علمی اختلاف یا فلسفیانہ کمزوری؟ دیسی الحاد کا مسئلہ
سوشل میڈیا پر اس وقت پاکستانی نژاد دیسی ملحدین کی جانب سے مذہب کے بارے میں جو ڈسکورس گردش کر رہا ہے، وہ محض نظریاتی اختلاف یا عقیدتی نزاع کا مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ کمزوری کا اظہار ہے۔ یہ ڈسکورس بظاہر عقل، سائنس اور تنقیدی فکر کے نام پر سامنے آتا ہے، مگر جب اسے فلسفے کے معیارات—یعنی مفہوم کی سطح، استدلال کی ساخت اور سوال کے درجے—پر پرکھا جائے تو یہ گہرائی، پیچیدگی اور خود تنقیدی سے محروم دکھائی دیتا ہے۔
مذہب جیسے کثیر سطحی اور وجودی مظہر کو زیادہ تر سادہ معلوماتی دعووں یا سائنسی غلطیوں کے فریم میں قید کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اصل سوال: یعنی ایمان، یقین اور معنی کی ہستیاتی حیثیت کا سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمِ فلسفہ خود عوامی سطح پر ایک کمزور اور حاشیائی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسفہ نہ تو تعلیمی اداروں میں ایک زندہ فکری روایت کے طور پر راسخ ہے اور نہ ہی عوامی مباحث میں اس کی زبان اور اس کے سوالات سنجیدگی سے برتے جاتے ہیں۔ نتیجتاً مذہب، الحاد، سائنس اور عقل جیسے بھاری بھرکم تصورات روزمرہ کے سوشل میڈیا مباحث میں داخل تو ہو جاتے ہیں، مگر اپنی فلسفیانہ زمین کھو بیٹھتے ہیں۔ اس خلا میں وہ فکری باریک بینی پیدا ہی نہیں ہو پاتی جس کے ذریعے یہ سمجھا جا سکے کہ کسی ڈسکورس کی کمزوری محض اس کے نتائج میں نہیں بلکہ اس کے مفروضات، اس کے طریقِ سوال اور اس کے فہمِ حقیقت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خود ترقی پسند حلقوں میں بھی ایسے عوامی یا نیم عوامی دانشور شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں جو دیسی ملحدانہ ڈسکورس کی ساختی اور فلسفیانہ خامیوں کو پہچان سکیں اور انہیں سنجیدہ تنقید کا موضوع بنا سکیں۔ جب فلسفہ بطور تنقیدی آلہ غیر حاضر ہو جائے تو اختلاف کی جگہ شور لے لیتا ہے، اور دلیل کی جگہ یقین کا ایک نیا انداز جنم لے لیتا ہے۔ یوں ایک ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے جس میں ہر شخص اپنے موقف کو عقلِ محض کا نمائندہ سمجھتا ہے، مگر اس عقل کی بنیادوں، حدود اور مفروضات پر سوال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس فضا میں مکالمہ نہیں بلکہ خود اطمینانی کی بازگشت سنائی دیتی ہے—ایک ایسی بازگشت جس میں، محاورے کے مطابق، گلیاں ویران ہو جاتی ہیں اور ہر فریق اپنے اپنے یقین کے ساتھ تنہا بھٹکتا پھرتا ہے۔
دیسی ملحدین اور معاصر پاکستانی مارکسی دانش
ہمارے ہاں جب دیسی ملحدانہ ڈسکورس کے ساتھ مارکس وادی دانشوروں کی مذہب کے سوال پر بحث سامنے آتی ہے تو ایک نمایاں کمزوری یہ دکھائی دیتی ہے کہ اکثر مارکس وادی ناقدین خود مارکس، اینگلز اور بعد کے مارکسی مفکرین کی اس بنیادی بصیرت کو پوری طرح واضح کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کی بنا پر وہ سرمایہ دارانہ سماج میں چلائی جانے والی “مذہب کے خلاف جنگ” کی نہ صرف مخالفت کرتے تھے بلکہ اسے سیاسی طور پر نقصان دہ اور سماجی طور پر رجعتی سمجھتے تھے۔ اس ناکامی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بحث محض اس سطح پر رہ جاتی ہے کہ مذہب درست ہے یا غلط، حالانکہ مارکسیت کے لیے اصل سوال یہ کبھی تھا ہی نہیں۔
کلاسیکی مارکسسٹ اور الحاد
کارل مارکس کے نزدیک مذہب نہ تو محض ایک فکری غلطی تھا اور نہ ہی محض دھوکے کا آلہ، بلکہ وہ ایک تاریخی اور سماجی مظہر تھا جو مادی حالات، طبقاتی استحصال اور انسانی بیگانگی سے جنم لیتا ہے۔ مارکس جب مذہب کو “مظلوم مخلوق کی آہ، بے دل دنیا کا دل، اور بے روح حالات کی روح” کہتا ہے تو وہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذہب سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ جبر کے شکار انسانوں کے لیے ایک حقیقی دکھ کے مقابل ایک خیالی مگر معنی خیز ردِعمل ہے۔ اسی لیے مارکس کے نزدیک مذہب کو محض نظری سطح پر ختم کرنے یا اس پر حملہ کرنے سے نہ دکھ ختم ہوتا ہے اور نہ بیگانگی، بلکہ یہ دکھ اپنی کسی اور، اکثر زیادہ سخت اور خطرناک، شکل میں واپس آ جاتا ہے۔
اینگلز نے بھی مختلف تحریروں میں یہ واضح کیا کہ مذہبی تحریکیں اکثر طبقاتی جدوجہد کی مسخ شدہ شکلیں ہوتی ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کی مذہبی بغاوتیں ہوں یا بعد کی بنیاد پرستانہ تحریکیں، اینگلز کے نزدیک یہ سب اس بات کی علامت تھیں کہ محکوم طبقات جب براہِ راست سیاسی اور سماجی آزادی کا راستہ بند پاتے ہیں تو اپنی نجات کو مذہبی علامتوں اور زبان میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں اگر ریاست، سرمایہ دار طبقہ یا لبرل ملحد دانشور مذہب کے خلاف ایک کھلی جنگ چھیڑ دیتے ہیں تو وہ دراصل اس مذہبی شعور کو ختم نہیں کرتے بلکہ اسے مزید سخت، دفاعی اور جارحانہ بنا دیتے ہیں۔ اینگلز کے لیے یہ ایک تاریخی تجربہ تھا، کوئی مجرد نظری قیاس نہیں۔
اسی نکتے کو بعد کے مارکسی مفکرین نے اور زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ لینن مذہبی عقائد کی تنقید ضرور کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ محنت کش طبقے کے لیے مذہب کے خلاف لڑائی کو کبھی بھی طبقاتی جدوجہد سے الگ یا اس پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ اگر مذہب کے خلاف جنگ کو سیاسی مرکزیت دے دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل دشمن—یعنی سرمایہ دارانہ استحصال اور ریاستی جبر—پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور محنت کش طبقہ اپنے ہی مذہبی تشخص کے دفاع میں رجعتی قوتوں کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے۔
گرامشی اس مسئلے کو اور گہرے ثقافتی تناظر میں رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک مذہب عوامی “عام فہم”
(common sense)
کا حصہ ہوتا ہے، اور یہ عام فہم محض فریب نہیں بلکہ تضادات سے بھرا ہوا ایک زندہ شعور ہوتا ہے۔ اگر اس شعور پر محض اوپر سے حملہ کیا جائے، اسے جاہلانہ یا رجعتی کہہ کر مسترد کر دیا جائے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام اپنے مذہبی شعور کو اور زیادہ مضبوطی سے تھام لیتے ہیں۔ گرامشی کے نزدیک اصل کام مذہب کے سماجی اسباب کو سمجھنا اور ایک نیا، ترقی پسند “عوامی فہم” پیدا کرنا تھا، نہ کہ مذہب کے خلاف ایک ثقافتی صلیبی جنگ چھیڑنا۔
اسی تناظر میں مارکسی روایت سرمایہ داری کے تحت لبرل اور نیو لبرل ملحدانہ ڈسکورس پر تنقید کرتی ہے۔ مارکس اور اس کے بعد آنے والے مفکرین بخوبی سمجھتے تھے کہ سرمایہ داری خود ایک طرح کی سیکولر مذہبیت پیدا کرتی ہے—منڈی کی پرستش، ریاست کی تقدیس، قوم پرستی اور ترقی کے نام پر قربانی کا مطالبہ۔ ایسے میں جب لبرل یا نیو کانز ملحد مذہب کے خلاف جنگ کو آزادی اور عقل کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنی ہی نظامی مقدسوں کو سوال سے باہر رکھتے ہیں۔ یہ جنگ مذہب کو کمزور کرنے کے بجائے اسے ایک محصور شناخت بنا دیتی ہے، جو خود کو بچانے کے لیے زیادہ بنیاد پرستانہ، زیادہ پرتشدد اور زیادہ رجعتی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
اسی لیے مارکس وادی مفکرین مذہب کے خلاف براہِ راست جنگ کو محنت کشوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ ایسی جنگ محنت کش طبقے کو اس کی مادی جدوجہد سے ہٹا کر ایک ثقافتی اور اعتقادی محاذ پر دھکیل دیتی ہے، جہاں وہ پہلے ہی کمزور ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ریاستی یا لبرل ملحدانہ حملے مذہبی جبر کے شکار گروہوں کے دکھ کو کم نہیں کرتے بلکہ اسے بڑھا دیتے ہیں، کیونکہ اب وہ نہ صرف معاشی استحصال بلکہ ثقافتی تحقیر کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں مذہب ان کے لیے مزید پناہ گاہ بن جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب ایک نسبتاً نرم سماجی ردِعمل کے بجائے ایک سخت، جارحانہ اور بنیاد پرستانہ شکل میں دوبارہ ابھرتا ہے۔
یوں مارکس، اینگلز اور بعد کے مارکسی مفکرین کے نزدیک “مذہب کے خلاف جنگ” دراصل مذہب کے خاتمے کا راستہ نہیں بلکہ اس کے رجعتی احیا کا عمل بنتی ہے۔ یہ جنگ اصل مسئلے—یعنی سرمایہ دارانہ استحصال، طبقاتی جبر اور سماجی بیگانگی—کو حل کیے بغیر مذہب کو نشانہ بناتی ہے، اور نتیجتاً وہی حالات پیدا کرتی ہے جن میں مذہب پہلے سے زیادہ سخت اور تباہ کن صورت میں واپس آتا ہے۔ مارکسی تنقید اسی لیے مذہب کو محض رد کرنے کے بجائے اس کے سماجی اسباب کو ختم کرنے پر زور دیتی ہے، کیونکہ ان اسباب کے بغیر مذہب خود بخود اپنی جکڑ کھو دیتا ہے۔
کارل مارکس اور اینگلس کی معاصر الحادی مفکرین پر تنقید
کارل مارکس نے اپنے معاصر نیو ہیگلئین لیفٹ ملحدین، خصوصاً فیوروباخ کی ایسنس آف کرسچینٹی میں پیش کیے گئے الحادی ردِ مذہب کو کن فلسفیانہ اور مادی بنیادوں پر ناکافی قرار دیا، اور اسی طرح فریڈرک اینگلز نے اینٹی دورنگ میں لبرل سرمایہ داری کے حامی ملحدین کے اس الحادی ڈسکورس کو—جو مذہب سے جنگ کو سماجی نجات کی اولین شرط سمجھتا تھا—کن نظری، تاریخی اور سیاسی دلائل کی بنیاد پر رد کیا؟
اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کارل مارکس اور اینگلز کی تنقید کو دو الگ مگر باہم جڑے ہوئے محاذوں پر رکھا جائے:
ایک طرف نیو ہیگلئین لیفٹ کے ملحدانہ فلسفے (خاص طور پر فیوروباخ)، اور دوسری طرف لبرل سرمایہ داری کے حامی ملحدانہ ڈسکورس جسے اینگلز نے اینٹی دورنگ میں ہدفِ تنقید بنایا۔ دونوں صورتوں میں مسئلہ “الحاد” نہیں تھا، بلکہ الحاد کو ایک مجرد، فوقِ تاریخ اور فوقِ سیاست سچ کے طور پر پیش کرنا تھا۔
کارل مارکس نے فیوروباخ کی
The Essence of Christianity
کو ایک اہم فکری پیش رفت ضرور مانا، کیونکہ فیوروباخ نے پہلی بار مذہب کو آسمانی حقیقت کے بجائے انسانی جوہر
(human essence)
کی پیداوار قرار دیا۔ فیوروباخ کے نزدیک خدا دراصل انسان کی اپنی صفات—محبت، عقل، طاقت، خیر—کا ایک الٹا ہوا عکس تھا، جسے انسان نے اپنے سے باہر ایک مافوق الفطرت ہستی میں منتقل کر دیا۔ اس طرح فیوروباخ نے دائیں بازو کے ہیگلئین مذہب پرستوں کے اس دعوے کو رد کیا کہ مذہب مطلق روح کی خود آگاہی ہے۔ مارکس نے اس انقلابی قدم کو تسلیم کیا، مگر ساتھ ہی اسے ناکافی اور تجریدی قرار دیا۔
مارکس کی بنیادی تنقید یہ تھی کہ فیوروباخ نے مذہب کو “انسان” سے تو جوڑ دیا، مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ انسان کون سا انسان ہے۔ فیوروباخ کا انسان ایک ماورائی، غیر تاریخی اور غیر طبقاتی وجود تھا—ایک ایسا “انسان بطور نوع” جو کسی مخصوص مادی، سماجی اور معاشی حالات میں زندہ نہیں ہوتا۔ مارکس کے نزدیک یہ بھی ایک قسم کا مثالی تصور
(idealism)
تھا، بس خدا کی جگہ “انسانی جوہر” کو بٹھا دیا گیا تھا۔ اسی لیے مارکس نے اپنی تھیسسز آن فیوروباخ میں کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ مذہب انسان کی پیداوار ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کن سماجی تعلقات میں پیدا ہو رہا ہے۔ مذہب کو شعور کی سطح پر رد کرنا اس وقت تک بے معنی ہے جب تک ان مادی حالات کو نہ بدلا جائے جو انسان کو اس طرح کا شعور پیدا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مارکس نے نیو ہیگلئین لیفٹ کے ملحدانہ ردِ مذہب کو بھی ناکافی قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ ملحدانہ تنقید ایک فلسفیانہ مشق بن کر رہ جاتی تھی، جو یہ فرض کر لیتی تھی کہ جیسے ہی خدا کا وہم ختم ہوگا، انسان آزاد ہو جائے گا۔ مارکس نے اس مفروضے کو الٹا کھڑا کر دیا: ان کے نزدیک انسان کی عملی بیگانگی (محنت، ملکیت، ریاست، طبقہ) ختم کیے بغیر خدا کا انکار محض الفاظ کا کھیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکس کے لیے “مذہب پر تنقید” کبھی بھی آخری مرحلہ نہیں تھی بلکہ صرف نقطۂ آغاز تھی—اصل تنقید سیاسی معیشت اور طبقاتی رشتوں کی تھی۔
اسی فکری تسلسل کو اینگلز نے اینٹی دورنگ میں آگے بڑھایا، جہاں اس کا سامنا ایک نئے مخالف سے ہوا: لبرل سرمایہ داری کے حامی ملحدین، جو خود کو سائنسی، عقلی اور روشن خیال سمجھتے تھے، اور مذہب کے خلاف جنگ کو سماجی ترقی کی اولین شرط بنا کر پیش کرتے تھے۔ اینگلز نے یوگن دورنگ جیسے مفکرین کو اسی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ مذہب کے سوال کو تاریخ اور سیاست سے کاٹ کر ایک اخلاقی اور فکری دشمن بنا رہے تھے۔
اینگلز کے نزدیک لبرل ملحدانہ ڈسکورس کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ مذہب ایک آزاد اور خودمختار قوت ہے جسے شکست دے کر سماج کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اینگلز نے تاریخی مادیت کی روشنی میں یہ دکھایا کہ مذہب ہر دور میں مخصوص معاشی اور سماجی حالات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جاگیرداری میں مذہب کی ایک شکل تھی، سرمایہ داری میں اس کی دوسری شکل، اور محنت کش طبقے میں اس کی تیسری صورت۔ اگر آپ مذہب کے خلاف جنگ چھیڑ دیتے ہیں مگر سرمایہ دارانہ استحصال، نجی ملکیت اور ریاستی جبر کو برقرار رکھتے ہیں تو آپ مذہب کو ختم نہیں کرتے بلکہ اسے ایک دفاعی شناخت میں بدل دیتے ہیں، جو مزید سخت اور رجعتی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
اینگلز نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ لبرل ملحدانہ حملے مذہب کو طبقاتی سوال سے کاٹ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محنت کش طبقہ، جو پہلے ہی معاشی جبر کا شکار ہوتا ہے، اب ثقافتی اور اعتقادی تحقیر کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں وہ لبرل ملحد کو اپنا اتحادی نہیں بلکہ دشمن سمجھتا ہے، اور یوں مذہبی قیادتیں خود کو مظلوموں کی نمائندہ بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اینگلز کے نزدیک یہ رجعت کی سیدھی راہ تھی، ترقی کی نہیں۔
اسی لیے اینگلز نے مذہب کے خلاف جنگ کو کبھی اولین سیاسی ہدف نہیں مانا۔ ان کے نزدیک مذہب کے خاتمے کا واحد حقیقی راستہ یہ تھا کہ وہ مادی حالات ختم کیے جائیں جو انسان کو مذہب کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جیسے جیسے محنت کش طبقہ اپنی اجتماعی طاقت کے ذریعے استحصال سے نجات حاصل کرے گا، مذہب خود بخود اپنی سماجی جڑیں کھو دے گا۔ اس کے برعکس، لبرل ملحدانہ ڈسکورس مذہب سے جنگ کو ایک اخلاقی فریضہ بنا کر پیش کرتا تھا، جو اینگلز کے نزدیک نہ سائنسی تھا، نہ تاریخی، اور نہ ہی انقلابی۔
یوں مارکس اور اینگلز دونوں کے ہاں الحاد بذاتِ خود کوئی نجات بخش اصول نہیں تھا۔ وہ نیو ہیگلئین لیفٹ کے فلسفیانہ الحاد اور لبرل سرمایہ دارانہ ملحدیت—دونوں کو اس بنیاد پر رد کرتے ہیں کہ یہ مذہب کو اصل سماجی تضادات سے الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب کے خلاف محض نظری یا اخلاقی جنگ دراصل اس نظام کے حق میں جاتی ہے جو مذہب کو بار بار پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے مارکسی روایت میں مذہب کا سوال ہمیشہ طبقاتی جدوجہد، مادی حالات اور سماجی تبدیلی کے سوال کے تابع رہا—نہ کہ اس کا متبادل۔
پلیخانوف اور لینن کی معاصر روسی الحادی ڈسکورس پر تنقید
زار شاہی روس کے سماج میں مذہب، الحاد اور روشن خیالی کا سوال محض فکری اختلاف نہیں تھا بلکہ ایک طبقاتی، سیاسی اور تاریخی مسئلہ تھا، اور یہی وجہ ہے کہ پلیخانوف، لینن اور دیگر روسی مارکسی مفکرین نے روسی لبرل ملحدانہ عقلیت پسندی اور روشن خیالی کے مذہب مخالف ڈسکورس پر نہایت سنجیدہ اور اصولی تنقید کی۔ اس تنقید کا ہدف مذہب کا دفاع نہیں تھا بلکہ اس سیاسی و نظریاتی فریب کو بے نقاب کرنا تھا جس کے تحت لبرل روشن خیال طبقہ مذہب کے خلاف جنگ کو سماجی نجات کا مرکزی راستہ بنا رہا تھا۔
زار شاہی روس ایک پسماندہ زرعی سلطنت تھی جہاں اکثریتی آبادی کسانوں پر مشتمل تھی، خواندگی کی شرح کم تھی، ریاست اور چرچ ایک دوسرے میں پیوست تھے، اور جاگیردارانہ و آمرانہ جبر روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ اس سماج میں روسی لبرل ملحدانہ عقلیت پسندی—جو یورپی روشن خیالی، فرانسیسی عقل پرستی اور جرمن فلسفے سے متاثر تھی—یہ سمجھتی تھی کہ روس کی پسماندگی کی بنیادی وجہ مذہب، چرچ اور توہم پرستی ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک ترقی، آزادی اور جدیدیت کا راستہ مذہب کے خلاف فکری، اخلاقی اور ثقافتی جنگ سے ہو کر گزرتا تھا۔ پلیخانوف اور لینن نے اسی مفروضے کو بنیادی طور پر چیلنج کیا۔
پلیخانوف، جو روسی مارکسزم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ مذہب کو روسی سماج کی پسماندگی کی “اصل وجہ” سمجھنا ایک تاریخی مادیت سے انحراف ہے۔ ان کے نزدیک مذہب روسی کسانوں اور محنت کشوں کی بدحالی کا سبب نہیں بلکہ اس بدحالی کا نتیجہ تھا۔ پلیخانوف نے لبرل ملحدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماجی شعور کو مادی حالات سے الگ کر کے دیکھتے ہیں، اور یوں وہ مذہب کو ایک خودمختار برائی بنا دیتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر، پلیخانوف کے مطابق، مثالی فلسفے (idealism) کی ایک نئی شکل تھا، جس میں خدا کی جگہ “جہالت” یا “توہم” کو اصل دشمن بنا دیا گیا تھا، جبکہ جاگیردارانہ ملکیت، ریاستی جبر اور طبقاتی استحصال پس منظر میں چلے جاتے تھے۔
پلیخانوف کے نزدیک روسی لبرل ملحدانہ ڈسکورس کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ عوامی شعور، خصوصاً کسانوں کے مذہبی شعور، کو محض لاعلمی یا پسماندگی کی علامت سمجھتا تھا۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ لبرل روشن خیال خود کو “مہذب” اور “عقلی” اقلیت سمجھتے تھے، جبکہ عوام کو اصلاح کے قابل ایک پسماندہ ہجوم۔ پلیخانوف نے اس نخوت آمیز رویے کو سیاسی طور پر نقصان دہ قرار دیا، کیونکہ اس سے محنت کش طبقات اور کسان طبقہ لبرل ملحدوں سے مزید دور ہو جاتا تھا اور چرچ و زار شاہی کو “مظلوموں کے محافظ” کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملتا تھا۔
لینن نے اس تنقید کو اور زیادہ سیاسی وضاحت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ لینن کے نزدیک مذہب کا سوال بنیادی طور پر طبقاتی جدوجہد کا سوال تھا، نہ کہ محض نظری یا ثقافتی اصلاح کا مسئلہ۔ لینن نے واضح طور پر کہا کہ مارکسزم مذہب کا فلسفیانہ مخالف ضرور ہے، مگر مذہب کے خلاف جنگ کو کبھی بھی سیاسی جدوجہد کا مرکزی محور نہیں بناتا۔ ان کے نزدیک روسی لبرل ملحدانہ روشن خیالی اس بنیادی نکتے کو سمجھنے میں ناکام رہی کہ زار شاہی روس میں مذہب عوام کے لیے محض فریب نہیں بلکہ جبر کے خلاف ایک نفسیاتی اور اخلاقی پناہ گاہ بھی تھا۔ اگر اس پناہ گاہ پر براہِ راست حملہ کیا جائے، بغیر اس جبر کو ختم کیے جس نے اسے جنم دیا، تو نتیجہ عوام کی بغاوت نہیں بلکہ ان کا مزید دفاعی اور رجعتی ہو جانا ہوتا ہے۔
لینن نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ مذہب کے خلاف کھلی اور جارحانہ مہم اکثر ریاستی جبر کے ساتھ غیر شعوری اتحاد بن جاتی ہے۔ جب لبرل ملحد چرچ پر حملہ کرتے تھے مگر زار شاہی ریاست، جاگیردارانہ ملکیت اور سرمایہ دارانہ استحصال پر براہِ راست وار نہیں کرتے تھے تو عوام کے لیے یہ فرق واضح ہو جاتا تھا کہ ان کا اصل دشمن کون ہے۔ چرچ کے خلاف لبرل ملحدانہ خطابت عوام کو یہ احساس دلاتی تھی کہ ان کی ثقافت، ان کے عقائد اور ان کی روزمرہ زندگی کو حقیر سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ان کی مادی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔ لینن کے نزدیک یہ صورتحال انقلابی سیاست کے لیے زہرِ قاتل تھی۔
لینن نے روسی لبرل روشن خیالی کی اس غلطی کو بھی نمایاں کیا کہ وہ مذہب کو محض نظری سطح پر ختم کرنا چاہتی تھی، جبکہ مارکسزم مذہب کے سماجی اسباب کو ختم کرنے پر زور دیتا ہے۔ لینن کے نزدیک جب محنت کش طبقہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے اپنے حالات بدلتا ہے، تو مذہب خود بخود اپنی گرفت کھونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، مذہب کے خلاف محض فکری جنگ مذہب کو ایک شناختی قلعہ میں بدل دیتی ہے، جس کے گرد عوام اور مذہبی قیادت پہلے سے زیادہ مضبوطی سے جمع ہو جاتی ہیں۔
یوں پلیخانوف اور لینن دونوں نے روسی لبرل ملحدانہ عقلیت پسندی اور روشن خیالی کے مذہب مخالف ڈسکورس پر اس بنیاد پر تنقید کی کہ وہ مذہب کو علت بنا کر پیش کرتی تھی، حالانکہ وہ معلول تھا؛ وہ عوامی شعور کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھتی تھی؛ اور وہ مذہب کے خلاف جنگ کو طبقاتی جدوجہد پر فوقیت دیتی تھی۔ ان کے نزدیک یہ رویہ نہ صرف سائنسی نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر رجعتی تھا، کیونکہ اس سے زار شاہی اور چرچ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے بجائے مضبوطی ملتی تھی۔ مارکسی روایت میں اسی لیے مذہب کے سوال کو ہمیشہ مادی حالات، طبقاتی سیاست اور انقلابی جدوجہد کے تابع رکھا گیا—نہ کہ اس کے متبادل کے طور پر۔
جدیدی الحادی ڈسکور اور مارکسی مفکرین
جدیدیت کے دور میں ابھرنے والی لبرل الحادیت کو مارکسی فلسفیوں نے کبھی ایک سادہ “ترقی پسند” یا “آزاد خیال” مظہر کے طور پر قبول نہیں کیا، بلکہ اسے ایک تاریخی، طبقاتی اور نظریاتی تشکیل کے طور پر پرکھا۔ مارکسی نقطۂ نظر سے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ لبرل الحاد خدا کے وجود کا انکار کرتی ہے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اس انکار کو کس سماجی طاقت کے مفاد میں اور کس سیاسی منطق کے تحت منظم کرتی ہے۔ اسی وجہ سے مارکسی مفکرین نے جدید لبرل الحاد کو محض مذہب سے نجات کا منصوبہ نہیں بلکہ جدید سرمایہ دارانہ سماج کی ایک مخصوص فکری ضرورت کے طور پر دیکھا۔
مارکس کے بعد کی مارکسی روایت میں یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ جدیدیت کے ساتھ جو لبرل الحاد پیدا ہوئی وہ بنیادی طور پر بورژوازی کی دنیا بینی کا حصہ تھی۔ اس دنیا بینی میں عقل، فرد، منڈی، قانون اور ریاست کو نئے “سیکولر مقدسات” کے طور پر پیش کیا گیا۔ خدا کو رد کیا گیا، مگر اس رد کے ساتھ ساتھ نجی ملکیت، سرمایہ، قوم، ریاست اور ترقی کو ایسی حیثیت دی گئی جس پر سوال اٹھانا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ مارکسی فلسفیوں کے نزدیک یہ تبدیلی مذہب کے خاتمے سے زیادہ اس کی شکل کی تبدیلی تھی: الٰہی تقدیس کی جگہ اب سرمایہ، منڈی اور قومی ریاست کی تقدیس نے لے لی تھی۔ اس معنی میں لبرل الحاد کو مارکسی مفکرین نے ایک طرح کی “سیکولر تھیولوجی” سمجھا، جو مذہب کے انکار کے باوجود تقدیس کے عمل کو برقرار رکھتی ہے۔
مارکسی تنقید کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ لبرل الحاد مذہب کو سماجی جبر کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کرتی تھی، جبکہ مارکسی فلسفے کے مطابق مذہب خود ایک ثانوی مظہر تھا، جو مادی اور طبقاتی رشتوں سے جنم لیتا ہے۔ جب لبرل الحاد مذہب پر تنقید کو سماجی آزادی کی کنجی بنا دیتی ہے تو وہ اصل دشمن—یعنی سرمایہ دارانہ استحصال اور طبقاتی عدم مساوات—کو اوجھل کر دیتی ہے۔ اس طرح مذہب کے خلاف جنگ دراصل ایک نظریاتی پردہ بن جاتی ہے، جس کے پیچھے سرمایہ دارانہ نظام اپنی بنیادی ساخت کو بغیر چیلنج کے قائم رکھتا ہے۔ مارکسی مفکرین نے اسے بورژوازی کی ایک چال سمجھا، جس کے ذریعے عوامی غصے کو مذہب کی طرف موڑ دیا جاتا ہے، نہ کہ استحصال کے مادی اسباب کی طرف۔
گرامشی نے جدید لبرل الحاد کو ثقافتی غلبے
(hegemony)
کے تناظر میں دیکھا۔ اس کے نزدیک لبرل الحاد بورژوا “عام فہم” کا حصہ تھی، جو خود کو فطری، عقلی اور آفاقی ظاہر کرتی تھی، حالانکہ وہ ایک مخصوص طبقاتی تجربے کی پیداوار تھی۔ مذہب پر حملہ دراصل عوامی ثقافت پر حملہ بن جاتا تھا، جس کے نتیجے میں محنت کش طبقہ لبرل دانشوروں سے مزید بیگانہ ہو جاتا تھا۔ گرامشی کے مطابق یہ بیگانگی رجعتی مذہبی قوتوں کے لیے زمین ہموار کرتی تھی، کیونکہ وہ خود کو عوام کی شناخت اور وقار کے محافظ کے طور پر پیش کر سکتی تھیں۔ یوں لبرل الحاد غیر ارادی طور پر انہی قوتوں کو مضبوط کرتی تھی جنہیں وہ کمزور کرنا چاہتی تھی۔
فرینکفرٹ اسکول کے مارکسی مفکرین، خصوصاً ہورکھیمر اور آدورنو، نے جدیدیت کی لبرل عقلیت پسندی اور اس سے جڑی الحادیت کو اور زیادہ گہرے فلسفیانہ زاویے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے نزدیک روشن خیالی کی عقل، جو خود کو مذہب کے مقابل پیش کرتی تھی، آخرکار آلہ جاتی عقل
(instrumental reason)
میں بدل گئی—ایسی عقل جو ہر شے کو نفع، کارکردگی اور کنٹرول کے پیمانے پر ناپتی ہے۔ اس عقل نے مذہب کو تو رد کر دیا، مگر اسی کے ساتھ انسان کو بھی ایک وسیلہ، ایک عدد اور ایک شے بنا دیا۔ اس طرح مذہب کے خلاف لبرل الحاد کی فتح دراصل انسان کی آزادی کی فتح نہیں بلکہ ایک نئے قسم کے جبر کی تمہید بنی۔ فرینکفرٹ اسکول کے نزدیک یہ جدید الحاد خود اسی “اسطورہ” کا حصہ بن گئی جسے وہ ختم کرنے کا دعویٰ کرتی تھی۔
اسی طرح لوئی آلتھیوسر نے جدید لبرل الحاد کو ریاستی نظریاتی آلات
(ideological state apparatuses)
کے تناظر میں سمجھا۔ اس کے نزدیک اسکول، قانون، میڈیا اور سائنس سب مل کر ایک ایسا سیکولر شعور پیدا کرتے ہیں جو خود کو غیر نظریاتی سمجھتا ہے، مگر درحقیقت سرمایہ دارانہ تعلقات کی بازتولید کرتا ہے۔ مذہب کے انکار کے باوجود یہ شعور اطاعت، نظم اور “فطری” سماجی ترتیب کو قبول کرواتا ہے۔ یوں لبرل الحاد ایک آزاد کن سوچ کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کی ایک موثر نظریاتی شکل بن جاتی ہے۔
مارکسی فلسفیوں کے لیے جدید لبرل الحاد کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ مذہب کے سوال کو وجودی اور سماجی مسئلے کے بجائے محض علمی یا اخلاقی مسئلہ بنا دیتی تھی۔ مذہب کو جھوٹ ثابت کر دینا آزادی کی ضمانت نہیں بنتا، جب تک انسان ان مادی حالات سے آزاد نہ ہو جن میں وہ جیتا اور کام کرتا ہے۔ اس لیے مارکسی تنقید میں لبرل الحاد نہ تو مکمل نجات کا راستہ تھی اور نہ ہی خود ایک انقلابی قوت، بلکہ زیادہ تر ایک ایسی فکری حکمتِ عملی تھی جو جدید سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے مذہب کی ایک مخصوص شکل کو نشانہ بناتی تھی، مگر اس نظام کو چھیڑنے سے گریز کرتی تھی جو مذہب اور الحاد دونوں کو بیک وقت پیدا کرتا ہے۔
یوں مجموعی طور پر مارکسی فلسفیوں نے جدیدیت کے دور کی لبرل الحادیت کو ایک طبقاتی، نظریاتی اور تاریخی مظہر کے طور پر دیکھا: ایسی الحادیت جو مذہب کے انکار کے باوجود تقدیس کو ختم نہیں کرتی، جو آزادی کی بات کرتے ہوئے استحصال کو برقرار رکھتی ہے، اور جو عقل کے نام پر ایک نئی غیر سوال شدہ عقیدت کو جنم دیتی ہے۔ یہی وہ تنقیدی نظر تھی جس کے تحت مارکسی روایت نے لبرل الحاد کو بھی اسی طرح سوال کے کٹہرے میں کھڑا کیا جیسے اس نے مذہب کو کھڑا کیا تھا۔
پوسٹ ماڈرن الحادیت اور مارکسی مفکرین
پوسٹ ماڈرن دور میں سامنے آنے والی الحادیت کو مارکسی مفکرین نے نہ تو کلاسیکی مذہب دشمنی کے تسلسل کے طور پر دیکھا اور نہ ہی اسے محض روشن خیالی کے عقل پرستانہ الحاد کا نیا روپ سمجھا، بلکہ اسے ایک نئی تاریخی صورتِ حال میں جنم لینے والا ایسا ڈسکورس قرار دیا جو سرمایہ داری کی بدلتی ہوئی ساخت، طاقت کی نئی صورتوں اور معنی کے بحران سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن مارکسی مفکرین کے نزدیک مسئلہ اب صرف “خدا کے انکار” کا نہیں رہا تھا، بلکہ معنی، سچ، مرکز اور کلیت کے انہدام کا ہو چکا تھا، اور یہی وہ نکتہ تھا جہاں پوسٹ ماڈرن الحادیت ان کے لیے ایک سنجیدہ مگر مسئلہ خیز فکری مظہر بن گئی۔
پوسٹ ماڈرن الحادیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مذہب کو نہ صرف جھوٹا یا غیر سائنسی قرار دیا بلکہ اسے ایک ڈسکورس، بیانیہ یا طاقت کی تشکیل کے طور پر تحلیل کرنا شروع کیا۔ خدا اب کسی مابعد الطبیعی وجود سے زیادہ ایک “لسانی اثر”، “متنی فریب” یا “اقتدار کی تکنیک” بن گیا۔ مارکسی مفکرین، خصوصاً وہ جو گرامشی، آلتھیوسر اور فرینکفرٹ اسکول کی روایت سے جڑے تھے، اس تجزیے کی جزوی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر مذہب محض متن، شناخت یا معنی کی سیاست ہے تو پھر مادی استحصال، طبقاتی رشتے اور سرمایہ دارانہ طاقت کہاں غائب ہو گئے؟ ان کے نزدیک پوسٹ ماڈرن الحادیت نے مذہب کو علامت میں بدل کر اس کے سماجی اسباب کو تحلیل کی گرفت سے باہر کر دیا۔
فریڈرک جیمسن جیسے مارکسی مفکرین نے پوسٹ ماڈرن الحادیت کو دیرینہ سرمایہ داری
(late capitalism)
کی ثقافتی منطق کے ساتھ جوڑ کر دیکھا۔ ان کے مطابق پوسٹ ماڈرن دور میں نہ صرف مذہب بلکہ الحاد بھی ایک ثقافتی شے بن چکا ہے—ایک طرزِ بیان، ایک شناخت، ایک میڈیا پروڈکٹ۔ خدا کا انکار اب کسی انقلابی عمل کا پیش خیمہ نہیں رہا بلکہ طرزِ زندگی
(lifestyle choice)
کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس صورت میں پوسٹ ماڈرن الحادیت سرمایہ داری کے لیے خطرہ نہیں بنتی بلکہ اس کے تنوع، تکثیر اور انتخاب کے بازار کو وسعت دیتی ہے۔ یوں مذہب کی طرح الحاد بھی منڈی میں جذب ہو جاتا ہے۔
گرامشیائی روایت سے جڑے مفکرین نے پوسٹ ماڈرن الحادیت کو ثقافتی غلبے کے بحران کے تناظر میں دیکھا۔ ان کے نزدیک جدید بورژوازی کا سیکولر، عقلی اور ترقی پسند بیانیہ ٹوٹ چکا تھا، مگر اس کی جگہ کوئی نیا اجتماعی یا انقلابی افق سامنے نہیں آیا۔ پوسٹ ماڈرن الحادیت اس خلا میں ایک منفی وحدت کے طور پر ابھری—یعنی خدا، کلیت اور سچ کے انکار پر مبنی وحدت۔ مارکسی تنقید کے مطابق یہ وحدت محنت کش طبقے کو منظم کرنے کے بجائے اسے مزید منتشر کرتی ہے، کیونکہ یہ کسی مشترک مستقبل، کسی اجتماعی منصوبے یا کسی متبادل نظامِ حیات کی بات ہی نہیں کرتی۔
فرینکفرٹ اسکول کے بعد کے مفکرین اور ثقافتی نقادوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ پوسٹ ماڈرن الحادیت، روشن خیالی کی طرح، نقد کی خود تنقید سے محروم ہے۔ اگر ہر سچ ایک ڈسکورس ہے، ہر معنی طاقت کا اثر ہے، اور ہر کلیت جبر ہے، تو پھر سرمایہ داری کے خلاف مزاحمت کس بنیاد پر کی جائے گی؟ مارکسی مفکرین کے نزدیک پوسٹ ماڈرن الحادیت نے مذہب کی مابعدالطبیعی بنیادیں تو توڑ دیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اخلاقی اور سیاسی زمین بھی کمزور کر دی جس پر استحصال کے خلاف اجتماعی جدوجہد کھڑی ہو سکتی تھی۔ اس طرح یہ الحاد غیر ارادی طور پر ایک سیاسی مفلوجی
(political paralysis)
کو جنم دیتی ہے۔
آلتھیوسر سے متاثر مارکسیوں نے پوسٹ ماڈرن الحادیت کو نظریے
(ideology)
کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا۔ ان کے مطابق مذہب اب ریاستی نظریاتی آلے کے طور پر کمزور ہوا ہے، مگر اس کی جگہ میڈیا، شناختی سیاست اور ثقافتی بیانیوں نے لے لی ہے۔ پوسٹ ماڈرن الحادیت خود کو “غیر نظریاتی” ظاہر کرتی ہے، مگر درحقیقت وہ سرمایہ داری کی اس نئی نظریاتی شکل کا حصہ ہے جس میں فرد کو مرکز بنا کر اجتماعی سوالات کو غیر متعلق بنا دیا جاتا ہے۔ خدا کا انکار یہاں آزادی نہیں بلکہ نئی اطاعتوں کی راہ ہموار کرتا ہے—منڈی، برانڈ، شناخت اور ڈیجیٹل شہرت کی اطاعت۔
مجموعی طور پر پوسٹ ماڈرن دور کے مارکسی مفکرین نے پوسٹ ماڈرن الحادیت کو ایک دوہری حیثیت میں دیکھا۔ ایک طرف یہ کلاسیکی مذہبی مطلقیت، مابعدالطبیعی یقین اور کلی سچائیوں کے خلاف ایک اہم تنقیدی لمحہ تھا؛ دوسری طرف، جب یہ تنقید مادی تاریخ، طبقاتی جدوجہد اور اجتماعی سیاست سے کٹ گئی تو یہ خود سرمایہ دارانہ نظام کے لیے بے ضرر بلکہ کارآمد بن گئی۔ مارکسی نقطۂ نظر سے مسئلہ یہ نہیں کہ پوسٹ ماڈرن الحادیت خدا کو رد کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس رد کے بعد کیا تعمیر کرتی ہے—اور زیادہ تر صورتوں میں جواب یہی نکلتا ہے کہ وہ کچھ بھی تعمیر نہیں کرتی، سوائے ٹکڑوں، شکوک اور منڈی میں قابلِ فروخت شناختوں کے۔
اسی لیے پوسٹ ماڈرن مارکسی مفکرین کے ہاں یہ اصرار ملتا ہے کہ مذہب ہو یا الحاد، دونوں کو محض فکری موقف نہیں بلکہ تاریخی اور مادی تشکیل کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ جب تک الحاد خود کو طبقاتی سیاست، اجتماعی نجات اور مادی تبدیلی کے منصوبے سے نہیں جوڑتی، وہ محض ایک ثقافتی رویہ رہتی ہے—اور یہی پوسٹ ماڈرن الحادیت پر مارکسی تنقید کا مرکزی نکتہ ہے۔
الحاد پر مارکسی ڈسکورس
اگر مجموعی طور پر الحاد پر مارکسی ڈسکورس کو سمیٹا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مارکسزم نے کبھی الحاد کو نہ تو ایک مجرد فلسفیانہ فضیلت کے طور پر پیش کیا، نہ ہی اسے سیاسی نجات کی خود کفیل شرط سمجھا۔ کارل مارکس سے لے کر اینگلز، پلیخانوف، لینن، گرامشی، فرینکفرٹ اسکول، آلتھیوسر، فریڈرک جیمسن اور بعد ازاں پوسٹ ماڈرن مارکسی مفکرین تک ایک مسلسل اور ارتقائی روایت ملتی ہے جس میں الحاد کو ہمیشہ تاریخی، مادی، طبقاتی اور سیاسی تناظر میں سمجھا گیا۔ اس روایت میں مذہب کا سوال بھی اور الحاد کا سوال بھی کسی مابعدالطبیعی یا محض علمی سطح پر حل ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی رشتوں، طاقت کی ساختوں اور پیداوار کے نظام سے جڑا ہوا سوال رہا ہے۔
مارکسی ڈسکورس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ الحاد بذاتِ خود نہ تو انقلابی ہے اور نہ ہی رجعتی؛ اس کی معنویت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ کس طبقاتی مقام سے بول رہا ہے اور کن سماجی رشتوں کو چیلنج یا برقرار رکھ رہا ہے۔ اسی لیے مارکس نے فیوروباخ کے فلسفیانہ الحاد کو ناکافی کہا، اینگلز نے لبرل سرمایہ دارانہ ملحدیت کو سیاسی طور پر گمراہ کن قرار دیا، لینن نے مذہب کے خلاف جنگ کو طبقاتی جدوجہد کے تابع رکھا، گرامشی نے اسے ثقافتی غلبے کے مسئلے سے جوڑا، فرینکفرٹ اسکول نے الحاد کو روشن خیالی کی آلہ جاتی عقل کے بحران میں رکھا، اور بعد کے مارکسی مفکرین نے پوسٹ ماڈرن الحاد کو دیرینہ سرمایہ داری کی ثقافتی منطق کے اندر تحلیل کیا۔ یوں مارکسی روایت میں الحاد کبھی مرکز نہیں بنتا بلکہ ہمیشہ ایک ذیلی سوال رہتا ہے، جس کی حیثیت طبقاتی سیاست کے مقابل ثانوی ہوتی ہے۔
اسی پس منظر میں جب ہم پاکستانی سیاق میں دیسی ملحدانہ ڈسکورس اور اس سے نبردآزما ہونے والے پاکستانی مارکس وادی دانشوروں کی تحریروں کو دیکھتے ہیں تو ایک واضح فکری خلا سامنے آتا ہے۔ اگرچہ ان دانشوروں نے مختلف مواقع پر مذہبی رجعت، بنیاد پرستی اور ریاستی اسلامائزیشن پر تنقید ضرور کی، مگر انہوں نے الحاد پر مارکسی روایت کی مربوط، تاریخی اور ارتقائی تصویر عام قاری کے سامنے رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ کارل مارکس سے لے کر پوسٹ ماڈرن مارکسی نظریہ سازوں تک الحاد کے سوال پر جو پیچیدہ، باریک اور جدلیاتی فہم تشکیل پایا، وہ یا تو منتشر حوالوں تک محدود رہا یا پھر مکمل طور پر غیر حاضر۔
نتیجتاً، دیسی ملحدانہ ڈسکورس کے ساتھ مکالمہ زیادہ تر ردِعملی اور دفاعی سطح پر ہوا، نہ کہ نظریاتی گہرائی کے ساتھ۔ پاکستانی مارکس وادی دانشور عام طور پر یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ مارکسزم مذہب اور الحاد دونوں سے بیک وقت کیسے فاصلہ رکھتا ہے؛ کہ وہ مذہب دشمنی کو انقلابی سیاست کا متبادل کیوں نہیں مانتا؛ اور یہ کہ لبرل یا پوسٹ ماڈرن الحاد کس طرح سرمایہ دارانہ سماج میں خود ایک نظریاتی کردار ادا کرتی ہے۔ اس ناکامی کا ایک سبب یہ بھی رہا کہ اس موضوع پر نہ تو باقاعدہ نظریاتی لٹریچر تخلیق کیا گیا، نہ ہی ایسی تحریریں سامنے آئیں جو اس روایت کو سادہ مگر سنجیدہ انداز میں عوامی سطح پر منتقل کر سکتیں۔
یوں ایک طرف دیسی ملحدانہ بیانیہ مذہب کو سادہ سائنسی یا اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کرتا رہا، اور دوسری طرف مارکس وادی حلقے اس کے جواب میں ایک واضح متبادل فکری فریم فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ مارکسزم کے اندر الحاد پر جو گہرا، تاریخی اور تنقیدی ڈسکورس موجود ہے، وہ پاکستانی تناظر میں یا تو غیر مدون رہا یا چند خواص تک محدود رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام قاری کے لیے مارکسزم اور لبرل الحاد کے فرق، یا مذہب دشمنی اور طبقاتی تنقید کے امتیاز، کبھی پوری طرح واضح نہ ہو سکے۔
آخرکار، یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی مارکس وادی دانشوروں کے ہاں الحاد کے سوال پر نظری تسلسل اور فکری جرات کی کمی رہی۔ انہوں نے اس روایت کو، جو مارکس سے لے کر پوسٹ ماڈرن مارکسی مفکرین تک ایک مربوط ارتقا رکھتی ہے، نہ تو منظم انداز میں پیش کیا اور نہ ہی اسے مقامی دیسی ملحدانہ ڈسکورس کے مقابل ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر قائم کیا۔ یہی وہ خلا ہے جس نے دیسی ملحدانہ بیانیے کو غیر متناسب فکری برتری دی اور مارکسی تنقید کو، اپنی نظریاتی قوت کے باوجود، عوامی سطح پر کم مؤثر بنا دیا۔
دیسی ملحدانہ ڈسکورس اور اس سے تشکیل پانے والے بیانیوں کی تنقید اگر واقعی مارکس وادی ڈسکورس کے اندر رہتے ہوئے کرنی ہے تو وہ نہ اخلاقی وعظ، نہ محض مذہبی دفاع، اور نہ ہی سطحی جوابی الزامات کی صورت میں ہونی چاہیے۔ مارکسزم کی قوت اس کی جدلیاتی، تاریخی اور مادی تنقید میں ہے، اس لیے ایسی ہر تنقید کو چند بنیادی اصولوں اور فکری سطحوں کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔
سب سے پہلے، مارکس وادی تنقید کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ الحاد بذاتِ خود کوئی ہمہ گیر نجاتی نظریہ نہیں۔ دیسی ملحدانہ ڈسکورس اکثر الحاد کو ایک مافوقِ تاریخ اور مافوقِ طبقہ سچ کے طور پر پیش کرتا ہے، گویا خدا کا انکار ہی شعوری آزادی کی آخری منزل ہو۔ مارکس وادی تنقید کو اس مفروضے کو توڑنا چاہیے اور دکھانا چاہیے کہ الحاد بھی ایک تاریخی تشکیل ہے، جو مخصوص سماجی، طبقاتی اور معاشی حالات میں جنم لیتی ہے۔ اس تنقید کا محور یہ ہونا چاہیے کہ دیسی الحاد کن طبقات کے تجربات، کن سماجی محرومیوں اور کن ریاستی و معاشی ساختوں کے بطن سے ابھرتی ہے، اور کن مفادات کے ساتھ غیر شعوری طور پر ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
دوسرے، مارکس وادی تنقید کو مذہب اور الحاد دونوں کو علامتی یا اخلاقی مسئلہ بنانے کے بجائے انہیں مادی رشتوں کے تناظر میں رکھنا ہوگا۔ دیسی ملحدانہ بیانیہ عموماً مذہب کو جہالت، توہم یا دھوکے کا مجموعہ قرار دے کر رد کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ یہ “جہالت” کن حالات میں پیدا ہوتی ہے اور کیوں برقرار رہتی ہے۔ مارکس وادی تنقید کو یہاں یہ دکھانا چاہیے کہ مذہب محنت کشوں کے لیے محض فریب نہیں بلکہ استحصال، عدم تحفظ اور سماجی بے دخلی کے حالات میں ایک وجودی سہارا بھی بن جاتا ہے۔ جب اس سہارے پر براہِ راست حملہ کیا جاتا ہے، بغیر ان حالات کو بدلے، تو نتیجہ مذہب کا زوال نہیں بلکہ اس کی زیادہ جارح اور رجعتی شکلوں کا ابھار ہوتا ہے۔
تیسرے، دیسی ملحدانہ ڈسکورس کی تنقید میں طبقاتی مقام کو مرکزی سوال بنانا ہوگا۔ مارکس وادی ڈسکورس کو یہ پوچھنا چاہیے کہ دیسی ملحدانہ بیانیہ کن سماجی طبقات سے بول رہا ہے، اور کن سے بات ہی نہیں کر رہا۔ اکثر یہ بیانیہ شہری، درمیانی یا بالائی متوسط طبقے کے تجربات اور زبان میں تشکیل پاتا ہے، جو محنت کش، دیہی اور حاشیائی طبقات کے مذہبی شعور کو حقیر یا غیر عقلی سمجھتا ہے۔ مارکس وادی تنقید کو اس طبقاتی نخوت کو بے نقاب کرنا چاہیے اور دکھانا چاہیے کہ یہ رویہ محنت کشوں کو آزاد کرنے کے بجائے انہیں مزید سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیتا ہے۔
چوتھے، مارکس وادی تنقید کو دیسی ملحدانہ ڈسکورس کے ریاستی اور سامراجی مفاہمت کے پہلوؤں کو بھی سامنے لانا چاہیے۔ بہت سا دیسی الحاد غیر شعوری طور پر ریاستی سیکولرزم، لبرل قانون، یا مغربی ترقی کے بیانیوں کے ساتھ جڑ جاتا ہے، اور یوں وہ مذہبی رجعت پر تنقید کرتے ہوئے ریاستی جبر، عسکریت، سرمایہ دارانہ استحصال اور عالمی سامراجی ڈھانچوں کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ مارکس وادی تنقید کا کام یہ ہے کہ وہ دکھائے کہ مذہب دشمنی اگر طبقاتی اور سامراج مخالف سیاست سے کٹ جائے تو وہ خود اقتدار کے ایک نظریاتی آلے میں بدل سکتی ہے۔
پانچویں، مارکس وادی تنقید کو دیسی ملحدانہ بیانیوں کی معرفتی حدود پر بھی بات کرنی چاہیے۔ دیسی الحاد اکثر سائنس، تجربہ اور عقلیت کو واحد معیارِ صداقت بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ مارکسزم خود سائنس کو بھی ایک سماجی عمل سمجھتا ہے، جو تاریخ، طاقت اور پیداوار کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے مارکس وادی تنقید کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ سائنسی علم کا دفاع اور سائنسی عقل کی تقدیس دو مختلف چیزیں ہیں، اور دوسری صورت خود ایک نئی عقیدت میں بدل سکتی ہے۔
چھٹے، اس تنقید کو ردی یا تحقیر آمیز ہونے کے بجائے جدلیاتی ہونا چاہیے۔ مارکس وادی ڈسکورس کا کام یہ نہیں کہ دیسی ملحدوں کو “غلط” یا “گمراہ” قرار دے کر خاموش کر دے، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ ان کے سوالات کن حقیقی سماجی تجربات سے جنم لیتے ہیں اور وہ کہاں جا کر نظریاتی طور پر پھنس جاتے ہیں۔ اس طرح تنقید کا رخ افراد کے بجائے بیانیے اور ساخت کی طرف ہونا چاہیے۔
آخر میں، مارکس وادی تنقید کو ایک متبادل افق بھی پیش کرنا ہوگا۔ محض یہ کہنا کہ دیسی ملحدانہ ڈسکورس غلط ہے، کافی نہیں۔ یہ دکھانا ہوگا کہ مذہب اور الحاد دونوں سے آگے بڑھ کر محنت کشوں کی نجات، اجتماعی سیاست، جمہوری سوشلسٹ پروگرام اور مادی تبدیلی کا سوال کہاں اور کیسے اٹھتا ہے۔ جب تک مارکس وادی ڈسکورس اس مثبت افق کو واضح نہیں کرتا، وہ دیسی ملحدانہ بیانیوں کے ساتھ ایک حقیقی نظری مکالمہ قائم نہیں کر سکتا۔
یوں دیسی ملحدانہ ڈسکورس کی مارکس وادی تنقید تبھی بامعنی ہو سکتی ہے جب وہ الحاد کو نہ ایک حتمی سچ سمجھے، نہ محض ایک فکری غلطی، بلکہ ایک تاریخی، طبقاتی اور سیاسی مظہر کے طور پر سمجھے—اور اسی فہم کی بنیاد پر اسے جدلیاتی انداز میں چیلنج کرے۔
