میں دہشت گرد ہوں!
أنا مع الإرهاب
نزار قبانی
ہاں! میں بھی شامل ہوں
اسی دہشت گردی میں۔۔۔
ہم سبھی پر ہے الزامِ دہشت گردی
اگر ہم نے کی ہے جراتِ اظہار
اور کیا ہے دفاع۔۔۔
بلقیس کی زلفوں کا
اور میسون کے لبوں کا
اور ہند کا۔۔۔ اور دعد کا
اور لبنیٰ کا۔۔۔ اور رباب کا
اور کاجل کی اس بارش کا
جو اترتی ہے
پلکوں سے کسی وحی کی صورت!!
تمہیں میرے پاس
کوئی “خفیہ” نظم نہیں ملے گی
نہ کوئی “پوشیدہ” زبان۔۔۔
نہ کوئی “سر بستہ” کتابیں
جنہیں میں نے کواڑوں کے پیچھے قید کر رکھا ہو!
اور میری کوئی نظم ایسی نہیں
جو گلی کوچوں میں نکلے
تو سر پہ “حجاب” ڈالے ہوئے ہو!
________________________
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے لکھا۔۔۔
وطن کے ان بچے کھچے ٹکڑوں پر
جو ٹوٹا پھوٹا ہے، بکھرا ہوا ہے، بوسیدہ ہے
جس کے اعضاء ادھر ادھر بکھر چکے ہیں
ایک ایسے وطن کے بارے میں۔۔۔
جو اپنا پتا ڈھونڈ رہا ہے!
اور ایک ایسی قوم کے بارے میں۔۔۔
جس کے سر پر کوئی آسماں نہیں!!
____________________________
نوحہِ وطن
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جس کے عظیم ماضی کے اشعار سے
اب کچھ باقی نہیں رہا
سوائے خنساء کے مرثیوں کے!!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جس کے افق پر اب
نہ سُرخ آزادی ہے، نہ نیلی۔۔۔
اور نہ زرد!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جو ہمیں روکتا ہے کہ ہم اخبار خریدیں
یا خبریں سنیں!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جہاں تمام پرندوں پر
گیت گانے کی ابدی پابندی ہے!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جہاں کے لکھنے والے
شدتِ خوف سے۔۔۔
ہواؤں پر لکھنے کے عادی ہو چکے ہیں!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جس کا حال بالکل ویسا ہے
جیسی ہمارے ملکوں میں شاعری ہے!
ایک مہمل کلام۔۔۔
بے ربط۔۔۔
مستعار لیا ہوا۔۔۔
جس کا چہرہ بھی اجنبی، اور زبان بھی غیر!
نہ اس کی کوئی ابتدا ہے
نہ کوئی انتہا۔۔۔
نہ اس کا لوگوں سے کوئی رشتہ ہے، نہ زمین سے
اور نہ ہی انسان کے کرب سے اس کا کوئی واسطہ!!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جو امن کے مذاکرات کی سمت چل پڑا ہے
بغیر کسی غیرت کے۔۔۔
اور بغیر جوتوں کے!!
اس وطن کے بارے میں۔۔۔
جہاں کے مردوں نے خوف سے
اپنے ہی کپڑوں میں پیشاب کر دیا!
اور اب (میدان میں) صرف عورتیں ہی باقی بچی ہیں!!
نمک۔۔۔ ہماری آنکھوں میں ہے
نمک ہی ہمارے لبوں پر۔۔۔
اور نمک ہی ہماری باتوں میں!
تو کیا یہ نفوس کا قحط، یہ بنجر پن
ہمیں ورثے میں ملا ہے “بنی قحطان” سے؟
ہماری امت میں اب نہ کوئی معاویہ رہا۔۔۔
اور نہ کوئی ابو سفیان!
اب کوئی ایسا نہیں جو “لا” (نہیں) کہہ سکے۔۔۔
ان کے چہروں پر، جنہوں نے سودا کر لیا
ہمارے گھر کا۔۔۔ ہماری روٹی کا۔۔۔
اور ہمارے زیتون کا!
اور جنہوں نے ہماری درخشاں تاریخ کو۔۔۔
ایک “دکان” میں بدل ڈالا!!
ہماری زندگی میں اب کوئی ایسی نظم نہیں بچی۔۔۔
جس نے اپنی عفت نہ کھو دی ہو
سلطان کی خواب گاہ میں جا کر!
ہمیں اپنی ذلت کی عادت سی ہو گئی ہے
اور انسان میں باقی بچتا ہی کیا ہے۔۔۔
جب اسے ذلت کی عادت ہو جائے؟
میں ڈھونڈتا ہوں اسامہ بن منقذ کو۔۔۔
اور عقبہ بن نافع کو۔۔۔
میں ڈھونڈتا ہوں عمر کو۔۔۔ حمزہ کو۔۔۔
اور اس خالد کو، جو شام کی طرف بڑھ رہا ہو!
میں پکارتا ہوں معتصم باللہ کو۔۔۔
تاکہ وہ بچا سکے عورتوں کو
درندگی کی اسیری سے۔۔۔
اور آگ کے شعلوں سے!!
میں ڈھونڈتا ہوں آخری زمانے کے مردوں کو۔۔۔
مگر مجھے اس کالی رات میں
سہمے ہوئے “بِلّوں” کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔۔۔
جو اپنی جانوں کے خوف سے ڈر رہے ہیں
“چوہوں” کی حکومت سے!!
کیا ہمیں “قومی اندھے پن” نے آ لیا ہے
اور وہ بھی ایسا، جو گونگا ہے؟
یا پھر ہم شکار ہو چکے ہیں
رنگوں کے اندھے پن کا؟
خوبصورت ہے یہ دہشت گردی!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے انکار کیا۔۔۔ اپنی موت قبول کرنے سے
اسرائیل کے ان بلڈوزر تلے
جو کھود رہے ہیں ہماری مٹی کو۔۔۔
جو کرید رہے ہیں ہماری تاریخ کو۔۔۔
جو پامال کر رہے ہیں ہماری انجیل کو۔۔۔
اور ہمارے قرآن کو!
جو کرید رہے ہیں ہمارے پیغمبروں کی خاک کو!
اگر یہی ہمارا گناہ ہے۔۔۔
تو کتنی حسین ہے یہ دہشت گردی!!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے انکار کیا۔۔۔ اپنے مٹ جانے سے
ان مغولیوں، یہودیوں اور وحشیوں کے ہاتھوں!
اگر ہم نے ایک پتھر دے مارا۔۔۔
سلامتی کونسل کے اس شیشے کے گھر پر
جس پہ غاصب قیصروں کا قبضہ ہے!!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے انکار کیا۔۔۔ کسی بھیڑیے سے سودے بازی پر
اور ہاتھ بڑھانے سے۔۔۔ کسی فاحشہ کی جانب!!
یہ امریکہ۔۔۔
جو دشمن ہے انسانی ثقافتوں کا
حالانکہ وہ خود بے ثقافت ہے!
جو دشمن ہے شہری تہذیبوں کا
حالانکہ وہ خود بے تہذیب ہے!
امریکہ۔۔۔
ایک ایسی دیو قامت عمارت ہے
جس کی کوئی دیوار ہی نہیں!!
اگر یہی گناہ ہے، تو میں دہشت گرد ہوں!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے ٹھکرا دیا اس عہد کو۔۔۔
جس میں مغرور، دولت مند اور طاقتور امریکہ
عبرانی زبان کا۔۔۔
ایک “حلف یافتہ مترجم” بن چکا ہے!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے محبت کا ایک پھول اچھال دیا۔۔۔
قدس کی جانب، خلیل کی جانب
یا غزہ اور ناصرہ کی سمت!
اگر ہم اٹھا لائے روٹی اور پانی۔۔۔
مصرور و محصور طروادہ کے لیے!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے آواز اٹھائی۔۔۔
اپنے ان وطن دشمن راہنماؤں کے خلاف
جنہوں نے اپنی وفاداریوں کی زینیں بدل لیں
اور جو “اتحاد” کے داعی تھے۔۔۔
وہ اب “دلال” بن چکے ہیں!
اگر ہم نے “علم و دانش” کا پیشہ اپنایا
اگر ہم نے سرکشی کی۔۔۔
“خلیفہِ اعظم” اور “خلافت” کے احکامات سے!
اگر ہم نے فقہ اور سیاست کی کتابیں پڑھ لیں
اگر ہم نے اپنے رب کا ذکر کیا۔۔۔
اگر ہم نے “سورہِ فتح” کی تلاوت کی
اور جمعے کا خطبہ کان دھر کر سن لیا۔۔۔
تو ہاں! ہم دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے دفاع کیا اپنی زمین کا۔۔۔
اور مٹی کی آبرو کا!
اگر ہم نے عوام کے استحصال اور
اپنی عصمت دری کے خلاف بغاوت کی!
اگر ہم نے بچا لیا اپنی صحراؤں کے آخری نخلستانوں کو
اپنے آسمان کے آخری ستاروں کو
اپنے ناموں کے آخری حرفوں کو۔۔۔
اور اپنی ماؤں کے سینوں کے آخری دودھ کو!
اگر یہی ہمارا گناہ ہے۔۔۔
تو کتنی شاندار ہے یہ دہشت گردی!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اگر یہ مجھے نجات دلا سکے ان غاصبوں سے
جو روس، رومانیہ، ہنگری اور پولینڈ سے آئے
اور فلسطین میں ہمارے کندھوں پر سوار ہو گئے!
تاکہ چرا سکیں قدس کے میناروں کو۔۔۔
مسجدِ اقصیٰ کے دروازوں کو۔۔۔
نقش و نگار اور گنبدوں کو!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اگر یہ آزاد کرا سکے مسیحؑ کو۔۔۔
اور مریمِ عذراؑ کو۔۔۔
اور اس شہرِ مقدس کو۔۔۔
موت اور تباہی کے ان سفیروں سے!!
کل تک۔۔۔
ہمارے ملکوں کی قومی شاہراہیں
گھوڑے کی طرح ہنہناتی تھیں!
اور چوراہے “عزم و حوصلے” کے دریاؤں سے
لبریز رہا کرتے تھے!
مگر “اوسلو معاہدے” کے بعد۔۔۔
ہمارے منہ میں ایک دانت تک نہ رہا!
تو کیا ہم بدل چکے ہیں۔۔۔
ایک اندھی اور گونگی قوم میں؟
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے اپنی پوری قوت سے دفاع کیا
اپنے شعری ورثے کا۔۔۔
اپنی قومی دیوار کا۔۔۔
پھولوں کی تہذیب کا۔۔۔
اپنے پہاڑوں میں گونجتی بانسریوں کی ثقافت کا۔۔۔
اور کالی آنکھوں کے ان آئینوں کا!
ہم پہ الزامِ دہشت گردی ہے!
اگر ہم نے اپنے قلم سے دفاع کیا۔۔۔
سمندر کی نیلاہٹ کا۔۔۔
سیاہی کی خوشبو کا۔۔۔
حرف کی آزادی کا۔۔۔
اور کتاب کے تقدس کا!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اگر یہ عوام کو نجات دلا سکے
ظالموں اور ان کے ظلم سے!
اور بچا سکے انسان کو۔۔۔ انسان کی درندگی سے!
اور لوٹا سکے لیموں، زیتون اور پرندوں کو
جنوبی لبنان کی وادیوں میں۔۔۔
اور مسکراہٹ واپس لا سکے جولان کے چہرے پر!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اگر یہ مجھے بچا سکے۔۔۔
یہودیوں کے قیصر سے
یا رومیوں کے قیصر سے!!
ہاں! میں دہشت گرد ہوں!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
جب تک یہ “نئی دنیا”
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان
برابر برابر تقسیم ہے!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اپنی تمام تر شاعری کے ساتھ
اپنی نثر کے ساتھ۔۔۔
اور اپنے دانتوں کی پوری قوت کے ساتھ!
جب تک یہ “نئی دنیا”
کسی قصاب کے ہاتھوں میں ہے!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
جب تک اس “نئی دنیا” نے
ہمیں “مکھیوں” کی صف میں
شمار کر رکھا ہے!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
اگر امریکی سینٹ (مجلسِ شیوخ) ہی وہ قوت ہے
جس کے ہاتھ میں سارا حساب ہے
اور وہی فیصلہ کرتی ہے۔۔۔
کہ کسے جزا ملے، اور کسے سزا!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
جب تک یہ “نئی دنیا”
اپنے سینے کی گہرائیوں میں
عربوں کی خوشبو سے نفرت کرتی ہے!!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں۔۔۔
جب تک یہ “نئی دنیا”
میرے بچوں کو ذبح کرنا چاہتی ہے۔۔۔
اور انہیں کتوں کے آگے پھینکنا چاہتی ہے!!
بس اسی لیے۔۔۔
میں اپنی آواز بلند کرتا ہوں:
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں!
میں دہشت گردی کے ساتھ ہوں!
