مابعد جدیدیت اور سوشلسٹ انقلاب : مرکز سے محرومی کا سوال
سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ یہ میرے اوریجنل خیالات پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کتاب کے لیے میں نے بنیادی خیال سمیت دیگر ذیلی خیالات معروف لیفٹ دانشور الیکس کالنیکس کی کتاب مابعد جدیدیت کا محاکمہ سے مستعار لیے ہیں

Against Postmodernity a book by Alex Callinicos
اس مضمون کا موضوع “مابعد جدیدیت اور سوشلسٹ انقلاب ” کے تصورات کے درمیان تعلق پر غور و فکر کرنا ہے ۔ یہ دونوں تصورات ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور
متضاد نظر آتے ہیں۔ لیکن گہرائی میں غور و فکر کرنے سے پتا چلتا ہے ایسا نہیں ہے ۔
عام طور پر مابعد جدیدیت اہل علم کے نزدیک نظریاتی ، فکری اور ثقافتی بحث لیتے ہیں ۔ سوشلسٹ انقلاب کو وہ ایک ٹھوس سماجی ، سیاسی اور معاشی تبدیلی سے وابستہ سمجھتے ہیں اور اس لیے ان کی نظر میں ان دونوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے ۔
لیکن ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں کم از کم ایک بنیادی قدرِ مشترک موجود ہے، اور وہ یہ کہ دونوں ہی سماجی دنیا میں کسی واضح اور مستحکم حوالہ یا معنوی مرکز سے محروم ہیں۔یہاں “معنوی مرکز / مستحکم حوالہ” سے مراد وہ ٹھوس سماجی حقیقت، تجربہ یا عملی وجود ہے جس کی طرف کوئی تصور براہِ راست اشارہ کرے اور جس میں اس کی جڑیں پیوست ہوں۔
اگرچہ مابعد جدیدیت اور انقلاب دونوں ہی “معنوی مرکز / مستحکم حوالہ” سے محروم ہیں، مگر ان کی یہ محرومی ایک جیسی نوعیت کی نہیں۔ یعنی یہ دونوں مختلف وجوہات اور مختلف طریقوں سے سماجی حقیقت سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک کا “معنوی مرکز / مستحکم حوالہ” سے نہ ہونا ایک خاص تاریخی و نظریاتی کیفیت کا نتیجہ ہے، جبکہ دوسرے کی مرجع سے عدم موجودگی کسی اور طرح کی تاریخی صورتِ حال اور سماجی ناکامی یا تعطل کی علامت ہے۔
آگے آنے والی بحث میں ہم نہ صرف ان دونوں تصورات کے ““معنوی مرکز / مستحکم حوالہ”سے محروم ہونے کا تجزیہ کریں گے بلکہ یہ بھی دکھائیں گےکہ ایک ہی وصف (مرکز سے محرومی) کس طرح دو مختلف معنوی اور سیاسی نتائج پیدا کرتا ہے۔
سوشلسٹ انقلاب تاریخ میں رونما ہونے والے ان واقعات کا نتیجہ تھا جس نے کزشتہ صدی میں بڑے بڑے سماجی و سیاسی ہنگامے اور انقلابی اُتھل پُتھل پیدا کی اور ایک موقعہ پر اکتوبر 1017ء میں روس کے اندر ایک مزدور ریاست قائم کی ۔ سوشلسٹ انقلاب کا روس میں زوال پذیر ہونا ایک اتفاقی / مشروط تاریخی حقیقت تھا ناکہ کوئی مستقل حالت ۔
اس کے برعکس مابعد جدیدیت محض ایک نظری ساختیہ – تھیورٹیکل کنسٹرکٹ ہے؛ اس کی بنیادی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ یہ مغربی دانشور طبقے کے موجودہ مزاج کی ایک علامت ہے ، اس لیے “مابعد جدیدیت ” کے گرد سوالیہ علامت اور نشان لگائے گئے ہیں اس لیے جہاں جہاں یہ لفظ آئے گا وہاں وہاں اس سوالیہ علامت کو غیر مرئی طور پر اس کے گرد موجود سمجھا جانا چاہئیے ۔
مابعد جدیدیت سوشلسٹ انقلاب کے درمیان تعلق آخر الزکر کی نفی پر قائم ہے ۔ مابعد جدید عہد پر ایمان یا اعتقاد رکھنے والے سوشلسٹ انقلاب کو یا تو ممکن ہی نہیں مانتے یا اسے پسند نہیں کرتے بلکہ سوشلسٹ انقلاب کی ناکامی کا جو تصور اور ادراک بنا ہے مابعد جدیدیت اسی عقیدے اور ادراک وسیع سطح پر مقبول بنانے میں ممد و معاون بنی ہوئی ہے ۔
ہم مابعد جدید انقلاب مخالف اعتقاد کو مابعد جدید دانشور لیوٹارڈ کی تنقید کا خلاصہ پیش کرتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ اس کے نزدیک مابعد جدیدیت کا انقلاب بارے کیا رویہ ہے۔ اس کے نزدیک مابعد جدید انقلاب کی نفی کی ایک زیادہ عمومی اور بنیادی مظہر کی مثال ہے ۔ وہ اسے “عظیم بیانیوں کے انہدام ” کا نام دیتا ہے۔ اس کے نزدیک “عظیم بیانیے “روشن خیالی کے عہدعہد سے جڑے ہوئے تھے ۔ اس کے نزدیک اٹھارھویں صدی کے فرانسیسی اور اسکاٹش مفکرین نے سترھویں صدی یے سائنسی انقلاب سے پیدا ہونے والی نظری تحقیق کو طبعی اور مادی دنیا کی توصيح سے اگے بڑھا کر سماجی دنیا کی تشریح تک پھیلایا اور یہ وہ بڑا نظری منصوبہ تھا جس کے تحت انسان عقل کے زریعے اپنے ماحول پر عقلی اختیار اور کنٹرول حاصل کرسکتا ہے۔ یہ اصل میں انسانی ذہن کی ترقی کا خاکہ تھا ۔ یعنی معاشرے کے ارتقاء میں انسانی حالت مسلسل بہتر ہوتی جائے گی ۔ اس پہلو کے اعتبار سے لیوٹارڈ کے نزدیک ہیگل اور مارکس ان ہی فلسفوں کے جانشین تھے ۔ لیکن اب لیوٹارڈ کے خیال میں روشن خیالی کا یہ پورا منصوبہ ڈھے گیا ہے۔ ترقی ممکن ہے، یا اس کا امکان ہے یا لازمی ہوگی کے تصور پر یقین رکھنے کی جڑیں فنون ، ٹیکنالوجی ، علم اور آزادی کی نشونما کو مجموعی طور پر بنی نوع انسان کے لیے مفید ثابت ہونے کے خیال پر تھیں ۔
دو صدیوں کے بعد ہم ان علامتوں کے لیے زیادہ حساس ہوگئے ہیں جو اس یقین کے الٹ اور متضاد نشانات کی طرف اشارہ کرتی ہیں اب معاشی لبرل ازم ہو،سیاسی لبرل ازم ہو اور مارکس ازم کی مختلف اشکال ہوں دو صدیوں میں ان شک کی علامتیں سایہ کیے ہوئے ہیں کہ ان کے دامن پر کہیں نہ کہیں انسانیت کے خلاف خون کے چھینٹے ہیں ۔ کون سا عالمگیر نظریہ انسانیت ہے جو جو تجربی اور قیاسی عمل میں عالمگیر نجات کی طرف لیجا رہا ہو اور وہ ہالوکاسٹ/ آشوٹز کو محو کرسکے ۔
لیوٹارڈ اس کو سطحی فکر قرار دیتا ہے مگر اس کے لیے “پرانی فکر کہنا زیادہ ٹھیک ہوگا ۔ جارج لوکاش جسے “رومانوی سرمایہ داری مخالفت ” / رومانٹک اینٹی کیپٹلزم کہتا ہے تو وہ روشن خیالی اور اُس سرمایہ داری نظام کے خلاف اٹھارویں صدی ابھر چکی تھی جسے روشن خیالی گویا جواز دیتی آئی تھی اسے یہ چیلنج ایک خیالی رومانوی ماقبل سرمایہ داری کے نام پر کیا جاتا تھا ۔ ہیگل اور مارکس روشن خیالی کے نام پر رومانوی تنقید کے جواب میں تاریخ کے ارتقاء کی سرمایہ دارانہ منزل کو اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تفہیم میں جذب کرنے کی کوشش کی جو کونڈروسے اور دیگر فلسفی انسانی عقل کی ترقی کے خاکہ کے نام پر پیش کیے کئے فلسفوں میں پیش کرتے رہے ۔ روشن خیالی کی تردید نطشے سے مہمیز ملنے کے دعوے کے ساتھ مغربی فکر کی بدنامی کی حد تک فکری اور نظری خوراک/ موضوع رہی ہے ۔ شاید اس روایت کی سب سے مشہور جدید اور پیچیدہ مثال میکس ہورک ہائمر اور تھیوڈور اڈرنو کی 1944ء میں “روشن خیالی کی جدلیات” ہے جس میں فطرت پر غلبے کی خواہش آخرکار “لیٹ کیپٹل ازم” کی مکمل طور پر نظم یافتہ دنیا میں ڈھل جاتی ہے اور اس میں دبا ہو عنصربربریت اور غیر عقلیت کی شکل میں لوٹتا ہے جسے ہم “فاشزم ” کہتے ہیں ۔
پس “عظیم بیانیوں” کے بارے میں عدم اعتقاد اور عدم یقین کم از کم اتنا ہی قدیم دکھائی دیتا ہے جتنا کہ خود روشن خیالی پرانی ہے جس نے سب سے پہلے “عظیم بیانیوں ” کو جنم دیا ۔ فیں دے سیئکل دور یعنی انسیویں صدی کا آخر تقریباً 1880ء تا 1900ء جسے فرانسسی فلسفی جارج اوژین سورل نے “ترقی کے وہم ” کا دور کہا ہے میں “عظیم بیانیوں ” پر عدم اعتقاد اور ردتشککیل کی پہچان ان لوگوں کے لیے خاصی شرمندگی کا سبب بنتی ہے جو اس عدم یقین کو امتیازی طور پر صرف مابعد جدید فن کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں کیونکہ بیسویں صدی کے آغاز میں جدیدیت کے ہیروئی دور کی تمام سرکردہ شخصیات نے تاریحی ترقی / ہسٹاریکل ڈویلپمنٹ کے تصور کو رد کردیا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹی ایس ایلیٹ نے 1923ء میں یولیسس پر اپنے معشہور و معروف تبصرے میں جوائس کے اسطوری استمال کو یوں بیان کرتا ہے کہ “یہ محض ایک طریقہ ہے: یہ عصر حاضر کی تاریخ کے لایعنی اور منتشتر وسیع منظرنامے کو قابو کرنے ، اسے مرتب کرنے ، اسے صورت و ہئیت دینے اور معنی سے ہمکنار کرنے کا طریقہ ہے ” ۔
بیسویں صدی کے معروف جدیدیت پسند برطانوی ادیب و نقاد فرینک کرموڈ کا کہنا ہے کہ کسی بھی عہد کے خاتمے کا احساس انجام سے مغلوب بحران کا مزاج ہوتا ہے اور یہ جدیدیت میں ایک وبا کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے ۔
جدیدیت کی فکری اور جمالیاتی فضا میں بحران محض ایک عارضی ہلچل نہیں رہتا، بلکہ “اختتام” کا تصور اس پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ زمانہ اپنے آپ کو کسی فیصلہ کن موڑ، کسی آخری مرحلے، یا کسی بڑے خاتمے کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی احساسِ انجام زندگی، تاریخ اور معنی کو معمول کی مسلسل روانی کے بجائے ایک کَٹے ہوئے، ٹوٹتے ہوئے، اور غیر یقینی دھارے میں بدل دیتا ہے؛ یوں فن کار اور ادیب کے لیے روایت کے پرانے سانچے ناکافی دکھائی دینے لگتے ہیں، اور وہ بکھرتے ہوئے تجربے کو سمجھنے اور باندھنے کے لیے نئے اسالیب، نئی ساختیں اور نئے بیانیے تلاش کرتا ہے۔
کرموڈ کے مطابق “اختتام کا احساس” (the sense of an ending) جدیدیت (modernism) کے اندرونی مزاج میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ ہر بحران کو محض موجودہ مسئلہ نہیں سمجھتی، بلکہ اسے ایک بڑے “انجام” کے سائے میں دیکھتی ہے ور اسی سائے میں معنی، وقت اور تجربے کی نئی ترتیب قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
فرینک کرموڈ نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنی کتاب
The Sense of an Ending: Studies in the Theory of Fiction
میں بہت تفصیل سے کیا ہے۔
یہ بات ظاہر ہونے کے بعد بھی کہ “ہزار سالہ عہد کے خاتمے اور اس سے جڑے عظیم بیانیوں کے انہدام کا تصور مابعد جدیدیت کا خاصہ نہیں ہے مابعد جدیدیت کو مغربی تہذیب کی “آخری تباہی ” یا جسے دریدا “مغربی مابعد الطبعیات کی رد تشکیل ” کہتا ہے کی جگہ کے طور پر دیکھنے والا قیامت خیز تصور خاصا عام اور مقبول ہے۔
آرتھر کروکر اور ڈیوڈ کک کینیڈا سے وابستہ مابعد جدید فکر کے نمایاں نظریہ ساز اور ثقافتی نقاد تھے، جنہوں نے سیاست، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے باہمی تعلق کو تنقیدی زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی۔ دونوں کی شناخت بالخصوص ان کی مشترکہ تحریروں سے قائم ہوئی جن میں مابعد جدید عہد کے ثقافتی منظرنامے، جمالیاتی انتہاؤں، معنوی بحران اور تہذیبی انحطاط کی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔ ان کی تحریروں میں جدید سماج کو گھبراہٹ، انتشار اور علامتی افراط کے دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے وہ مابعد جدید تنقید کے اہم حوالوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دونوں لکھتے ہیں:
“ہماری شعوری کیفیت ایک ایسے زمانے کی شعوری کیفیت ہے جو ایک ہزار سالہ عہد کے اختتام پر کھڑا ہے؛ ایک ایسی حالتِ شعور جو تاریخ کے خاتمے کے احساس میں، ٹیکنالوجی سے بھرپور الٹرا ماڈرنیزم کے ڈھلتے ہوئے دور اور عوامی مزاجوں کی شدید ابتدائی حالت کے درمیان معلق رہتے ہوئے، پیروڈی، بناوٹی ذوق (کِچ) اور ذہنی و جذباتی تھکن (برن آؤٹ) کی پسِ منظر فضا کے مقابل، بکھراؤ اور زوال کی ایک عظیم قوس کو آشکار کرتی ہے۔”
ان کے اس اقتباس کا مطلب ہے ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں، اس کی شعوری کیفیت دراصل ایک طویل عہد کے اختتام کی کیفیت ہے۔ یعنی لوگوں کو یہ احساس لاحق ہے کہ ایک بڑا تاریخی دور ختم ہو رہا ہے اور کوئی نیا، مگر غیر واضح دور شروع ہونے والا ہے۔ اس کیفیت میں ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی کا غلبہ ہے، جو زندگی کو بے حد تیز، مشینی اور پیچیدہ بنا چکی ہے، اور دوسری طرف عوامی مزاج میں سادگی، جذباتی پن اور غیر عقلی ردِعمل بڑھتا جا رہا ہے۔ ان دونوں کے درمیان انسان کی ذہنی حالت معلق ہو کر رہ گئی ہے۔
اس شعوری حالت کا نتیجہ یہ ہے کہ سنجیدگی کمزور پڑ گئی ہے اور اس کی جگہ مذاق، نقل، بناوٹی پن اور سطحی دل لگی نے لے لی ہے۔ فن، سیاست اور روزمرہ زندگی میں ہر چیز تھکی ہوئی، جلی ہوئی اور بے جان محسوس ہونے لگتی ہے، جیسے لوگ مسلسل دباؤ اور ذہنی تھکن کا شکار ہوں۔ اس پوری فضا میں ہمیں ایک بڑے زوال اور ٹوٹ پھوٹ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایسا زوال جو اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ تہذیب، معنی اور اقدار کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
مابعد جدیدیت کے علمبردار عموماً صرف اس “آخرالزمانی شعور” کو (جسے کرموڈ کے مطابق قرونِ وسطیٰ سے مغربی فکر کی ایک عام خصوصیت سمجھا جا سکتا ہے) اپنی ملکیت میں لینے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ اسے “جدیدیت” کے مقابل رکھ دیتے ہیں اور جدیدیت اکثر روشن خیالی کے زمانے کی ایک مثال کے طور پر سمجھی جاتی ہے ۔
لنڈا ہچن ایک نمایاں ادبی نقاد اور نظریہ ساز ہیں جن کا تعلق کینیڈا سے ہے۔ وہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مباحث میں ایک سنجیدہ اور متوازن آواز کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو محض ایک دوسرے کی ضد کے طور پر نہیں دیکھتیں، بلکہ انہیں فکری اور تاریخی تسلسل کے اندر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہاں لنڈا ہچن (Linda Hutcheon) ماڈرنزم کے کھاتے میں “حقیقت پر عقل اور سائنس کی بالادستی/مہارت” پر ایمان رکھتی ہےاور یہی وہ چیز ہے جو روشن خیالی کے منصوبے کی امتیازی شناخت تھی۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ لنڈا ہچن جدیدیت کے کھاتے میں حقیقت پر عقل اور سائنس کی بالادستی پر ایمان رکھتی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک جدیدیت کی بنیادی روح یہ یقین تھا کہ دنیا کو سمجھنے، اس کی تشریح کرنے اور اسے بہتر بنانے کا سب سے معتبر ذریعہ انسانی عقل، منطقی سوچ اور سائنسی علم ہیں۔ جدیدیت اس تصور پر قائم تھی کہ حقیقت کوئی محض ذاتی احساس یا وقتی تاثر نہیں، بلکہ ایسی شے ہے جس تک منظم عقل اور سائنسی تحقیق کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔
لنڈا ہچن اس تصور کو براہِ راست روشن خیالی کے منصوبے سے جوڑتی ہیں، کیونکہ روشن خیالی کی نمایاں شناخت ہی یہ تھی کہ اس نے روایت، موروثی اتھارٹی اور غیر عقلی توضیحات کے مقابل عقل، تجربے اور سائنسی فہم کو مرکزیت دی۔ روشن خیالی نے یہ دعویٰ کیا کہ انسان اپنی عقل کے سہارے نہ صرف کائنات کو سمجھ سکتا ہے بلکہ سماج اور تاریخ کو بھی ترقی کی سمت میں لے جا سکتا ہے۔
اس طرح لنڈا ہچن کے نزدیک جدیدیت دراصل روشن خیالی کے اسی منصوبے کا تسلسل ہے۔ وہ یہ بات واضح کرتی ہیں کہ اگرچہ بعد کے زمانوں میں جدیدیت پر سخت تنقید کی گئی، مگر حقیقت کو عقل اور سائنس کے ذریعے سمجھنے پر جو اعتماد روشن خیالی نے قائم کیا تھا، وہ جدیدیت کی بنیادی شناخت کے طور پر برقرار رہا۔
ایک امریکی دانشور رسل برمن جو مابعد جدیدیت کے حامی بھی ہیں اور روشن خیالی کے دفاع کار بھی جیسے ہابرماس تھے۔ رسل برمن ایک معروف امریکی ادبی نقاد، نظریہ ساز اور جرمن ادب و ثقافت کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے تک جامعۂ اسٹینفورڈ میں تدریس سے وابستہ رہے اور جدیدیت، مابعد جدیدیت، روشن خیالی، ہیومینزم اور ثقافتی سیاست کے موضوعات پر اہم کام کیا۔ برمن کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادبی اور جمالیاتی مباحث کو محض فن تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ انہیں وسیع تاریخی، فکری اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔
رسل برمن خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے درمیان ہونے والی بحثیں دراصل مغربی فکر کی پرانی کشمکشوں کا تسلسل ہیں، جن کی جڑیں روشن خیالی، رومانویت اور انسان دوستی کی روایت میں پیوست ہیں۔ ان کے نزدیک جدید دور کے فکری تصادمات کو سمجھنے کے لیے انیسویں اور بیسویں صدی کی جمالیاتی اور فکری تبدیلیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے برمن کو جدیدیت اور جدید فن و ادب کے تاریخی و نظری مطالعے میں ایک اہم اور سنجیدہ حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
رسل برمن اس نکتے کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مابعد جدیدیت کے حامی ہوں یا روشن خیالی کے منصوبے کے دفاع کار مثلاً یورگن ہابرماس دونوں ایک بنیادی مفروضے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جن تصوراتِ جدیدیت اور جدید فن پر آج جھگڑا ہو رہا ہے، وہ دراصل انسان دوستی (ہیومینزم) کی اُن ثقافتی تشکیلوں سے وابستہ ہیں جو مغربی دنیا میں نشاۃِ ثانیہ کے بعد، یا کم از کم انیسویں صدی سے، غالب چلی آ رہی ہیں۔ یعنی فریقین کی باہمی مخالفت کے باوجود، ان کا فکری حوالہ ایک ہی تاریخی اور ثقافتی روایت کے اندر قائم رہتا ہے۔
اسی تناظر میں برمن یہ بات معنی خیز قرار دیتا ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں بار بار سامنے آنے والا تصادم یعنی روشن خیالی کے عقلی، سائنسی اور ترقی پسند منصوبے اور اس کے مقابل رومانوی ردِعمل آج کی معاصر فکری بحثوں سے حیرت انگیز حد تک مشابہ ہے۔ اس مشابہت کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ دونوں صورتوں میں اصل سوال عقل، روایت، جذبات اور انسانی تجربے کی نوعیت کے گرد ہی گھومتا ہے۔
برمن کے مطابق جب جدیدیت کو ایک عہد ساز یا تاریخی مرحلے کے طور پر اس طرح وسیع پیمانے پر تعریف کیا جاتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں رونما ہونے والی جمالیاتی انقلابی تبدیلیوں کی اہمیت نسبتاً کم کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ اسی دور میں فن اور ادب کے اندر وہ بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئیں جنہوں نے اظہار کے پرانے سانچوں کو توڑ کر نئی ہیئتیں، نئے اسالیب اور نئی حسّیات کو جنم دیا۔ اس کے بعد جس مظہر کو عام طور پر “جدید فن” یا “جدید ادبی رویہ” کہا جاتا ہے، اسے ماضی کی روایتی اور مروجہ صورتوں کے مقابل ایک واضح اور شعوری بغاوت کے طور پر قائم کیا گیا لیکن عہد ساز جدیدیت کی اس وسیع تعریف میں اس بغاوت کی انفرادیت اور تاریخی معنویت اکثر دھندلا جاتی ہے۔
