صورتِ حال عراق جنگ سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ جس طرح عراق جنگ نے خطے کے طاقت کے توازن کو بگاڑا تھا، اسی طرح ایران کی تباہی علاقائی توازن کو مزید درہم برہم کر کے نئے تنازعات اور جنگوں کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
امریکا کے اندر سیاسی اثرات
عراق جنگ کے برعکس ایران پر حملے کو امریکا میں عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ صرف 27 فیصد امریکی اس کی حمایت کرتے ہیں اور جنگ پھیلنے یا امریکی ہلاکتیں بڑھنے کی صورت میں یہ حمایت مزید کم ہو سکتی ہے۔ ایران پر حملہ ٹرمپ کی سیاسی حمایت کو مزید کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ پہلے ہی معاشی وعدوں، ایپسٹین معاملے اور دیگر مسائل کی وجہ سے اس کے حمایتی بددل ہو رہے ہیں۔ ایسی جنگ ٹرمپ کی “امن پسند صدر” کی شبیہ کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔
ایران پر حملہ نے امریکہ کی اندرونی سیاست اور زیادہ تقسیم کو بڑھا دینا ہے۔ ٹرمپ کے دوسرے دور کے پہلے سال نے امریکی معاشرے اور عالمی سیاست میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور طبقاتی جدوجہد کے تیز ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی بحریہ کے اندر بھی مورال کمزور بتایا جا رہا ہے۔ باوجود اس کے کہ امریکا کے پاس بڑی فوجی طاقت ہے، موجودہ حالات میں اس کے استعمال کی واضح حدود ہیں اور وہ عالمی سطح پر اپنے زوال کو آسانی سے پلٹ نہیں سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ پر گرفت کی جدوجہد
ایران پر حالیہ جارحیت نے ثابت کیا ہے کہ امریکا کا اصل مقصد مشرقِ وسطیٰ پر اپنی گرفت برقرار رکھنا ہے۔ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ انہیں یہ غیر متنازع حق حاصل ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے جسے چاہیں، جہاں چاہیں اور جب چاہیں دھمکا سکیں، بمباری کر سکیں یا حملہ کر سکیں۔
کیا ہونا چاہئیے ؟
امریکی سامراج، جو ردِعمل اور موت کا سرچشمہ ہے، کا مقابلہ دنیا بھر کے عوام کو کرنا ہوگا۔ یہ عالمی محنت کش طبقے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جہاں تک ایران سمیت خطے کے عوام کی آزادی کا تعلق ہے، یہ کام ایران کے مزدوروں اور غریب عوام کا اپنا فریضہ ہے۔
دہائیوں سے مغرب نے ایران کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سامراجی مداخلت اور جنگوں کے خون سے خود وہی لتھڑے ہوئے ہیں۔ عالمی محنت کش طبقے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھی وہی ہیں۔ ان کے خلاف اور اس نظام کے خلاف جدوجہد ہی دنیا کے تمام مظلوم عوام کی آزادی کا راستہ ہے۔
