شفیق مینگل کون ہے ؟
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سوشل میڈیا سیل نے بلوچستان کی متنازعہ ترین شخصیت شفیق مینگل کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تصویر اپ لوڈ کرتے ہوئے پی پی پی میں شمولیت کی خبر سوشل میڈیا پر جاری کی
https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2029266346811507045



اس خبر پر ہیش ٹیگ شفیق مینگل کے تحت ایکس ایپ پر لوگوں کا شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
#ShafiqMengal

https://twitter.com/OwaisTohid/status/2029473951798444147?s=20

ایکس ایپ پر وائرل ایک تصویر موجودہ سی ایم بلوچستان اور سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ
درجنوں ایکس ایپ کے صارفین نے اس ہیش ٹیگ کے تحت شفیق مینگل کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کی ورکشاپ جولائی 2012ء میں مہمان مقرر کے طور پر شرکت کا تذکرہ کیا ہے۔
شفیق مینگل پر لشکر جھنگوی ، لشکر اسلام خراسان پاکستان سے تعلقات اور بلوچستان اور سندھ میں خودکش بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام رہا ۔ یہاں تک کہ وفاقی وزیر داخلہ نے 2014ء میں قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میں پوچھے کئے تحریری سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے شفیق مینگل کا بلوچ لیویز کے آٹھ اہلکاروں پر حملے کی قیادت کرنا تسلیم کیا ۔
Interesting side-detail: Death squad chief #ShafiqMengal‘s father sold #RekoDiq for nothing in ’93 as caretaker CM Balochistan. He later was General Musharraf’s minister
شفیق الرحمان مینگل قبیلے کی ذیلی شاخ محمد زئی ٹرائب سے تعلق رکھتے اور اس قبیلے کے لوگ بلوچستان میں ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں رہتے ہیں ۔ ان کے والد میر نصیر خان مینگل چیف منسٹر بلوچستان ، وفاقی وزرات پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سربراہ بھی رہے اور سینٹر بھی ۔
شفیق مینگل کا بچپن اور لڑکپن خضدار میں واپڈا کالونی میں گزرا جو درمیانے متوسط طبقے کی رہائشی کالونی تھی ۔ وہ ایچی سن کالج گئے لیکن جلد ہی وہاں سے ڈراپ ہو گئے ۔ پھر وہ لاہور میں ایک ایلیٹ بورڈنگ اسکول میں پڑھے اور اس کے بعد آخرکار انھوں نے کراچی میں ایک وفاق المدارس عربیہ سے الحاق رکھنے والے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرنا شروع کردی ۔
شفیق مینگل ، ان کے بڑے بھائی عطاء الرحمان اور ان کے چچا قدوس مینگل پر بلوچستان ایرانی تیل ، نان کسٹم گاڑیوں اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے کا بھی الزام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسمگلرز اور عسکریت پسندوں سے شفیق مینگل کے تعلقات اسمگلنگ ے کاروبار کے دوران ہی استوار ہوئے ۔
شفیق مینگل کے والد ایک پڑھے لکھے ، تعلیم یافتہ شخص تھے ۔ وہ تعلیم کے بعد پاکستان میں وفاق کی نوکری کرتے رہے اور پھر پاکستان کی فارن سروس سے بھی منسلک رہے۔ ان کا خاندان کبھی مرکز سے ٹکراؤ میں نہیں آیا ۔ عام طور پر وہ پاکستان کی غیر منتخب ہیت مقتدرہ – اسٹبلشمنٹ کے نزدیک قابل اعتماد شخص تھے۔ قابل غور بات یہ ہے کا نومبر 1993ء میں جب صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی وفاقی اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کو ختم کیا تو سردار عطاء اللہ مینگل ، سردار اختر مینگل اس وقت نیپ کے مختلف دھڑوں کے اتحاد سے 1987ء میں تشکیل پانے والی بلوؤ نیشنل موومنٹ کا حصّہ تھے اور اس جماعت نے 1990ء کے عام انتخابات میں حصّہ نہیں لیا تھا ۔ اسٹبلشمنٹ کو خضدار کے علاقے میں اپنے قابل اعتماد شخص کی تلاش تھی جسے وہ سیاست میں سرگرم کرسکیں تو ان کی نظر انتخاب میر نصیر مینگل کے خاندان پر پڑی کیونکہ میر نصیر مینگل کا خاندان نوے کی دہائی میں درمیانے طبقے کے پس منظر سے نکل کر دولتمند اور طاقتور خاندان کی حثیت سے ابھر رہا تھا ، ان کے اثر رسوخ اور اثاثوں میں اضافے کا سبب میر عطاء الرحمان مینگل ، قدوس مینگل اور شفیق مینگل کا مبینہ طور پر اسمگلنگ کا کاروبار تھا ۔ اور میر نصیر مینگل نہ صرف بلوچستان کے نگران چیف منسٹر بنے بلکہ انھوں نے ہی ریکوڈک معاہدہ بھی کیا ۔

شفیق مینگل نوے کی دہائی میں کراچی میں مقیم تھے اور ان کے تعلقات کراچی، حیدرآباد اور اندرون سندھ کے اسمگلروں ، بھتہ خور مافیا کے ساتھ استوار ہوئے ۔ شفیق مینگل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جس دیوبندی مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے وہ مدرسہ ایک طرف تو افغان جہاد اور جہاد کشمیر کے لیے بھرتی اور پروپیگنڈے کا بڑا مرکز تھا تو دوسری جانب یہ مدرسہ سپاہ صحابہ پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا ۔ شفیق مینگل اسی دوران ریڈیکل دیوبندی عسکریت پسند نظریات سے بھی متاثر ہوئے ۔

شفیق مینگل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ دیوبندی مدرسے میں تھے تو اسی دوران ان کے تعلقات مولانا مسعود اظہر کی سربراہی میں قائم ہونے والی جماعت جیش محمد کی قیادت سے ہوئے اور وہ اس طرح سے جہاد کشمیر سے بھی وابستہ ہوگئے۔ جیش محمد 2000ء میں جامعہ بنوریہ میں قائم ہوئی ۔ اس کی تشکیل کا اعلان اس مدرسے کے مہتمم مفتی نظام الدین شامزئی نے جیش کے رہنماؤں کے ساتھ ایک پرہجوم کانفرنس میں کیا تھا ۔

سنہ 2005ء کے آخر میں بلوچستان کے اندر ایک بار پھر انسرجنسی شروع ہوئی اور نواب اکبر بگٹی کے ایک فوجی آپریشن میں قتل (2006ء) کے بعد سے اس میں شدت آ گئی ۔ پاکستان میں جنرل مشرف نے اس انسرجنسی کے خلاف پوری طاقت سے فوجی آپریشن شروع کردیا ۔ اس زمانے میں سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے الگ دھڑے بی این پی ایم کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی تھے ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور فوجی حکومت سے ان کے تعلقات خراب ہوتے چلے گئے اور انہوں نے دیگر بلوچ دھڑوں کی طرح 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کردیا ۔ ضلع خضدار اور اسکی تحصیل وڈھ میں سردار اختر مینگل کی پارٹی کی حمایت اور اسٹبلشمنٹ سے سردار اختر مینگل کے بڑھتے ہوئے اختلافات کے زمانے میں ہی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نے شفیق مینگل پر اپنا ہاتھ رکھا ۔ شفیق مینگل میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ خضدار میں آباد اپنے محمد زئی قبائل سے ایسا مسلح جتھا تیار کرسکتے تھے جو بلوچ علیحدگی پسند عسکری گروپوں سے سیکورٹی فورسز کی ایک حامی پرائیویٹ ملیشیا کے طور پر لڑ سکتا تھا ۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ شفیق مینگل سنہ 2012ء میں جولائی کے مہینے میں نیشنل ڈیفینس یونورسٹی اسلام آباد کی بلوچستان کے معاملے پر ہوئی ایک دو روزہ قومی سطح کی ورکشاپ میں بطور مہمان مقرر کے طور پر مدعو کیے گئے ۔
پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ پر بلوچ قوم پرست حلقے یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے بلوچ قوم پرست تحریک سے وابستہ سیاسی کارکنوں ، دانشوروں، طالب علموں ، انسانی حقوق کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیے ہیں ۔ خضدار ڈسٹرکٹ میں شفیق مینگل کی سربراہی میں ایسا ہی ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیا گیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے یہ ڈیتھ اسکواڈ غیر اعلانیہ طور پر کام کرتا رہا لیکن 2008ء میں شفیق مینگل اور ان کے بڑے بھائی میر عطاء الرحمان مینگل نے اسے “مسلح دفاع تنظیم ” کا نام دیا ۔
شفیق مینگل کی اس مسلح ملیشیاء نے 2008-2021 کے درمیان بلوچ قوم پرستوں ، ہزارہ شیعہ کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ سیاسی اور غیر سیاسی قبائلی حریفوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی ۔ 2014ء کو خضدار صدر مقام سے شمال کی جانب یونین کونسل توتک کے مقام پر 169 لاشوں کی باقیات اجتماعی قبروں سے دریافت ہوئیں ۔ اس کا الزام بھی دفاع مسلح تنظیم پر لگایا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ شفیق مینگل نے یہ کام اپنے مخالفین کو ڈرانے اور علاقے میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور غلبے کو قائم رکھنے کے لیے کیا ۔
اسی دوران شفیق مینگل کے خاندان اور اس کے ساتھ جڑے قبائل کے سرداراختر مینگل کے حامی قبائل سے زمین کے تنازعات بھی وڈھ کے علاقے میں سامنے ائے جو بعد ازاں باقاعدہ مسلح تصادم میں بدل گئے ۔
سنہ 2013ء میں سردار اختر مینگل کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کی سرکردگی ميں بننے والی وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کا حصّہ بنی ۔ اس زمانے میں شفیق مینگل گروپ بظاہر اسٹبلشمنٹ کی اس طرح سے سرپرستی انجوائے نہیں کر رہا تھا جیسی اسے سردار اختر مینگل کے حکومتی اتحاد میں شریک ہونے سے پہلے حاصل تھی ۔ نواز لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کی بلوچستان میں حکومت بنے ابھی ایک سال ہوا تھا جب 2014ء میں شفیق مینگل گروپ پر ایک ایف آئی آر درج ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ شفیق مینگل اور دیگر پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے اور آٹھ سیکورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں۔
میر شفیق مینگل نے 2018ء میں مسلح ملیشیاء کمانڈر سے ایک سیاسی رہنماء کا روپ دھارنا شروع کیا اور اسی زمانے میں سراج رئیسانی بھی مسلح ڈیتھ اسکواڈ سے ایک سیاسی رہنماء کے طور پر متعارف ہونا شروع ہوئے۔
شفیق مینگل نے 2018ء میں حلقہ: PB-44 خضدار-II (وڈھ) سے سردار اختر مینگل کے مقابلے میں آزاد حثیت سے انتخاب میں حصّہ لیا ۔ اگرچہ وزرات داخلہ کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں اس کی سربراہی میں قائم مسلح دفاع تنظیم بھی شامل تھی ، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے اسے الیکشن لڑنے کا اہل پایا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ اسٹبلشمنٹ نے کامیاب امیدوار سردار اختر مینگل کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اپنی حدود میں رہیں ۔ شفیق مینگل وڈھ کے حلقہ میں اسٹبلشمنٹ کے با اعتماد “سیاست دان ” قرار پائے ہیں جو سردار اختر مینگل کی طرف سے حدود کراس کرنے کی صورت میں متبادل کے طور پر موجود ہیں ۔
شفیق مینگل نے 2021ء میں پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کی کوشش کی ۔ انہیں اس معاملے میں پیپلزپارٹی میں شامل ہونے والے وفاقی وزیر جمال ریئسانی ، موجودہ چیف منسٹر بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حمایت حاصل تھی ۔ ان کی پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری ، ان کی ہمشیرہ فریال ٹالپر سے ملاقات بھی ہوئی ، لیکن پی پی پی نے نہ تو انھیں شریک کیا، نہ کوئی تنظیمی عہدہ دیا اور نہ ہی انھیں فروری 2024ء کے انتخابات میں ٹکٹ دیا گیا ۔ لیکن شفیق مینگل پر سرمایہ کاری جاری رہی ۔
شفیق مینگل کے حامیوں کے وڈھ تحصیل میں سردار اختر مینگل کے حامی قبائل سے زمین کے تنازعات کئی بار خونی تصادم تک پہنچے ۔ جولائی 2021ء میں دونوں گروپوں کے مابین خون ریز تصادم ہوا ، سردار اختر مینگل نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے فوجی اسٹبلشمنٹ پر الزام عائد کیا کہ اس نے شفیق مینگل کی سربراہی میں ایک ڈیتھ اسکواڈ قائم کیا ہے جس کو بلوچ قوم پرست سیاستدانوں اور جمہوریت نواز سیاسی قوتوں کو ختم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
سنہ 22 جولائی 2025ء کو خضدار کے ایک علاقے میں شفیق مینگل کے بڑے بھائی عطاء الرحمان مینگل ایک قاتلانہ حملے میں مارے کئے جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آدمی نے قبول کی لیکن بلوچ لیوی فورسز کے متعلقہ تھانے میں اس مقدمہ قتل میں سردار اختر مینگل کے بیٹے اور بھتیجے کو نامزد کیا گیا ۔ سردار اختر مینگل نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقدمہ ان کی پارٹی کی جانب سے بلوچ یک جہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی رہنماؤں کی غیرقانونی حراست کے خلاف احتجاج اور رد عمل کا شاخسانہ ہے۔
پاکستان کی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ پر الزام ہے کہ وہ بلوچستان میں حقیقی عوامی نمائندہ سیاسی جماعتوں ، عوام میں مقبول سرکردہ سیاست دانوں کو کنارے سے لگانے کے لیے اپنے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ ، پراکسیز کے سرغنہ افراد کو سیاست دان بناکر سامنے لا رہی ہے اور شفیق مینگل بھی ان میں سے ایک ہے۔
فروری 2024ء کے عام انتخابات میں اسٹبلشمنٹ کی بنائی پارٹی “بلوچستان عوامی پارٹی ” اور ڈیتھ اسکواڈ کے الزامات کا سامنا کرنے والی متعدد شخصیات نے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی ۔ شفیق مینگل پی پی پی میں شامل ہوئے ۔
پی پی پی پر الزام ہے کہ اس نے اسٹبلشمنٹ سے باقاعدہ معاہدے میں سابقہ باپ پارٹی اور ڈیتھ اسکواڈ سے تعلق رکھنے والے اپنے با اعتماد لوگوں کو پی پی پی ميں شامل کرایا اور اسی مفاہمت کے نتیجے میں بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے نام پر ان ہی ميں سے میر سرفراز بگٹی کو صوبے کا چیف منسٹر بنایا گیا ۔ اب شفیق مینگل کو سردار اختر مینگل کی خالی کی گئی سیٹ پر ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کا امیدوار بنائے جانے پر کہا جا رہا ہے کہ اس سے یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے نام پر سیکورٹی اسٹبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت اسے اپنی پارٹی کے مفاد میں خیال کرتی ہے۔
