ملتان کی سموگ اور گرد آلود زھریلی دھندلی فضا میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو شہر کے نقشے پر نہیں، صرف دفتر کی سیڑھیوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ اخبار کی عظیم الشان بلند و بالا عمارتوں کے نئے رنگ کی بو دیتے دروازوں، میگزین سیکشن کے اندر کمپیوٹروں، چائے کے کپوں میں تیرتی نیم سیاہ اداسی، اور رات گئے کمپوزنگ کی مشینی سانسوں کے بیچ—وہ چہرے ہمیشہ “عارضی” رہتے ہیں۔ جیسے انہیں شہر نے مکمل طور پر قبول نہیں کیا، اور گاؤں نے مکمل طور پر واپس نہیں لیا۔ رازش بھی انہی عارضی چہروں میں سے ایک تھا۔
پاکستان کے مضافات، دور دراز تحصیلیں، بوسیدہ کھیتوں کی پگڈنڈیاں اور نیم اجڑی بستیاں یہ سب بڑے شہروں کے لیے سستی محنت کا خام مال ہیں۔ زراعت کی شکست، زمینوں کی بندربانٹ، کارپوریٹ فارمنگ کی چمکتی مشینیں، فوجی چھاؤنیوں کے دروازے، شاہراہوں اور پلوں کی نیلی لائنیں، ہاؤسنگ اسکیموں کے نقشے یہ سب مل کر گاؤں کے سینے سے اس کے لوگ نکال لیتے ہیں۔ پھر یہ لوگ شہر کی طرف چل پڑتے ہیں: کوئی مزدور بن کر، کوئی پرائیویٹ اسکول کا استاد بن کر، کوئی اخبار کے ایک کونے میں “پروف ریڈر” یا “میگزین رائٹر” بن کر۔ اور جو چند ایک ماسٹرز کر لیتے ہیں خاص طور پر سماجی علوم میں وہ بھی جلد سمجھ جاتے ہیں کہ ڈگری روزگار کی ضمانت نہیں، صرف انتظار کی سند ہے۔ انتظار… اور پھر انتظار۔
رازش بہاولپور کی سابق ریاست کے خوشحال تذکرے اور موجودہ بندوبست پنجاب کی ایک پسماندہ تقسیم کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کا نوجوان تھا۔ اس نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبۂ سرائیکی سے ایم اے کیا۔ سرائیکی… وہ زبان جس میں “سئیں” صرف سلام نہیں، ایک اخلاقی ترتیب ہے: پہلے دوسرے کی عزت، پھر اپنی بات۔ رازش نے یہی ترتیب اپنی شخصیت پر بھی لکھی ہوئی تھی۔
ملتان اس زمانے میں میڈیا انڈسٹری کا ایک شوریدہ مرکز بن چکا تھا۔ رازش یہاں آیا تو روزنامہ خبروں کے میگزین سیکشن میں نوکری مل گئی۔ وہ سرائیکی زبان و ادب کی خدمت میں لگا رہتا،لکھتا، پڑھتا، حوالہ نکالتا، چھانٹتا، تحقیق کے کاغذ جوڑتا۔ اس میں تخلیقی اور تحقیقی دونوں صلاحتیں تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ جلد ہی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے سرائیکی اسٹڈی سنٹر میں جگہ مل جائے گی، وہ فکرِ روزگار سے نکل کر خود کو زبان، ادب اور وسیب کی سیاسی نجات کے لیے وقف کر دے گا۔
یہ خیال خوبصورت تھا۔ مگر خوبصورت خیال کی سب سے بڑی دشمن حقیقت ہوتی ہے۔ حقیقت کے پاس سفارش تھی، پہچان تھی، طاقتوروں سے قربتیں تھیں اور رازش جیسوں کے پاس صرف زبان تھی، قلم تھا، اور ایک اندرونی ضد کہ “میں ادھر ہی رہوں گا، میں یہی لکھوں گا، میں اسی وسیب کا مقدمہ لڑوں گا۔” نہ اسے کسی طاقتور سیاست دان کی سرپرستی ملی، نہ وہ کسی وائس چانسلر کے دروازے تک بطور “اپنا آدمی” پہنچ سکا، نہ اسٹڈی سنٹر کے کسی ڈائریکٹر کی نظرِ کرم اتری۔ سو وہ اخبار کی معمولی تنخواہ پر کئی برس ملتان میں ٹکا رہا۔
پھر اس کی صلاحیتیں نسبتاً بہتر اجرت کے عوض خرید لی گئیں اور جب تک ضیاء شاہد زندہ رہے، رازش کو تھوڑی سی سانس نصیب رہی۔ وہی سانس جسے آدمی “سکون” کہہ دیتا ہے، حالانکہ اصل میں وہ صرف سانس ہوتی ہے بس یہ فرق کہ سانس رُکتی نہیں۔ ضیاء شاہد کے بعد وہ سانس بھی اکھڑنے لگی۔ رازش نے لاہور میں پیر جمانے کی کوشش کی، مگر پیر جیسے زمین پر نہیں، ہوا میں رکھے ہوں،جم ہی نہیں پاتے۔ آخر وہ لاہور چھوڑ کر واپس رحیم یار خان چلا گیا۔ یہاں تک تو مجھے خبر رہی۔ اس کے بعد اس کے ذاتی حالات کس طرح ٹوٹتے رہے، یہ مجھے معلوم نہ تھا۔
پھر ایک دن خبر آئی: رازش اپنی تند و تیز سرائیکی سیاست کے سبب پولیس گردی کا نشانہ بن گیا۔ وہ پہلے ہی شوگر کا مریض تھا۔ حراست میں تشدد ہوا۔ ایسا تشدد جو صرف جسم پر نہیں پڑتا، آدمی کے اندر کی آواز پر بھی پڑتا ہے۔ تشدد نے اس کے گردوں اور دل کے عارضوں کو جگا دیا۔ اور اس دوران… سرائیکی تحریک کے مخیر ہمدردوں کو اس کی غربت یاد نہ آئی، صحافتی برادری کے چودھریوں کو اس کی کمزوری نظر نہ آئی، کسی نے علاج کی مضبوط کوشش نہ کی۔ اور پھر ایک دن اس کے مرنے کی خبر آ گئی، ایسی خبر جو آتے ہی سوشل میڈیا کے کاندھوں پر بیٹھ جاتی ہے اور سب کو تعزیت کی اجازت دے دیتی ہے۔
مرنے کے بعد تعزیتیں رکتی نہیں۔ مرنے کے بعد ہر زبان نرم ہو جاتی ہے۔ مرنے کے بعد وہ قصے بھی لکھے جاتے ہیں جو جیتے جی کسی نے نہ سنے۔ رازش کی کسمپرسی، اس کی سسک سسک کر مر جانے کی داستان، ہر دوسری تیسری پوسٹ میں دہرائی جانے لگی۔ اور مجھے یوں لگا جیسے لوگ رازش کے جنازے کو نہیں، اپنے ضمیر کی بے چینی کو کندھا دے رہے ہوں۔
میری رازش سے شناسائی تھی، دوستی اور بے تکلفی نہیں۔ روزنامہ خبروں کے میگزین سیکشن میں جب میں جاتا نذر عباس بلوچ کے زمانے میں، صابر چشتی اور پھر محبوب تابش کے دنوں میں تو رازش اکثر وہیں بیٹھا ہوتا۔ محبوب تابش نے میرا تعارف کرایا۔ پھر سرائیکی پارٹی، روزنامہ جھوک ملتان کے دفتر، اور چند تقریبات میں آمنا سامنا ہوا۔ مجھے یاد ہے، وہ ہمیشہ دونوں ہاتھ جوڑ کر “سئیں” کہتا۔ جیسے وہ اپنے لہجے سے پہلے ہی یہ طے کر لیتا ہو کہ اختلاف بھی احترام کے اندر رہ کر ہوگا۔
رازش بڑے ادیبوں اور شاعروں کا بے حد ادب کرتا تھا۔ کچھ نام اس کے لیے معشوقوں کی طرح تھے۔ ایک بار میں نے اس کے ایک معشوق ادیب/شاعر سے اختلاف کیا تو اس نے برا منایا، کئی تیز میسج کیے۔ میں نے جواب نہ دیا۔ پھر ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر میری تحقیقاتی خبروں کی اشاعت پر اس نے مجھے براہ راست تو کچھ نہ کہا، مگر میرے ایڈیٹر کو وائس میسج بھیجا کہ میں “صحافی” نہیں۔ ایڈیٹر نے وہ پیغام مجھے فارورڈ کیا۔ میں نے ہنستے ہوئے ایڈیٹر سے کہا: “رازش اپنے دوستوں اور ممدوحین کے معاملے میں سخت کافر ہے۔ میں اس ردعمل کو ‘رفع القلم…’ والی قسم میں رکھتا ہوں۔”
ایڈیٹر شرارتی تھے۔ انہوں نے میرا کہا رازش کو فارورڈ کر دیا۔ چند ماہ بعد وہی وائس چانسلر اپنے کارناموں کے سبب عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ پھر ایک روز رازش کا فون آیا۔ اس نے باقاعدہ معذرت کی۔ میں نے کہا: “میرے دل میں تمھارا احترام ہے۔ مجھے کوئی شکایت نہیں۔” اس کے بعد وہ ہر روز مجھے اپنے بلاگوں کے لنک بھیجتا، اپنی تحریریں بھیجتا۔ جیسے وہ چاہتا ہو کہ کوئی ایک شخص بھی اس کے لفظوں کی گواہی دے دے، بس اتنا کافی ہے۔
وہ معصوم آدمی تھا۔ اس میں بشری کمزوریاں بھی تھیں، اور وہی فی احسن تقویم والی خلقی خوبیاں بھی۔ اس نے ایک دشوار راستہ چنا تھا: سرائیکی کاز کے لیے خود کو وقف کرنا۔ وہ مزدور صحافی تھا، ادیب تھا، اور اپنے گھر کا مرکزی کفیل بھی تھا۔ بے سروسامانی میں علم و عمل کا راستہ اختیار کرنا مصائب کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اور یہ مصائب اکثر اکیلے بھگتنے پڑتے ہیں۔
شوگر… یہ بیماری صرف میٹھے سے نہیں ہوتی، یہ اکثر ذہنی دباؤ، پریشانی اور گھٹن کی بستیوں میں بھی جنم لیتی ہے۔ پھر پولیس حراست کا تشدد،وہ زخم جو جسم پر لگے تو خون نکلتا ہے، اور روح پر لگے تو آدمی خاموش ہو جاتا ہے۔ تشدد کے ساتھ جو ذلت اور تذلیل آتی ہے وہ حساس آدمی کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ اگر وسیب کی دانش، اگر صاحبِ مال لوگ، اگر صحافتی برادری—کوئی سہارا دیتا، ڈھارس دیتا، علاج کا راستہ کھول دیتا—تو شاید وہ ٹوٹتے ہوئے بھی بچ جاتا۔ مگر یہ امکان بھی اسے نہ ملا۔ سو وہ ٹوٹ گیا، بکھر گیا… اور پھر مر گیا۔
اور اب… اب اس کے مرنے کے بعد میں یہ خاکہ لکھ رہا ہوں۔ لکھتے ہوئے مجھے بار بار لگتا ہے کہ میں رازش کو “خاکہ” نہیں بنا رہا، بلکہ ہم سب کی ایک مشترکہ کہانی کا کردار بنا رہا ہوں جس میں دیہات کے نوجوان شہر آتے ہیں، برسوں سستی محنت بیچتے ہیں، چالیس کی دہلیز پر زندگی انہیں بیماری کا کارڈ تھما دیتی ہے، پھر ریاست کا ایک سخت ہاتھ انہیں اور کمزور کر دیتا ہے، اور آخر میں سوشل میڈیا ان کے لیے پھولوں کی بارش کر دیتا ہے، پھول جو جیتے جی کسی نے نہیں دیے تھے۔
کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے: رازش مرنے کے بعد بھی “سئیں” کہہ کر سلام کر رہا ہے،دونوں ہاتھ جوڑ کر، اور ہم سب اس کے سامنے شرمندہ کھڑے ہیں۔
اور شاید اسی شرمندگی کے بیچ کہیں، اس کی روح کی ایک سطر گونجتی ہے:
“مجھے کیا برا تھا مرنا… برا تو یہ تھا جینا، اور اکیلے جینا۔”
