ایک بے ضرر شاعر کی کالونی محمد عامر حسینی نے نہیں دریافت کی ہے ۔ اس نے تو اسے بازیافت کیا ہے ۔
کیا ٹوٹا ہے اندر اندر ،کیوں چہرہ کمھلایا ہے
تنہا تنہا رونے والا کون تمہیں یاد آیا ہے
چپکے چپکے سلگ رہے تھے ، یاد میں ان کی دیوانے
اک تارے نے ٹوٹ کے یارو کیا ان کو سمجھایا ہے
کیا ٹوٹا ہے اندر اندر؟
یہ سوال صرف ایک عاشق سے نہیں، ایک عہد سے بھی پوچھا جا سکتا ہے۔
کیوں چہرہ کمھلایا ہے؟
یہ پژمردگی کسی فرد کی نہیں، شاید ایک نظریے کی ہے—یا شاید اس نظریے کی جسے ہم نے یاد تو رکھا، مگر اس کا وزن اتار دیا۔
تنہا تنہا رونے والا کون ہے؟
کوئی شاعر؟
کوئی مزدور جس کی آواز کبھی نظم میں ڈھلی تھی؟
یا وہ عہد جس نے بغاوت کو فیسٹیول میں بدل دیا؟
چپکے چپکے سلگ رہے تھے۔
یہ سلگن کتابوں میں نہیں، یادداشت میں ہے۔
ہم نے ان کے اشعار کو پڑھا، مگر ان کی سیاست کو پسِ پردہ رکھا۔
ہم نے ان کی محبت کو اپنایا، مگر ان کے طبقاتی شعور سے نظریں چرا لیں۔
اور جب ایک تارا ٹوٹا تو شاید اس نے یہ نہیں سمجھایا کہ سب ٹھیک ہے،
بلکہ یہ کہ کچھ اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہے۔
سیاہ حاشیہ یہی کہتا ہے:
یاد صرف یاد نہیں ہوتی،
وہ ایک انتخاب ہوتی ہے
اور ہر انتخاب کے پیچھے ایک خوف چھپا ہوتا ہے۔
13 فروری۔
ایک تاریخ جو کبھی مزاحمت کے لہو سے لکھی گئی تھی، اب رنگین بینروں اور کارپوریٹ لوگوز کی روشنی میں چمکتی ہے۔ اسٹیج سجے ہیں، کیمرے آن ہیں، اور شہر اعلان کرتا ہے: یہ ثقافت ہے، یہ ورثہ ہے، یہ قومی فخر ہے۔
میں اس اعلان کے بیچ کھڑا ہو کر پوچھتا ہوں:
کس کا ورثہ؟
کس کے لیے فخر؟
جب طاقت کسی شاعر کو محفوظ کرتی ہے تو وہ اسے زندہ نہیں رکھتی وہ اسے بے ضرر بنا دیتی ہے۔ فیض احمد فیض اب خطرناک نہیں رہے۔
یرے ذہن میں سوال نہیں، ایک خارش پیدا ہوتی ہے۔
بلوچستان میں مبارک قاضی اور صادق مری کی کتابیں “ریاستی سلامتی” کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں، مگر فیض احمدکا نسخہ ہائے وفا قومی ورثہ قرار پا جاتا ہے۔
یعنی خطرہ شاعری میں نہیں، جغرافیے میں ہوتا ہے؟
بلوچ گلوگار مبارک قاضی جیسے شاعر کی یہ نظم پڑھے ،
“میں بلوچ ماں ہوں، دشمن کے منہ پر طمانچہ ہو”
تو وہ جبری گمشدہ بن جاتا ہے۔
مگر “ہم دیکھیں گے” جب سرکاری اسٹیج پر گایا جائے تو وہ ثقافتی شام کی زینت بن جاتا ہے۔
کیا مسئلہ شعر کا ہے؟
یا یہ دیکھنا ضروری ہے کہ شعر کہاں سے اٹھ رہا ہے ، گوادر کی مٹی سے یا لاہور کے لاؤنج سے؟
گوادر میں مبارک قاضی کی برسی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کو اچانک قومی سلامتی یاد آ جاتی ہے۔
لاہور میں فیض کے میلے کے لیے حکومت کو اچانک ثقافتی رواداری کا دورہ پڑ جاتا ہے۔
کیا بغاوت کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ کتنی دور سے بولی جا رہی ہے؟
یا یہ کہ وہ کس زبان میں خطرہ بنتی ہے؟
شاید مسئلہ یہ ہے کہ کچھ شاعری ریاست کے خلاف نہیں، ریاست کے اندر سمائی جا سکتی ہے۔
اور کچھ شاعری ایسی ہے جو “برداشت” نہیں، اس لیے “ضبط” ہو جاتی ہے۔
یعنی اصول سادہ ہے:
جو بغاوت میلے میں فِٹ ہو جائے وہ “ورثہ” ہے،
اور جو بغاوت مٹی سے جڑی رہے وہ “خطرہ” ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں یاد کیے جاتے ہیں-
سوال یہ ہے کہ انہیں کس سانچے میں ڈھال کر یاد کیا جاتا ہے۔ یاد کرنا بھی ایک سیاست ہے۔
کوئی یاد احتجاج بن جاتی ہے،
کوئی یاد تہذیبی تقریب۔
اصل فرق موت اور زندگی میں نہیں
یادداشت کے اسٹیج ڈیزائن میں ہے۔
نوآبادیِ زبان، یا ثقل کی تحلیل
ہر نوآبادیاتی نظام زمین سے پہلے زبان پر قبضہ کرتا ہے۔
وہ یادداشت کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے۔
وہ مزاحمت کو ثقافت میں بدل دیتا ہے۔
یہاں فینن کی آواز گونجتی ہے:
استعمار بندوق سے نہیں، شعور کی تشکیل سے حکمرانی کرتا ہے۔
فیض کی شاعری کبھی گوشت اور خون رکھتی تھی۔
اس میں مزدور کی چیخ تھی، سامراج کے خلاف بغاوت تھی، قید و بند کا اندھیرا تھا۔
وہ الفاظ ثقل رکھتے تھے۔ تاریخ کا وزن، نظریے کا بوجھ، اجتماعی خواب کی سنجیدگی۔
مگر آج وہی الفاظ فیسٹیول کی روشنیوں میں تیرتے ہیں۔
تالیاں بجتی ہیں۔
کیمرے چمکتے ہیں۔
اور شعر جمالیاتی لذت میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
یہی کوآپٹیشن ہے۔
یہی طاقت کی لطیف ترین حکمتِ عملی ہے۔
بغاوت کو آپ کے فریم میں رکھا جائے، اس پر آپ کی مہر لگے، وہ آپ کی تقریبات کا حصہ بن جائے تو وہ بغاوت نہیں رہتی، وہ علامت بن جاتی ہے۔
اور علامت طاقت کی زینت ہوتی ہے، خطرہ نہیں۔
ہلکاپن اور ثقل کا تضاد
یہاں میلان کنڈیرا کی سرگوشی داخل ہوتی ہے:
زندگی دو قوتوں کے درمیان معلق ہے: ثقل اور ہلکاپن۔
ثقل ہمیں زمین سے باندھتا ہے؛
ہلکاپن ہمیں آزاد محسوس کراتا ہے۔
مگر آزادی اور بے وزنی ایک چیز نہیں۔
“ہم دیکھیں گے” کبھی ایک اعلان تھا ایک اجتماعی عہد، ایک انقلابی پیش گوئی۔
آج وہ ایک پرفارمنس ہے۔
ایک خوبصورت صوتی تجربہ۔
ایک نرم موسیقی۔
یہ تبدیلی حادثہ نہیں؛ یہ شعوری عمل ہے۔
طاقت براہِ راست تصادم سے نہیں ڈرتی؛ وہ اس سے ڈرتی ہے جو ثقل رکھتا ہو۔
چنانچہ وہ ثقل کو ہلکا بنا دیتی ہے۔
محفوظ کرنا دراصل غیر فعال کرنا ہے۔
ہلکاپن ہمیں سکون دیتا ہے۔
ثقل ہمیں بے چین کرتا ہے۔
ہم نے سکون کا انتخاب کیا۔
غیر مسلح مزاحمت اور بورژوا ضمیر
مزاحمت ہمیشہ بندوق سے غیر مسلح نہیں کی جاتی؛
کبھی کبھی اسے تالیاں بجا کر بھی غیر مسلح کیا جاتا ہے۔
شہری بورژوازی کے لیے فیض ایک اخلاقی حوالہ ہیں۔
وہ ان کے ذریعے اپنی انسان دوستی ثابت کرتی ہے۔
وہ ان کے اشعار پڑھ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرتی ہے۔
مگر وہی طبقہ سرمایہ داری کی ساخت کو چیلنج کرنے کو تیار نہیں۔
وہ انقلاب کو قبول کرتا ہے ، مگر پروگرام کو نہیں۔
وہ علامت کو اپناتا ہے مگر نظریے کو نہیں۔
یہ اخلاقی بالادستی کی سیاست ہے۔
یہ نوآبادیاتی ذہنیت کی نئی شکل ہے۔
فینن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نوآبادیاتی شعور ہمیشہ اپنی برتری کو اخلاقی زبان میں پیش کرتا ہے۔
کنڈیرا ہمیں بتاتا ہے کہ اخلاقی زبان اکثر ہلکاپن کا پردہ ہوتی ہے۔
پوسٹ ماڈرن تحلیل، یا معنی کا انہدام
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گرینڈ نیریٹو / عظیم بیانیے مر چکے ہیں۔
طبقاتی جدوجہد ایک پرانا خواب ہے۔
انقلاب ایک رومانوی افسانہ ہے۔
چنانچہ فیض کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔
وہ “محبت” کے شاعر ہیں۔
“امن” کے شاعر ہیں۔
“انسانیت” کے شاعر ہیں۔
ان کی مارکسی وابستگی، ان کا طبقاتی شعور، ان کی سامراج دشمنی پس منظر میں دھکیل دی جاتی ہے۔
فیض کو اگر صرف “محبت کا شاعر” بنا کر پیش کیا جائے تو تاریخ کے ساتھ یہ ایک لطیف سی بے ایمانی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ فیض احمد فیض 1935ءمیں محض انجمن ترقی پسند مصنفین کے رکن نہیں بنے تھے؛ وہ امرتسر کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کے ساتھ عملی طور پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے خود محمد شفیع (م ش) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
“میں نے امرتسر کے صنعتی علاقے میں کام شروع کیا اور مزدوروں کے مسائل میں دلچسپی لینا شروع کی – ان دنوں میں امرتسر لیبر فیڈریشن کا رکن تھا۔ اس فیڈریشن کا آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس سے الحاق تھا۔”
یہ کوئی ادبی استعارہ نہیں تھا، یہ تنظیمی وابستگی تھی۔
یہ رومانی جذبہ نہیں تھا، یہ طبقاتی شعور تھا۔
آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جو روایت تھی، وہی بعد ازاں پاکستان میں ٹریڈ یونین فیڈریشن کی صورت میں جاری رہی۔ پاکستان بننے کے بعد فیض آل پاکستان پوسٹل سروس ٹریڈ یونین کے صدر بنے اور پاکستان ٹریڈ یونینز فیڈریشن کی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ یعنی وہ مزدور سیاست میں نظریاتی طور پر نہیں، عملی طور پر موجود تھے۔
انہوں نے ایڈیٹری کو بھی پیشہ نہیں بلکہ مشن کہا۔ پاکستان ٹائمز اور امروز کی ادارت قبول کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک مقصد کے لیے ہے—اور وہ مقصد کیا تھا؟ ان کے اپنے الفاظ میں:
“ایک ایسی دنیا بنے جس میں ہر شخص سے اس کی استطاعت کے مطابق کام لیا جائے اور اس کی ضرورت کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔”
یہ محض اخلاقی خواہش نہیں؛ یہ سوشلزم کی بنیادی تعریف ہے۔
مگر آج جب سوشلزم کو “چھوت کی بیماری” کہہ کر رد کیا جاتا ہے تو فیض کے اسی جملے کو یا تو نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اسے رومانوی خواب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ان کے مارکسسٹ ہونے، ان کے طبقاتی شعور، ان کی سامراج دشمنی، اور مزدوروں کے ساتھ عملی کام کے ذکر کو “غیر ادبی” قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ غیر ادبی نہیں ، یہ غیر آرام دہ ہے۔
نظریہ ثقل ہے۔
اور ثقل سے فرار جدید عہد کی فطرت بن چکی ہے۔
فیض کو محبت کے شاعر کے طور پر یاد کرنا آسان ہے؛
فیض کو طبقاتی جدوجہد کے شاعر کے طور پر یاد کرنا بوجھل ہے۔
اسی لیے ان کے نظریے کو تحلیل کیا جاتا ہے،
ان کی سیاست کو پس منظر میں دھکیلا جاتا ہے،
اور ان کے الفاظ کو ہلکا کر دیا جاتا ہے۔
یہ تحلیل محض ادبی نہیں؛ یہ نظریاتی ہتھیار ہے۔
ثقافتی جذب اور ہیجمنی
ریاست اور اشرافیہ نے یہ سیکھ لیا ہے کہ جبر کا سب سے موثر طریقہ آواز کو خاموش کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنے اندر جذب کر لینا ہے۔
فیض کے نام پر میلے، سرکاری سرپرستی، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی شراکت یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ طاقت نے بغاوت کو اپنی زینت بنا لیا ہے۔
یہ گرامشیائی ہیجمنی ہے۔
یہ ثقافتی جذب ہے۔
حتیٰ کہ جدید سیاسی اسلام بھی فیض کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔
وہ ان کے بعض اشعار کو اپنے بیانیے میں شامل کر لیتا ہے۔
کیونکہ فیض کا ثقافتی سرمایہ اتنا طاقتور ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
لہٰذا اسے نرم کرو۔
اس کی کاٹ کند کرو۔
اسے مشترک حوالہ بنا دو۔
اور جب سب اسے قبول کر لیں تو وہ خطرہ نہیں رہتا۔
علامت یا خطرہ؟
اگر ایک انقلابی شاعر ہر نظریاتی خیمے میں قابلِ قبول ہو جائے تو اس کا مطلب کیا ہے؟
کیا اس کی انقلابی کاٹ ختم ہو چکی ہے؟
یا نظام اتنا کمزور ہے کہ اسے اپنی اخلاقی ساکھ کے لیے اسی شاعر کی ضرورت ہے جسے وہ کبھی خطرہ سمجھتا تھا؟
شاید دونوں۔
ہلکاپن ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔
ثقل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں۔
آخری فیصلہ
میں اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ فیض کی میراث ضائع ہو چکی ہے۔
میراث کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی؛ وہ صرف اپنی شکل بدلتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ فیض کو کون پڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ فیض کو کس وزن کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے۔
اگر ہم انہیں نوستالجیا میں بدل دیں گے تو وہ ایک خوبصورت یادگار بن جائیں گے۔
اگر ہم انہیں طبقاتی شعور کے ساتھ پڑھیں گے تو وہ دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔
اور شاید ہر 13 فروری کو ہمیں یہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے:
ہم ہلکاپن کا انتخاب کریں گے
یا ثقل کا؟
