نوٹ: پاکستان میں نئی نسل میں ریاستی سول نوکر شاہی ، باوردی نوکر شاہی ، غیر سرکاری ہائی کلاس پروفیشنلز ، صنعتکار ، زرعی سرمایہ دار اور پاکستانی سماجی ڈھانچے میں موجود عدم مساوات اور معاشی ترقی سے جڑے سوالات شدت پکڑ رہے ہیں ۔ پاکستانی ریاست کا سرکاری اور غیر سرکاری پروپیگنڈا اپریٹس ان سوالات پر کسی سنجیدہ افکار کی جدلیات کو مرکزی دھارے کی بحث کا غالب ڈسکورس بننے سے روکنے کے لیے اسے شخصیت پرستی اور پیٹی جھگڑوں کے گرد گھمانے کی پوری کوشش کر رہا ہے ۔ اس پوری منصوبہ بندی سے پاکستان میں طلباء یونین کا خاتمہ کیا ( اس پابندی کو 42 سال ہو چکے ہیں ) ، صنعتی و سروسز سیکڑ میں مزدور ٹریڈ یونین کا خاتمہ کیا۔ جامعات میں آزادی اظہار کی ثقافت کو برباد کیا ۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت موجود نہیں ہے۔ تربیت یافتہ سیاسی کارکن کلاس ناپید ہوچکی ہے۔ ایسے میں میں یہ بہت ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو پاکستان کے سماجی ڈھانچے اور ریاست کی ساخت بارے زیادہ سے زیادہ ایسے مضامین سے روشناس کرایا جائے جو انہیں طاقتور طبقات اور ریاست کے ڈسکورس اور بیانیوں سے ہٹ کر سوچنے اور عمل کرنے کی طرف راغب کرے ۔ یہ سلسلہ ہائے مضامین اسی طرف ایک پیش رفت ہے ۔ عامر حسینی
اینگس میڈیسن نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ” طبقاتی ساخت اور معاشی نمو : انڈیا اور پاکستان مغلیہ دور سے “
( Class Structure and Econmic Growth: India and Pakistan Since Moghuls)
اس کتاب کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ دونوں ملکوں کی جو معاشی کارکردگی تھی اس کا ان دونوں ممالک کے سماجی ڈھانچوں پرکیا اثر پڑا ؟ کیا ان دونوں ملکوں کےسماجی نظام نے ماضی کی ترقی میں کوئی نمایاں منفی اور غیر فعال کردار ادا گیا ۔ کیا آزادی کے بعد صورت حال میں کوئی تبدیلی آئی ؟ اس مطالعے میں انھوں نے یہ دیکھنے کی کوشش بھی کی کہ کیا برسر اقتدار حکومتوں نے سماجی ڈھانچے کو بدلنے کی کتنی سنجیدہ کوشش کی اور کس حد تک ان کے اعلانات اور وعدے روایتی جمود اور ان کے مفاداتی طبقات کی وجہ سے محدود ہو گئے جنھوں نے معاشی اور سماجی طاقت وراثت میں حاصل کی تھی ۔
سنہ 1947ء سے پہلے پاکستان اور بھارت کی مشترکہ تاریخ تھی ۔ ازادی کے بعد دونوں ملکوں نے نظریاتی اعتبار سے مختلف سماجی پالیشیاں اختیار کیں ۔
بھارت نے کانگریس اور نہرو کی قیادت میں “سوشلسٹ طرز” قائم کرنے اور ترقی کے ثمرات نچلے طبقات ک پہنچانے کا ہدف رکھا – پاکستان نے 1960ء کی دہائی میں مساوات اور ترقی کے مبینہ تضاد کے باعث ” فعالی عدم مساوات ” ( ٖFunctional Equality ) کی ضرورت کا اعلان کیا ۔
اینگس میڈیسن اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دونوں ممالک میں آمدنی کی تقسیم کے متعلق سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر معلومات انتہائی ناکافی ہیں ۔ دونوں ممالک کے سماجی ڈھانچے کے معاشی ترقی پر اثرات انتہائی پیچیدہ ہیں کہ قطعی نتائج کا مرتب ہو نہیں سکتے۔ پاکستان اور بھارت کا سماجی ڈھانچہ دیگر ممالک سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے ۔ لیکن ایک بات قطعی ہے کہ دونوں ملکوں میں ماضی کی باقیات بڑی مضبوطی سے قائم رہیں ۔
پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں معاشی ترقی ( Economic Growth) کا ہدف ایک طرح سے سیکولر عقیدہ بن چکا ہے۔ دونوں ممالک میں برسر اقتدار حکومتوں نے ایسی پالیسیاں نافذ کیں جو “معاشی ترقی ” کو ہر صورت ممکن بنائیں ۔ اس کے کچھ فوائد تو ملے اور صدیوں کے جمود کے بعد فی کس آمدنی میں معتدل مگر واضح اضافہ ہوا لیکن معاشی ترقی کے مادی فوائد دونوں ممالک کی نچلی نصف آبادی کو حاصل نہیں ہوئے ۔ آزادی کے بعد دونوں ممالک میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا جو اب تک جاری ہے۔ حکومتوں نے جو اقدامات معاشی ترقی کے نام پر اٹھائے وہ رجعتی ثابت ہوئے ۔ دونوں ملکوں کا جو ٹیکس نظام ہے اس نے آمدنی کی تمسیم پر نہ ہونے کے برابر اثر ڈالا ۔ سرکاری اخراجات بھی عدم مساوات کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ۔ دونوں ممالک کی ریاستوں ميں بیوروکریٹک کنٹرول نے امیر طبقے کو فائدہ پہنچایا ۔ زرعی اصلاحات اور دیہی ترقی کے پروگرام نچلے نصف دیہی آبادی کے لیے بے اثر ثابت ہوئے ۔
اینگس میڈیسن کے مطابق دونوں ممالک میں اس وقت جو آمدنی کی تقسیم کا طریقہ کار موجود ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تقسیم معاشی ترقی کے لیے ساز گار ہے۔ تقسیم سے قبل زمین کی انتہائی غیر مساوی تقسیم اور زرعی شعبے میں اعلیٰ آمدنی والے طبقات کو تقریباً مکمل ٹیکس چھوٹ تھی اور یہ پالیسی آزادی کے بعد بھی ایسے ہی چلتی رہی ۔ دونوں ممالک کی برسراقتدار حکومتوں کا خیال تھا کہ اس میں فوری تبدیلی پیداوار میں عارضی خلل پیدا کرسکتی تھی ۔ لیکن ان حکومتوں نے یہ امر نظر انداز کردیا کہ آگے جل کر ایسی تبدیلی زمین کی تقسیم کے منصفانہ نظام اور محنت کے بہتر استعمال کا سبب بنتی ۔ صنعتی شعبے کو بیوروکریسی کے زریعے کنٹرول کرنے کے عمل نے دولت اور آمدنی کے چند گروپوں میں ارتکاز کو بڑھا دیا اور اس سے صنعتی کارکردگی کم ہوتی رہی ۔ اگر صنعت میں منڈی کے طریقہ کار اور ترغیبات کو زیادہ استعمال سے ترقی اور مساوات دونوں میں بہتری آ سکتی تھی ۔
پاکستان کے باب میں اگر حکومتیں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان آمدنی کے فرق اور اسی طرح خود مغربی پاکستان کے اندر پنجاب کے بڑے شہروں اور کراچی کی آمدنی اور دیگر علاقوں کی آمدنی میں فرق کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جاتیں تو اس سے معاشی ترقی کا عمل تو وقتی طور پر سست پڑتا لیکن اس سے طویل مدت میں ترقی میں کوئی فرق نہ پڑتا لیکن اسے بالکل نظر انداز کرنے سے آمدنی کے اس علاقائی فرق نے مسائل کو بہت پیچیدہ اور مشکل بنادیا ۔
اینگس میڈیسن اپنی تحقیق سے یہ نبیجہ نکالتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دہائیوں میں سماجی ترقی کے بارے میں اس کے نتائج انتہائی مایوس کن ہیں ۔ سماجی ترقی کے سب سے زیادہ فوائد اعلیٰ آمدنی والے طبقات تک محدود رہے ۔ وہ کہتا ہے کہ پاکستانی ریاست میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں کی “فعالی عدم مساوات ” کے نظریے کی کوئی ایسی توجیہ موجود نہیں ہے جس کے مطابق اسے پاکستان کے سماجی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے کوئی کار آمد پالیسی قرار دیا جا سکے ۔ اینگسن کا کہنا ہے کہ بھارت جس نے نظری اعتبار سے سماجی مساوات کو اپنایا لیکن جو پالیساں تھیں وہ عدم مساوات کو ہی بڑھاوا دیتی رہیں ۔
اینگس میڈیسن مغلیہ اورنوآبادیاتی دور کے سماجی ڈھانچوں اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتا ہے کہ کئی حوالوں سے مغل معیشت نہایت ترقی یافتہ تھی اور بعض اوقات اس کی کارکردگی مغربی یورپ کے برابر سمجھی جا سکتی ہے، مگر اس کا سماجی ڈھانچہ مالیاتی اور ذات پات کے نظام کے ذریعے شدید استحصال پر مبنی تھا۔ بھاری زمینی ٹیکس پر انحصار کرنے والا مالیاتی نظام کسی حد تک منچو چین اور ٹوکوگاوا جاپان سے مشابہ تھا، لیکن ذات پات کا نظام منفرد تھا۔ مالیاتی نظام اور ذات پات دونوں میں غیر فعالی عناصر موجود تھے۔ اکبر کے دور میں مالیاتی نظام نسبتاً بہتر کام کرتا تھا، مگر مغل اشرافیہ کا بنیادی معاشی مقصد دیہات سے ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ اور فوری وصولی تھا۔ یہ ایک جنگجو سرداروں کی حکمرانی تھی، منظم بیوروکریسی نہیں۔ حد سے زیادہ نچوڑ نے پیداواریت کو کم کیا اور سرمائے کی تشکیل کو روکا۔
دیہی معاشرے میں ذات پات کی درجہ بندی نے بھی پیداواریت کو متاثر کیا:
(الف) نچلے طبقات کا معیارِ زندگی اتنا کم رکھا گیا کہ جسمانی کام کی صلاحیت اور پیداوار بڑھانے کی ترغیب ختم ہو گئی؛
(ب) کاموں کی تقسیم صلاحیت کے بجائے موروثی بنیاد پر ہوئی؛
(ج) کام کے بارے میں عملی کے بجائے رسوماتی رویہ پیدا ہوا؛
(د) مویشی پالنے اور کھاد کے استعمال پر پابندیوں نے پیداوار کم رکھی۔
مغل دور کا بالائی ڈھانچہ ختم ہو چکا ہے، مگر دیہی معاشرہ، بیوروکریسی اور شہری معیشت کے بعض حصے اب بھی اسی قسم کی رسوماتی عدم مساوات سے متاثر ہیں جو معاشی کارکردگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
نوآبادیاتی دور کے بھی اہم اثرات مرتب ہوئے۔ سماجی ہرم کے اوپری حصے کو کمزور کر دیا گیا۔ مغل اشرافیہ کا قومی آمدنی میں حصہ 15 فیصد سے گھٹ کر صرف 3 فیصد رہ گیا جو برطانوی دور میں چند نوابوں اور زمینداروں کو دیا گیا۔ اس زوال نے ہندوستانی دستکاری کی صنعت کی منڈی تباہ کر دی۔ مغل اضافی دولت کا کچھ حصہ دیہی سرمایہ داروں اور ساہوکاروں کو منتقل ہوا جس سے دیہات میں عدم مساوات بڑھی۔ مالی وسائل کا ایک حصہ جدید فوجی و بیوروکریٹک نظام بنانے پر خرچ ہوا۔
نئی بیوروکریٹک اشرافیہ کی جدیدکاری کی کوششوں نے آبادی اور پیداوار میں اضافہ تو کیا، مگر فی کس آمدنی میں اضافہ نہ ہو سکا۔ محدود پیمانے پر جدید صنعت و تجارت قائم ہوئی، مگر وہ برطانوی ایجنسیوں پر بہت زیادہ منحصر رہی اور جدید مہارتیں مقامی آبادی تک کم منتقل ہوئیں۔ اگر ہندوستان نوآبادیاتی حکمرانی کے زیر اثر نہ آتا تو غالباً اس کی تاریخ چین سے ملتی جلتی ہوتی: آبادی شاید کم ہوتی مگر جدید ترقی کے لیے زیادہ معاشی سرپلس دستیاب ہوتا۔
آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں یہ رہیں کہ مغل دور کی باقیات (زمیندار اور نواب) ریاستی پنشن یافتہ بن گئے، غیر ملکی سرمایہ داروں کا کردار کم ہوا، مقامی سرمایہ دار اور پیشہ ور طبقے بڑھے، فوجی و بیوروکریٹک گروہ کا حجم تیزی سے پھیلا، اور دیہی علاقوں میں آمدنی کے تفاوت میں مزید اضافہ ہوا۔ ترقی کی رفتار اس لیے کچھ تیز رہی کہ بیوروکریسی نے ایک جدیدکار اشرافیہ کے طور پر کردار ادا کیا—کسی حد تک میجی جاپان کی طرز پر—اگرچہ صنعتی ترقی کے لیے غیر مؤثر تحفظاتی اقدامات پر زیادہ انحصار کیا گیا۔ دیہی سرمایہ داروں نے نوآبادیاتی دور کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار ادا کیا۔ سماجی پالیسیوں میں بظاہر بنیادی فرق کے باوجود بھارت اور پاکستان کا مجموعی ڈھانچہ کافی حد تک مماثل رہا۔
تاہم سماجی ڈھانچے میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ استحکام کا ایک اہم عنصر بیوروکریٹک اشرافیہ رہی جو نوآبادیاتی دور کی طرح آج بھی بااثر ہے، اپنی مراعات کی سخت حفاظت کرتی ہے اور براہِ راست کنٹرول کے جال کے ذریعے صنعتی سرمایہ داروں کو ایک کلائنٹیل نظام میں جکڑے رکھتی ہے۔ اسی طرح دیہی سرمایہ دار ذات پات کی مراعات، زمین کے حقوق اور ٹیکس سے آزادی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
بھارت میں آزادی کے بعد سماجی پالیسی نے دیہاتی “برادری” کے مفادات کے فطری ہم آہنگی پر زور دیا، مگر درحقیقت گاؤں کوئی ہم آہنگ کمیونٹی نہیں بلکہ زرعی پیداوار کی ایک جگہ (locus) ہے۔ گاؤں میں بھی اتنا ہی تضاد ہے جتنا شہر میں۔ دیہی معاشرے میں چار سطحی درجہ بندی موجود ہے:
- دیہی سرمایہ دار
- محنت کرنے والے مالک کاشتکار
- بٹائی دار مزارع
- بے زمین مزدور
ان کے مفادات باہم متصادم ہیں، ہم آہنگ نہیں۔
بھارت اور پاکستان دونوں میں سماجی ڈھانچہ اب دباؤ کا شکار ہے اور تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم بالائی سطح پر قدامت پسند عناصر کی کثرت اور نچلے طبقات کی کمزوری، غیر تنظیم یافتگی اور محرومی کے باعث تبدیلیاں بنیادی کے بجائے اصلاحی اور جزوی نوعیت کی ہیں ۔ حکومتی نعرے زیادہ سے زیادہ عوامی (پاپولسٹ) ہیں جبکہ حقیقی اصلاحات سست رفتار ہیں اور معاشی ترقی اپنی ممکنہ حد سے کم ہے ۔
پاکستان ہو یا بھارت ان میں ایسی پالیسیاں وضع کرنا مشکل نہیں ہیں جو مساوات اور معاشی ترقی دونوں کو موثر طور پر فروغ دے سکیں لیکن ان پالیسیوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ طاقتور ، غالب سماجی گروپوں کے مفادات ہیں اور وہ قانون سازی کے ایوانوں ميں بھی غالب ہیں ۔
پاکستان کی ریاست کا بیوروکریٹک نظام نہ تو غیر جانبدار آلہ ہے کہ اسے کسی بھی پالیسی کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہو ۔ یہ ایک پیچیدہ سماجی ڈھانچہ ہے اور ایک طاقتور مفاداتی گروہ ہے جسے توڑے بغیر کسی بھی سماجی تبدیلی کا راستا ہموار نہیں ہوسکتا ۔
پاکستان کی سیاست کے جو مرکزی اور علاقائی دھارے ہیں ان پر ایک طرف تو نوآبادیاتی دور کے طاقتور سماجی طبقات غالب ہیں اور دوسرا ان میں ریاست کے بیوروکریٹک ڈھمانچے کو جو بذات خود ایک مفاداتی سماجی گروہ کی خٹیت اختیار کرچکا ہے کے اندر کوئی بنیادی تبدیلی لانےکی خواہش نہیں رکھتے بلکہ اکٹر و بیشتر وہ ان سے مفاہمت و مطابقت کے ساتھ اپنا ایـجینڈا ترتیب دیتے ہیں۔
پاکستان کے فعالی عدم مساوات کے سماجی اثرات
نوآبادیاتی ورثہ، اشرافیہ کی بالادستی اور سماجی انصاف کی مؤخر پالیسی
طاقت کا ارتکاز: بیوروکریسی اور فوجی اشرافیہ کا غلبہ
پاکستان میں سیاسی طاقت ابتدا ہی سے بیوروکریٹک اور فوجی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز رہی، جو دراصل برطانوی راج کی وارث تھی۔ 1950 کی دہائی میں ایک پارلیمانی پردہ ضرور موجود تھا، مگر سیاست دان زیادہ تر جاگیردار مفادات کی نمائندگی کرتے تھے اور 1970 سے پہلے حقیقی عام انتخابات نہیں ہوئے۔ 1958 کے بعد ملک طویل عرصہ فوجی آمریت کے زیر اثر رہا۔
آزادی کے بعد سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے طبقے یہ تھے:
- بیوروکریسی اور فوج، جنہیں وسیع مراعات ملیں اور جن کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
- صنعتی سرمایہ داروں کا ابھرتا ہوا طبقہ۔
- تیزی سے بڑھنے والا پیشہ ور طبقہ۔
- مغربی پاکستان کے جاگیردار۔
اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فی کس آمدنی میں آزادی کے بعد کوئی نمایاں اضافہ نہ ہوا۔
فلاحی ریاست نہیں، ’فعالی عدم مساوات‘ کا نظریہ
بھارت کے برعکس پاکستان نے خود کو کبھی فلاحی ریاست کے طور پر پیش نہیں کیا۔ ریاستی مؤقف یہ رہا کہ معاشی ترقی کے ابتدائی مراحل میں عدم مساوات ضروری ہے۔ دلیل یہ دی گئی کہ زیادہ عدم مساوات سے بچت بڑھے گی، سرمایہ کاری ہوگی اور کاروباری سرگرمی پیدا ہوگی۔
دوسرے پانچ سالہ منصوبے میں اس نظریے کو یوں بیان کیا گیا:
“براہ راست ٹیکسوں کو زیادہ ترقی پسند نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اس سے کام اور بچت کی ترغیب متاثر ہوگی۔ بلند سطح کی بچت اور سرمایہ کاری کے لیے آمدنی میں ابتدائی عدم مساوات برداشت کرنا ہوگی، جبکہ زیادہ آمدنی کو کھپت کے بجائے بچت اور سرمایہ کاری کی طرف موڑنا چاہیے۔”
اسلامی سوشلزم اور مساوی مواقع کی بحث
تیسرے منصوبے میں کہا گیا:
“اسلامی سوشلزم کی بنیاد دولت کی مساوی تقسیم نہیں بلکہ مساوی مواقع کی فراہمی ہے۔”
چوتھے پانچ سالہ منصوبے (1970–75) میں اس پالیسی کو کچھ شکوک کے ساتھ دہرایا گیا۔ ایک طرف کہا گیا کہ “ہم غربت تقسیم نہیں کر سکتے”، دوسری طرف معاشی نمو اور سماجی انصاف کے درمیان تضاد کو بھی تسلیم کیا گیا۔
کیا عدم مساوات نے واقعی ترقی پیدا کی؟
1960 کی دہائی میں معاشی نمو نسبتاً تیز رہی، مگر اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ عدم مساوات نے ترقی میں کردار ادا کیا۔ نجی آمدنی سے بچت کی شرح کم رہی اور 1964 کے بعد مزید کم ہو گئی۔
سماجی مسائل کو مؤخر کرنے کی پالیسی بھی غیر مؤثر ثابت ہوئی کیونکہ سرمایہ اور پیداواری صلاحیت مخصوص کھپت اور علاقوں کے مطابق ڈھل جاتی ہے، جسے بعد میں تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مثلاً:
- عیش و عشرت کی رہائش
- بڑے ڈیم
- زرعی مشینری
یہ سرمایہ بعد میں سماجی انصاف کے لیے آسانی سے استعمال نہیں ہو سکتا۔
ترقی کا راستہ اور مفادات کا جال
منتخب ترقیاتی راستہ مخصوص مفادات کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ طبقے کی کھپت اور سرکاری سرمایہ کاری اب بھی نوآبادیاتی ورثے—بنگلے، چھاؤنیاں اور بڑے ڈیم—سے متاثر ہے۔
سماجی انصاف کو دہائیوں تک مؤخر کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پوری نسل، جو آبادی کا بڑا حصہ ہے، محرومی میں زندگی گزارنے پر مجبور رہی۔
اسی وجہ سے ’فعالی عدم مساوات‘ کے نظریے پر اعتماد کمزور پڑ گیا، خصوصاً مشرقی پاکستان میں اس پر شدید تنقید ہوئی۔
حکمران اشرافیہ کی ذہنیت اور نوآبادیاتی تسلسل
پاکستان کی فوجی و بیوروکریٹک اشرافیہ مجموعی طور پر قدامت پسند رہی ہے۔
- تعلیم مغربی
- تنظیمی ڈھانچہ برطانوی
- زبان انگریزی
- رہن سہن نوآبادیاتی طرز کا
اگرچہ وہ طاقت، آمدنی اور حیثیت کے لحاظ سے معاشرے کے اعلیٰ ترین طبقے میں شامل ہیں، مگر ذہنی طور پر خود کو اب بھی “مڈل کلاس” سمجھتے ہیں—گویا وہ برطانوی سماج کا حصہ ہوں۔
1969 میں مجموعی بچت قومی پیداوار کا صرف 9.8 فیصد تھی، جو اس پالیسی کی محدود کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔
کئی حوالوں سے بیوروکریٹک طبقہ جدیدکاری کرنے والی اشرافیہ ہے، مگر اس کی آزادیٔ عمل ملک کی مذہبی بنیادوں سے محدود ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر ترکی میں اتاترک کے طرز پر سخت سماجی تبدیلیاں کی گئیں تو خود پاکستان کے تصور پر سوال اٹھ جائے گا۔ پاکستان اس لیے وجود میں آیا کہ مسلم قیادت نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ متحدہ ہندوستان کے مقابلے میں ایک آزاد ریاست میں ان کی معاشی بہبود اور سیاسی طاقت زیادہ ہوگی۔ ملک کی قیادت اگرچہ سیکولر رہی اور کوئی سرکاری مذہبی درجہ بندی موجود نہیں، لیکن قدامت پسند علما بعض جدیدکاری اقدامات پر قدغن لگانے میں کامیاب رہے۔ اس کی نمایاں مثال خواتین کی پسماندہ حیثیت ہے: بہت سی عورتیں پردے میں رہتی ہیں، گھروں تک محدود ہیں، تعلیم تک محدود رسائی رکھتی ہیں، بلوغت پر خاندانی فیصلے سے شادی کر دی جاتی ہیں اور گھریلو مشقت میں زندگی گزارتی ہیں۔ مسلم ممالک جیسے مصر اور ترکی کے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت نہایت کم ہے۔ ایوب خان نے تعددِ ازدواج پر کچھ پابندیاں لگائیں اور طلاق کے بہتر حقوق دیے، نیز ایک ترقی پسند اسلامی تحقیقاتی ادارہ قائم کیا، مگر ان کے زوال کے بعد مذہبی دباؤ کے باعث خاندانی منصوبہ بندی کی سرکاری مہم تقریباً ختم کر دی گئی۔ قدامت پسند عناصر سیکولر تعلیم کے بارے میں بھی شکوک رکھتے ہیں، اور پاکستان نے آزادی کے بعد ابتدائی تعلیم میں زیادہ پیش رفت نہیں کی۔ 80 فیصد سے زائد آبادی ناخواندہ ہے، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ہے۔
فوجی و بیوروکریٹک اشرافیہ کی بڑی جدیدکاری کوششیں مغربی پاکستان میں ایک نسبتاً بڑا سرمایہ دار صنعتی شعبہ قائم کرنے اور زراعت کو جدید سرمایہ دارانہ ڈھانچے میں ڈھالنے پر مرکوز رہیں۔ آزادی کے ابتدائی برسوں میں صنعتی کاری کی کوئی منظم پالیسی نہ تھی۔ تقسیم کے فوراً بعد بھارت سے آنے والی اشیا پر محصولات لگنے سے مقامی صنعت کو کچھ تحریک ملی، مگر اصل تبدیلی 1949 میں آئی جب بھارت نے کرنسی کی قدر کم کی اور پاکستان نے نہیں کی۔ تجارت آٹھ ماہ تک معطل رہی، جس کے بعد محدود پیمانے پر بحال ہوئی۔ اس سے پاکستان کی تجارتی سمت بدل گئی اور بھارتی اشیا کے متبادل کے طور پر مقامی صنعت کو فروغ ملا۔ 1952 میں زرِمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے پر درآمدات پر سخت پابندیاں لگا دی گئیں، جس سے مقامی صارف اشیا کی صنعت کو مکمل تحفظ ملا۔ یہی تحفظاتی پالیسی صنعتی ترقی کی بڑی وجہ بنی۔
نیا صنعتی طبقہ زیادہ تر مہاجر تاجروں کے ایک محدود گروہ پر مشتمل تھا، جبکہ جاگیردار طبقے نے صنعتی ترقی میں خاص کردار ادا نہ کیا۔ بیوروکریسی نے صنعتی امکانات کو بھانپ لیا اور ایوب دور میں نئے صنعتکاروں کی سرپرستی کی۔ ٹیکس رعایتیں، قرضے، زرِمبادلہ تک رسائی اور سرکاری اداروں کے ذریعے سہولتیں فراہم کی گئیں۔ سرکاری شعبے کے ادارے بھی قائم ہوئے، مگر ان کا مقصد نظریاتی نہیں بلکہ عملی تھا—مثلاً بنیادی ڈھانچے کی تعمیر یا نجی شعبے سے محروم علاقوں کی دلجوئی۔
حکومتی کنٹرول کی وسعت اور صنعت کے محدود حجم کے باعث بیوروکریسی اور کاروباری طبقے کا تعلق سرپرست اور تابع کا بن گیا۔ کاروبار حکومتی مراعات پر انحصار کرتا تھا، جبکہ بیوروکریسی کو اپنی سماجی برتری اور کنٹرول برقرار رکھنے کا موقع ملتا تھا۔ کنٹرول کے اس نظام سے مقابلہ کم ہوا، کرپشن بڑھی اور وسائل کی تقسیم بیوروکریٹک راشننگ کے ذریعے ہونے لگی۔ اگرچہ کچھ اہلکار اس کی معاشی کمزوریوں سے واقف تھے، مگر وہ اسے ترک کرنے کے خواہاں نہ تھے۔ اس نظام نے انہیں طاقت اور مراعات دی تھیں۔ بیرونی دباؤ پر کچھ اصلاحات کی گئیں، مگر بنیادی ڈھانچہ برقرار رہا۔
ان سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں گزشتہ پچیس برسوں میں آمدنی کی تقسیم اور ذرائع تیزی سے بدلے۔ سب سے بڑی تبدیلی معاشرے کی بالائی پرت میں آئی۔ مسلمانوں نے نوآبادیاتی دور کے برطانوی اور ہندو طبقات کی جگہ لے کر طاقت اور مراعات سنبھالیں۔ بالائی طبقہ وسیع ہوا اور قومی آمدنی میں اس کا حصہ بڑھ گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فرد پہلے سے زیادہ خوش حال ہوا، بلکہ یہ کہ اب اس طبقے کے افراد کی تعداد زیادہ ہو گئی۔
آزادی کے بعد عام لوگوں کے لیے سب سے نمایاں تبدیلی متوقع عمر میں اضافہ تھا۔ معیارِ زندگی کے لحاظ سے مغربی پاکستان میں کچھ بہتری آئی، مگر مشرقی پاکستان میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔ امکان ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان میں آمدنی کی عدم مساوات بڑھی ہو، جس کا اندازہ عوامی استعمال کی اشیا کے رجحانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ فی کس اناج کی دستیابی 1949 میں روزانہ 14.9 اونس سے بڑھ کر 1968 میں 15.3 اونس ہوگئی، جو بھارت کے مقابلے میں کم اضافہ تھا، جہاں 1951 میں 13.9 اونس سے بڑھ کر 1969 میں 15.4 اونس ہوگئی۔ تاہم 1950 کی دہائی کے آغاز میں مغربی پاکستان نے بھارت کی منڈی کھو دی تھی، جس کے باعث تجارتی بائیکاٹ کے دوران مقامی کھپت عارضی طور پر زیادہ رہی۔ فی کس کپاس کے کپڑے کی کھپت 1950 سے 1968 تک 36 فیصد بڑھی، جو بھارت کے مقابلے میں زیادہ اضافہ تھا۔
آمدنی کی تقسیم کے اعدادوشمار کمزور ہیں، مگر سرکاری اندازوں کے مطابق 1966-67 میں مشرقی پاکستان میں اوپر کے 20 فیصد افراد کے پاس گھریلو آمدنی کا 31 فیصد اور مغربی پاکستان میں تقریباً 34 فیصد حصہ تھا۔ تاہم یہ اندازے بالائی طبقے کی حقیقی آمدنی کو کم ظاہر کرتے ہیں۔ ایک محتاط مطالعہ (1963-64) کے مطابق بالائی 20 فیصد کے پاس 45 فیصد آمدنی تھی، اور یہ سال اچھی فصل کا تھا، جس میں غریب طبقے کی آمدنی نسبتاً بہتر رہی، لہٰذا یہ اندازہ بھی عدم مساوات کو کم ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ممکن ہے پاکستان میں آمدنی کی عدم مساوات بھارت کے مقابلے میں کم رہی ہو۔
مغربی پاکستان میں آزادی کے وقت بے زمین مزدوروں کی شرح بھارت سے کہیں کم تھی، اور بڑھنے کے باوجود اب بھی بھارت سے کم ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھی آزادی کے وقت بے زمین مزدوروں کی شرح بھارت سے کم تھی، اور وہاں زمین اصلاحات زیادہ وسیع تھیں کیونکہ بہت سے زمیندار اور ساہوکار، جو زیادہ تر ہندو تھے، ہجرت کر گئے تھے۔ ایک اور اہم عامل یہ تھا کہ پاکستان میں شہری آبادی کا تناسب بھارت سے کم تھا، جبکہ دونوں ممالک میں شہری علاقوں میں آمدنی کی عدم مساوات دیہی علاقوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
اکستان میں انکم ٹیکس بھارت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے اور براہِ راست ٹیکس قومی پیداوار کا صرف تقریباً 2 فیصد ہیں۔ صحت، تعلیم، رہائش، پانی اور نکاسی آب جیسی سماجی خدمات پر سرکاری اخراجات مجموعی طور پر قومی پیداوار کے لگ بھگ 3 فیصد ہیں، اور ان اخراجات کا بڑا حصہ بالائی آمدنی والے طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں صرف ایک تہائی خرچ پرائمری سطح پر ہوتا ہے، جبکہ صحت کے اخراجات کا زیادہ تر حصہ شہری علاقوں پر صرف کیا جاتا ہے۔ سرکاری رہائشی منصوبوں اور رہائشی سبسڈیوں کا تقریباً سارا فائدہ متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے طبقات کو ملتا ہے، اور بنیادی سہولیات پر اخراجات بھی زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود رہتے ہیں۔ ماضی کے ترقیاتی منصوبوں میں جامعات کی ترقی کے اہداف تو عموماً پورے کیے گئے، مگر پرائمری اسکولوں کی تعمیر ہدف سے کم رہی۔ میڈیکل کالجوں کے قیام کے منصوبے مکمل ہوئے لیکن دیہی صحت مراکز نظر انداز رہے۔ سول سروس کے لیے رہائش کے اہداف حد سے زیادہ پورے کیے گئے، جبکہ دیہی صفائی کے منصوبے نظر انداز کر دیے گئے۔
تیسرے منصوبے میں پانچ سالہ مدت کے دوران دیہی علاقوں میں پانی اور صفائی کے لیے فی کس آدھے روپے سے بھی کم رقم مختص کی گئی، جبکہ شہری آبادی کو فی کس 13.5 روپے کے علاوہ بلدیاتی اخراجات بھی فراہم کیے گئے۔
1۔ بیوروکریٹس
آزادی کے بعد بیوروکریسی کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسے نہ پارلیمان کی مؤثر نگرانی حاصل ہے اور نہ آزاد پریس کی کڑی جانچ۔ سرکاری رپورٹیں اگر شرمندگی کا باعث بنیں تو دبادی جاتی ہیں، جبکہ ہدایت یافتہ (dirigiste) کنٹرول کے نظام اور وسیع سرکاری شعبے کی توسیع نے سرپرستی اور بدعنوانی کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آزادی کے بعد بیوروکریسی کے حجم میں خاصا اضافہ ہوا، اور سب سے زیادہ توسیع اعلیٰ سطح پر ہوئی۔ تقسیم کے وقت بھارت میں صرف تقریباً 200 مسلمان کلاس اوّل کے سول افسران تھے، جبکہ اب پاکستان میں ان کی تعداد تقریباً 3,000 ہے۔ اس نظام کی کڑی پاکستان سول سروس (C.S.P.) ہے—تقریباً 500 اعلیٰ درجے کے جنرل افسران پر مشتمل ایک اشرافی گروہ، جو انڈین سول سروس (I.C.S.) کے جانشین ہیں اور بیشتر کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور انتظامی اداروں میں تقریباً 2,500 دیگر کلاس اوّل افسران ہیں۔
ان کے نیچے سرکاری ملازمین کی مزید تین درجے موجود ہیں، جن کی مجموعی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے۔ کلاس دوم میں تقریباً 6,000 افسران شامل ہیں، جن کی کم از کم تعلیمی اہلیت بی اے ڈگری ہے۔ کلاس سوم میں تقریباً ایک لاکھ کلرک، ٹائپسٹ اور اسٹینوگرافر (تمام مرد) شامل ہیں، جنہوں نے ثانوی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے، انگریزی پڑھ اور لکھ سکتے ہیں مگر بولی جانے والی انگریزی کو اکثر صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتے۔ یہ افراد روزمرہ دفتری امور، ٹائپنگ اور فائلوں و رجسٹروں کی ترتیب سنبھالتے ہیں۔ کلاس چہارم میں زیادہ تر محنت کش، چپڑاسی اور خاکروب شامل ہیں۔ چپڑاسی فائلیں، پیغامات اور چائے لانے لے جانے کے ساتھ افسران کو سلام بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر نے ابتدائی تعلیم مکمل کی ہوتی ہے، مگر انگریزی نہیں جانتے۔
مجموعی سول سروس میں کلاس اوّل کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ کلاس چہارم بہت بڑی ہے اور بڑی حد تک عملی طور پر زائد تصور کی جا سکتی ہے۔ کلاس سوم اور چہارم کے ملازمین کے لیے دورانِ ملازمت تربیت نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے لیے ایک درجے سے دوسرے درجے تک ترقی کے مواقع تقریباً معدوم ہیں۔
بیوروکریٹک طاقت کا بڑا حصہ پاکستان سول سروس (C.S.P.) کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ اس سروس میں داخلہ عموماً اکیس یا بائیس سال کی عمر میں امتحان کے ذریعے ہوتا ہے۔ ابتدائی تربیت کے بعد (جو 1959 تک انگلینڈ میں ہوتی رہی) نئے افسر اپنے کیریئر کے آغاز میں سب ڈویژنل افسر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بعد ازاں سیکرٹریٹ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وہ دوبارہ فیلڈ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے طور پر تعینات ہوتے ہیں۔ آج ایک ضلع کی اوسط آبادی تقریباً بیس لاکھ کے قریب ہے۔ ضلع افسر چیف مجسٹریٹ ہوتا ہے، پولیس اور ریونیو کی نگرانی کرتا ہے اور معاشی ترقی کے تمام کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کے مقامی سربراہ عملاً اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ایوب دور میں اگرچہ مقامی حکومتوں کا منتخب نظام موجود تھا، مگر ضلع افسر دیہی یا شہری کسی بھی مقامی حکومت پر عملی طور پر غالب رہتا تھا۔ مرکزی اور صوبائی وزارتوں کے زیادہ تر سیاسی طور پر اہم عہدے بھی سی ایس پی افسران کے پاس ہوتے ہیں، اگرچہ اب کچھ غیر سی ایس پی ماہرین بھی منصوبہ بندی کمیشن اور حکومتی کارپوریشنوں میں اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔
تنخواہوں کے لحاظ سے سول سرونٹس زیادہ خوشحال نہیں سمجھے جاتے؛ حقیقی معنوں میں کلاس اوّل افسران کی حالت ان برطانوی ہم منصبوں سے کمزور ہے جنہیں تیس سال پہلے یہی تنخواہیں ملتی تھیں۔ تاہم انکم ٹیکس ان پر بہت کم اثر انداز ہوتا ہے اور انہیں متعدد ٹیکس فری مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ بہت سے افسران کو انتہائی کم کرائے پر سرکاری رہائش ملتی ہے، گھریلو سہولیات پر سبسڈی، طبی اخراجات کی ادائیگی اور چھٹیوں پر مفت سفری سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اعلیٰ سطح پر سرکاری گاڑیاں، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر آسائشیں میسر ہوتی ہیں۔ دفتری عملہ اکثر ان کے گھروں میں ذاتی ملازم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ سول سرونٹس کو ملازمت کا مکمل تحفظ، سنیارٹی کی بنیاد پر ترقی اور پچپن سال کی عمر میں پنشن پر ریٹائرمنٹ حاصل ہوتی ہے۔ تنخواہوں کی حقیقی قدر میں کمی کے ساتھ یہ مراعات اور بھی اہم ہو گئی ہیں۔ یہ مراعات نہ صرف آمدنی کا ذریعہ ہیں بلکہ رتبے کی علامت بھی ہیں، جو مختلف درجات کے درمیان سماجی فاصلے کو واضح اور مضبوط کرتی ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد لائسنسنگ نظام نے بیوروکریسی اور کاروباری طبقے کو ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس سول افسر کے ہاتھ میں لائسنس جاری کرنے کا اختیار ہوتا ہے وہ دراصل وصول کنندہ کو نہایت قیمتی فائدہ دے رہا ہوتا ہے، اس لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ اس کے بدلے حصہ لینے کی ترغیب محسوس کرے یا مقابلہ کرنے والے کاروباری افراد اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے پیشکش کریں۔ نتیجتاً بڑے پیمانے پر بدعنوانی پیدا ہوئی اور دسمبر 1969 میں مارشل لا ریگولیشن 58 کے تحت بددیانتی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شبہے میں 303 گریڈ اوّل افسران کو معطل کیا گیا۔ کسی بھی وقت مثالی سزاؤں یا بنیادی تنخواہوں میں اضافے کے ذریعے بدعنوانی کو وقتی طور پر کم کیا جا سکتا ہے، مگر جب تک بیوروکریسی اور کاروبار کے باہمی تعلقات تبدیل نہیں ہوتے، یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔
بیوروکریسی کے مسائل کا جائزہ صدر ایوب خان کے قائم کردہ کارنیلیئس کمیشن کی رپورٹ میں بھی لیا گیا تھا، مگر یہ رپورٹ سات برس تک اس لیے دبائے رکھی گئی کہ اس میں پاکستان سول سروس پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ کمیشن نے تمام سروسز کے انضمام، گریڈز کی سادہ درجہ بندی، بہتر کیریئر مراعات و سزاؤں اور بہتر تربیت کی سفارش کی۔ اس کی سب سے متنازع تجویز پاکستان سول سروس کے خاتمے کی تھی، تاکہ ضلعی انتظامیہ ایک فرد کے بجائے ماہرین کے وسیع کردار کے ساتھ چلائی جا سکے۔ تاہم اس رپورٹ میں بیوروکریسی اور معیشت کے تعلقات پر کوئی بنیادی تبدیلی تجویز نہیں کی گئی اور نہ ہی مراعات پر مبنی معاوضے کے نظام میں کسی بڑی اصلاح کی سفارش سامنے آئی، حالانکہ اس کے اثرات آج کہیں زیادہ واضح ہو چکے ہیں۔
فعالی عدم مساوات: جامع تعریف
فعالی عدم مساوات (Functional Inequality) ایک معاشی و سماجی نظریہ ہے جس کے مطابق معاشی ترقی کے ابتدائی مراحل میں معاشرے میں آمدنی، دولت اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم کو وقتی طور پر ضروری اور مفید سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ عدم مساوات بچت، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمی اور معاشی نمو کو فروغ دیتی ہے۔
اس نظریے کے مطابق مساوات کو فوری مقصد بنانے کے بجائے پہلے معاشی ترقی اور سرمائے کی تشکیل کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ سماجی انصاف اور آمدنی کی بہتر تقسیم کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جاتا ہے۔
نظریے کی وضاحت
1) بنیادی منطق: پہلے نمو، پھر تقسیم ،فعالی عدم مساوات کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ اگر معاشرے میں شروع ہی سے آمدنی برابر تقسیم کر دی جائے تو:لوگوں کے پاس بچت کرنے کے وسائل کم رہ جائیں گے ۔سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ پیدا نہیں ہوگا- کاروباری سرگرمی کمزور رہے گی۔ اس کے برعکس اگر دولت کا بڑا حصہ محدود طبقے کے پاس ہو تو وہ: زیادہ بچت کرتے ہیں ۔صنعت اور کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہیں- معیشت کو تیز رفتار ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ یعنی یہ نظریہ کہتا ہے: “پہلے کیک بڑا کریں، پھر اسے تقسیم کریں۔”
2) سرمایہ دارانہ ترقی کا مرحلہ وار تصور
یہ نظریہ دراصل کلاسیکی اور نیو لبرل معاشی سوچ سے جڑا ہوا ہے جس میں ترقی کو ایک مرحلہ وار عمل سمجھا جاتا ہے: ابتدائی مرحلہ: عدم مساوات میں اضافہ ہوا ۔ درمیانی مرحلہ: سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی ہوئی ۔ آخری مرحلہ: دولت کا پھیلاؤ اور متوسط طبقے کی توسیع ہوئی ۔
اس تصور کو بعض اوقات “ٹرکل ڈاؤن” (Trickle Down) اثر بھی کہا جاتا ہے۔
3) ریاست کا کردار
اس نظریے کے مطابق ریاست کو چاہیے کہ: ٹیکس بہت زیادہ ترقی پسند نہ بنائے۔ امیر طبقے پر سخت ٹیکس نہ لگائے۔ سرمایہ کاروں کو مراعات دے۔ کھپت کے بجائے بچت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے۔ ریاست کا مقصد سماجی مساوات نہیں بلکہ معاشی نمو کو تیز کرنا ہوتا ہے۔
4) سماجی انصاف کو مؤخر کرنے کا تصور
فعالی عدم مساوات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ:غربت کے خاتمے کو فوری ترجیح نہیں دی جاتی۔ سماجی بہبود کی پالیسیاں محدود رکھی جاتی ہیں۔ مساوات کو “بعد کے مرحلے” کا ہدف بنایا جاتا ہے
اس نظریے کے حامی کہتے ہیں کہ:
“پہلے معیشت امیر ہوگی، پھر معاشرہ بھی امیر ہوگا۔”
5) تنقید اور عملی مسائل
وقت کے ساتھ اس نظریے پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ: دولت اکثر نچلے طبقات تک نہیں پہنچتی -عدم مساوات مستقل شکل اختیار کر لیتی ہے۔طاقت اور وسائل مخصوص طبقوں میں مرتکز رہتے ہیں۔ سماجی مسائل مزید گہرے ہو جاتے ہیں ۔اس لیے آج کئی ماہرین اسے ایک خطرناک تاخیر شدہ انصاف کی پالیسی سمجھتے ہیں۔
مختصر طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ فعالی عدم مساوات کا نظریہ کہتا ہے کہ ابتدائی عدم مساوات ترقی کی قیمت ہے۔
مگر اس پر بنیادی سوال یہ ہے:
کیا یہ عدم مساوات واقعی وقتی ہوتی ہے، یا مستقل نظام بن جاتی ہے؟ پاکستان کے کیس میں اس کا جواب ہاں میں ہے کہ عدم مساوات ایک مستقل نظام ميں بدل چکی ہے ۔ آج ریاست بہت طاقت اور جبر کے ساتھ فعالی عدم مساوات کے نظریے کے ساتھ طاقتور سماجی طبقات کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔
