ملتان پریس کلب کے سالانہ انتخابات 15 فروری 2026ء، بروز اتوار منعقد ہوئے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا ادارہ جاتی عمل تھا، لیکن حقیقت میں یہ صحافت کے مستقبل اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بارے میں ایک چھوٹا مگر معنی خیز امتحان تھا۔ مقابلہ دو گروہوں کے درمیان تھا: برسراقتدار دی جرنلسٹس گروپ اور مختلف دھڑوں کے اشتراک سے بننے والا پروفیشنل جرنلسٹس گروپ۔ نام الگ تھے، مگر سوال ایک ہی تھا—کیا پریس کلب محض ایک عمارت رہے گا یا ایک زندہ ادارہ بنے گا؟
دو سال پہلے، 2024ء میں، ہم تقریباً بیس اراکین نے ایک مشاورتی فورم بنایا تھا۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے ایک خاموش حکمت عملی اپنائی جائے—وہی حکمت عملی جسے سیاسی لغت میں انٹری ازم کہا جاتا ہے۔ ہمارا مقصد دھڑے بندی کی اندھی سیاست سے بچنا تھا، کیونکہ دھڑے بندی ہمیشہ اصولوں کو نگل جاتی ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ پریس کلب میں جمہوری اقدار فروغ پائیں، نوجوان صحافیوں کو ورکرز کے حقوق کا شعور ملے، اور وہ طاقتور دباؤ گروپوں کے سامنے کمزوروں کی آواز بنیں۔ دو سال کی خاموش کوششوں نے واقعی کچھ نتائج دیے، اگرچہ ایسے نتائج جنہیں گنا نہیں جا سکتا مگر محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔
انتخابات قریب آئے تو فورم میں پہلی رائے یہ تھی کہ پروفیشنل گروپ کی حمایت کی جائے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہماری صحافتی برادری کے بہت سے زندہ اور باوقار سینئر ساتھی—رضی الدین رضی، امجد بخاری، میاں عبدالغفار، شوکت اشفاق، اعجاز ترین اور دیگر—اس گروپ کے حامی ہی نہیں بلکہ اس کے معمار بھی تھے۔ ان سے ہٹ کر فیصلہ کرنا آسان نہ تھا۔ مزید یہ کہ ہمارے کئی نوجوان ساتھی، جن کے ساتھ ہم نے عملی جدوجہد کی تھی، اسی گروپ کے امیدوار تھے۔
لیکن سیاست میں یادداشت بھی ایک طاقت ہوتی ہے۔ مجھ سمیت چند ساتھیوں نے یاد دلایا کہ شکیل انجم، خالد چودھری اور پروفیشنل گروپ کے کئی امیدواروں نے 2024ء میں ایم یو جے انتخابات میں ہماری حمایت کی تھی۔ اخلاقی سوال یہ تھا کہ کیا ہم اس احسان کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ بحث طویل ہوئی، اور بالآخر ایک درمیانی راستہ نکلا: جنرل سیکرٹری، فنانس سیکرٹری اور مجلس عاملہ کے آٹھ ارکان کے لیے پروفیشنل گروپ کی حمایت، جبکہ صدر شکیل انجم اور مجلس عاملہ کے چھ ارکان کے لیے دی جرنلسٹس گروپ کو ووٹ دینے کا فیصلہ ہوا۔ 13 فروری 2026ء کو میں نے اس فیصلے کو فیس بک پر بیان کیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ خود پروفیشنل گروپ اور ہمارے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ صدر، جنرل سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کے عہدوں پر ان کی جیت تقریباً ناممکن ہے۔ مگر میرا سروے کچھ اور کہتا تھا: پریس کلب کے خاموش اراکین میں سے تقریباً ساٹھ ووٹر ایسے تھے جو جنرل سیکرٹری کے لیے مظہر خان کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہی خاموش ووٹ اکثر فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں فنانس سیکرٹری کی نشست پر پروفیشنل گروپ کی کامیابی ایک غیر متوقع مگر خوش آئند حیرت تھی۔
یہ انتخابات ایک اور وجہ سے اہم تھے: انہوں نے پریس کلب میں جمہوری مقابلے کی فضا پیدا کی۔ اب دونوں گروہوں کے پاس ایک موقع ہے محاذ آرائی بڑھانے کا نہیں بلکہ ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنانے کا۔ اختلاف جمہوریت کی علامت ہے، دشمنی اس کی بیماری۔ منتخب باڈی کو کم از کم مشترکہ اہداف پر مل کر کام کرنا ہوگا، اور ہم ان کے اچھے کاموں کی حمایت کریں گے اور تصادم کم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔
ہماری خواہش سادہ ہے مگر ضروری: ماضی کی محاذ آرائی کی وجہ سے جو اہل صحافی رکنیت سے محروم رہے، انہیں شامل کیا جائے۔ پریس کلب کو واقعی آزادی اظہار کا محافظ بنایا جائے—ایسا ادارہ جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت اس وقت سخت دباؤ میں ہے۔ پیکا ایکٹ کے خلاف جاری ملک گیر جدوجہد میں صحافیوں کو ساتھ دینا ہوگا۔ اس وقت صحافی، ادیب، دانشور، انسانی حقوق کے کارکن اور سیاسی کارکن اظہارِ رائے کی سزا بھگت رہے ہیں، ان پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ پریس کلب کا پلیٹ فارم ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
اگر پریس کلب اس مقصد میں ناکام رہا، تو وہ صرف ایک عمارت رہ جائے گا۔ لیکن اگر کامیاب ہوا، تو وہ وہی بن جائے گا جو اسے ہونا چاہیے تھا—آوازوں کا گھر، اور خاموشی کے خلاف ایک چھوٹی مگر ضروری مزاحمت۔
