عہدِ سامراج میں مسلم شہری تہذیب – معروف ہندوستانی ماہر تاریخ سیما علوی کی کتاب ہے ۔ اس کتاب میں مصنفہ کے لکھے ہوئے تعارف اور مقدمہ کتاب کا یہاں پر اردو ترجمہ شایع کیا جا رہا ہے۔ مکمل کتاب کا ترجمہ جلد ہی کتابی شکل میں شایع ہوکر قارئین کے ہاتھ میں ہوگا ۔ عامر حسینی
سیما علوی کا زندگی نامہ

زندگی اور علمی خدمات
سیما علوی عہدِ جدید کی ممتاز ہندوستانی مورخہ ہیں جنہوں نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے جنوبی ایشیا، مغلیہ عہد کے زوال، 1857ء کی بغاوت، اور برطانوی و عثمانی سلطنتوں کے باہمی تعلقات پر گراں قدر تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کا شمار اُن مؤرخین میں ہوتا ہے جنہوں نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کو محض نوآبادیاتی یا قوم پرستانہ بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک وسیع تر عالمی اور ماورائے سامراجی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔
تعلیمی پس منظر اور تدریسی خدمات
سیما علوی نے اپنی اعلیٰ تعلیم دہلی یونیورسٹی سے حاصل کی اور بعد ازاں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی جیسے معتبر اداروں سے وابستہ رہیں۔ وہ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ ان کی تدریس اور تحقیق کا مرکزی میدان مغلیہ ہند کا آخری دور، برطانوی اقتدار کا استحکام، مسلم مذہبی اشرافیہ کی سیاسی و فکری حکمتِ عملی، اور بحرِ ہند کی دنیا میں فکری و تجارتی روابط ہیں۔
تحقیقی میدان
ان کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ 1857ء کی بغاوت کو محض ہندوستانی یا برطانوی واقعہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے باہمی تعلقات، مسلم علما کی ہجرت، اور عالمی مسلم نیٹ ورکس کے تناظر میں رکھتی ہیں۔ انہوں نے “مسلم کاسموپولس”
(Muslim Cosmopolis)
کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے دکھایا کہ کس طرح ہندوستانی علما نے مکہ، قاہرہ اور استنبول کے ذریعے ایک ماورائے قومی مسلم دنیا تشکیل دی۔
نمایاں تصانیف
:سیما علوی کی اہم کتب میں شامل ہیں
- The Sepoys and the Company: Tradition and Transition in Northern India, 1770–1830
- Islam and Healing: Loss and Recovery of an Indo-Muslim Medical Tradition
- Muslim Cosmopolitanism in the Age of Empire
ان کی تحریروں میں سماجی تاریخ، فکری تاریخ اور عالمی تاریخ کے زاویے باہم جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ طب، مذہب، سیاست اور سامراجی نیٹ ورکس کے باہمی تعلق کو بھی تاریخی تحقیق کا حصہ بناتی ہیں۔
فکری اہمیت
سیما علوی کی علمی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ تاریخ کو ایک کثیرالجہتی اور باہم مربوط عمل کے طور پر دیکھتی ہیں۔ وہ برطانوی سامراجی بیانیے کی مرکزیت کو چیلنج کرتے ہوئے عثمانی دنیا، عرب شہروں اور ہندوستانی علما کے عالمی کردار کو سامنے لاتی ہیں۔ ان کا کام یہ دکھاتا ہے کہ انیسویں صدی کی مسلم دنیا محض سامراج کا شکار نہیں تھی بلکہ وہ فکری اور تمدنی سطح پر سرگرم، متحرک اور تخلیقی بھی تھی۔
سیما علوی معاصر جنوبی ایشیائی تاریخ نگاری کی ایک نمایاں آواز ہیں۔ انہوں نے 1857ء اور اس کے بعد کے عہد کو ایک نئی عالمی روشنی میں دیکھا ہے اور مسلم جدیدیت، خلافت، اور ماورائے سرحد شناخت کے مباحث میں اہم اضافہ کیا ہے۔ ان کا علمی کام اُن قارئین اور محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی مشترکہ تاریخ کو عالمی تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
تعارف
میں نے پہلی بار عربی رسم الخط سے شناسائی بچپن میں، شمالی ہند کے شہر لکھنؤ میں حاصل کی۔ عربی زبان پڑھنا تو مجھے نہیں آتا تھا، لیکن قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کی تعلیم کے سبب میں نے اس کا رسم الخط پہچاننا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ ہر صبح ایک مولوی صاحب میرے گھر آتے اور میرے ساتھ قرآن کی تلاوت کرواتے۔ شام ڈھلے میں اپنی دادی کے پاس بیٹھتی اور ان سے فارسی اور اردو پڑھتی، جو نستعلیق کے حسین و خمیدہ خط میں لکھی جاتی تھیں۔ دوپہر کے اوقات مقامی کیتھولک مشنری اسکول میں گزرتے، جہاں ایک آئرش نن مجھے انگریزی زبان سے آشنا کرتی تھیں۔
لکھنؤ آج بھارتی ریاست اتر پردیش کا دارالحکومت ہے۔ اہلِ ہند کے لیے یہ شہر اودھ کی شائستہ اور درباری تہذیب کی علامت ہے۔ دریائے گومتی کے کنارے آباد یہ شہر، اپنے ماضی کی نفیس اور پُرشکوہ طرزِ تعمیر کے باعث ممتاز ہے۔ تاہم 1857ء کی بغاوت کے دوران برپا ہونے والے پُرتشدد واقعات میں بھی اس نے ایک اہم کردار ادا کیا ایک ایسا تاریخی لمحہ جس نے اُن مردوں کی زندگیوں کو گہرے طور پر متاثر کیا، جن کی داستانیں میں آئندہ صفحات میں بیان کروں گی۔
اتر پردیش میں ریاستی زبان ہندی ہے، جو دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، اور میں نے وہ بھی سیکھی۔ یوں ایک ہی دن میں، ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک، ایک زبان کی آوازوں اور لے سے دوسری زبان کے آہنگ تک، ایک رسم الخط کی ہیئت سے دوسرے کی صورت گری تک سفر کرتے ہوئے، مجھے بظاہر کسی تضاد کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ میں فرق ضرور محسوس کرتی تھی، مگر یہ سب فرق مل کر میری ننھی سی کائنات کا فطری اور ہم آہنگ حصہ بن جاتے تھے۔
میرے بچپن کی ایک الجھن یہ تھی کہ میں کبھی بھی اپنی ثقافتی دنیا کو جغرافیائی نقشوں پر کھینچی گئی قومی ریاستوں کی سرحدوں اور سیاسی خدوخال کے اندر سمو نہیں پاتی تھی۔ میری بچپن کی دنیا بیک وقت حد درجہ کاسموپولیٹن بھی تھی اور حیرت انگیز طور پر مقامی اور محدود بھی۔ اگرچہ میں کئی زبانیں جانتی تھی، لیکن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی میری عملی صلاحیت خاصی محدود تھی۔ میں کوئی دنیا ناپنے والی سیّاح یا جیٹ سیٹر نہیں تھی—اور حقیقت یہ ہے کہ 1960ء کی دہائی میں زیادہ تر ہندوستانی بھی ایسے نہیں تھے، کیونکہ اس زمانے میں بین الاقوامی سیاحت صرف اشرافیہ کے چند لوگوں ہی کی دسترس میں تھی۔ کیا اس سے پہلے کے ادوار میں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی بھی اسی طرح بسر ہوتی تھی؟
یہ کتاب عہدِ سامراج میں ہندوستانی مسلمانوں کی ثقافتی دنیا کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ میں نے سعی کی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اُس باہم مربوط اور وسیع ایشیائی برِاعظم کے تناظر میں دیکھا جائے جسے مغربی سامراج نے ایک طرف تقسیم کیا اور دوسری طرف آپس میں جوڑا بھی۔ قوم پرستی اور سامراجیت، مسلم اُمّت اور یورپی سلطنت، اسلام اور عیسائیت، یا محض مشرق اور مغرب جیسے دوئی پر مبنی بیانیوں سے آگے بڑھتے ہوئے، میرا مقصد یہ دکھانا ہے کہ مسلمانوں کی ثقافتی کائنات درحقیقت کس طرح تشکیل پائی۔
برطانوی، عثمانی اور دیگر سامراجی نیٹ ورکس نے ایک ہمہ گیر پین اسلامک عالمی عوامی دائرۂ مکالمہ کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کی۔ میں اسے “نئی مسلم شہری تہذیب” کا نام دیتی ہوں۔
سلطنتوں کے سنگم پر وجود میں آنے والی اس مسلم شہری تہذیب کا مرکزی جوہر متن یا صحیفہ مرکزیت پر مبنی تھا، جبکہ اس کا بیرونی خول سیاسی اصلاح پسندی سے عبارت تھا، جو عثمانی تنظیمات سے متاثر تھا—وہ انتظامی اور آئینی اصلاحات جو 1839ء سے 1876ء کے درمیان سلطنت کو جدید بنانے کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ یورپی سامراجی ذرائع—بھاپ کے جہاز، تار برقی اور چھاپہ خانہ—نے اس مسلم شہری تہذیب کے اندر افکار کی تیز رفتار ترسیل کو ممکن بنایا۔
ہندوستانی مسلمانوں کی زندگیوں کو محیط سامراجی ساخت کے مرکز میں ایک کلیدی ہستی موجود تھی—فرد۔ اس کتاب میں میں نے شعوری طور پر مبہم ریاستی پالیسیوں اور انتظامی ڈھانچوں سے توجہ ہٹا کر فرد کو پیش منظر میں رکھا ہے۔ جن پانچ زندگیوں کا ہم سراغ لگائیں گے، ان کی داستانیں ظاہر کرتی ہیں کہ پین اسلام ازم کا انحصار خلیفہ سے زیادہ سامراجی نیٹ ورکس پر تھا۔
یہ کتاب اُن پین اسلامک روابط کا سراغ لگاتی ہے جو مہاجرین نے قائم کیے اور جنہوں نے قدیم تجارتی راستوں اور نقشبندی صوفی سلسلے کے اُن طریقوں سے فائدہ اٹھایا جو عثمانی دنیا کو مغل ہندوستان سے ملاتے تھے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ اوائلِ جدید عہد کے یہ مسلم روابط یورپی سلطنتوں کی سرپرستی کے باعث مزید شدت اختیار کر گئے۔ برطانوی اور عثمانی سلطنتوں پر انحصار نے اس کتاب کے نقشبندی صوفی کرداروں کو فکری اور سیاسی اصلاح پسندی کا رنگ عطا کیا۔
مزید برآں، یہ کتاب اُن افراد کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتی ہے جنہوں نے ایک ایسے زمانے میں، جب بین الاقوامی قانون سیاسی سرحدوں کو مزید سخت بنا رہا تھا، سامراجی حدود کو مسام دار بنا دیا۔ آنے والے ابواب میں توجہ سلطنتوں کے اُس زیریں پہلو پر مرکوز ہے جہاں مسلم شہری تہذیب کے علمبردار سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ اسی غیر روایتی مقام سے ہندوستانی مسلمانوں نے اُن مذہبی اور علاقائی شناختوں کی تنگ چوکھٹوں پر سوال اٹھایا جنہیں برطانوی اقتدار ان پر مسلط کرنا چاہتا تھا۔ ساتھ ہی، انفرادی کرداروں نے برطانوی سامراجی نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے پین اسلامک روابط استوار کیے جو ایک دن خود سلطنت کے زوال کے بعد بھی برقرار رہنے والے تھے۔
عالمی مسلم برادری کا حصہ ہونا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیا معنی رکھتا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب موجودہ علمی ادب میں شاذ ہی ملتا ہے، کیونکہ وہاں عموماً مسلم جنوبی ایشیا میں قوم پرستی اور پین اسلام ازم کے درمیان ایک لازوال اور ناگزیر تصادم کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ اس پہلے سے متعین اور حد سے زیادہ معنی بوجھل تصادم میں جو افراد شریک نہیں تھے—مثلاً وہ پانچ مسلم مرد جن کی زندگیوں اور کیریئر کا میں سراغ لگاتی ہوں—وہ تاریخ کے صفحات سے گویا اوجھل ہو گئے۔
تاریخ نگاری ایسے کرداروں کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ یہ کتاب اُس کہانی کو بیان کرتی ہے جو اسٹیج سے باہر، متن کے حاشیوں میں وقوع پذیر ہوئی—وہاں جہاں 1857ء کے بعد ایک نیا مسلم نیٹ ورک وجود میں آیا؛ ایک ایسا نیٹ ورک جو یورپی سلطنتوں کی ساخت سے سہارا بھی لیتا تھا، مگر فکری اور سیاسی طور پر ان کے خلاف بھی ثابت قدم تھا۔
مقدمہ
1857ء کی بغاوت—جسے انگریز “میوٹنی-ریبیلین” کہتے تھے—کے فوراً بعد، جس نے برطانوی اقتدار کو ہندوستان میں ہلا کر رکھ دیا تھا، شمالی ہند کے مسلم بزرگ حاجی امداداللہ مکی نے ضلع امبالہ کے ایک زمیندار اور اپنے مرید رائے عبداللہ خان کے گھر پناہ لی۔ 1857ء کے ہنگاموں میں اپنے کردار کے باعث وہ مطلوب تھے اور برطانوی پولیس گرفتاری کے وارنٹ کے ساتھ ان کے تعاقب میں تھی۔ رائے صاحب کے اصطبل سے متصل ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں چھپے بیٹھے تھے کہ پولیس کو ان کا سراغ مل گیا۔
گھوڑا خریدنے کے بہانے پولیس نے اصطبل اور اس سے ملحقہ کوٹھڑی کی تلاشی کا مطالبہ کیا۔ رائے صاحب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے؛ وہ اس سزا کا تصور کر کے لرز اٹھے جو اس صورت میں انہیں بھگتنا پڑتی اگر بزرگ ان کے گھر میں دریافت ہو جاتے۔ مگر جب دروازہ کھولا گیا تو پولیس کو وہاں صرف ایک بچھا ہوا جائے نماز، اور پینے اور وضو کے لیے رکھا ہوا پانی کا لوٹا ملا۔ حاجی امداداللہ مکی کا کوئی نشان نہ تھا۔ رائے صاحب اپنے محترم مہمان کے اس ماورائی کرشمے سے بے حد متاثر ہوئے۔ پولیس نے رسمی پوچھ گچھ کی اور رائے صاحب کو دی گئی زحمت پر معذرت کرتے ہوئے واپس چلی گئی۔ جب قدرے مطمئن رائے صاحب دوبارہ کوٹھڑی میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ حاجی امداداللہ اپنی جائے نماز پر بیٹھے نماز کی آخری تلاوت مکمل کر رہے ہیں۔
چند روز بعد، امداداللہ نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ اپنے مریدوں اور ہم عصر علما سے رخصت لی اور مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ مستقل پناہ لینا چاہتے تھے۔ پنجاب سے، پاک پتن، حیدرآباد اور سندھ سے گزرتے ہوئے وہ مغربی ہندوستان کے ساحلی شہر کراچی پہنچے، جہاں سے وہ مکہ جانے والے جہاز پر سوار ہوئے۔
1860ء کی دہائی میں ان کے ہم عصر عالم، مولانا جعفر تھانیسری، جو 1857ء کے باغیوں کو مالی اور افرادی مدد فراہم کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے تھے، اتنے خوش نصیب ثابت نہ ہوئے۔ انہیں گرفتار کر کے جزائر انڈمان کی تعزیری کالونی میں جلاوطن کر دیا گیا۔ انہوں نے انڈمان کے سفر کو یوں بیان کیا:
“دو دن بعد ہمیں دریائے سندھ پر، ملتان سے پانچ کوس کے فاصلے پر، ایک پیڈل کشتی میں بٹھایا گیا۔ ہم بیڑیوں اور ہتھکڑیوں سمیت قطاروں میں بیٹھے تھے… اور کوٹارسی پہنچے۔ وہاں سے ہمیں ریل کے ذریعے کراچی لے جایا گیا… ایک ہفتہ کراچی میں گزارنے کے بعد ہم ‘بغلہ’ نامی بادبانی کشتی میں بمبئی جانے کے لیے سوار ہوئے۔ سب سے پہلی چیز جس نے ہمیں حیران کیا، وہ سمندر اور جہازوں کی قطار تھی۔”
تھانیسری کے مطابق بمبئی کی بندرگاہ “جہازوں کا جنگل” معلوم ہوتی تھی۔ انہوں نے لکھا:
“وہ جہاز جو ہمیں بمبئی سے انڈمان لے گیا، انگریزوں کی ملکیت تھا… اس کا پورا عملہ اور افسران گورے تھے، اور ان میں سے کوئی ہندستانی زبان نہیں سمجھتا تھا۔”
واحد مترجم ایک انگریزی دان قیدی تھا، جسے موتی لال بابو کہا جاتا تھا۔ انگریز صرف اسی سے گفتگو کرتے تھے۔ “میں انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا تھا۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور پنجابیوں کے لیے الگ الگ کھانے تھے۔ مسلمانوں کو خشک مچھلی، چاول اور دال ملتی تھی؛ ہندوؤں کو چنا؛ اور پنجابیوں کو گیہوں کی روٹی۔”
بمبئی کی بندرگاہ پر سمندر اور بے شمار جہازوں کا منظر تھانیسری کے سفر کے سب سے پُرہیجان اور یادگار لمحوں میں سے ایک تھا۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ جہاز پر مسلم خادم بھی موجود تھے۔ البتہ انہیں اس پر کوئی تعجب نہ ہوا کہ “جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم دینی علما ہیں تو انہوں نے نہایت گرم جوشی سے ہماری مہمان نوازی کی۔”
تقریباً اسی زمانے میں ایک نہایت معزز عالم، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، جو 1857ء میں برطانوی مخالف سرگرمیوں کے باعث پولیس کے تعاقب میں تھے، کامیابی کے ساتھ مکہ معظمہ فرار ہو گئے۔ ان کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری تھا، اور ان کی اطلاع دینے والے کے لیے ایک ہزار روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھیس بدلا، نام تبدیل کیا، اور اپنے آبائی قصبے کیرانہ سے پیدل دہلی روانہ ہوئے، پھر وہاں سے سورت پہنچے۔ سورت سے وہ بادبانی کشتی کے ذریعے جدہ چلے گئے۔ کیرانہ میں ان کی وسیع جائیداد، جہاں ان کا خاندان اور کارکنان مقیم تھے، برطانوی حکومت نے ضبط کر کے نیلامی کے لیے پیش کر دی۔
1857ء کی بغاوت کے بعد مذہبی مسلم رہنماؤں کے خلاف برطانوی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں امداداللہ مکی، تھانیسری اور کیرانوی جیسے متعدد مفرور علما نے بحرِ ہند اور خلیجِ بنگال عبور کر کے برطانوی قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کی۔ 1830ء کی دہائی سے بندرگاہی شہر بمبئی، مکہ، قاہرہ اور استنبول جانے والے معزز مسلم شخصیات اور علما کے لیے ایک معروف دروازہ بن چکا تھا۔ جب شمال مغربی سرحدی علاقوں میں بدامنی کے باعث برطانوی حکام مذہبی شخصیات کے بارے میں بدگمان ہوئے اور ان پر کڑی نظر رکھنے لگے، تو بمبئی سے روانہ ہونے والے جہاز ان علما کو بحرِ ہند کے پار عثمانی شہروں تک لے جاتے رہے۔
1857ء کے بعد کی دہائیوں میں، جن علما کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ تھے، وہ بمبئی سے گریز کرتے تاکہ گرفتار نہ ہو جائیں، اور اس کے بجائے سورت سے جہاز پکڑتے۔ تاہم جو لوگ بمبئی پہنچتے، وہ اس شہر کے حسن اور وسعت سے مسحور ہو جاتے۔ بادبانی جہازوں کی قطاریں انہیں پرجوش بھی کرتیں اور خوف زدہ بھی؛ بندرگاہ پر لنگر انداز بے شمار جہازوں کی کثرت انہیں کسی “جنگل” کی مانند محسوس ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہوا کی سمت کے بارے میں فکرمند رہتے، کیونکہ بحرِ ہند کی سمتِ سفر کا انحصار اسی پر تھا۔
جہازوں پر موجود مسلم خدمت گاروں نے، جو انگریز مالکان کے زیرِ انتظام تھے، انہیں برطانوی-ہندستانی تعلقات کی نئی حرکیات سے روشناس کرایا۔
سمندر پار کا سفر ایک طرف خطرات سے بھرپور تھا اور دوسری طرف مسحور کن بھی۔ یہ زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوتا تھا۔ جن جہازوں نے ان مسلم بزرگوں اور مذہبی مہاجرین کو منتقل کیا، انہوں نے انہیں عہدِ سامراج میں سفر کے مادی تجربے سے آشنا کیا۔ سمندری سفر نے انہیں عثمانی اور برطانوی سلطنتوں کے مابین دیرینہ تجارتی نیٹ ورکس تک رسائی فراہم کی۔ یہ نیٹ ورکس اگرچہ بڑھتے ہوئے سفارتی اقدامات اور قانونی و سیاسی ماہرین کے زیرِ کنٹرول آتے جا رہے تھے، مگر اسی کے ساتھ یہ دلالوں، ایجنٹوں، تاجروں، زائرین، علما اور مذہبی خاندانوں کے باہم مربوط جال سے بھی گزر رہے تھے۔
بحرِ ہند کا یہ سفر انہیں سامراجی دراڑوں سے بھی آشنا کرتا تھا—خصوصاً جدہ اور قاہرہ میں ہونے والے برطانوی مخالف احتجاجات کے تناظر میں—اور ساتھ ہی بحیرۂ روم کی اسلامی فکری مراکز سے بھی، جنہیں انہوں نے اپنے مقاصد کے فروغ اور اپنے سیاسی افق کو وسیع کرنے کے لیے بروئے کار لایا۔
یہ حقیقت کہ وہ سامراجی نیٹ ورکس جو برطانوی ہندوستان کو عثمانی شہروں سے جوڑتے تھے، اسی بندرگاہی زندگی کو ممکن بناتے تھے، جہاز کو خود اس نئی اور پُرجوش دنیا کا وسیلہ بنا دیتی ہے جو سلطنتوں کے درمیان تشکیل پا رہی تھی۔ ایک کلیدی رابطہ کار کے طور پر اس کی اہمیت—جو فرد کو ایک خاص نوع کی اختیاریت عطا کرتی تھی—صدی کے اختتامی مرحلے کے اُس تقارنی لمحے میں اور بھی بڑھ گئی؛ ایک ایسا لمحہ جس نے بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کی دنیا کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی روابط کو مشترکہ برطانوی مخالف جذبات سے ہم آہنگ کر دیا، اور ساتھ ہی عہد کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے انفرادی اخلاقی اصلاح کی پکار کو بھی جنم دیا۔
سمندری تہذیبوں کا باہمی اختلاط، اور وہ مذہبی، معاشی اور سیاسی نیٹ ورکس جو خاص طور پر بندرگاہوں اور ساحلی شہروں میں نمایاں تھے، اُس کاسموپولیٹن مزاج کی نہایت موزوں تمثیل ہیں جسے اس کتاب میں زیرِ بحث ہر مہاجر عالم اپنے مخصوص انداز میں مجسم کرتا ہے۔ وہ بندرگاہیں جہاں سے یہ مہاجر روانہ ہوئے—جیسے بمبئی، سورت اور کراچی—اور وہ شہر جہاں انہوں نے سکونت اختیار کی—مکہ، قاہرہ اور استنبول—اس تاریخی تقارن کے واضح مقامات تھے۔
برِصغیر کے اندر، خلیجِ بنگال میں واقع جزائرِ انڈمان کی تعزیری کالونی، جہاں گرفتار شدہ مہاجرین کو رکھا گیا، اس مسلم شہری تہذیب کا مشرقی، سمندر رو رخ تھا؛ جبکہ افغانستان سے ملحق دشوار گزار شمال مغربی سرحد، جہاں ان میں سے بہت سے افراد حکمتِ عملی وضع کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے، اس کا غیر سمندری سرا تھا۔ انہی مقامات کے درمیان عالمِ فرار اور بدقسمت قیدیوں نے ایک وسیع مسلم شہری تہذیب تشکیل دی—جو ایک طرف ہندوستان کے اندر تھی اور دوسری طرف برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے بیچ دراڑوں اور خلاؤں میں پروان چڑھ رہی تھی۔
یہ کتاب اُس مخصوص کاسموپولیٹن حساسیت کا سراغ لگاتی ہے جس نے اس نئی مسلم شہری تہذیب کو متعین کیا—ایک ایسی تہذیب جو بین الاقوامی تجارت اور بحرِ ہند کے پار پھیلے معاشی نیٹ ورکس سے تقویت پاتی تھی۔
اس حساسیت کی تشکیل کو یہ کتاب پانچ ہندوستانی مسلم علما کی زندگیوں کے ذریعے واضح کرتی ہے، جو 1857ء کی بغاوت میں برطانوی اقتدار کے خلاف کھڑے ہو کر ضرب المثل کے طور پر “غلط سمت” پر قرار پائے۔ ان میں جنوبی ہند کے مالابار علاقے کا ایک معروف مپلاہ باغی شامل تھا، جو عرب النسل اور صوفی پس منظر رکھتا تھا اور 1852ء کی مپلاہ بغاوت میں قتل اور ہنگامہ آرائی کے الزامات کا سامنا کر چکا تھا؛ دو ایسے علما جو عیسائی مشنریوں کے ساتھ مذہبی مناظروں کے لیے شہرت رکھتے تھے؛ بھوپال کی ریاست کے نواب، جن پر اشتعال انگیز مذہبی تحریریں لکھنے کا الزام تھا؛ اور پنجاب کا ایک جوشیلا اصلاح پسند کارکن۔
انتظامیہ کی نظر میں یہ سب “قانون شکن” یا “مذہبی جنونی” تھے۔ وہ ہندوستان سے نکل کر بحرِ ہند کی دنیا میں پھیل گئے۔ برطانوی ہندوستان کی سرحدوں سے باہر نکلتے ہی ان کی داستانیں جنوبی ایشیائی تاریخ کے صفحات سے گویا غائب ہو گئیں۔ یہ کتاب وہیں سے داستان کو اٹھاتی ہے جہاں دیگر بیانیے ختم ہو جاتے ہیں، اور دکھاتی ہے کہ 1857ء کا تجربہ کس طرح مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ذریعے سلطنتوں کے پار منتقل ہوا۔ یہ ان کے نقوش کا تعاقب کرتی ہے جب وہ 1857ء کے بعد کی دہائیوں میں مختلف سامراجی دراڑوں کے پار پھیلتے اور باہم مربوط ہوتے گئے۔
یہ کتاب ان کی زندگیوں اور اسفار کا تجزیہ کرتی ہے—چاہے وہ حقیقی معنوں میں ہندوستان سے باہر گئے ہوں یا اپنے تخیل میں—اور اُن مقامات پر ٹھہرے ہوں جو انیسویں صدی کی سلطنتوں کے ایشیائی سنگم تھے۔ برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کی باہمی ترتیب کو ایک “سامراجی ساخت” کے طور پر دیکھا گیا ہے، جو اس پس منظر کو فراہم کرتی ہے جس کے اندر ان مہاجر علما کے ذریعے تشکیل پانے والی مسلم باہمیت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کی سوانح، تحریری تاثرات، اسفار، بندرگاہی شہروں اور جہاز کی زندگی کی تصویری جھلکیاں، فکری نیٹ ورکس اور سامراجی سیاست کو یکجا کرتے ہوئے، یہ کتاب اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح ان “فراریوں” نے برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے سنگم پر ایک مسلم شہری تہذیب کو تراشا۔
یہ شہری تہذیب جزوی طور پر “روایتی” تھی، اس معنی میں کہ اس کی بنیاد قرآن کے احکام اور حدیثِ نبوی کی ہدایات پر تھی؛ اس نے مسلمانوں کے مابین ثقافتی اختلافات کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اسلامی اصولِ اجماع سے استناد کیا؛ اور اس نے خود کو قاہرہ اور استنبول جیسے اسلامی تہذیبی مراکز اور مکہ جیسے اسلامی قلبی خطے میں قائم کیا۔
تاہم یہ شہری تہذیب محض روایتی نہ تھی بلکہ “نئی” بھی تھی، کیونکہ یہ عثمانی سامراجی تصورِ عالم پر استوار تھی—جیسا کہ خلیفہ عبدالعزیز اور خلیفہ عبدالحمید ثانی کی عالمی امنگوں میں ظاہر ہوتا ہے، جو ان ہندوستانی مہاجرین کے سرپرست بھی تھے۔ اس نے چھاپہ خانے اور عثمانی فکری توانائی سے بھی استفادہ کیا—خصوصاً اُن اصلاح پسند منتظمین اور معتدل علما کی کاوشوں سے، جو سلطنت کو درپیش سیاسی اور مالی بحران کے ردِ عمل میں سرگرم تھے۔
ان اصلاح پسندوں نے سیاسی اور اخلاقی اصلاح کی وکالت کی، جو اپنے عہد کے سائنسی، عقلی اور استدلالی تصورات کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔
یہ افراد، جنہیں عبدالحمید ثانی نے—جو ان کے بارے میں زیادہ صبر و تحمل نہیں رکھتے تھے—سلطنت کے مرکزی دائرے سے بے دخل کر دیا تھا، سلطنت کے عرب صوبوں میں جا بسے، جہاں بیشتر ہندوستانی مہاجرین اترتے تھے۔ اسی کے ساتھ مسلم شہری تہذیب برطانوی سامراجی جال، نقل و حمل کے نظام، اور ذرائع ابلاغ و ترسیلِ معلومات پر بھی انحصار کرتی رہی۔ یہ ماورائے سامراجی شہری تہذیب ایک ثقافتی اور تمدنی تصور کے طور پر سامنے آئی: ایسا عالمگیر مسلم طرزِ عام زندگی، جو عقائد، عبادات اور اظہارِ دیانت کے طریقوں میں اجماع پر مبنی تھا۔
یہ شہری تہذیب اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس نے مسلم شہری کائنات کو ایک فکری اور تمدنی خطے کے طور پر تصور کیا جو سیاسی سرحدوں، جغرافیائی تحدیدات اور ثقافتی تخصیصات سے ماورا تھا۔ تاہم اس کے علمبردار اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ اس کی تشکیل سامراجی تناظر میں ہوئی ہے۔ وہ اس وسیع عالمی شہری کائنات کے اندر سامراجی ساخت کو بھی سمو لینا چاہتے تھے۔ خود محرک اور پیشہ ورانہ شعور رکھنے والے یہ افراد جانتے تھے کہ ان کی یہ کاوش سامراجی نیٹ ورکس اور اس تجارتی دنیا پر معاشی و سماجی طور پر منحصر ہے جسے سلطنتوں نے تشکیل دیا تھا۔
یہ شہری تہذیب نہ تو خلیفہ مرکز پین اسلام ازم تھی اور نہ ہی مکمل طور پر برطانوی مخالف۔ اس کے علمبردار جتنے عثمانی اصلاح پسند اور لبرل حلقوں کا حصہ تھے، اتنے ہی اپنے سامراجی انحصار سے بھی باخبر تھے۔ درحقیقت مسلم شہری کائنات اور عالمی سلطنتوں کے باہمی الجھاؤ ہی نے اس شہری تہذیب کو خلیفہ عبدالحمید ثانی کے لیے پرکشش بنایا، جس نے اسے اپنے پین اسلام ازم کی بنیاد کے طور پر اختیار کیا۔
یہ شہری تہذیب نہ تو مغربی روشن خیالی سے متاثر تھی اور نہ ہی کسی سیکولر نوآبادیاتی جدیدیت کا جزو۔ یہ سلطنتوں کے عہد کی ایک ایسی شہری تہذیب تھی جس کا اپنا عالمگیر اخلاقی دعویٰ تھا، بلکہ مہمان نوازی کے تصورات بھی—مگر ان کی بنیاد اسلامی نصوص اور تنظیمات سے متاثر مناسب عوامی طرزِ عمل کے تصور پر تھی، اور وہ انیسویں صدی کی سامراجی سیاست اور معاشی ڈھانچوں میں پیوست تھی۔
یہ بیک وقت غیر روایتی انداز میں سامراجی سرحدوں سے آگے بڑھتی تھی اور انہی سے ماخوذ بھی تھی۔ اس نے ان جغرافیائی حدود کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جو اس کے علمبرداروں کی شناخت کا تعین کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کی قومی ریاستوں نے—جنہوں نے بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورکس کو بدل دیا اور سامراجی خطے کو نئی صورتوں میں ڈھال دیا—ایسا میدان فراہم کیا جہاں اس شہری تہذیب کے کچھ عناصر باقی رہ سکے، اور مناسب وقت کے انتظار میں سلگتے رہے۔
بالآخر یہی شہری تہذیب ایک عالمی مسلم حساسیت کی بنیاد بنی، جو شدید قوم پرستی کے دور میں قوم کے تصور کی بڑھتی ہوئی قوت کا مقابلہ کرتی رہی۔ اسی بنا پر اسے بیسویں صدی کے ماورائے قومی رجحانات کی فکری بنیاد یا پیش تاریخ سمجھا جا سکتا ہے۔
“ہندوستانی عرب” اور مسلم شہری تہذیب
یہ کتاب اپنی ماورائے سامراجی شخصیات کی داستان کا آغاز ہندوستان میں موجود اُس عرب مہاجر برادری سے کرتی ہے جو برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے درمیان ابھری اور جس نے مسلم شہری تہذیب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی حکام نے انہیں “ہندوستانی عرب” کا نام دیا۔ ان افراد نے برطانوی اور عثمانی معاشروں کے درمیان ایک تمدنی و تہذیبی دائرہ قائم کیا اور اپنے عہد کی سامراجی رقابتوں اور دراڑوں سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے سلطنتوں کے درمیان فکری اور سیاسی روابط قائم کیے اور سامراجی سرحدوں کو مسام دار بنا دیا۔
جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا پر مرکوز مہاجرتی مطالعات نے ایران، افغانستان اور جزیرہ نمائے عرب کے حضرموت خطے سے آنے والے مہاجرین کا جائزہ لیا ہے۔ ان وسیع مطالعات نے قبل از جدید عہد کے اُس ماورائے ایشیائی “شہری” عالم کو سمجھنے میں مدد دی ہے جسے تاجروں، جنگجوؤں، علما اور صوفی بزرگوں نے باہم جوڑا تھا۔ شناختیں مخلوط، سیال اور متعدد تھیں اور مہاجر معاشروں کی مخصوص حرکیات پر منحصر تھیں۔ اکثر مہاجرتی محققین کا خیال ہے کہ یورپی استعمار نے میزبان معاشروں میں قدم رکھ کر اس قبل از جدید شہری دنیا کو منقسم کر دیا۔ جب نوآبادیاتی نظم و نسق نے معاشروں کو قانونی و سیاسی سانچے میں ڈھالا تو مہاجرین کی شناختیں اپنے تہذیبی سرچشموں سے کٹنے لگیں اور انہیں زیادہ واضح نسلی اصطلاحات میں متعین کیا جانے لگا۔
لیکن کیا انیسویں صدی کے مہاجر محض نوآبادیاتی قوتوں کے ہاتھوں میں مہرے تھے جنہوں نے میزبان معاشروں کو ازسرِنو تشکیل دیا؟ کیا نوآبادیاتی درجہ بندیوں اور نسلی نشاندہیوں نے ان کے وسیع ماورائے ایشیائی روابط منقطع کر دیے؟ کیا ان پر اوپر سے مسلط کی گئی “مقامی بنانے” کی پالیسی ہی ان کے لیے واحد راستہ تھی؟ یا وہ نئی صورتوں میں—بطور تہذیبی سفیر، رابطہ کار اور ایسے افراد کے طور پر جو اپنی نئی نسلی شناخت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے—ماورائے ایشیائی خطے میں سرگرم رہے؟
یہ کتاب ان سوالات کا جائزہ لیتی ہے اور اُن مسلم افراد کا سراغ لگاتی ہے جو عربی النسل تھے یا عربی نسبت رکھتے تھے اور ہندوستان میں مقیم تھے، اور جن کے لیے برطانوی ہندوستانی حکومت نے “ہندوستانی عرب” کی نئی درجہ بندی وضع کی۔ ایک سطح پر یہ درجہ بندی اوپر سے مسلط کی گئی مقامی سازی تھی، جس نے انہیں ہندوستانی معاشرے سے ان کی نسلی انفرادیت کی بنیاد پر ممتاز کیا۔ برطانوی ہندوستان میں سیار عرب مختلف وجوہ سے مشکوک سمجھے جاتے تھے: ان پر قدامت پسند مگر اصلاح پسند اسلام کی تبلیغ کا الزام تھا؛ انہیں عثمانی رعایا سمجھا جاتا تھا؛ اور سب سے اہم یہ کہ وہ بیرونی دنیا سے روابط رکھتے، عالمی امنگیں پروان چڑھاتے، اور قانونی تعریف کے مطابق “ہندوستانی رعیت” کے سانچے میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتے تھے۔
برطانوی کوششوں کے باوجود، جو انہیں علاقائی حدود میں مقید کرنا چاہتی تھیں، ہندوستانی عرب ہندوستان سے باہر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے رہے، اور اسے اپنے رعایتی درجہ کے منافی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ وہ اپنے ماورائے ایشیائی ورثے کو برطانوی اور عثمانی معاشروں کی باہم پیوستہ تاریخوں کی علامت سمجھتے تھے۔
جنوبی ہند کے مالابار خطے سے تعلق رکھنے والے مفرور سید فضل کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں یہ ہندوستانی عرب نئے سامراجی نیٹ ورکس—نقل و حمل اور مواصلات کے شاہراہوں—سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور سامراجی رقابتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایشیا بھر میں اپنے روابط پھیلاتے رہے۔ انہوں نے اپنی نصوص پر مبنی فکری اساس کو برقرار رکھا اور جدید سلطنتوں کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا تمدنی دائرہ قائم کیا جو برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے پار پھیلا ہوا تھا۔
یہ افراد نہ تو محض مہرے تھے اور نہ ہی اپنے برطانوی آقاؤں کی مسلط کردہ مقامی سازی کے سادہ لوح شکار۔ انہوں نے قدیم اور جدید دونوں حوالوں کو بروئے کار لا کر اپنے لیے مواقع پیدا کیے، جو ایشیا میں مغربی سلطنتوں کو باہم جوڑتے تھے۔ انہوں نے قدیم رشتہ داری، تجارت، کاروبار اور اطلاعاتی نیٹ ورکس میں اپنی حصہ داری برقرار رکھی، جنہوں نے قبل از جدید عہد سے بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کی سیاسی معیشتوں اور ثقافتوں کو باہم مربوط کیا تھا۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے نئے سامراجی نیٹ ورکس کو بھی چابک دستی سے استعمال کیا۔
انیسویں صدی میں برطانیہ اور دوسری جانب روس، فارس اور عثمانیوں کے درمیان ماورائے ایشیائی رقابتیں ان کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوئیں۔ انہوں نے برطانوی انتظامیہ کے خوف اور اندیشوں سے فائدہ اٹھایا اور سامراجی بے چینیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے استعمال کیا۔ اسی طرح سیاسی ریزیڈنٹ اور قونصل کے عہدے جیسے نئے رابطہ مراکز بھی ان کے لیے اہم ثابت ہوئے، جو سلطنتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتے تھے۔
سید فضل کی داستان ظاہر کرتی ہے کہ قدیم ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید وسائل کے استعمال نے انہیں برطانوی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد دی۔ انیسویں صدی کے اواخر تک وہ ایشیا بھر میں اپنے نیٹ ورکس پھیلا چکے تھے اور عالمی روابط قائم کر چکے تھے۔ ان کے نیٹ ورکس اس لیے بھی پھلے پھولے کہ برطانوی نوآبادیاتی اقتدار خود ان سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ یہ حقیقت کہ یہ “فراری” ہندوستانی عرب اور “جنونی” دراصل برطانوی رعایا تھے، انتظامیہ کو ان کے ماورائے ایشیائی معاملات میں مداخلت کا قانونی جواز فراہم کرتی تھی۔
بظاہر برطانوی دلچسپی بیرونِ ملک مقیم اپنی رعایا کی سرگرمیوں کے بارے میں جائز تشویش کے طور پر پیش کی جاتی تھی، مگر ان کی نگرانی اور ان کے معاملات میں مداخلت وسیع تر سامراجی سیاست میں رسائی کا ذریعہ بھی بنتی تھی۔ خاص طور پر یہ مسئلہ اہم تھا کہ برطانیہ ماورائے ایشیائی خطے میں عثمانی خودمختاری کے دعوے میں کس حد تک مداخلت کرتا ہے۔ برطانیہ نے خطے میں عثمانی سیاسی اقتدار کے دعوے کا مقابلہ اس بنیاد پر کیا کہ وہ وہاں مقیم “ہندوستانی محمدن رعایا” کے حقوق کے تحفظ کا خواہاں ہے۔ ہندوستانی عربوں کی یہ سرپرستی عثمانی سیاسی خودمختاری کے پین اسلامک پہلو کو کمزور کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی۔
سفر میں متحرک مسلم شہری کردار
باب اوّل مابعدِ مغلیہ ہندوستان کے اُس فکری ماحول کی وضاحت کرتا ہے جس نے بعض افراد کو ہجرت پر آمادہ کیا اور انہیں سامراجی ساخت کے اندر ایک فیصلہ کن رابطہ کار بنا دیا۔ یہ باب اُس مخصوص فکری تناظر کی نقشہ بندی کرتا ہے جس نے ایسے مہاجرین کی نقل و حرکت کو قوت دی۔ ان میں سے اکثر نے اپنی فکری نسبت دہلی کے نقشبندی صوفی شاہ ولی اللہ سے قائم کی۔ انہوں نے شاہ ولی اللہ کی “جامعیت” اور اس مفاہمت کو—جو صوفی ابنِ عربی کی ہمہ گیر وحدتُ الوجود اور سرہندی کی محافظہ کار وحدتُ الشہود کے درمیان قائم کی گئی تھی—اپنی زندگیوں کی نئی تشکیل کے لیے بنیاد بنایا۔ ان میں سے بہت سے لوگ شمال مغربی سرحدی خطے میں جمع ہوئے اور اپنی سرگرمیوں کو سکھ، افغان اور فارسی معاشروں کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں ڈھالتے رہے جن تک ان کی رسائی نسبتاً آسان تھی۔
مغل سلطنت کے یہ کثیر اللسان، مہذب، علمی وارث جب برطانوی ہندوستان میں حالات ان کے لیے دشوار ہونے لگے تو ہندوستان سے باہر کیریئر بنانے کے خواہاں ہوئے۔ وہ چاہتے تھے کہ بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کی دنیا کے پار مسلم وحدت قائم کی جائے تاکہ ایک متبادل ثقافتی اقتدار قائم ہو جو خطے میں مغربی بالادستی کو چیلنج کر سکے۔
یہ عالمی رُخ مغلیہ بحران اور مغلیہ علمی اشرافیہ کی برطانوی اقتدار کے ساتھ ازسرِ نو مفاہمت اور نئی ترتیب کا نتیجہ تھا۔ ان کی نقل و حرکت کو جس چیز نے آسان بنایا وہ نقشبندی صوفیوں کے اُن عالمی نیٹ ورکس کی میراث تھی جو تیرھویں صدی میں تشکیل پائے تھے اور جنہوں نے حقیقتاً اوائلِ جدید سلطنتوں کو باہم سی دیا تھا۔ مغل ہندوستان ان نیٹ ورکس میں پوری طرح ضم تھا، جو وسطِ ایشیا، عثمانی سلطنت اور بحرِ ہند کے عربی خطے تک پھیلے ہوئے تھے۔ صوفیہ اور متون ہند-فارسی دنیا اور عثمانی شہروں کے درمیان بآسانی گردش کرتے تھے۔ پندرھویں صدی میں ہرات کے عبدالرحمان جامی—جو ابنِ عربی کے بہترین شارحین میں شمار ہوتے ہیں—عثمانی دنیا اور ہندوستان دونوں میں وسیع طور پر پڑھے جاتے تھے اور مقبول تھے۔ سولھویں صدی میں ان کی حیثیت ایک “اعزازی عثمانی” کے طور پر اس وقت بھی نمایاں ہوئی جب تاشکبری زادہ نے انہیں عثمانی علما کی اپنی سوانحی تالیف میں شامل کیا۔ ہندوستان میں ان کی مقبولیت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کی کتاب نفحات الانس کے عربی ترجمے کی تیاری ایک ہندوستانی نقشبندی عالم تاج الدین زکریا دہلوی نے کی۔
واقعہ یہ ہے کہ 1802ء تک، شمالی عراق کے کردستان سے تعلق رکھنے والے خالد نقشبندی—جو عثمانی معاشرے میں قائم اپنے مؤثر مدارس اور نیٹ ورکس کا تذکرہ کرتے تھے—دہلی میں شاہ ولی اللہ کے مدرسے میں آئے اور ان کے بیٹے شاہ عبدالعزیز سے پڑھا۔ اس عالمی نقشبندی نیٹ ورک میں ہندوستان کی اہمیت ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوئی جب سلیمان سعدالدین نے 1751ء میں امام ربانی شیخ احمد سرہندی کے فارسی مکتوبات کا عثمانی ترکی میں ترجمہ کیا۔ صوفی علما اور متون کی یہ آمدورفت اُس فکری ہلچل کی نشان دہی کرتی ہے جس نے اوائلِ جدید سلطنتوں کو باہم جوڑے رکھا۔
1857ء کے بعد نقشبندی عالمی نیٹ ورکس نے مغلیہ وارثین کی نقل مکانی کو سہارا دیا۔ اور متنوع ہندوستانی معاشرے کے تناظر میں شاہ ولی اللہ کی “اجماع” اور “مفاہمت” کی میراث عثمانی شہروں میں ان کی نئی آباد کاری کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوئی۔ حقیقتاً انہوں نے شاہ ولی اللہ کی بڑھتی ہوئی، جمع پذیر روایت کو بحیرۂ روم کی دنیا میں منتقل کیا اور اپنے نئے مقام کے تحفظ کے ساتھ زیادہ اعتماد کے ساتھ اجماعی ادب تحریر کیا۔ استنبول جیسے شہر، جہاں شہری بڑھوتری اور سماجی تنوع کے تناظر میں اجماعی ادب کی تیاری کی روایت موجود تھی، انہیں یہ موقع دیتے تھے کہ وہ اُمّت کی وحدت پر بے خوف و مصلحت کم لکھ سکیں۔ بحیرۂ روم کی دنیا میں ان کے انضمام کا ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ ہندوستانی نقشبندی ادب—جو ابتدا میں فارسی میں لکھا گیا تھا—اس کے متعدد مطبوعہ عربی اور عثمانی ترکی تراجم گردش میں آئے۔ سرہندی کے مکتوبات کا عثمانی ترکی ترجمہ 1866ء میں استنبول میں شائع ہوا، اور اسی متن کا محمد مراد المنزلوی کا عربی ترجمہ مکتوبات الدرر المکنونات النفیسہ 1899ء میں وہیں چھپا۔
چونکہ یہ ہندوستانی مہاجرین کثیر اللسان اہلِ علم تھے، اس لیے وہ عربی بولنے والی بحیرۂ روم کی دنیا میں اپنے لیے ایک فکری گوشہ تراشنے میں کامیاب ہوئے۔ انہیں صرف مغلیہ فارسی ہی پر دسترس نہ تھی بلکہ عربی اور شمالی ہندوستانی بولی اردو پر بھی عبور تھا۔ غیر معمولی نقل و حرکت کے اس زمانے میں اس زبان دانی نے انہیں دوسروں پر فوقیت دی، اور انہی آخری مہذب علما کے لیے ہند-فارسی، اردو بولنے والے معاشروں اور مشرقِ وسطیٰ کی عربی دنیا کے درمیان آسانی سے حرکت ممکن بنا دی۔
اس کتاب کے بعد کے ابواب، سلطنتوں کے درمیان رہنے اور چلنے پھرنے والے افراد کی سوانح اور تحریری تاثر نگاری کو بنیاد بنا کر مسلم شہری تہذیب کی تشکیل کے مباحث میں فرد کو مرکز میں لاتے ہیں۔ یہی ذخیرۂ مواد سامراجیت کے کارفرما طریقِ کار میں ایک نادر جھانک بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ افراد کی پہل نے رسمی سرحدوں کو کس طرح مسام دار بنایا؛ اور یہ کہ انہوں نے جدید سلطنتوں کے ڈھانچے کو استعمال کر کے نقشبندی عالمی روابط کی پہلے سے موجود صورتوں کو زیادہ تیز اور زیادہ نمایاں کیسے کر دیا۔ فراری ملاّؤں اور بھاگ جانے والوں کی وہ کہانیاں—جن میں وہ سامراجی دراڑوں اور سرحدوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں—سامراجی سیاست کو نیچے سے دکھاتی ہیں؛ اور یہ وہ پہلو ہے جو محض سیاسی معیشت کے تجزیوں میں اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ یوں یہ کتاب فرد کی کہانیوں کے ذریعے سامراجی سیاست اور سامراجی ساخت کے اندر ایک شہری حساسیت کی تشکیل کو ازسرِ نو بیان کرتی ہے۔
جدید ہندوستان کی سماجی و ثقافتی تاریخ پر موجودہ تحقیق نے اب قومی ریاست مرکز نوآبادیاتی-قوم پرستانہ سانچے اور شہرِ مرکز سامراجی تاریخ نگاری—دونوں سے آگے قدم بڑھایا ہے۔ جنوبی ایشیا کی زیریں طبقاتی تاریخ نگاری کے اثر انگیز رجحان نے قوم پرستانہ زاویے کو مقامی کسان معاشروں کے قریب لایا، اور سی اے بے لی اور دیگر نظرثانی پسند محققین نے ریاست اور سماج کے درمیان کے خلاؤں پر نگاہ مرکوز کر کے برطانوی اقتدار کی باریکیوں کو کھولا۔ حالیہ برسوں میں جدید ہندوستان کی تاریخ “مطالعۂ سلطنت” کے لیے بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مرکز بنی ہے۔ برطانوی سلطنت کے مورخین نے نوآبادی اور دارالحکومت کو ایک ہی تجزیاتی فریم میں رکھ کر یہ دلیل دی کہ قابض اور مقبوض، دونوں کی تشکیل ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے ایشیا اور افریقہ میں سامراجیت کی زیادہ پیچیدہ تفہیم کے لیے “سلطنت کے جالوں” پر توجہ دی جو برطانیہ اور اس کے زیرِ اثر علاقوں میں ایک دوسرے سے کٹتے اور جڑتے رہے۔ سامراجی تاریخ میں فرد کو بھی ایک کلیدی رابطہ کار کے طور پر دیکھا گیا جو سلطنت کے مختلف مکانی مراکز کو باہم ملاتا ہے۔ کچھ محققین نے “سامراجی کیریئرز” پر کام کیا اور مقبوض خطوں اور مرکز کو ایک ہی تجزیاتی میدان میں رکھ کر کسی ایک کو ترجیح دیے بغیر بحث کی۔ بعض نے اس امر کو بھی نمایاں کیا کہ سوانح نگاری عالمی تاریخ لکھنے کے لیے ایک مؤثر ذخیرۂ مواد بن سکتی ہے۔
لیکن “نئی سامراجی تاریخ” میں، فرد کی مکانی حرکت اور “عالمی لمحوں” کی اہمیت پر زور کے باوجود، بنیادی نقشہ پھر بھی برطانوی سلطنت ہی رہتی ہے اور اس کی دلچسپی اپنے سامراجی بارڈر سخت کرنے میں: زمینی پیمائشیں، سائنسی علم، نقشہ سازی، قونصل خانہ جاتی جال، سرکاری تعیناتیاں، حکمرانی کے طریقوں میں بے مثال دفتریت اور دستاویزی نیٹ ورکس۔ سلطنت کا یہ بالادست سانچہ ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے اور اسی سے جدیدیت، شہری تہذیب اور عالمی تاریخ کے نمونے اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس تاریخ نگاری کی تنگ نظری صرف جغرافیائی نہیں بلکہ نسلی بھی ہے: کیریئر رکھنے والے افراد بالآخر عموماً برطانوی ہی نکلتے ہیں—چند نمایاں استثنا کے ساتھ۔
یہ کتاب توجہ کو برطانوی علاقوں سے ہٹا کر خلاؤں پر مرکوز کرتی ہے—یعنی برطانوی اور عثمانی معاشروں کے درمیان کی مشترک اور اوورلیپ ہوتی ہوئی فضا پر۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عالمی تاریخ کے خدوخال کو برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے اسی مسام دار سنگم پر ازسرِ نو کھینچنے کی ضرورت ہے۔ یہ سلطنت مرکز عالمی تاریخ کو سوالیہ بناتی ہے اور اس کے بجائے اُس دنیا کو نمایاں کرتی ہے جو اُن نیٹ ورکس نے تشکیل دی جو ایسے مہاجرین نے بنائے جو سامراجی کنٹرول سے ماورا تھے۔ یہ عالمی تاریخ کو اس طرح دوبارہ لکھتی ہے کہ مرکزی کردار “برطانوی رعایا” ہیں—نہ کہ لازماً “برطانوی”—جو سامراجی خلاؤں میں اپنے کردار کے باعث سلطنتوں کے اندرونی عمل پر تازہ بصیرت فراہم کرتے ہیں۔ حقیقتاً وہ ماورائے سامراجی افراد، جو جسمانی طور پر یا اپنے تخیل میں سلطنتوں کے درمیان چلتے پھرتے تھے، خودی و شناخت، سیاسی رعیتیت اور مذہبی نسبتوں کو مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنے آبائی خطے کے علم کو بروئے کار لاتے اور میزبان نظاموں میں رشتہ داری، مذہب اور نسلی نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے سلطنتوں کے درمیان اہم رابطہ کار بن جاتے ہیں۔ وہ سامراجی سیاست کا حصہ بنتے، مسابقتی نظاموں کے ادارہ جاتی اوورلیپ سے فائدہ اٹھاتے، سیاسی رقابتوں کو کیش کرتے، اور اپنے کیریئر خود تراشتے ہیں: جہاں سرحدیں نہ تھیں وہاں سرحدیں کھینچ دیتے ہیں اور جہاں قائم شدہ قانونی و سیاسی حدبندیاں تھیں انہیں الٹ دیتے ہیں۔ سلطنتوں کے درمیان یہی وسیع سیاسی-ثقافتی اور سماجی-معاشی تناظر وہ پردۂ منظر ہے جس پر ماورائے سامراجی افراد بطور عاملِ تغیر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
ابواب دو سے چھ تک عثمانی اور برطانوی سلطنتوں کی باہم مربوط تاریخوں میں فرد کو پیش منظر میں رکھتے ہوئے سامراجیت کی کہانی نیچے سے لکھتے ہیں۔ یہ ابواب انفرادی مسلم کیریئرز کی کہانیاں سناتے ہیں تاکہ ایک طرف سامراجی پھیلاؤ کی یورپی کہانی کو مرکز سے ہٹایا جا سکے اور دوسری طرف شہری تہذیب کے اس یورپ مرکز مطالعے کو بھی—جو اسے نوآبادیاتی جدیدیت اور روشن خیالی کے اخلاقیات کا جزو سمجھتا ہے۔ ہر باب ایک عالم کی زندگی پر روشنی ڈالتا ہے: سید فضل، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا امداداللہ مکی، صدیق حسن خان، اور مولانا جعفر تھانیسری۔ یہی کتاب کے شہری کردار ہیں—وہ افراد جو سامراجی ساخت کے اندر حرکت کرتے رہے اور انیسویں صدی کے سامراجی علم، حکمتِ عملیاں اور رقابتیں اپنے فائدے میں لاتے رہے۔ انہوں نے برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے بیچ ایک روحانی اور تمدنی فضا تراشی اور اسے اپنی مسلم شہری تہذیب کے طور پر پیش کیا۔ یہاں انہوں نے ایک ایسی شہری تہذیب مرتب کی جو اس عہد کی اصلاح پسند اور سائنسی روح کے ساتھ ہم آہنگ تھی؛ ایک ایسی شہری تہذیب جس نے وسیع مسلم باہم پیوستگی پیدا کی؛ اور جس نے برطانوی اور عثمانی دونوں کے تجارتی، نقل و حمل، قونصل خانہ جاتی، مواصلاتی اور طباعتی نیٹ ورکس سے غذا پائی۔ حقیقتاً سامراجی نیٹ ورکس وہ بنیاد بنے جن پر مسلم ارتباط کی قدیم صورتوں اور اس کے علم و ابلاغ کے ذخیرے کو آسانی سے پیوند کیا جا سکا: سفارت کاری، رشتہ داری کے بندھن، اور اسلامی الہیات و متونِ مقدسہ پر شرح نویسی۔
یہ زندگی نامے شدید ہندوستانی قوم پرستی اور عالمی سامراجیت کے عہد میں سیاست اور سماج پر ایک تازہ زاویہ فراہم کرتے ہیں اور ہمیں ایسی عالمی تاریخ کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو لازماً برطانوی سلطنت کی حدود سے مطابقت نہیں رکھتی۔
سلطنتوں کے باہم مربوط تاریخی ربط (connected-history) کے ذریعے عالمی تاریخ کو دیکھنے کی یہ طریقِ کار اگرچہ “عہدِ سامراج” کے مطالعے کے لیے نہایت معنی خیز اور تازہ ہے، مگر اوائلِ جدید دنیا کے مورخین کے لیے یہ بالکل اجنبی نہیں۔ سولھویں صدی میں پرتگالی اور ہسپانوی سامراجی پیش قدمیوں کو مرکز بنانے کے بجائے توجہ کو دوسری سمت منتقل کرتے ہوئے عثمانی تاریخ کے محقق جیان کارلو کاسالے نے یہ دلیل دی کہ یہ دور ایک فیصلہ کن موڑ تھا، جب عثمانی اور مغلیہ سلطنتوں کی عالمی امنگوں اور سیاسی چالوں نے اس صدی کی سیاسی تاریخ کو زیادہ وسیع دائرے کی “عالمی تاریخ” بنا دیا۔ اسی طرح جمال قفادر جیسے محققین اوائلِ عثمانی سلطنت کی قوم پرستانہ اور سادہ نسلی ترکی شناخت کے بیانیوں پر تنقید کرتے ہیں اور ابتدائی ترک خود نمائندگیوں کو مشرقی رومی سلطنت—روم—کی لچکدار اور باہم مسابقتی جسمانی و ثقافتی جغرافیوں میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ “دیارِ روم” کے یہ بدلتے اور مقابل ہوتے تصورات ترکوں کے لیے ایک تہہ دار شناخت پیدا کرتے تھے جو ان کی سلطنت کے عالمی پھیلاؤ کی آئینہ دار تھی، اور یوں بعد کی وہ سادہ قوم پرستانہ کہانیاں کمزور پڑ جاتی ہیں جو بیسویں صدی کی عالمگیریت کی تحریکوں کے ردِ عمل میں “منجمد” ترک شناخت کے طور پر پیش کی جاتی رہیں۔ اوائلِ جدید دنیا کے بعض دوسرے محققین نے بھی فرد کو ایک کلیدی رابطہ کار کے طور پر نمایاں کیا ہے، جو سامراجی عالمی نگاہ کے خدوخال مرتب کرتا، ماورائے سامراجی رابطوں کو ممکن بناتا، اور تہہ دار ثقافتی و نسلی شناختیں پیدا کرتا ہے۔
مثال کے طور پر نٹالی زیمون ڈیوس سولھویں صدی کے شمالی افریقی مسافر اور سفارت کار الحسن الوزّان کی تحریروں کا مطالعہ کرتی ہیں—جو فاس کا باشندہ تھا اور جسے ایک ہسپانوی قزاق نے پکڑ کر اٹلی میں پوپ لیو دہم کے حضور پیش کیا۔ ڈیوس کی رائے میں الوزّان کا کام دو تہذیبی دنیاؤں کے درمیان اس کی مسلسل گفت و شنید کی عکاسی کرتا ہے: وہ عربی اور اسلامی روایت کے طریقوں کو یورپی عناصر کے ساتھ ملا کر دو حریف سلطنتی دنیاؤں کے بیچ اپنے لیے ایک مقام تراشتا ہے، اور اسی عمل میں اس کی شناخت کی سادہ نسلی تشریحات مسئلہ بن جاتی ہیں۔ مظفر عالم اور سنجے سبرہمنیم نے بھی دلیل دی ہے کہ جنوبی ایشیائی مطالعات کو اسی طرح ان باہم مربوط تاریخوں پر توجہ دینی چاہیے جن کی تشکیل اُن افراد کے ذریعے ہوئی جو یورپی، ایرانی، وسط ایشیائی اور عثمانی دنیا سے ہندوستان آتے اور پھر ادھر سے ادھر جاتے رہے۔ یورپی تاریخ کے محققین کے لیے نٹالی رتھ مین کا کام بھی اہم ہے، کیونکہ وہ اوائلِ جدید یورپی تاریخ کو عثمانی سلطنت کے ساتھ موجود ادارہ جاتی، سیاسی اور ثقافتی اوورلیپ دیکھے بغیر پڑھنے پر سخت تنقید کرتی ہیں۔ اسی طرح مانا کیا اور اسٹیفن رائشموت بالترتیب اوائلِ جدید ایرانی دنیا کے کیریئرز اور اٹھارویں صدی کے عرب عالم زبیدی کی مثال کے ذریعے اس غیر یورپی مگر وسیع، اپنے اندر سمو لینے والے زاویۂ نظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے ہماری عموماً برطانوی اور یورپ مرکز عالمی تاریخ کی نقشہ بندی میں نظرانداز کیا گیا ہے۔
جدید ہندوستانی تاریخ کے ضمن میں، لیلا فواز اور سی اے بے لی وہ لوگ تھے جنہوں نے پہلی بار انیسویں صدی میں شناخت کی تشکیل اور سیاست کو برطانوی اور عثمانی سامراجی رقابتوں کے وسیع تر جغرافیائی اور سماجی-ثقافتی خلا میں سمجھنے کا تصوراتی فریم فراہم کیا۔ انہوں نے اس خیال کو فروغ دیا کہ بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کے درمیان واقع یہ بین الاقوامی خلا وہ مقام ہے جہاں عہدِ سامراج میں قوم پرستیوں کی وسیع تر تاریخ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بھاپ کے جہاز، چھاپہ خانے اور تار برقی جیسے سامراجی نیٹ ورکس پر توجہ دی جن کے ساتھ 1850ء کے بعد قوم پرستی ایک عالمی مظہر بنتی گئی۔ سرحدیں ازسرِ نو متعین ہوئیں، شناختیں دوبارہ ترتیب پائیں، اور افراد نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور جنوبی ایشیا کے بیچ ان خلاؤں میں راستے بناتے ہوئے اپنی جگہ پیدا کی۔ بعد میں سگاتا بوس نے ہمیں دعوت دی کہ بحرِ ہند کو ایک بین العلاقائی میدان کے طور پر دیکھیں جو برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے جغرافیائی اور تصوری فاصلے کو پاٹتا ہے اور لوگوں کو سامراجی تشکیلوں کے پار حرکت کی اجازت دیتا ہے۔ بحرِ ہند پر ان کی نگاہ ہمیں دیاسپورائی عوامی دائرے کے زاویے سے وطنیت اور قوم پرستی کے سوالات پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ کتاب اسی تازہ تحقیق کی راہ پر چلتے ہوئے مسلم شہری تہذیب کی تشکیل کو گرفت میں لاتی ہے، جب برطانوی ہندوستان کے مہاجرین شدید سیاسی بحران کے ایک لمحے میں عثمانی دنیا میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔ یہ اُن ڈچ اور مشرقِ وسطیٰ کے محققین سے بھی اشارہ لیتی ہے جنہوں نے سامراجیت اور قوم پرستی کو اُن مسام دار سرحدوں کے ذریعے سمجھنا شروع کیا ہے جن پر افراد کبھی سرکاری طور پر اور کبھی خفیہ طور پر گفت و شنید کرتے تھے۔ ایرک ٹیگلیاکوتسو کا اثر انگیز کام—جس میں ڈچ ہندستانی نوآبادی اور برطانوی زیرِ نگیں علاقوں کے درمیان “مسام دار سرحدوں” کے باعث اسمگلنگ کو کیریئر بنانے اور شناختیں تراشنے کا بڑا راستہ دکھایا گیا—یہ واضح کرتا ہے کہ محض رسمی سامراجی سانچوں میں رہ کر تاریخ لکھنے کی کیا حدود ہیں، اور یہ بھی کہ فرد کو نیچے سے سامراجیت کی تاریخ سمجھنے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے مطالعات میں، جولیا کلینسی اسمتھ کی انیسویں صدی کے تیونس اور الجزائر کی غیر قانونی معیشتوں پر تحقیق ایک ایسے “زیرِ زمین” لین دین کی دنیا دکھاتی ہے جو سامراجی ریاستوں کے مقاصد کے برعکس—اور شمالی افریقی اشرافیہ کے مقاصد کے بھی برعکس—چلتی تھی۔ ان کی مثال میں خیرالدین التونسی کا غیر معمولی کیریئر خاص طور پر معنی خیز ہے: ایک عثمانی مملوک، جس کی اصل چرکسی غلامی سے جڑی تھی، تیونس میں تعینات ہوا اور بالآخر فرانسیسی تیونس کا بڑا “جدیدیت پسند” اصلاحی مفکر اور تعلیم دوست بن کر ابھرا۔ یہ مثال دکھاتی ہے کہ فرد کس طرح سلطنتوں کے بیچ سودے بازی کر سکتا ہے اور سلطنت کے سایوں سے سماج و سیاست کو شکل دے سکتا ہے۔
اسی منطق کو جنوبی ایشیائی تاریخ پر منطبق کرتے ہوئے یہ کتاب دکھاتی ہے کہ افراد نے ناقابلِ عبور سمجھی جانے والی سرحدوں کو مسام دار بنایا، کاغذی “ناقابلِ شکست” سلطنتوں کے دعووں میں دراڑیں ڈالیں، اور عمل کو سلطنت کے سائے میں منتقل کیا—جہاں انہوں نے سامراجی سیاست کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ باب دو واضح کرتا ہے کہ سید فضل نے غیر ملکی اختیارِ سماعت کے قواعد کو نہایت غیر معمولی طریقوں سے برتا۔ اس کی زندگی—جو برطانوی ہندوستان، عثمانی سلطنت کے عرب صوبوں اور استنبول کے بیچ پھیلی ہوئی تھی—یہ بتاتی ہے کہ نسلی طور پر نشان زدہ اور قانونی طور پر داغ دار مسلم رعایا کس طرح ایک طرف برطانوی ہندوستان کے اندر اپنی مسلم آبادی کے ساتھ تعلقات اور دوسری طرف بیرونِ ملک ایشیائی سامراجی حریفوں کے ساتھ سیاست—دونوں کو متاثر کر سکتی تھی۔
انیسویں صدی کے وسط کا وہ “عالمی لمحہ”—جسے دنیا بھر کی بغاوتوں کا دور کہا جاتا ہے—جب برطانوی دہلی، آگرہ اور میرٹھ سے لے کر عثمانی جدہ، قاہرہ، دمشق، اسکندریہ اور تیونس تک سامراجی شہر لرز اٹھے، نقل و حرکت اور ماورائے سامراجی پشت پناہی کے لیے ایک بالکل موزوں موقع بن گیا۔ ابواب تین اور چار اُن مسلم مہاجر علما پر مرکوز ہیں جنہوں نے اس “دورِ بغاوت” میں پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ سلطنتوں کے سنگم پر سرگرم رہے، سامراجی دراڑوں پر گفت و شنید کرتے رہے، سرحدوں کو مسام دار بناتے رہے، اور سامراجیت کی تاریخ کو اسی وقت شکل دیتے رہے جب اس کا بھاری ہاتھ ان پر بھی پڑ رہا تھا۔ مکانی وسعت اور سامراجی ساحلی دنیا کا یہ بڑا میدان، برطانوی “نئی سامراجی تاریخوں” اور قوم پرستانہ بیانیوں—دونوں—کے ان دعووں کو کمزور کر دیتا ہے کہ وہ وسیع تر تجزیاتی فریم فراہم کرتے ہیں، خواہ وہ مرکز و حاشیہ کے تنگ خانوں سے نکل کر “سلطنت کے جالوں” کے بڑے فریم تک ہی کیوں نہ پھیل جائیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی کھوکھلا دکھائی دیتا ہے کہ برطانوی سلطنت کی تاریخ ہی دنیا کی مثالی تاریخ ہے۔
یہاں زیرِ بحث زندگیوں کو اگر اکٹھا دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے “1857ء کی روح” کہا جا سکتا ہے، وہ کس طرح عالمی سیاق میں ظاہر ہوئی۔ جس طرح شمالی امریکہ کے وفاداروں کی دیاسپورا نے 1776ء کی شکست اور 1783ء کی فضا کو استعمال کر کے خود محرک اور متنوع عالمی کیریئرز تراشے—جو برطانوی سلطنت کی پیچیدگیوں کے آئینہ دار بھی تھے اور انہیں شکل بھی دیتے تھے—اسی طرح 1857ء کے مہاجرین نے بھی مواصلات کی سامراجی شاہراہوں کو استعمال کیا اور سامراجی سیاست پر اپنی مہر ثبت کی، جسے ہم “1857ء کی روح” کہہ سکتے ہیں۔ کتاب کے ہر کردار کی زندگی اور زمانہ یہ دکھاتا ہے کہ 1857ء اگر باغیوں کے لیے ایک ہارا ہوا معرکہ تھا تو اس نے صرف وسیع برطانوی مخالف فضا ہی پیدا نہیں کی، بلکہ مذہبی نصوص اور روایت کی تعبیر، فرد کی مصنفانہ حیثیت، ادبی اسالیب، سائنسی جستجو کی اخذ و اختیار، عوامی خدمت، اور “وفادار رعیت” کی تعریف جیسے موضوعات پر بھی ایک عوامی بحث کو جنم دیا۔ اس نے تار برقی اور چھاپہ خانے جیسی نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی کی قدر بھی نمایاں کی۔ نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی اور سیاسی انقلاب کے اس تقارن نے یہ بھی ممکن بنایا کہ 1857ء بہت کم وقت میں عالمی خبر بن گیا۔
جب اس ہولناک واقعے کی خبریں تار برقی کی کیبلوں، بھاپ کے جہازوں اور اخبارات کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلیں تو دوسری برطانوی نوآبادیات میں بھی اس کے اثرات محسوس ہوئے۔ ردِ عمل مختلف تھے اور نوآبادیات اور لندن کے درمیان طاقت کے تعلقات پر نئی بحثیں چھیڑ گئیں۔ جل بینڈر کی تحقیق سر جارج گرے کے کیریئر کو دیکھتی ہے—کیپ کالونی کے اُس برطانوی حکمران کو جس نے لندن کی اجازت کے بغیر ہندوستان میں اپنے ساتھیوں کو بغاوت کچلنے کے لیے فوج اور مدد بھیجی۔ اس خودسری نے سامراجی کیریئر رکھنے والے اہلکاروں اور حکومت کے باہمی تعلقات پر سرکاری سطح پر بحث پیدا کر دی۔ بعد ازاں نیوزی لینڈ میں اس نے ماؤری آبادی کو محدود اور قابو کرنے کی کوششوں میں ہندوستان کے اُس تجربے سے فائدہ اٹھایا جو 1857ء کے بعد کے معاملات کو سخت ہاتھ سے سنبھالنے والوں کے پاس تھا۔ اسی طرح برطانیہ کو آئرش قوم پرستوں سے بھی نمٹنا پڑا جنہوں نے 1857ء سے تحریک پا کر برطانوی اقتدار کے خلاف حرکت پیدا کی۔
1857ء کی گرمی صرف برطانیہ اور اس کی نوآبادیات تک محدود نہ رہی۔ اس کے جھٹکے روسی سلطنت میں بھی محسوس ہوئے۔ زار الیگزینڈر دوم نے برطانوی کمزوری کے اس لمحے کو فارس اور ہندوستان میں اپنے سامراجی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تیونس، قاہرہ، دمشق اور استنبول کے عثمانی شہروں میں ناراض رعایا—ہندستانی مہاجر باغیوں سے اور قومی اخبارات میں چھپنے والی ہندوستانی ہنگاموں کی خبروں سے—سیاسی عمل کی طرف مائل ہوئی۔ 1857ء کے باغیوں اور مصر میں بھاگ جانے والے عسکری مزاج صوفیوں نے (جیسے احمداللہ شاہ جو لکھنؤ میں 1857ء کی بغاوت میں نمایاں تھے، یا شیخ ابراہیم، ایک اور لکھنؤی صوفی جو شمالی مصر کے اسیوط میں جا بسے) عثمانی علاقوں کو ہندوستانی سامراج دشمن تجربے سے روشناس کرایا۔ یوں خوان کول کے الفاظ میں، کچھ لوگوں نے “مصر میں 1857ء کی لڑائی لڑی”۔ یہ افراد اور ان کا ادب 1882ء میں مصر کے برطانیہ کے قبضے تک کے دو عشروں میں مصر میں خوش آمدید ہی رہے۔
واقعہ یہ ہے کہ 1857ء نے عثمانی اور برطانوی دنیا کے درمیان ایک غیر معمولی حد تک بڑھتی ہوئی باہم پیوستگی کا لمحہ پیدا کیا۔ میوٹنی-بغاوت کے باعث بے گھر ہونے والے ہندوستانی مسلمان اس باہم پیوستگی کے پیش رو تھے۔ انہوں نے تعلیمی، سیاسی، اصلاحی اور سماجی منصوبوں کے ساتھ تجربے کیے—وہ منصوبے جو عثمانی عرب اور افریقی صوبوں کی رعایا بھی اسی “دورِ بغاوت” میں آزما رہی تھی۔ عثمانی منتظم عالم اور تیونسی مفکر خیرالدین التونسی کی تنظیمات سے متاثر اصلاحی “پیمانِ اساس” کی صورت 1857ء میں نکھری، اور اس کا تعلیمی منصوبہ ہندوستانی مصلحِ تعلیم سر سید احمد خان کے لیے محرک بنا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ طویل انیسویں صدی کے بعض لمحوں میں ٹونسی جیسے کیریئر ساز رابطہ کاروں کے خیالات اور اقدامات عالمگیر اثرات پیدا کر سکتے تھے۔
ہندوستان میں میوٹنی کے بعد سیاسی و اخلاقی اصلاح کے ذہنی طور پر تیز ماحول میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ دور دراز تیونس میں خیرالدین التونسی کی خبریں غیر معمولی طور پر اہم ہو گئیں۔ اسی تقارنی لمحے نے یہ بھی ممکن بنایا کہ ٹونسی کی 1867ء میں آئینی اصلاحات پر لکھی گئی بڑی عربی تصنیف—اقوم المسالک لمعرفة احوال الممالک—جو یورپی اور عثمانی دنیا کے سامعین کو سامنے رکھ کر لکھی گئی تھی—ہندوستانی مصلحین پر بھی اثر انداز ہو۔ علی گڑھ اور دہلی کے فاصلے پر بیٹھے سر سید احمد خان کو ٹونسی کے تصورات پرکشش محسوس ہوئے۔ چونکہ یہ کتاب مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور عثمانی و یورپی شہروں میں اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے، اس لیے اس کے خیالات ہندوستان تک جلد پہنچ گئے۔ ہندوستان، یورپ اور عثمانی حلقوں کے درمیان تجارتی اور فکری روابط نے اس ترسیل کو آسان بنا دیا: استنبول کے اخبارات میں یہ سلسلہ وار شائع ہوئی، اور اس کتاب کا مختصر تعارف—مقدمہ—جو ٹونسی نے لکھا تھا، جلد ہی فرانسیسی، عثمانی ترکی، فارسی اور انگریزی میں ترجمہ ہو کر بڑے حلقے تک پہنچ گیا۔ ٹونسی کا کیریئر بتاتا ہے کہ ایسے افراد سلطنتوں کی باہم مربوط تاریخوں میں کس قدر فیصلہ کن کردار ادا کرتے تھے۔
سر سید احمد خان پر عثمانی اصلاحی خیالات کا اثر پڑا، اگرچہ وہ ہندوستان میں بطور وفادار برطانوی رعیت قائم رہے۔ مگر اس کتاب کے کرداروں جیسے کچھ دوسرے لوگ وہ تھے جنہوں نے یہ رَوئیں براہِ راست محسوس کیں، کیونکہ وہ خود عثمانی شہروں میں جا بسے تھے۔ ایسے فراری علما برطانوی ہندوستان سے باہر “1857ء کے مزاج” کے اصل حامل بن گئے۔ عجیب طور پر میوٹنی-بغاوت کچلے جانے کے بعد کی دہائیوں میں “1857ء کی روح” مزید پختہ ہو گئی۔ نگرانی کے اس بڑھتے دور میں، پھیلی ہوئی طباعتی ثقافت اور نقل و حمل کی سہولتوں نے آزادی اور سلطنت کی پیچیدگیوں پر جاری عوامی بحث کو بھی زندہ رکھا، اور ہجرت کو بھی ممکن بنایا، یوں 1857ء کا مزاج عثمانی علاقوں تک منتقل ہوتا گیا۔
عثمانی خلیفہ عبدالعزیز اور ان کے جانشین عبدالحمید ثانی نے اپنی سامراجی امنگوں کے زیرِ اثر ہندوستانی مہاجرین کی میزبانی کی اور ان کے نیٹ ورکس کو توانائی بخشی۔ مسلم مہاجرین نے اپنے نئے مقام اور شاہی سرپرستی کو اپنے کیریئر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ وہ ایسے شہری کردار بن کر ابھرے جنہوں نے اُمّت کو سلطنتوں کے سنگم پر ایک عالمگیر تمدنی قوت کے طور پر متحد کرنے کا تصور پیش کیا۔ یہی ان کی مسلم شہری تہذیب تھی۔ مسلم شہری تہذیب اور عالمی سلطنتوں کا یہ ملاپ ایک ایسا عالمی پردۂ منظر فراہم کرتا تھا جس نے عبدالحمید ثانی کے لیے پین اسلامک نیٹ ورکس کو کشش بخش دی—اور یہ کشش محض دینداری کے باعث نہ تھی۔ مسلم مہاجرین نے اپنی شہری تہذیب کو واپس ہندوستان تک بھی پہنچایا: ان مہاجر تاجروں، علما، زائرین اور ناشروں کے ذریعے جو برطانوی ہندوستان اور عثمانی شہروں کے درمیان مستقل ربط قائم رکھتے تھے۔ دو سلطنتوں کے بیچ پروان چڑھی یہ شہری تہذیب ہندوستان کے مدارس اور مسلم سیاست پر گہرا اثر ڈالتی رہی۔ اس کے بڑے معمار—ہندستانی مہاجر علما—مکہ کے تہذیبی سنگم میں اپنے مقام سے بھرپور فائدہ اٹھاتے اور نہ صرف اپنے وطن میں موجود فکری ہم عصروں تک رسائی رکھتے بلکہ برطانوی حدود سے باہر کی وسیع تر سامعین تک بھی اپنا پیغام پہنچاتے رہے۔
فراری علما اور مسلم شہری تہذیب
ابواب تین اور چار دو فراری مسلم علما—مولانا رحمت اللہ کیرانوی (1818–1900) اور مولانا امداداللہ مکی (1817–1899)—پر روشنی ڈالتے ہیں، جو میوٹنی-بغاوت کے بعد مکہ معظمہ جا پہنچے اور وہاں سے استنبول کی میزبانی، سامراجی رقابتوں اور خطے میں پائے جانے والے برطانوی مخالف جذبات کو بروئے کار لا کر اپنے لیے ایک سیاسی فضا تراشنے میں کامیاب ہوئے۔ امداداللہ نے مکہ میں اپنے نئے مقام کو استعمال کیا، جنوبی ایشیا کے ساتھ اس شہر کے طویل فکری اور معاشی روابط سے فائدہ اٹھایا، اور انیسویں صدی کے وسط کے اُس “سامراجی لمحے” کو اپنے حق میں ڈھالتے ہوئے اپنی شہری تہذیب کو ایک مہذب شہری آداب کے طور پر مرتب کیا، جو عالمگیر مسلم اخلاقی طرزِ عمل پر مبنی تھا۔ یہ طرزِ عمل اسلامی نصوص اور اجماعی روایت دونوں سے ماخوذ تھا۔ انہوں نے اجماع کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے مقامی رسوم و رواج اور مختلف مسلکی روایتوں کو ایک مشترک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی۔ جس عوامی طرزِ عمل کی وہ وکالت کرتے تھے، وہ متنوع رسوم اور فرقہ وارانہ روایتوں کی ایک معیاری اور مرتب شکل تھی؛ اور اس میں وہ بیرونی سمت دیکھنے والی سائنسی ذہنیت بھی شامل تھی جو اس زمانے کے عثمانی اصلاح پسندوں کی خصوصیت تھی۔ جہاں انہوں نے عثمانی اصلاحی ورثے سے استفادہ کیا، وہیں اپنی نقشبندی جامعیت کو بھی خطے میں نافذ کیا، اور اسی امتزاج نے انہیں ایک منفرد فکری مقام عطا کیا۔
ان کے استاد اور قریبی رفیق کیرانوی نے بھی اپنی شہری تہذیب—جو بذاتِ خود ایک وحدت آفرین، عالمگیر اور تمدنی تصور تھی—کو اُن سامراجی نیٹ ورکس پر پیوند کیا جو مکہ اور استنبول میں ان کی نئی جغرافیائی فضا کو متعین کرتے تھے۔ باب تین یہ دکھاتا ہے کہ انہوں نے مکہ میں اپنی حیثیت اور ہندوستانی نقشبندیوں کے ساتھ اس شہر کے سابقہ روابط کو کس طرح استعمال کیا، اور ایک ایسی شہری تہذیب تشکیل دی جس کی بنیاد نصوص پر تھی مگر جس کی ذہنیت تنظیمات سے متاثر عملی اور سائنسی رجحان رکھتی تھی۔ یہ شہری تہذیب مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک تیار سانچہ فراہم کرتی تھی، کیونکہ یہ برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے درمیان ایک مکالماتی تمدنی فضا کے طور پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے برطانوی سامراجی منصوبے کے مقابل ایک متبادل تمدنی دنیا پیش کی۔ چنانچہ اگرچہ کیرانوی مکہ میں مقیم تھے اور عالمی افق رکھتے تھے، مگر ان کی توجہ کا مرکز ہندستان ہی رہا۔ ہندستان سے آنے والی کتابیں اور فکری مواد ان کے تمدنی دائرے کو زندہ رکھتے تھے۔ ان کے قائم کردہ مدرسہ صولتیہ، اس کے طلبہ اور علمی تصنیفات نے ان کے فکری و سیاسی جہان کو قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی مدرسہ وہ مرکز بنا جہاں سے ہندوستان میں لکھی گئی کتابیں، سیار اساتذہ اور طلبہ کے ذریعے، حجاز، عثمانی عرب صوبوں اور جنوب مشرقی ایشیا تک گردش کرتی رہیں۔
یہ ابواب واضح کرتے ہیں کہ ہندوستانی شہری کردار استنبول کی طرف اس لیے مائل ہوئے کہ وہ دنیاوی اقتدار کا مرکز تھا اور وہاں انہیں سیاسی امکانات میسر آ سکتے تھے۔ ان کی نقل و حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیفہ کو صرف روحانی پیشوا نہیں بلکہ ایک وسیع، مذہبی و نسلی تنوع رکھنے والی رعایا کے سلطان کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ اس کی قوت محض روحانی مرتبے سے نہیں بلکہ سیاسی حیثیت سے بھی پیدا ہوتی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کے غیر مسلم یونانی اور آرمینی عیسائی رعایا نے سلطان کی مسلم شناخت کو مختلف انداز سے دیکھا ہو، مگر اس میں شک نہیں کہ سلطنت کی بین الاقوامی شہرت نسلی اور مذہبی شمولیت کی تھی—یہاں تک کہ جب سلطان عبدالحمید ثانی نے سیاسی مصلحت کے تحت خلافت کا پرچم بلند کیا اور تنظیمات کے اُن اصلاح پسندوں کو پس منظر میں دھکیل دیا جنہوں نے شمولیت کو قانونی قالب دیا تھا۔ عثمانی سلطان کے دربار میں یونانی اور آرمینی منتظمین موجود تھے، اور اس کے عیسائی نمائندوں نے بھی 1893ء کے شکاگو عالمی مجلسِ مذاہب میں اس کی متمدن حکمرانی کا دفاع کیا۔ اسی بین الاقوامی رواداری اور موافقت کی شہرت نے کیرانوی اور امداداللہ جیسے مسلم شہری کرداروں کو، جو برطانوی جبر سے فرار ہوئے تھے، استنبول کی طرف راغب کیا۔ وہ عثمانی شہروں میں جمع ہوئے تاکہ لبرل فکری دھاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور عالمی اثر رکھنے والے مسلم سلطان کی حمایت کے ساتھ اپنی حکمتِ عملی ترتیب دے سکیں۔ دوسری طرف عبدالحمید ثانی برطانوی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو اپنے سامراجی منصوبوں کے لیے مفید سرمایہ سمجھتے تھے اور ان کا خیرمقدم کرتے تھے۔
“1857ء کی روح” نے مسلم تخیل کو مہمیز دی اور حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو جسمانی طور پر عثمانی دنیا میں پناہ نہ لے سکے، ذہنی و فکری طور پر سلطنتوں کے درمیان قائم شہری تمدنی دائرے سے جڑ گئے۔ باب چھ مولانا جعفر تھانیسری (1838–1905) پر مرکوز ہے، جنہوں نے 1857ء میں دہلی میں باغیوں کی قیادت کے الزام میں انڈمان کی تعزیری کالونی میں اٹھارہ برس (1866–1884) قید کاٹی۔ رہائی کے بعد وہ پنجاب کی انتظامیہ میں منشی کی حیثیت سے مقیم ہو گئے۔ کیرانوی کے برعکس وہ عثمانی علاقوں تک نہ پہنچ سکے، مگر اس سے ان کے ذہن میں سلطنتوں کے پار پھیلی ہوئی مسلم شہری کائنات کا تصور ختم نہ ہوا۔ میوٹنی نے انہیں برطانوی سامراجی نیٹ ورکس اور اس کے ثقافتی جال کے سنگم پر لا کھڑا کیا—جیسا کہ انگریزی زبان کی قوت، برطانوی آدابِ معاشرت اور اسلامی فکری اقتدار کے امتزاج میں جھلکتا ہے۔ اسلامی فکری دنیا اب پہلے سے زیادہ قابلِ رسائی تھی، کیونکہ نقل و حمل، مواصلات اور طباعتی نیٹ ورکس رعایا کے لیے بڑھتی ہوئی دستیابی رکھتے تھے۔ تھانیسری کا تصورِ وطن (مُلک) انہی دنیاؤں کے بیچ تشکیل پایا—اگرچہ جسمانی طور پر نہیں بلکہ خبروں، ادبی تحریروں اور ان ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو انہیں انڈمان کی کالونی میں بطور برطانوی قیدی میسر تھے۔ یہ باب دکھاتا ہے کہ ان کا تخیل سلطنتوں کے پار پھیلا ہوا تھا اور وہ ایک ایسی جامع تمدنی فضا کا تصور کرتے تھے جو برطانوی ہندوستان کی حدود سے باہر تک وسیع تھی۔ چونکہ وہ مسلمانوں کو عالمی سطح پر متحد ہونے کی تلقین کرتے تھے، اس لیے وہ نوآبادیاتی نظام کے لیے ایک چیلنج بن گئے۔ ان کی شہری تہذیب اور اپنی ذات کا احساس—جو برطانوی ہندوستان کے اندر پیوست ہوتے ہوئے بھی اس سے باہر تک پھیلتا تھا—سامراجی نیٹ ورکس پر منحصر رہا۔ یہی انحصار ان کے ردِ عمل کو محض تنگ سیاسی سامراج مخالف جدوجہد سے آگے لے جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامراجی اور ہند-عربی ذخائر کے باہمی تعامل نے ان کی ہند-فارسی شناخت کو تشکیل دیا اور برطانوی اقتدار کے خلاف ان کی پیچیدہ اور باریک جدوجہد کو مزید گہرا اور متنوع بنا دیا۔
سامراجی شہر اور مسلم شہری تہذیب
یہ کتاب اُن عثمانی سامراجی شہروں کو مسلم شہری تہذیب کی تشکیل کے مباحث میں مرکزی مقام دیتی ہے جنہوں نے 1857ء کے مسلم فراریوں کو پناہ دی—یعنی مکہ، قاہرہ اور استنبول۔ ان شہروں میں قائم انفرادی کیریئرز کے مطالعے کے ذریعے کتاب یہ واضح کرتی ہے کہ مسلم زاویۂ نظر سے برطانوی اقتدار سے باہر واقع یہی مراکز عالمی سیاست اور تاریخ کے دھارے متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لندن، دہلی اور کلکتہ جیسے برطانوی مراکز سے نگاہ ہٹا کر یہ کتاب “عالمی” کی ایک نئی تعریف پیش کرتی ہے—ایسی تعریف جو نہ برطانوی مرکزیت پر مبنی ہے اور نہ یورپ مرکز۔
آزیومردی ازرا کے مطابق عثمانی اقتدار کے تحت مکہ اور مدینہ مسلم فکری نیٹ ورکس کے ایسے مرکز تھے جنہوں نے برطانوی، ڈچ اور عثمانی سلطنتوں کے علما کو باہم جوڑا۔ یہی وہ مقامات تھے جہاں حدیث کی نئی تعبیرات کے ذریعے مسلم فکر کی اخلاقی اور تہذیبی تشکیلِ نو کی کوشش کی گئی۔ اس روایت کی جڑیں تیرھویں صدی تک جاتی ہیں، مگر انیسویں صدی میں مغربی سامراجی پھیلاؤ کے چیلنج نے اس اخلاقی اصلاح کی تحریک کو مزید تیز کر دیا۔ مکہ میں مقیم مصری اور انڈونیشی علما نے بھی مختلف فکری دھاروں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی اور اپنے معاشروں کے مسائل کا حل تلاش کیا۔ انہوں نے نصوص پر مبنی اسلام—جیسا کہ حدیث کی روایت میں نمایاں ہے—اور تصوف کی مختلف طریقتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔ مکہ میں مقیم ہندوستانی مصلحین بھی اسی اخلاقی اصلاحی کوشش کا حصہ تھے۔ درحقیقت مکہ کے ہندوستانی مصلحین نے ڈچ مشرقی ہند اور عثمانی مصر سے آنے والے بہت سے طلبہ کو تربیت دی۔ مثال کے طور پر ہندوستانی صوفی عالم سبغۃ اللہ نے شطاریہ اور نقشبندیہ دونوں سلسلوں کو عرب دنیا میں منتقل کیا اور شریعت اور تصوف کے درمیان مفاہمت کی راہ نکالی؛ ان کے شاگردوں میں قاہرہ کے احمد الشناوی اور آچے کے علما بھی شامل تھے۔
مکہ کے فکری ماحول کی چابک دستی کا اندازہ جاوی یا انڈونیشی علمی دائرے کی تفصیل سے ہوتا ہے۔ سترھویں صدی کے دو جاوی علما، ابراہیم الکورانی اور احمد القشاشی، نے شافعی فقہ کو تصوف کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ انیسویں صدی میں جدید سامراجی قوتوں کے بڑھتے دباؤ نے اس رجحان کو مزید مضبوط کیا۔ جاوا کے بنتن اور سماٹرا کے آچے جیسے مقامات مکہ کی طرف فکری ہجرت کے مراکز بن گئے۔ محمد النووی (جاوا) جو 1855ء میں مکہ پہنچے، اسی اصلاحی نو-صوفی رجحان کی مثال تھے۔ اسی طرح احمد خطیب، جو 1881ء میں حجاز آئے، نقشبندی سلسلے میں داخل ہوئے اور مکی عالم احمد دہلان سے تعلیم حاصل کی۔
استنبول، قاہرہ اور دہلی سے آنے والے علما بھی مکہ میں موجود تھے، اور یوں یہ خطہ ایک اہم فکری مرکز بن گیا۔ عثمانی اقتدار کے تحت مکہ میں قیام اور عبدالحمید ثانی کی سرپرستی—جو ماورائے سامراجی مسلم علما کے خیرمقدم کے لیے مشہور تھے—نے انہیں حمیدی سامراجی وژن کی عالمی امنگوں سے روشناس کرایا۔ ان کی شہری تہذیب عربی نصوصی رجحان اور عثمانی اصلاحی، سائنسی جدیدیت کے درمیان ایک متوازن امتزاج کے طور پر ابھری۔ انہوں نے اُمّت کو ایک ایسی تمدنی قوت کے طور پر متحد کرنے کی کوشش کی جو نصوص میں جڑی ہو مگر سلطنتوں کے جال میں بھی پیوست ہو۔ انیسویں صدی کے یہ نیٹ ورکس، جو صوفیہ، تاجروں اور علما کے قدیم روابط پر قائم تھے، مسلم شہری تہذیب کو بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کے پار معاشروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔
ابواب تین اور چار مکہ کے اس کردار کو واضح کرتے ہیں۔ کیرانوی نے مکہ پہنچ کر دریافت کیا کہ یہاں ہندوستانی علمی روایت پہلے سے موجود تھی، جس نے حدیث مرکز مفاہمت کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے اس روایت کو وسعت دے کر اُمّت کو ایک تمدنی قوت کے طور پر سلطنتی تقسیم کے پار متحد کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران خلافت مخالف ناراضی—جو عبدالحمید کی انتظامی کمزوریوں کے باعث پیدا ہوئی—نے انہیں ایک سیاسی راستہ فراہم کیا جس کے ذریعے وہ سلطان کے ناقدین سے روابط قائم کر سکے۔ انہوں نے ان روابط کو استنبول سے رعایتیں حاصل کرنے اور اپنی پناہ گزینی کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا، اور بوقتِ ضرورت خود عبدالحمید سے بھی فائدہ اٹھایا۔
اسی طرح مکہ امداداللہ کی شہری تہذیب کے لیے بھی ایک اہم مقام بنا۔ یہاں سے انہوں نے ہندوستان میں اپنے فکری رفقا سے روابط مضبوط کیے۔ ان کی کئی تصانیف مکہ میں تیار ہوئیں اور ہندوستان میں نظرثانی و اشاعت کے لیے بھیجی گئیں۔ ان کی تحریریں مسلمانوں کو ایک معیاری اور متحد طرزِ عمل کے گرد جمع کرنے کی کوشش تھیں۔
قاہرہ میں بھی ہندوستانی مہاجر علما کے افکار کو وسیع پذیرائی ملی۔ انیسویں صدی کا قاہرہ اسلام اور جدید دنیا کے تعلق پر بحث کا مرکز تھا۔ جمال الدین افغانی اور ان کے شاگرد محمد عبدہ نے سائنسی اور عقلی اصلاحات کی وکالت کی جو قرآن و حدیث سے ہم آہنگ ہوں اور فرد کی اخلاقی اصلاح کو بنیاد بنائیں۔ یہ رجحان مکہ میں موجود اصلاحی اور سلفی حلقوں اور ہندوستانی علما کے تصورات سے ہم آہنگ تھا۔
ہندوستانی اصلاح پسند تصور—جو عقل، سائنس اور نصوص کی تقدیس کو جمع کرتا تھا—قاہرہ میں حمیدی جدیدیت کے ساتھ ہم نشین ہوا۔ بعض کے لیے یہ رجحان قوم پرستی میں ڈھلا، جیسا کہ جاوی علما کے ہاں ہوا؛ مگر ہندوستانی مہاجرین کے لیے قاہرہ ایک وسیع تر ماورائے سامراجی تمدنی فضا کے اظہار کا مقام تھا۔
باب پانچ بھوپال کے نواب صدیق حسن خان پر مرکوز ہے، جو قاہرہ کے علمی حلقوں میں معروف تھے۔ ان کی کتابیں، اپنے ماورائے سامراجی زاویۂ نظر کے باعث، قاہرہ کے اصلاحی اور برطانوی مخالف ماحول میں مقبول ہوئیں۔ اگرچہ وہ ہندوستان میں مقیم رہے اور برطانوی نگرانی میں تھے، مگر انہوں نے مکہ اور قاہرہ کے ساتھ فکری روابط قائم رکھے۔ انہوں نے اپنی ہند-فارسی علمی روایت، شاہی روابط اور سامراجی نیٹ ورکس کو بروئے کار لا کر ایک ایسی شہری تہذیب مرتب کی جو برطانوی اور عثمانی سلطنتوں کے درمیان پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی تصانیف نے عالمگیر مسلم طرزِ عمل کے تصور کو تقویت دی اور سلطنتوں کے پار ایک وحدت آفرین قوت کے طور پر ابھریں۔
ان کی زندگی اور کیریئر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر انیسویں صدی کی عالمی تاریخ کو صرف برطانوی زاویے سے دیکھا جائے تو کیا کچھ نظر سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ برطانوی دائرے سے باہر واقع سامراجی مراکز—جیسے قاہرہ اور استنبول—جدید دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ اس دور میں عربی زبان انگریزی سے زیادہ ایک عالمگیر رابطہ زبان تھی، اور اس نے مسلم رعایا کو ڈچ اور عثمانی دنیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
عثمانی مطالعات میں بھی ان کیریئرز سے خلا پُر ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ استنبول، مکہ اور قاہرہ نے غیر یورپی جدیدیت کی تشکیل میں کس طرح کردار ادا کیا۔ اگرچہ بعض محققین نے عثمانی سلطنت کی عالمی معیشت میں شمولیت کو اس کی جدیدیت کی ابتدا قرار دیا ہے، مگر اس “حاشیہ بندی” کے نظریے پر شدید بحث بھی ہوئی ہے۔ استنبول کی انیسویں صدی کی جدیدیت اس کے نسلی و ثقافتی تنوع، ادبی مجالس اور مذہبی رواداری میں جھلکتی تھی۔ تنظیمات کے بعد کی جدیدیت نے مذہب اور سائنسی عقلانیت کو یکجا کیا۔ سلیم درنگیل نے عبدالحمید ثانی کے سماجی انجینئرنگ منصوبے میں اسلام کی شمولیت کو نمایاں کیا—جس میں خلافت سے وفاداری اور وطن (وطن) کے نئے تصور کو یکجا کیا گیا۔
اس کتاب کے کردار اسی اسلام سے تحریک یافتہ جدید سامراجی وژن میں فٹ ہوتے ہیں۔ کیرانوی استنبول میں شاہی سرپرستی میں اپنی مشہور تصنیف اظہار الحق لکھتے ہیں۔ سید فضل کے استنبولی روابط اور امداداللہ و صدیق حسن خان کی تحریروں کی عثمانی دنیا میں مقبولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلم شہری تہذیب کی تشکیل میں عثمانی شہروں کا کردار بنیادی تھا۔
کیا شہری تہذیب اغوا ہو گئی؟
یہ کتاب انیسویں صدی میں مسلمانوں کے عالمی اتصال کی ایک منفرد تعبیر پیش کرتی ہے۔ اس میں 1857ء کے اُن فراری علما کو مرکزی مقام دیا گیا ہے جو یا تو عثمانی علاقوں میں جا بسے یا پھر برطانوی ہند کے نگرانی کے نظام کے اندر محدود رہنے پر مجبور ہوئے، مگر اس کے باوجود انہوں نے مسلم شہری تہذیب کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کتاب کا استدلال ہے کہ انہوں نے جو ماورائے سامراجی نیٹ ورکس قائم کیے، وہ برطانوی سلطنت کے زیرِ سرپرستی “سرکاری قوم پرستی” کے ردِ عمل میں تھے—ایسی قوم پرستی جو پاسپورٹ، مردم شماری، اراضی پیمائش، قانونی اور قونصلری نظاموں کے ذریعے ایشیا میں علاقائی شناختوں اور سرحدوں کو مسلط کرتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ مسلم روابط نے اپنی داخلی رفتار اختیار کر لی۔ افراد نے ہند-فارسی شہری اشرافیہ کے تجربے اور ہندستان و مشرقِ وسطیٰ کے درمیان قدیم تجارتی و فکری تعلقات کو جدید سامراجی مواصلاتی شاہراہوں اور طباعتی سرمایہ داری سے جوڑ دیا۔ صدیق حسن خان، رحمت اللہ کیرانوی، امداداللہ مکی اور دیگر شخصیات کے کیریئر اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ مسلم شہری تہذیب انیسویں صدی کے سامراجی چیلنجوں اور مواقع دونوں میں پیوست تھی۔ یہ افراد سامراجی ڈھانچوں کو اپنی خودساختہ اور مخصوص مفادات کے مطابق از سرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
برطانوی سلطنت کے مورخین نے دکھایا ہے کہ کس طرح انفرادی کیریئر برطانوی سامراجی تجربے اور اس کے فکری ورثے سے رہنمائی لیتے رہے اور بعد از نوآبادیاتی عہد تک اثر انداز ہوتے رہے۔ مگر کم معروف حقیقت یہ ہے کہ انفرادی سطح پر تشکیل پانے والی مسلم شہری تہذیب نے بھی ایک مضبوط ورثہ چھوڑا، جو آج کے عرب مسلم دنیا کی سیاست کو متاثر کرتا ہے۔
کثیراللسانی ہند-فارسی مغلیہ اشرافیہ کی شہری تہذیب—جس کا نصوصی عربی مرکز اور ایک جدید رجحان تھا—اپنی اصل سے ہٹ کر سیاسی طبقات کے مفادات کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔ بیسویں صدی میں سعودی عرب کی وہابی رجحان رکھنے والی حکومتوں نے اسی تہذیبی روایت کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس کے نصوصی جوہر کو سخت گیر تعبیر میں ڈھال دیا۔ اس کا سب سے نمایاں نتیجہ اس کی کثیراللسانی اور جامع خصوصیت کا خاتمہ اور ایک محدود، امتیازی وہابی اصلاحی روایت کا بیسویں صدی کی قومی ریاستوں میں پھیلاؤ تھا۔
مدرسہ صولتیہ، جسے کیرانوی نے ایک جامع اصلاحی اسلام اور مضبوط ہندوستانی فکری روایت کے مرکز کے طور پر قائم کیا تھا، آج ایک نہایت متنی اور سخت گیر اسلام کی اشاعت کا مرکز ہے، جسے عبدالوھاب سے متاثر سعودی حکمران خاندان کی سرپرستی حاصل ہے۔ عرب دنیا کے نئے بحرانوں اور بیسویں صدی کے اواخر و اکیسویں صدی کے اوائل میں امریکی چیلنج نے اس متنوع مسلم شہری کائنات کی “عربیت” کو مزید تیز کیا اور اس کے مرکز کو اس کی تنظیماتی جدیدیت کی قیمت پر سخت کر دیا۔
اور جدلیاتی انداز میں، وہابیت کے خلاف امریکی جنگ نے اسی رجحان کو مزید مضبوط، نظریاتی طور پر منظم اور عالمی سطح پر نمایاں کر دیا جسے وہ ختم کرنا چاہتی تھی۔ تاہم، جیسا کہ “عرب بہار” کے دوران مسلم ردِ عمل کی نئی لہر سے ظاہر ہوتا ہے، یہ شہری روایت مکمل طور پر معدوم نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں—ایک ایسے امکان کے طور پر جو مناسب لمحے کے انتظار میں ہے تاکہ دوبارہ روشن ہو سکے۔
